2025گزر گیا!

وقت گزرتا رہتا ہے،کتنا وقت گزر گیا،وقت کب رکا ہے،مگر وقت گھڑی کی ٹک ٹک نہیں ہے نہ شب و روز کی گردش،کل 2024تھا،آیا اور گزر گیاابھی ابھی تو 2025تھا کیسے نظروں کے سامنے سے گزر گیا،یہ ساری باتیں احمقانہ ہیںوقت اپنے پیچھے کچھ قدموں کے نشانات چھوڑ جاتا ہے کچھ یادیں، کچھ نقش،یہ ہمارا ماضی قریب ہے جو ابھی گزرا ہے ماہ و سال وقت کو ناپنے کا ایک پیمانہ ہے ایک عشرے یا دہائی میں یا پھر ایک سال میں ہوشمند لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کیا کچھ بدل گیا،اس بدلی ہوئی رت نے ہم پر کیا نقش چھوڑے،ہم کتنا بدلے،کیا کھویا کیا پایا،وہ جو صاحبانِ ادراک ہیں وہ وقت کی رفتار سے کچھ اندازہ لگا لیتے ہیں کہ آنے والا وقت کیسا ہوگا،وہ جو پیچھے رہ گئے ہیں ان پر کیا گزرے گااور جو آگے بڑھ رہے ہیںوہ کیا جھیلیں گے یا وقت کو کیسے بدل دینگے،کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو وقت بدل دیتے ہیں،یا کچھ واقعات ایسے رونما ہوتے ہیں جو دنیا بدل دیتے ہیںمثلاً9/11کے بعد دنیا بدل گئی،کچھ ایجادات ایسی ہوتی ہیں جو دنیا بدل دیتی ہیںمثلاً آئی فون نے دنیا پر بے انتہا اثرات چھوڑے،اور کچھ شخصیات مثلاً اس وقت ٹرمپ کے اقدامات نے ساری دنیا اتھل پتھل کر دی ہے،ٹک ٹک دیدم،دم نہ کشیدم،بس دنیا تماشائی ہے،طاقت کے رنگ ہی جدا،غزہ دیکھتے دیکھتے تباہ ہو گیا دنیا کچھ نہ کر سکی آج وینزویلہ پر حملہ ہوا اس کا صدراور اس کی بیوی کو گرفتار کرکے نیویارک لایا گیا جہاں اس پر مین ہٹن کی عدالت میں مقدمہ چلے گا،ساری دنیا دم بخود،کچھ ممالک کی طرف سے بجھی بجھی مذمت،اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انٹونیو گتریس بھی مذمت ہی کر سکے، یا کچھ تشویش کا اظہار کیا ،2026نے پہلا قدم رکھا اور دنیا نے جاناکہ دنیا اصولوں سے کنارا کرتی جا رہی ہے۔عالمی قوانین، عالمی عدالتیں، انصاف، قانون اپاہج ہو گئے اگر تاریخ کو پھر سے لکھا جائے تو پھر چنگیز ہلاکو اور تیمورجوکل تک صرف فاتحین تھے وہ نئی دنیا کے ہیرو کہلائیں گے کیا کبھی کسی نے یہ سوچا تھا،مگر یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہو گیا ۔سترھویں اور اٹھارھویں صدیاں نظریات کی صدیاں تھیں جن میں انسان دوستی،امن، صلح،انصاف اور تعلیم کی بات ہوئی مگر اٹھارھویں صدی کے اواخر میں ہی سیاست دانوں نے کہہ دیا تھا کہ ان نظریات کے ساتھ دنیا چل نہیں سکتی مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ میکاولی کے نظریات کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی الجزائر کے مسئلے پر پورا فرنچ میڈیا سارتر کےخلاف ہو گیامگر سارتر ڈٹا رہا، آخر ڈیگال کو کہنا پڑا کہ سارتر فرانس ہے ،برٹرینڈ رسل بھی بڑا دانشور تھا اور برنارڈ شا بھی مگر برطانیہ نے کبھی نہیں کہا کہ برٹرینڈ رسل برطانیہ ہے یا امریکہ نے کہا ہو کہ برنارڈ شا امریکہ ہے ہر چند کہ برطانیہ میں برٹریڈ رسل کا اور امریکہ میں برنارڈ شا کا بڑا احترام ہے،مگر اتنا ضرور ہے کہ برٹرینڈ رسل کے بعدبرطانیہ میں کوئی بڑا فلاسفر پیدا نہیں ہوا اور امریکہ میں کوئی دوسرا برنارڈ شاپیدا نہیں ہوا، لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ برطانیہ اور امریکہ کی بیوروکریسی نے ایسے طریقے