ہفتہ وار کالمز

تیل کافساد!

20 مارچ 2003کوجارج ڈبلیو بش نے عراق پر حملے کا یہ جواز پیش کیاتھا کہ صدام حسین نے مہلک ہتھیار چھپائے ہوئے ہیں۔ اسکے ساتھ یہ خوشخبری بھی سنائی گئی تھی کہ امریکہ پہلے عراق اور پھر پورے مشرق وسطیٰ میں جمہوری نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔ اسوقت جارج بش کے سیکرٹری آف سٹیٹ کولن پاول نے ایک تاریخی جملہ کہا تھا جسکی بازگشت آج بائیس برس بعد سنائی دے رہی ہے۔ اس نے کہا تھا You touch it you own it یعنی تم نے اگر اُسے چھو لیا تو یہ تمہاری ہو جائیگی۔ کولن پاول در اصل اپنے باس کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ عراق پر قبضہ ایک مہنگی اور طویل المیعاد جنگ کا باعث بنے گا۔ عالمی میڈیا اسوقت بھی یہ کہہ رہا تھا کہ مہلک ہتھیار اور جمہوریت محض بہانے ہیں اصل بات عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ ہے ۔ آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وینزویلا پر حملے اور اسکے صدر نکولس میڈورو اور اور انکی اہلیہ Cilia Flores کی گرفتاری کے بعد پھر یہ کہا جا رہا ہے کہ اس ملک کے تیل کے ذخائر اس حملے کی اصل وجہ ہیں۔ یہ بات درست ہے مگر عراق اور وینزویلا کے حملوں میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ صدر ٹرمپ وا شگاف الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ وینزویلا کے تیل پر امریکہ کا حق بنتا ہے جسے طویل عرصے سے اس ملک کی سوشلسٹ حکومت نے غصب کیا ہوا ہے اور اس پالیسی کی وجہ سے امریکی آئل کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات چار بجے وینیزویلا کے دارلخلافے کراکاس پر ڈیڑھ سوطیاروں کے حملے کے بعد ایک طویل پریس کانفرنس کے علاوہ فاکس نیوز کو ایک انٹرویو بھی دیا جس میں انہوں نے کہا کہ اب امریکہ وینزویلا میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے تیل کی پیداوار میں اضافہ کریگا جسکی وجہ سے اسکی معیشت بہتر ہو جائے گی۔ یہ وہ جواز ہے جو عراق اور افغانستان پر حملے سے پہلے بھی دیا گیا تھا اور اس سے پہلے امریکہ نے لاطینی امریکہ کے ممالک پر جب بھی حملے کئے تو یہی جواز پیش کیا۔ مگر اس مرتبہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ صدر امریکہ نے جمہوریت کی ترویج کا ذکر تک نہیں کیا۔ امریکہ گذشتہ تین عشروں سے وینزویلا پر یہ الزام لگا رہا ہے کہ وہاں سوشلسٹ اور مطلق العنان حکمران انتخابات میں دھاندلی کرنے کے بعد اقتدار سنبھال لیتے ہیں اور واپس جانے کا نام نہیں لیتے۔ اس تناظر میں صدر ٹرمپ وینزویلا میں مطلق العنان حکومت کے خاتمے اور ایک نئے جمہوری دور کے ابتدا کی خوشخبری سنا سکتے تھے مگر انہوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے سیدھے سبھائو تیل پر قبضے کا اعلان کر دیا۔ اس حملے سے پہلے صدر ٹرمپ کئی مرتبہ نکولس میڈورو پر منشیات کی سمگلنگ کے الزامات عائد کر چکے تھے اور اب نیویارک کی عدالت میں ان پر ایک ڈرگ کارٹل چلانے کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔
اتوار کے روز سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے CBS اور ABCٹیلیوژن کو انٹرویوز دئے۔ ان میں ان سے زیادہ تر یہ پوچھا گیا کہ کیا امریکہ وینزویلا میں طویل قیام کا ارادہ رکھتا ہے اور کیا وہاں فوج بھی بھیجی جا سکتی ہے۔ اسکے جواب میں مارکو روبیو نے کہا America will keep a military quarantine in place on the country’s oil export یعنی امریکہ اس ملک کے تیل کی برآمدات کی نگرانی جاری رکھے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حملے کی نوعیت عراق‘ لیبیا‘ شام اور افغانستان پر حملوں سے مختلف ہے۔ اس میں فوج نہیں بھیجی گئی بلکہ فضائی اور بحری طاقت کا استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن آگے چل کر حالات بدل سکتے ہیں۔ عوام اگراس قبضے کے خلاف احتجاج کرتے ہیں‘ فوج تقسیم ہو جاتی ہے یا امریکہ کی حمایت نہیں کرتی تو مارکو روبیو کے بیان کے مطابق امریکی فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ سیکرٹری آف سٹیٹ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ وینزویلا میں اپنے پسند کی حکومت بنائے گا۔ اسکے جواب میں مارکو روبیو نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اگر تعاون نہ کیا تو نکولس میڈوروکے مخالفین پر مشتمل حکو مت بنائی جا سکتی ہے۔ بائیس برس قبل عراق پر حملے کے بعد بغداد میں ایک Occupation Authority بنائی گئی تھی جس نے صدام حسین کے بعد اختیارات سنبھال لیے تھے لیکن وینزویلا میں صدر نکولس میڈورو کی گرفتاری کے بعد انکی نائب صدر Delcy Rodriguez نے انکی جگہ لے لی۔ میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ حملے سے پہلے ہی کر لیا گیا تھا ۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ ڈیلسی روڈریگس سے ٹرمپ انتظامیہ کے افسروں کو یہ توقع ہے کہ وہ امریکی تیل کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کریں گی۔
یہ صورتحال اسوقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب ڈیلسی روڈریگس نے صدارتی حلف اٹھانے کے بعد قوم سے خطاب میں امریکی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ نکولس میڈورو وینزویلا کے جائز حکمران ہیں۔ نئی صدر کے اس بیان کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ ابتدا ءہے امریکہ جب وینزویلا کی بندرگاہ کے محاصرے میں نرمی کرے گا اور امریکی کمپنیاں کراکاس میں تیل کا کاروبار شروع کریں گی تو وہاں حالات میں بہتری آئے گی جس کے بعد نئی حکومت کی کامیابی کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔ ایسے میں اگر ڈیلسی روڈریگس نے تعاون نہ کیا تو انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ نظر یہ آ رہا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کو چھو لیا ہے اب یہ اسکی ذمہ داری بن گیا ہے لیکن اس مرتبہ نئی بات یہ ہے کہ عراق جنگ سے سبق سیکھتے ہوے صدر ٹرمپ نے کراکاس پر براہ راست قبضہ کرنے کی بجائے وہاں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے اور اسکے ساتھ کھل کر کہہ دیا ہے کہ یہ حملہ تیل کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ اسکے بعد کہا جا سکتا ہے کہ دنیا سمجھدار ہو گئی ہے اس لیے حملے کی اصل وجہ بتا دی گئی ہے مگر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ دنیا پہلے سے زیادہ خطرناک ہو گئی ہو۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button