آپے سے باہر !

ان دنوں اپنے گرد و پیش کی دنیا کا حال دیکھ کے ایک طرف حضرتِ جوش ملیح آبادی یاد آتے ہیں تو دوسری طرف اللہ بخشے اپنی اماں یاد آتی ہیں۔حضرتِ جوش نے کیا خوب کہا تھا
؎دنیا کا عجب دور نظر آتا ہے
بدلا ہوا ہر طور نظر آتا ہے!
اور اللہ بخشے اماں کہا کرتی تھیں کہ بیٹا جب کم ظرفوں اورچھٹ بھیوں کے ہاتھ میں زمامِ کار آجائے تو سمجھنا کہ قیامت زیادہ دور نہیں ہے !اماں اللہ بخشے یہ بھی کہا کرتی تھیں کہ، بیٹا سیر کے برتن میں اگر سوا سیر پڑجائے تو وہ چھلک اٹھتا ہے۔ اسلئے اللہ کو جب کسی کا ظرف آزمانا ہوتا ہے تو وہ اس کی اوقات سے بڑھ کر اسے دے دیتا ہے، یہ دیکھنے کیلئے کہ اس کے ظرف میں اسے سہنے کی گنجائش بھی ہے یا نہیں!میری اماں، اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت عطا کرے، جہاندیدہ تھیں، دنیا کو آزمائے ہوئی تھیں اس لئے جو کہتی تھیں وہ عقل کی کسوٹی پہ سولہ آنے کھرا اترتا تھا!تو ہم اپنی دنیا میں جو اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اس سے یقین آجاتا ہے کہ
میخانہ کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
تو ہم دیکھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے، جو خود کو ہر کسی قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، ایک آزاد اور خودمختار ملک پر بلا جواز لشکر کشی کرکے نہ صرف اس کی خودمختاری اور آزادی کو پامال کیا بلکہ دیدہ دلیری اور دراندازی کی انتہا ہوگئی کہ کہ اس ملک کے صدر کو گرفتار کرکے اور اس کے ہاتھوں میں امریکی پولیس کی ہتھکڑیاں پہناکے اسے دنیا کے سامنے بے توقیر اور بے عزت ثابت کرنے کی مذموم روایت کو بھی قائم کرنے کی سعی کی گئی!وینزویلا کوئی معمولی ملک نہیں ہے وہ تیل کی بیش بہا دولت سے مالا مال ہے اور اس کے علاوہ بھی فیاضِ قدرت نے اسے معدنی وسائل وہ عطا کئے ہیں جو دنیا کے چند ہی ممالک کو اللہ نے بخشے ہیں!مجھے یاد ہے کہ بیسویں صدی کے آخری چند برسوں میں جب میں عراق میں پاکستان کا سفیر تھا تو وہاں، بغداد میں، وینزویلا کا سفیر میرے قریبی دوستوں میں تھا۔ پیشہ کے اعتبار سے وہ سول انجینئر تھااور مجھے بتاتا تھا کہ اس کے ملک کے خام تیل کے ذخائر سعودی عرب کے تیل کے ذخائر سے زیادہ تھے اور اکیسویں صدی میں میرے سفیر دوست کا دعوی سچ ثابت ہوا اور اس بات کی باقاعدہ تیل کی صنعت کے حوالے سے تصدیق ہوگئی کہ وینزویلا کے خام تیل کے ذخائر واقعی سعودی عرب کے ذخائر سے زیادہ ہیں!ٹرمپ میں خود پسندی کا خمیر جس انتہا کو ہے اسی طرح ان میں ایک ساہوکارکا مادہ بھی اپنی انتہا پر ہے۔ ان کو ہر پالیسی کے پسِ پشت ایک سودا نظر آتا ہے۔ یہ وہ فطرت ہے جسے ہم اپنی زبان میں ایک بنئیے کی فطرت کہتے ہیں۔ٹرمپ کی نظر وینزویلا کے خام تیل کے ذخائر پر تھی بلکہ ان کی رال ایک عرصہ سے اس تیل پر ٹپک رہی تھی اور وہ موقعہ کی تلاش میں تھے کہ کسی بہانے سے ان تیل کے ذخائر پر ہاتھ صاف کیا جائے!نیت میں جب فتور ہو توجواز یا بہانہ پیدا کرنے کیلئے زیادہ دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا!سو ویزویلا کی معدنی دولت پر ہاتھ صاف کرنے کیلئے ٹرمپ نے وینزویلا پر منشیات برآمد کرنے کا الزام لگایا اور پھر اس ملک کی کشتیوں کو بین الاقوامی پانیوں میں اس الزام پر نشانہ بنانے اور تباہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا کہ یہ کشتیاں امریکہ میں منشیات پہنچانے کا وسیلہ تھیں !