ہفتہ وار کالمز

سلگتے جرائم کی آگ

طے شدہ بات ہے کہ قانون اگر اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی کھولے رکھتا تو جرائم کے بیج جرم کی فصل پکنے سے پہلے ہی پابند سلاسل ہوتے مگر یہ ہو نہ ہو سکا اور اب یہ عالم ہے کہ سڑکوں پر چلتے پھرتے لوگ بھی جرائم کی آگ کے تھپیڑوں میں جھلس رہے ہیں کم عمر بچوں سے لے کر عمر رسیدہ افراد تک کی زندگیاں گٹر اور نالوں کے ڈھکن نہ ہونے سے نا گہانی موت کے پنجوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں بھیانک موت کے اس کھیل میں گل پلازہ میں لگی آگ بھی کسی جرم کی نظر اندازی کا شاخسانہ ہے گو کہ شہر کراچی کو گزشتہ کئی عشروں سے ان بڑے بڑے جرائم کا سامنا ہے لیکن مثبت سی بات ان جمہوری قدردانوں کے لئے کہ انھوں نے ضیاء الحق کے دور حکومت کی پھیلی گندگیاں جن میں لسانی تعصبات ،فرقہ بندیاں جو کینسر کی طرح پھیل کر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر رہی ہیں اُن کا خاتمہ کرنے میں جمہوریت کیوں ناکامی سے دوچار ہے زہریلی مسکراہٹ چہرے پر پھیل جاتی ہے جب یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ ہمارے دل عزیز وطن میں جمہوری نظام اپنی افادیت سے عوام کو روشناس کرانے میں مکمل طور ناکام رہا ہے بیروزگاری، مہنگائی ،انصاف ،بدعنوانیاں یہ سب بیماریاں ہمارے معاشرے کی رگوں میں سرایت کر چکیں ہیںریاست کے بدن میں عوام جو دل کی حیثیت رکھتے ہیں اُن تک خون و آکسیجن پہنچانے والی نسوں پرمخصوص اشرافیہ براجمان ہو کر ریاست کو یتیم کر رہی ہے جن کا خاتمہ آمریت و جمہوریت میں پارلیمانی و صدارتی نظام میں بھی نہ ہو سکا تو بس اب نظام ِ الہٰی ہے جسے نافذ کر نے میں یہ حکمران جو حج و عمرہ کی ادائیگی میں بڑے شان سے جاتے ہیں مگر جب ان سے نظام ِ الہٰی کی یا خلافت ِ راشدہ کے نظام کی بات کی جائے تو لیت و لعل سے کام لیتے ہوئے مفادات کی نماز میں خود کو مصروف کر لیتے ہیں گل پلازہ کراچی میں لگی آگ سے صرف ایک عمارت نہیں جلی اس آگ نے کئی دلوں کو کئی گھروں کو ماتم کناں کیا ہے یہ ایک عمارت کو لگی آگ اس بات کی عکاسی کر گئی ہے کہ ہمارے اس جمہوری نظام میں موجود کوئی ادارہ بھی اپنے فرائض کی بجا آوری میں مخلص نہیں قانون نے اگر آنکھوں پہ پٹی باندھی ہوئی ہے تو عوام نے بھی اپنے زبانوں کو تالے لگا رکھے ہیں میں کسی کو اُکسا نہیں رہا بلکہ یہ بتانے کی کوششوں میں ہوں کہ اگر یہ بے بس لوگ اپنے کسی اجتماعی مسئلے سے اپنے کسی سیاسی قائد کو آگاہ کرتے ہیں تو وہ اسے صاحب ِ منصب کی کمزوری جان کر اسے اپنے مفاد کے بدلے بیچ دیتے ہیں جیسے کہتے ہیں نا کہ جب کسی مخصوص نام کے جانور کو بھوک لگتی ہے تو وہ اپنے ہی بچوں کو کھا جاتا ہے کھانے اور پینے کے یہ رسیا اب عوامی خون چوسنے کی بجائے ریاست کی شہ رگ پر اپنے دانت گاڑنے کی کاوشوں میں ہیں مگر میری پاک فوج ہے جس نے ریاست کے تحفظ کی قسم کھائی ہوئی ہے اور وہ ریاست کے مدمقابل کسی اندرونی و بیرونی دشمنوں کو
کرہ ٔارض پر سانس لینے نہیں دیتی کراچی کا گل پلازہ ہماری جمہوری طاقتوں کی نظراندازیوں کی واضح دلیل ہے عمارت کی تعمیر کے بعد اُس میں آگ بجھانے کے آلات ،ایمر جنسی راستے کی نشاندہی یا معیاری بجلی کی تاریں جو شارٹ سرکٹ کے خطرات سے پاک ہوں متعلقہ ادارے کے اہلکاروں نے ان حادثات کا جائزہ ہی نہیں لیا ہو گا مخصوص اشرافیہ نے تو دریائی راستے ، آبی گزر گاہوں کی زمینوں کو بھی سادہ لوح عوام کو بیچ کر انھیں سیلاب برد کیا ۔کیا کسی ایک کو بھی اس قتل ِ انسانیت کی سزا ملی ؟ اگر ملی ہوتی تو آج کراچی کے گل پلازہ میں مسلمانوں کی زندگیاں آگ کے شعلوں سے جل کر ایسی خاکستر نہ ہوتیں کہ اپنی پہچان بھی کھو بیٹھیں عزیز رشتہ دار لا پتہ ہونے والے افراد کے لئے بے چین و بیتاب ہیں مگر اُنھیں کون بتائے کہ ایسی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں بھی ملی ہیں جن کا ڈی این اے بھی ممکن نہیں ہے اس درد ناک سانحے میں ہم سب افسوس بھی کرتے ہیں مگر اس کے ذمہ داران کو سامنے نہیںلاتے متاثرین بتاتے ہیں کہ فائر بریگیڈ گھنٹوں بعد آتی ہے اور کچھ منٹ چل کر اُس میں پانی ختم ہو جاتا ہے کربلا میں پانی بند کر دیا گیا تھا اور یہاں پانی لانے والے نے پانی لایا نہیں یوں بے ضمیر اداروں کے اہلکاروں کی نااہلیوں سے انسانیت کی لاش نہیں کئی لاشیں جل گئیں کوئی تو ان سلگتے جرائم کی آگ پر قانون کا پانی ڈالے تا کہ ملک کے ماتھے پہ پڑی تفکرات کی لکیریں دور ہو سکیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button