ہفتہ وار کالمز

غریبوں کی دعا

ایک دل جلے تجزیہ کار نے بتایا کہ پاکستانی حکومت قومی شاہراہ پر ہر 30کلو میٹر پر ٹول لگانے والی ہے۔تو اس کا مشورہ تھا کہ یہ کافی نہیں ہوگا جس حساب سے حکومت کو مالیہ نہیںاکٹھا ہو رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ یہ ٹو ل ہر دس کلومیٹر پر لگایا جائے، اوریہی نہیں۔ اس کے ساتھ ہر جانے والے شخص کو تین تین چھتر بھی لگائے جائیں۔ہماری قوم اسی قابل ہے۔ وہ چھتر بھی کھائے گی اور مطالبہ کرے گی کی چھتر مارنے والے بڑھائے جائیں کیونکہ لائینیں بہت لمبی ہو جاتی ہیں اور ان کا وقت برباد ہوتا ہے۔
یہ مذاق نہیں ہے۔ حکومت کو ہر سال اتنا مالیہ اکٹھا نہیں ہوتا، جتناکے بجٹ کے لیے تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ اب نوبت یہ پہنچنے والی ہے کہ مزیدقرضے بھی ملنے محال ہو جائیں گے۔جانتے ہیں کہ ہمارے فیلڈ مارشل نے ٹرمپ صاحب بہادر کو کیوں آفر دی کہ پاکستان اپنے 25ہزار فوجی غزہ بھیج سکتا ہے۔ اس لیے کہ جتنے فوجی باہر جائیں گے، اتنوں کو خوب پیسہ کمانے کا موقع ملے گا۔ گھر سے تنخواہ بھی لیں گے اور بیرون ملک ڈیوٹی دینے کے بہت سارے الائونسز اوپر سے ملیں گے۔اور وہ اور ان کے بچے ساری عمر فیلڈ مارشل صاحب کو دعائیں دیتے رہیں گے۔فیلڈ مارشل صاحب کو اس بات کی کیا فکر ہے کہ وہ فوجی دو محارب گروہوں میں سینڈ وچ بن جائیں گے اور بہت سے جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے؟پھر ان کے بیوی بچے ان کی جان کوکوسیں گے ۔ پر ان کو کیا فرق پڑے گا؟کیونکہ پہلے ہی سے پچیس کروڑپاکستانی ان کی جان کو رو رہے ہیں۔
فیلڈ مارشل صاحب کو دعائیں دینے والوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
سب سے پہلے تو تحریک انصاف کے حامیوں کا حساب لگالیں۔8فروری کے انتخابات میں توتقریباً تین چوتھائی ووٹرز نے عمران خان کو ووٹ ڈالے۔ فیلڈ مارشل سے منسوب کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فارم47 کے ذریعے جو ہار گئے تھے ، ان کو جتوا دیا۔ تو سوچ لیں کے کتنے لوگ خوش ہوئے ہو نگے؟ظاہر ہے کہ کروڑوں پاکستانی غصہ میں ہیں جن کے امیدواروں کو ہروایا گیا۔اس کے بعد ان لاکھوں لوگوں کی بات کریں جن کے عزیزوں، رشتہ داروں کو جیل میں ڈال دیا گیا، کہ ان کا قصوریہ تھا کہ وہ تحریک انصاف کے کارکن تھے۔کیا اس نام کی جمہوریہ میں کسی مقبول عام سیاسی جماعت میں شریک ہونا جرم ہے؟فیلڈ مارشل کو یہ تمام لوگ کسی نہ کسی شکل میں ضرور یاد کرتے ہوں گے؟ اچھی یا بری، یہ آپ فیصلہ کریں۔