امریکہ نے آج سے نہیں بلکہ دو صدیوں سے اس طور کو اپنایا ہوا ہے کہ اس کے مفادات کے راستے میں اگر بین الاقوامی قانون کی پابندیاں حائل ہوں تو وہ اسے بلا تکلف نظر انداز کردیتا ہے۔دور کیوں جائیے، اس اکیسویں صدی کے آغاز میں اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق کے صدر صدام حسین پر اپنی طرف سے الزام لگایا کہ وہ ایسے مہلک ہتھیار بنارہے تھے جو امریکہ تک پہنچ سکتے تھے اور امریکی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتے تھے!اپنے اس مفروضہ کو جواز بناکر انہوں نے عراق پر حملہ کیا اور اس عمل میں اقوام متحدہ کو خاطر میں لانا مناسب نہیں سمجھا! ان کا مقصد، اول و آخر، صدام حسین کو اقتدار سے محروم کرنا تھا جس میں وہ کامیا ب رہے لیکن عراق کو امریکی مداخلت نے جو برباد کیا وہ بربادی آج تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی!امریکہ کا دو صدیوں سے جنوبی امریکہ اور وسطی امریکہ کے ممالک کے حوالے سے ، جنہیں عام زبان میں لاطینی امریکہ سے موسوم کیا جاتا ہے، جو رویہ ہے اس کا مدار اس جواز پر ہے کہ لاطینی امریکہ ریاست ہائے متحدہ کا پچھواڑا ہے جس میں بلا جواز مداخلت کرنے کا امریکہ کو اپنی طاقت کے بل پر مکمل حق حاصل ہے اور اپنی اس پالیسی کی راہ میں امریکہ دنیا کی کسی اور طاقت یا بین الاقوامی قانون کو حارج ہونے کا کوئی حق دینے کیلئے آمادہ نہیں ہے !دو سو برس پہلے، انیسویں صدی کے دوسرے عشرہ میں امریکہ کو توسیع پسندی کا قدرتی حق سمجھنے والے ٹرمپ ہی کی طرح ایک صدر تھے، جیمز منرو جنہوں نے 1823ء میں اس پالیسی کا اعلان کیا تھا ، اور بڑے دھوم دھڑکے کے ساتھ کیا تھا، کہ یورپ کے کسی ملک کو لاطینی امریکہ میں اپنی کوئی نو آبادی قائم کرنے کا اب کوئی حق حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اب یہ حق صرف اور صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے اپنے نام کرلیا تھا!
تاریخ کی کتابوں میں جیمز منرو کا وہ اعلان منرو ڈوکٹرن یا منرو کے قانون کے نام سے یاد کیا جاتا ہے!
ٹرمپ کوئی پہلے امریکی صدر نہیں ہیں کہ جس نے امریکہ کا یہ نام نہاد پیدائشی حق استعمال کیا ہو۔جس طرح بے عزت کرکے انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا ہے اور دونوں کو امریکہ لے آیا گیا ہے بلکہ اس طرح آج سے 36 برس پہلے اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے جو جارج ڈبلیو بش کے والدِ بزرگوار تھے ( توسیع پسندی اور فسطائیت امریکی صدور کے خون میں شامل ہوتی ہے ) پنامہ پر اسی الزام میں حملہ کیا تھا کہ اس کے صدر، مانوئیل نورئیگا پر امریکہ میں منشیات کو فروغ دینے کا ملزم تھا۔جیسے آج وینزویلا کے صدر کو پابجولاں امریکہ لایا گیا ہے اسی طرح نورئیگا کو بھی گرفتار کرکے امریکہ لایا گیا تھا جہاں ان پر مقدمہ چلایا گیا اور کسی کو تعجب نہیں ہوا جب نورئیگا کو تاحیات امریکی جیل میں سزا کاٹنے کا مجرم قرار دیا گیا اور امریکی جیل میں ہی ان کا انتقال 2017ء میں ہوا!تو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا کیا انجام ہوگا یہ جاننا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ انہیں بھی مجرم قرار دیا جائے گا اور وہ بھی اپنی بقیہ زندگی کسی امریکی جیل میں کاٹیں گے!