نکال لئے کہ کوئی فلاسفر پیدا ہی نہ ہو اور اگر پیدا ہو بھی گیا تو برطانیہ اس کو کیمبرج ا ور امریکہ اس کو کولمبیامیں بٹھا دینگے اور ان کا منہ پاؤنڈز اور ڈالرز سے بھر دیا جائیگااور وہ تھنک ٹینکس کے ساتھ مل کر کام کرینگے،یہ کام سیاست دان کرتے ہیں فلاسفرزانسان دوستی،انسان پرستی،انسان شناسی کی بات کرتے ہیں سیاست دان اگر یہ باتیں کرنے لگیں تو عرا ق جنگ کیسے ہوتی،افغانستان میں جہاد کون کراتا،USSR کوکون Disintegregrateکرتا،Uni polar worldکیسے بنتی،New World orderکون جاری کرتا۔غزہ کیسے تباہ ہوتا،سیاست دانوں کو وہ نظریات اچھے نہیں لگتے جن کا تعلق انسان رسیدگی سے ہوسیاست دانوں کو تو دنیا کے تیل کے ذخائر،قیمتی معدنیات،گیس کے ذخائرسے دلچسپی ہے یا پھر بڑی بڑی کمپنیوں سے جو چھوٹے ممالک کے وسائل سے منافع کمائیں اور سیاسی جماعتوں کو Billions dollars donationsسے نوازیں، یہ کام فلاسفرز نہیں کرتے، نہ کرنا چاہیں گے۔پاکستان میں وقت ٹھٹھک گیا ہے عشروں پہلے دلاور فگار نے کہا تھاکہ حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہو گئے مگر بات اس سے بھی آگے نکل چکی ہے حالاتِ حاضرہ کو نصف صدی گزر گئی،ہم وہیں ہیں جہاں تھے کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی،ہم بتدریج ترقیء معکوس کی جانب جا رہے ہیں ،تنزلی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی،اس کا لزام کس کو دیجیے سیاست دان فوج کو الزام دیتی ہے میڈیا بھی فوج کو ہی ذمہ دار ٹہراتا ہے فوج کبھی کبھار صفائی پیش کر تی ہے مگر یہ صفائی قبول نہیں کی جاتی،اب بات جنریشن زی کی ہو رہی ہے، تو بات کا رخ ایک بار پھر سیاست دانوں کی جانب ہو گیا ہے،چلیں بات فوج سے ہی شروع کر لیتے ہیںفرض کر لیتے ہیں کہ فوج بہت بُری ہے،فوج نے چار مارشل لاء لگائے۔قوم کے تیس سال کھا لئے یہ وقت اگر سیاست دانوں کو مل جاتا اور سول حکومت کا تسلسل جاری رہتاتو قوم کی کایا پلٹ جاتی،فوج کے جنرلز نے ہی چار مارشل لاء لگائے،فوج نے ہی آپریشن جبرالٹر کیا،فوج کے جنرلز نے نام نہاد جہاد افغان جہاد شروع کیا،فوج کے جنرلز نے ہی کارگل کیا،فوج نے ہی آدھا سیاچن کھویا، چار آرمی چیف ملک سے باہرجا کر بس گئے جنرل عاصم نے امریکہ میں Pizza Chainکھول لی،فوج بزنس کرنے لگی،یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملک میں جمہوریت رہی بھی تو وہ Controlled Democracyتھی فوج کے جنرلز نے کئی سول جمہوری حکومتوں کو چلتا کیا،اور آج بھی خواجہ آصف کہتے ہیں کہ یہ حکومت بھی ایک انتظام کے تحت آئی ہے گویا یہ سمجھا جائے کہ یہ حکومت بھی فوج کے جنرلز کی چھتر چھایا میں ہی کام کر رہی ہے،یہ سارے الزامات کم و بیش درست ہی مانے جاتے ہیں،دوسرا رخ دیکھنا بھی بہت ضروری ہے قیامِ پاکستان کے بعد قائد اعظم کا انتظامی قتل ہو گیااس وقت حکومت سیاسی تھی1947سے 1956تک حکومت سیاسی تھی کوئی جواب دے گا کہ ان دس سالوں میں کیا ہوتا رہاسیاسی حکومت میں ہی لیاقت علی خان کا قتل ہوایہ وہ سیاست دان تھے جو تحریک پاکستان سے متعلق رہے اور بہت برگزیدہ سمجھے جاتے تھےاس دوران نہ کوئی اصلاحات نہ کوئی الیکشن،جیسے تیسے 1956میں باریش حضرات نے آئین بنا دیا،نہرو کا طعنہ بھی سننا پڑا کہ میں اتنی جلد دھوتیاں تبدیل نہیں کرتا جتنی جلد پاکستان میں حکومتیں تبدیل ہو جاتی ہیں۔