معلو م ہوتا ہے کہ مارشل صاحب نے مصمم ارادہ کیا ہوا ہے کہ پاکستانی عوام کو مارکر، ڈرا کر، دھمکا کر، رکھنا ہے، تبھی وہ ان کے ساتھ خوش ہو نگے۔ اس کا م کے لیے انہوں نے پاکستان کی پولیس کو رکھا ہوا ہے جو کسی نہ کسی بہانے ، لوگوں کے گھروں یں گھس جاتی ہے۔ وہاں خواتین کے ساتھ بے عزتی اور تشدد کرتی ہے۔ مردوں کو بلا کسی وارنٹ کے گرفتار کر کے اپنے عقوبت خانوں میں لے جاتی ہے۔ ان کی کاروائیاں دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ ہمارے ملک پر کسی دشمن ملک کا قبضہ ہو گیا ہے۔ اور اس کی پولیس عوام کے ساتھ وحشیانہ سلوک کر رہی ہے۔اللہ نہ کرے۔ اتنی بہادر افواج کے ہوتے تو ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔یہ ٹھیک ہے کہ ہماری فوج، پر الزام ہے کہ اس نے کھلم کھلا سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے، جس کی قائد اعظم نے ممانعت فرمائی تھی۔لیکن کیا کریں جب سیاستدان ہی ان کو دعوت دیں کہ آئو ملکر کھیلیں۔
اب آپ ہی بتائیں کہ فوج کیا کرے جب اسے امریکہ کے صدرگھر پر بلائیں اور کہیں کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنا ئے۔ اور پاکستان میں عمران خان کو حکومت بنانے سے روکے۔تو یہ حکم تو ماننا پڑے گا۔ اس کے لیے ہم نے ایک ڈرامہ کھیلا۔ جس کا نام ہے9 مئی۔ اس ڈرامہ کا مقصد تھا کہ عمران خان کو قید کر لیا جائے۔ اور جب لوگ احتجاج کے لیے آئیں تو انہیں گھیر گھار کر لاہور کے کمانڈر کے گھر پر حملہ کروا دیا جائے۔ اس طرح فوج براہ راست شامل ہو سکے گی۔اور پھر تحریک انصاف کے سارے کارکنوں، قائدین کو، گرفتار کر لیا جائے گا۔ ان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر مدتوں کے لیے جیل میںڈال دیا جائے گا۔ اسطر ح تحریک کا خطرہ ٹل جائے گا، اور ملک پر پپٹ قسم کے حکمران لا کر بٹھا دئیے جائیں گے جو فوج کے تابعدار ہوں گے۔پھر کیا ہوا، اس کو دہرانے کی ضروت نہیں ۔لیکن ہم یہ ضرور کہیں گے کہ وہ جو ہزاروں نوجوان جیلوں میں سڑ رہے ہیں، کیا کسی نے سوچا کہ ان میں سے کچھ اپنے والدین او ر کنبہ کا اکلوتا سہارا تھے۔ ان خاندانوں کا کیا ہوا ہو گا؟کتنی زندگیاں اس ڈرامہ کے نظر ہو گئی ہو نگی؟
اس وقت تو سوال یہ ہے کہ کس طرح پاکستان کے غریب عوام کو تابعدار کیا جائے۔
پنجاب میں اللہ بھلا کرے وزیر اعلیٰ کا،جنہوںنے غریبوں کا روزگار ختم کرنے کی ٹھان لی ہے۔اپنے چندکارکنوںکو ریڑھیاں دیکر، دوسرے غریب دوکانداروں کی ریڑھیاں الٹا دی یا ضبط کر لیں۔یہ وہ غریب لوگ ہیں جو محنت کر کے حلال کی روزی کمانے کی جد و جہد میں مصروف تھے۔ کارپوریشن کے اہلکار آئے اور یا تو ان کی ریڑھی کو سامان سمیت اٹھا کر لے گئے یا سامان کو الٹا دیا۔ سنا ہے کہ ایک غریب بوڑھا اس ڈر کے مارے کے وہ کارکن آرہے ہیں ، اپنی پھل سے بھری ریڑھی کو بھگاتے کسی طرف چل پڑا اور اس دوران میںاس کو سینے میں درد ہوا اور دل کا دورہ پڑنے پر وہیں سڑک پر چل بسا۔ اس کے پیچھے اس کی بیوی اور سات بیٹیاں ماتم کرتی رہ گئیں،وہ وزیر اعلی کو معلوم نہیں کیا دعائیںدیتی ہونگی؟
