ہفتہ وار کالمز

سپیڈ بریکر اور آ ہنی دروازے !

انسان کو بڑی مقدار میں آزادی کی نعمت حاصل ہو جائے تووہ اپنی اخلاقی ،سماجی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسرے کی آسانیوں کو مشکل میں تبدیل کر دیتا ہے قانون بھی ایسی کھڑی کی گئی مشکلات کا نوٹس نہیں لیتا اور گزر جاتا ہے یوں جس کے جی میں جو آئے وہ کر گزرتا ہے جانتا ہے کہ اس زیادتی کا ،لاقانونیت کا پوچھتا کون ہے ؟ رہ گزر ہو یا گلیاںہوں پشاور میں کوئی بھی شخص اپنے گھر کے یا دکان کے سامنے سپیڈ بریکر بنا سکتا ہے وہ اپنی گلی میں جو سرکاری رہ گزر ہے اُسے آ ہنی دروازے سے بند کر سکتا ہے گویا جیسے ان کی گلی میں بادشاہِ وقت کی رہائش گاہ ہے جہاں سے اک عام بندے کا گزر نہیں ہو سکتا پیدل جانے والے ہوں یا کسی بھی سواری پر براجمان لوگ ہوں انھیں مجبوراً مشکل راستہ اختیار کر کے اپنی منزل پر پہنچتے ہیں۔ تکالیف و مشکلات کی عادی یہ عوام اس زیادتی پر بھی اپنے منہ میں بڑبڑانے کے بعد سرجھکا کر اس زیادتی کو اس غیر قانونی حرکت کو سہہ جاتی ہے کسی سے شکایت نہیں کرتی جب کسی زیادتی پر کوئی احتجاج نہ ہو اُس کے خلاف آواز نہ اٹھے تو پھر لاقانونیت قانون بن جاتی ہے جب کہ اس کے خلاف آواز اُٹھانے والے کو قصوروار تصور کیا جانا روایت بن جاتی ہے بلدیاتی نظام جو کہ جمہوری نظام کی بنیاد کہلاتا ہے اُس کی خوبیاں عوامی سطح پر سامنے لا کر بڑے حسین خواب عوام کو دکھائے گئے عوامی آنکھیں جن کی آج بھی متلاشی ہیں جن بنیادی مسائل کے ڈھانچے کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا گیا اُس بلدیاتی نظام میں زمینی حقائق کے مطابق جان ہی نہیں ڈالی گئی پھر اس کا بوجھ قومی خزانے پر ڈال کر حکمران بے فکر ہوگئے یوں نہ نظام کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور نہ حکومتی عملداری نظر آتی ہے دل ماتم کناں ہوتا ہے جب معاشرے کے مختلف طبقات کو جمہوریت و آمریت کی خوبیوں ،خامیوں پر رائے زنی کرتے دیکھتا ہوں جب دونوں نظام ہمارے ملک میں ناکامی سے دوچار ہیں تو اسلامی نظام کی طرف یہ خلق ِ خدا کیوں نہیں آتی ؟اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ میں کیوں رکاوٹیں ہیں اور کون لوگ اسلامی نظام کے خلاف ہیں انھیں منظر عام پر لانا میرے جیسے عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے جانتا ہوں کہ اللہ اور رسول کے اس اسلامی نظام کو ارباب ِ اختیار طبقہ ہی رائج کر سکتا ہے مگر یہ اسلام کے انصاف سے ڈرتے ہیں اسی لئے جمہوریت کے آڑ میں یہ عوامی نمائندوں کا روپ دھار کر اپنے مفادات کے گلشن کی آبیاری کرتے رہتے ہیںٹریفک قوانین کے خلاف بنے ہوئے سپیڈ بریکر جس پر سے کسی گاڑی میں بیٹھی حاملہ خاتون ہوں یا گردوں کے امراض میں مبتلا مریض یہ سب کہیں جانے کے لئے سڑک سے نہیں گزرتے ،ایک عذاب سے گزرتے ہیں نظراندازی کی روایات صرف بلدیہ میں نہیں ہیں یہ درپیش تکالیف شہریوں کو ہر محکمے میں واسطہ پڑنے سے سمجھ آتی ہیں کراچی میں گٹر کے ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے اب تک 27لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں 8معصوم بچے بھی شامل ہیں اس کے باوجود کوئی بھی وہاں کے بلدیاتی نمائندوں کو ذمہ دار نہیں ٹہراتا اس نااہلی سے ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار کسی کو ٹہرایا ہی نہیں گیانہ ہی انسانی جانوں کے ضیاع پر کوئی ایک بھی پابند سلاسل ہوا قانون بھی لمبی تان کر سویا رہا ۔ نظر اندازی کی بے حسی کی اس قدر کثرت سے لگتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں سر زمین ِ پاک پر عام آدمی کا وجود ناپید ہو گا ہر گلی ہر سڑک پر آپ کو جا بجا سپیڈ بریکر اور آہنی دروازے ملیں گے جن کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا اور نہ ہی بلدیہ کے کسی حاکم نے اس کی اجازت دی ہوتی ہے گلہ ان ناظمین سے یہ بنتا ہے کہ وہ ایسی غیر قانونی حرکات کا نوٹس کیوں نہیں لیتے وہ اپنے بڑوں کو سب اچھا کی رپورٹ اگر دیتے ہیں تو کیا اس کی تحقیق اعلی سطح پر نہیں کی جاتی ؟ سپیڈ بریکر بنانے کا طریقہ کار اور ضروری مقام یقینی طور پر بلدیہ والوں نے وضع کیا ہو گا جب مذکورہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ہوتے ہوئے سر عام دیکھتے ہیں تو ناظمین یا بلدیہ کے اہلکار اس بریکرز کو ان غیر ضروری آہنی دروازوں کو ہٹاتے کیوں نہیں ؟حکومت کے دعوے ہیں کہ ملک کو صیح سمت پہ ڈال دیا ہے مگر قانون و انصاف کی حکمت ِ عملی نظر نہیں آتی مگر بدعنوانی ،نا اہلی،نظراندازی ،افسر شاہی دیکھنے کو ملتی ہے یہ لوگ عدل و انصاف ،قانون ،حب الوطنی کی راہ میں سپیڈ بریکر اور آہنی دروازے کی مانند ہیں جن کو اکھاڑ پھینکنا ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان کے کسی بھی نظام ِ سلطنت نے نہ ملکی اداروںکو منافع بخش کیا نہ ملک میں جمہوری اداروں کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کیا حتی کہ بلدیاتی نظام کو بھی اُس کی افادیت کے لحاظ سے لاگو نہ کر سکے تو سیاسی جماعتوں کو اپنے اقتدار کے حصول کے لئے احتجاجی تحریکیں چلانے سے قبل یہ مذکورہ سپیڈ بریکر اور آ ہنی دروازے ہٹانا ضروری ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button