حافظ ِقرآن جنرل عاصم منیر نے قرآن مجید پڑھنے والوں پر گندہ پانی چھڑکوا دیا

سلیم سید
یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب ہر ہفتے پاکستان اور پاکستان سے باہر مقیم پاکستانی منگل نامہ مناتے ہیں۔ ہر ہفتے سابق وزیراعظم اور پاکستان کی مقبول ترین سیاسی پارٹی تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ خان اپنے بھائی کیلئے عدالت کااجازت نامہ لیکر اڈیالہ جیل پہنچتی ہیں ملاقات کیلئے اور ہر ہفتے ایک نیا ڈرامہ جنرل عاصم منیر کے اہلکار اڈیالہ جیل کے باہر پیش کرتے ہیں۔ پچھلے کئی منگلوں سے عمران خان کی بہنوں اور دیگر دھرنادینے والوں پر واٹر کینن سے ٹھنڈی ترین راتوں میں زبردست پریشر کے ساتھ زہریلا پانی پھینکا جاتا رہا ہے، پھر عمران خان کی بہنوں کو اڈیالہ جیل سے میلوں دور رات کے گھپ اندھیرے میں جنگل میں جا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس ہفتے عمران خان کی بہنوں نے اعلان کیا کہ وہ اڈیالہ جیل جب اپنے بھائی سے ملنے جائیں گی تو وہاں سورۃ یاسین کا ورد کریں گی اور لوگوں سے بھی انہوں نے درخواست کی کہ وہ سورۃ یاسین کی یاقرآن شریف اپنے اپنے ساتھ لیکر آئیں۔ حسب معمول اڈیالہ جیل سے کچھ میل پرے پولیس نے اڈیالہ جیل کے اندر بیٹھے ہوئے جنرل عاصم منیر کے لیفٹیننٹ جنرل نصیر کے حکم پر روک لیا گیا۔ عمران خان کی بہنوں نے وہاں دریاں اور سفید چادریں بچھائیں اور سورۃ یاسین اور قرآن مجید لے کر پڑھنا شروع کر دیا۔ شام ڈھلے جنرل نصیر کے حکم پر چادروں پر بیٹھی ہوئی خواتین اور کارکنوں پر زمین پر گندہ پانی چھوڑ دیا گیا۔ سب لوگ کلامِ مجید کو سنبھالتے ہوئے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور ان کے پائوں کے نیچے گندہ پانی بہتا رہا۔
آج کل ٹی وی پر ایک ڈرامہ چل رہا ہے جس کا نام ’’معمہ‘‘ ہے۔ اس ڈرامے کی مرکزی کردار ایک ذہنی مریض مکان دار خاتون ہے جس نے ایک ایسا سسٹم لگایا ہوا ہے کہ کرائے دار کے گھر کی ویڈیو اور آڈیو وہ دیکھ سکتی ہے۔ ہمیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ جی ایچ کیو اور اڈیالہ جیل کے درمیان بھی ایسا کوئی سسٹم لگا ہوا ہے جس کے ذریعے عاصم منیر ہر منگل کو جنرل نصیر اور اڈیالہ میں کاررائیوں کا حکم دیتا رہتا ہے۔ اس ہفتے شاید حافظ جی کے دل میں خدا کاذرا سا خوسینیٹر برنی سینڈرزف آگیا اور اس نے واٹر کینن کے استعمال کا حکم نہیں دیا وگرنہ پانی سے وہاں پر موجود لوگوں کے ہاتھوں سے قرآن مجید کی صفحات اڑ اڑ کر گندے پانی سے پراگندہ ہوتے اور پھر حافظ جی کے خلاف عوام توہین قرآن پر اٹھ کھڑے ہوتے لہٰذا حافظ جی نے اس ہفتے اسی میں عافیت سمجھی کہ گندہ پانی سڑک پر بچھی چادروں پر چھوڑ دیا جائے مگر حیرت اس بات پر ہے کہ ایک حافظ ایسی بھی منافقت کر سکتا ہے کہ اپنی ہی حفظ کی ہوئی متبرک اور الہامی کتاب پر گندہ اور زہریلا پانی پریشر کیساتھ پھینکوا دے، ہر گزرتے وقت کیساتھ عمران خان کی کہی ہوئی بات سچ ثابت ہورہی ہے کہ عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے، اس ہفتے ایک بار پھر حافظ نے اپنے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے ذریعے ایک تین گھنٹے طویل جی ایچ کیو میں پریس کانفرنس کرائی گئی جس میں موصوف ایک مخبوط الحواس مسلم لیگ ن کے ترجمان کی طرح سے حرکتیں نظر آئے اور سوشل میڈیا پر ان کی دھلائی ہوتی رہی۔ کسی بھی دیکھنے والے کو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ کہنا کیا چا رہے ہیں البتہ اس پریس کانفرنس نے اس بات کی مکمل تردید کردی کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی، اب یہ بیانیہ قطعاً طور سے ناکام ہو گیا ہے، اس ڈائریکٹر جنرل کو ذرا سی بھی غیرت اور شرم نہیں آئی جب اس نے اپنی لڑکی کی عمر کے برابر وکیل ایمان مزاری کو بھی پاکستان کا غدار قرار دے دیا۔ کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے بعد اگر قائداعظم محمد علی جناح مزید حیات رہتے تو یہ جنرل فاطمہ جناح کی طرح انہیں بھی قوم کا غدار، ہندوستانی ایجنٹ اور اسرائیل کا ایجنٹ قرار دینے سے گریز نہیں کرتے اور اڈیالہ جیل میں قید کر کے ان پر تین سو سے زائدمقدمات قائم کر دیتے۔ ہاں البتہ جنرلوں نے اب کوئٹہ میں دئیے گئے قائداعظم کے بیان کو پاکستانی آرکائیو سے غائب کرایا ہے جس میں انہوں نے حکم دیا تھا کہ فوج کا ملکی سیاست میں حصہ کا کوئی سروکار نہیں۔