وزیر اعلیٰ کو یہ خیال نہیں آیا اور نہ اس کی مشیروں نے اسے بتایا کہ ان غریب ریڑھی فروشوں کو ہٹانے سے پہلے کوئی متبادل جگہ دینی چاہیے تا کہ وہ اپنی جمع پونجی ضائع ہونے سے بچا لیں اور گھر والوں کا پیٹ بھی بھرتے رہیں۔یہ صرف ریڑھی فروشوں کی بات نہیں۔ یہ پورے ملک میں پھیلے ہوئے سوداگر ہیں جو ٹاٹ بچھا کر، یا چھابڑی لگا کر یا ریڑھی پر پھل، سبزی اور دوسری چھوٹی موٹی اشیاء بیچتے ہیں۔ اس کاروبا کو غیر رسمی شعبہ کہا جاتا ہے۔یہ ہزاروں،لاکھوں افراد کی روزی کا ذریعہ ہیں۔ لیکن حاکم ان کے مسائل کو سمجھنے کے بجائے ان کے زخموں پر نمک چھڑکتے رہتے ہیں۔ پولیس والے ان سے بھتہ وصول کرتے ہیں اور بدلے میں انکو تحفظ بھی نہیں دیتے۔یہ پاکستان کی ریاست کیوں نہیں ایشیا کے دوسرے ملکوں سے سبق سیکھتی کہ وہ قومیں اپنے غریب دوکانداروں کے ساتھ کیسے انسانی سلوک کرتے ہیں؟
وزیر اعلیٰ کو عوام میں مقبول ہونے کا اتنا شوق ہے کہ ہر چیز پر اپنا فوٹو لگواتی تھیں۔ خواہ وہ دودھ کا ڈبہ ہو یا ٹائلٹ ٹشو۔پھر اللہ کا کرنا کیا ہوا کہ بڑے بھائی یعنی فیلڈ مارشل نے تحریک لبیک کے جلسے پر گولیاں چلوا دیں اورکئی لوگ مارے گئے۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیا گیا کہ اپنی تصویریں لگوانا چھوڑدیں کیونکہ لبیک والے ان پر حملہ نہ کر دیں۔ تب سے محترمہ نے ذرا سانس لیا ہے۔لیکن محترمہ کو غریبوں کا بہت خیال رہتا ہے۔ جب سے ان کی حکومت بنی ہے سنا ہے کہ ملک کی تقریباً نصف آبادی، 45فیصد، خط غربت سے نیچے چلی گئی ہے ،یعنی اور زیادہ لوگ انتہائی غریب ہو گئے ہیں۔ خط غربت کے نیچے جانے کا مطلب ہے کہ انہیں دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے ملتی ہے۔اب یہ لوگ ان کو دعائیں نہیں دیں گے تو کیا دیں گے؟ دس کروڑ سے اوپر غریبوں کی دعائیں رنگ تو لائیں گی اور ان کا فائدہ فیلڈ مارشل کو بھی ہو گا۔پاکستانی تو ابھی بھی گھوم پھر کے چار پیسے کما لیتے ہیں، لیکن ان کا مقابلہ غزہ کے فلسطینی بھائی بہنوں سے کریں جنکے بچے بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔اللہ کا شکر ادا کریں کہ ہمیں ان حالات کا سامنا نہیں ۔ البتہ پتہ نہیں کیوں خود کشیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ کچھ لوگ مایوسی کی اس حد پر پہنچ جاتے ہیں کہ اپنی جان لینے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ یہ غربت اور بے بسی کی آخری حد ہے، جو چندپاکستانی محسوس کر رہے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ کتنی غیر ملکی کمپنیاں چلی گئیں، انکے ہزاروں ملازمین بے کار ہو گئے۔ کتنی کپڑے کی ملیں بند ہو گئیں اور انکے ہزاروں مزدور بھی روزگار سے محرو م ہو گئے۔حکومت کی حکمت عملی سے لاکھوں لوگ دو وقت کی روٹی بھی نہیں حاصل کر سکتے کیونکہ مہنگائی نے روٹی کی قیمت ان کی دسترس سے دور کر دی ہے۔ لوگ بجائے سڑکوں پر آکر مہنگائی کے خلاف احتجاج کریں، وہ گھروں میں بیٹھے اپنی قسمت کو کوستے ہیں۔اور بد دعائوں سے اپنا غصہ نکالتے ہیں۔بے چارے۔
دوسری طرف، حکومت کے اللے تللے ختم ہونے پر نہیں آ رہے۔وزیر اعظم بے کار کے بیرونی دوروں پر مسلسل جا رہے ہیں۔ ایک جہاز سے اترتے تو دوسرا تیار ہوتا ہے۔ چند روز پہلے، وزیر اعظم کے برادر بزرگ اور بھتیجی ایر فورس کا جہاز لیکر دوبئی گئے ہوئے تھے۔ سنا ہے وہاں محترمہ اپنے بیٹے کی دوسری شادی کے دعوتی کارڈ بانٹ رہے تھے۔غریبوں کی بات اس وقت تو نہیںکرنی چاہیے۔یہ خوشی کا موقع ہے۔بیٹے کی پہلی شادی ناکام ہو گئی۔ اب دوسری کا کیا ہوتا ہے؟ جیسا کہ پاکستان میں ان رشتوں میں ہوتا ہے۔ دولہے کی ماں اس کے کان بھرتی ہے اور پھر میاں بیوی میں کھٹ پٹ ہوتی ہے اور بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔ تو کیا تعجب ہے کہ محترمہ کی بہو نے طلا ق مانگ لی؟اب دوسری آئے گی تو دیکھیں کتنے دن یہ شادی چلتی ہے؟
سوال یہ ہے کہ جب ہمارے اپنے گھر کی حالت خراب ہے تو ہم دوسروں کے پھٹے میں کیوں ٹانگ اڑا رہے ہیں؟ بھلا ہم امریکنوں کے لیے اپنے ہم وطنوں کو کیوں مروا رہے ہیں؟ہمیں ان سے کیا لینا دینا ہے؟ جب سے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی ، اس کے جاری کردہ بیسیوں پروگرام جو غریبوں کے لیے نعمت غیر مترقبہ تھے، ختم کر دیئے گئے۔ اس سے غریبوں نے کیا شکر کیا ہو گا؟ اور فیلڈ مارشل کو جھولی پھیلا کر دعائیں دی ہو نگی؟ پتہ نہیں، پر شاید؟ پاکستانی عوام نہ صرف غریب ہیں، وہ نا خواندہ بھی ہیں۔ انہیں اس بات کا شعور ہی نہیں ہوتا کہ حکومت کیا ٹھیک کرہی ہے اور کیا غلط۔ملاُ انہیں بتاتے ہیں کہ سب نعمتیں اور تکلیفیں اللہ کی طرف سے آتی ہیں۔ اس لیے حکومت کو قصور وار ٹہرانا ٹھیک نہیں۔ اس لیے اللہ سے صرف دعا ہی مانگ سکتے ہیں۔ کسی کے خلاف کارراوائی نہیں ڈال سکتے۔عوا م خاموشی سے تکلیفیں سہتے ہیں۔اور حاکموں کو یہ سوٹ کرتا ہے۔ اسی لیے لوگ احتجاج کرنے سڑکوں پر نہیں نکلتے۔ بھلا اللہ سے احتجاج کون کرتا ہے؟۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button