یہ تو یقین کرنا ہی پڑے گا کہ یہ یارانِ طریقت قوم کے پہلے بہت اہم دس سال کھا گئے،1958 میں مارشل لاء آیاایوب کے دس سالوں میں بے مثال ترقی،دو پانچ سالہ منصوبے،تمام اہداف حاصل کر لئے گئے،ملک کی عزت میں بھی اضافہ ہوامگر سیاست دانوں کو ترقی نہیں جمہوریت چاہیئے تھی بھٹو نے سوشلزم کا جھانسہ دے کر ملک کی معاشی ترقی کو ہی لپیٹ دیایاد رہے کہ بھٹو ایک سیاست دان تھے جنرل ضیا کے ساتھ تمام دینی سیاسی جماعتیں موجود تھیں،بے نظیر اور نواز شریف کی کابینہ میں جنرلز موجود تھے یہ جنرلز بے نظیر اور نواز شریف نے اپنی مرضی سے رکھے قوم کو بے نظیر اورنواز شریف خالص جمہوریت نہ دے سکے اور نہ معاشی ترقی،اور وہ کون سا مارشل لاء ہے جس کوکاندھا دینے سیاست دان نہیں پہنچے،بے نظیر نے تو مشرف کے مارشل لاء کو جائز قرار دیا تھااس وقت بھی جب کہ بقول خواجہ آصف یہ حکومت ایک arrangementکے تحت کام کر رہی ہے اور سارے کام فیلڈ مارشل کی مرضی سے ہو رہے ہیں توفیلڈ مارشل کو جھولا دینے کے لئے نواز شریف اور زردار ی موجود ہیں،عمران خود فوج کے کاندھوں پر آئے اور فوج کے کاندھوں پر ہی رہنا چاہتے ہیںاور بہت دیانت داری سے یہ تو بتایا جائے کہ اگر ایوب خان کا مارشل لاء نہ آتا تو کیا اگلے دس سال تک سیاست دانوں میں یوں ہی جوتم پیزار ہوتی رہتی جیسی 1947سے 1956تک ہوئی،اور کیا آپ سول حکومت کے دوران اس جوتم پیزار سے خوش تھے جیسی نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان ہوئی،اور بہت سچائی سے یہ بھی بتایا جائے کہ 1947کے بعد وہ کون سا حکمران تھا جس کو آپ سیاست دان یا Statesmaکہہ سکتے ہیں ہے کوئی نظر میں؟میڈیا نے ہر ایک کے لئے ڈھول بجایااور آج تک میڈیا یہ فیصلہ نہیں کر پایاکہ پاکستان کے لئے کون مخلص ہے،تبصرہ نگاروں کی نگاہ کمزور ہو گئی ہے تو کیا جائے مگر وقت کہہ رہا ہے کہ ایوب خان کا بی ڈی سسٹم(بنیادی جمہوریت کا نظام)آج عوام مانگ رہی ہے اور یہ سیاست دان وہ بلدیاتی نظام دینے سے انکاری ہیںاس وقت عوام ایوب خان کے عائلی قوانین مانگ رہی ہے مگر یہ سیاست دان جن کے دہشت گرد جماعتوں سے قریبی رابطے ہیں دہشت گردوں کو دھتکار نہیں سکتے،حال تو یہ کہ پی پی پی پلوں اور سڑکوں کا سنگ بنیاد رکھ کر دعا مانگتی کہ یہ پروجیکٹ مکمل ہو جائے پروجیکٹ مکمل نہ ہو تو کہہ دیں گے کہ اللہ کو ہی منظور نہ تھامجھے نہیں معلوم کہ کس پیمانے پر تول کر وڈیروں، زمینداروں،سرمایہ داروں اور مولویوں کو سیاست دان کہا جا تا ہے یہ سب کے سب گھڑیال کے گھنٹے سے لٹکے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے وقت کو روک رکھا ہے مگر یہ احساس کسی کو نہیں کہ ہم وقت سے 69 سال پیچھے ہیں زمانہ بہت آگے نکل گیا اور ہم ساتویں صدی میں سانس لے رہے ہیں،2025گزر گیا 2050 بھی گزر جائیگااور اس وقت بھی مولوی بتا رہا ہوگا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچی سے نکاح جائز ہے کوئی زرداری سمجھا رہا ہوگا کہ جمہوریت آہستہ آہستہ آتی ہے،معاشی ترقی آہستہ آہستہ آئے گیاور 2025میں عوام بھیڑ بکریوں کی طرح جلسوں میں شریک ہونگے،یہ آفاقی اصول ہے کہ آپ بیٹھ جاتے ہیں مگر وقت آگے نکل جاتا ہے سو بیٹھے رہیے وقت کو کس کی پرواہ ہے۔