ٹرمپ کو اپنے رویہ پر نہ صرف یہ کہ کوئی پشیمانی نہیں ہے بلکہ وہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ وینزویلا پر اب امریکہ حکومت کرے گا اور اسے اپنے طور پہ چلائے گا! ان سے اپنا ملک تو سنبھل نہیں رہا لیکن دعوی یہ ہے کہ وہ وینزویلا کو بھی چلائینگے ! کیسے چلائینگے یہ دنیا دیکھے گی۔ ہم سب دیکھیں گے !پشیمانی یا تاسف تو ایک طرف اب وہ وینزویلا کے پڑوسی ملک، کولمبیا کو بھی یہی دھمکی دے رہے ہیں کہ امریکہ وہاں پہ بھی چڑھ دوڑے گا۔ کولمبیا کے صدر پہ بھی یہی الزام ہے کہ وہ امریکہ کو کوکین کی ترسیل کے مجرم ہیں اور جسے امریکہ اپنا دشمن قرار دیدے اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو وینزویلا اور اس کے صدر کا ہوا!ہمارے ہاں بھی ٹرمپ کا ایک گماشتہ یا چیلا یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ وہ زمین پر نعوذ باللہ خدا ہوگیا ہے۔وہ بھی اپنے گرو کی روش پر گامزن ہے بلکہ اپنے گرو سے پہلے ہی اس نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھا ہوا ہے جو نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کا حشر عاصم منیر کے سامراجی گرو گھنٹال نے کیا ہے!عاصم منیر پر بھی اللہ بخشے میری اماں کا قول صادق آتا ہے کہ چھٹ بھئیے کو اگر اقتدار کا نشہ ہوجائے تو وہ آپےسے باہر ہوجاتا ہے!ٹرمپ کی مانند عاصم منیر کو بھی یہ زعم ہے کہ وہ عقلِ کل ہے اور اس کے مفاد میں ہی پاکستان کا مفاد ہے!عاصم منیر کو حافظِ قرآن ہونے کا بھی دعوی ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ اس نام نہاد حافظ نے قرآن کو کبھی معنی سے نہیں پڑھا۔ ہمارے دیرینہ دوست انور مقصود نے انہیں یہی مشورہ دیا تھا کہ حافظ صاحب کبھی قرآن کو معنی کے ساتھ بھی پڑھ لیں۔ اور اگر یہ خود ساختہ فیلڈ یا فراڈ مارشل معنی سے قرآن کو پڑھتا تو اس پر یہ حقیقت روشن ہوجاتی کہ کائنات کے بنانے والے نے اپنی مخلوق بشر کے ساتھ اپنی ہر صفت تھوڑی بہت بانٹی ہے لیکن ایک صفت میں بشر کو، بندہ کو، شریک نہیں کیا اور وہ صفت ہے کبریائی!
کبریائی صرف اور صرف مالکِ کائنات کا شرف ہے، اس معبود کا حق ہے اور اسی لئے وہ اس بشر کا حشر دنیا میں ہی دکھا دیتا ہے جو اپنے آپ کو زمین پر خدا سمجھنے لگے!ٹرمپ کی طرح عاصم منیر نے بھی یہ عہد کیا ہوا ہے کہ وہ عمران کو قید و بند کی صعوبت سےآزاد نہیں ہونے دے گا! سوشل میڈیا پر، اسلئے کہ پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا تو پوری طرح صرف اور صرف یزیدِ وقت عاصم منیر کی تعریف اور توصیف کیلئے پابند ہے، رہین ہے، مجبور ہے لیکن سوشل میڈیا تو اس فرعون کی پہنچ سے بہت دور ہے۔ سو سوشل میڈیا پر عاصم منیر کا یہ قول گردش کر رہا ہے کہ جب تک وہ فیلڈ مارشل ہے عمران کو جیل سے رہا نہیں ہونے دے گا!لیکن نام نہاد حافظِ قرآن کو یہ معلوم نہیں، یا معلوم ہے تو اس کے عمل سے اس کی گواہی نہیں ملتی، کہ ارضی خدا اپنےاپنے منصوبے بناتے رہتے ہیں لیکن مالک الملک، ازلی اور ابدی خدا، بہترین کارساز ہے، سب سے اعلیٰ منصوبہ ساز ہے اور اس کے منصوبہ کے سامنے ہر ارضی خدا کا منصوبہ ناکام ہوجاتا ہے۔ کبریا صرف اور صرف اللہ ہے !



