قائدِ اعظم

اس ہفتے بہت سے موضوعات تھے ملکی سیاست،بے نظیر کی شہادت، اور قائد کا یوم پیدائش،میں نےقائد کی سیاسی زندگی پر لکھنا مناسب سمجھا،بے نظیر کے بہیمانہ قتل پر اگلے ہفتے کچھ معروضات سامنے رکھوں گا،ملکی سیاست پر بات جاری رہے گی،قائد پر لکھنا اس لئے ضروری ہو گیا کہ کچھ حوالوں سے یہ بتانا اہم ہے کہ پاکستان کو کیسا ہونا چاہیئے تھااور اب پاکستان کیسا ہے اور یہ بھی کہ قائد کی شخصیت ہندوستان کے دیگر سیاست دانوں سے کس طرح مختلف تھی قائداگر زندہ رہتے تو پاکستان کی سیاست کا رخ کیسا ہوتاہم زندگی کے ہر شعبے کو اسلام کے پیمانے سے ناپنے کے عادی ہیںمگر ہمیں کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہیں ملتی جو ہمیںیہ بتائے کہ اسلام کا سیاسی نظام کیا تھا اسلام سماجی،معاشرتی،سیاسی اور معاشی نظام کیا تھادینی طبقات ابنِ کثیر اور ابنِ تیمہ کے حوالے ضرور دیتے ہیں مگر ابنِ خلدون کو بھول جاتے ہیںابنِ خلدون بہت وضاحت سے معاملاتِ سیاست پر گفتگو کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ امورِ حکومت کو چلانے کے لئے کس فکر کی ضرورت پڑتی ہے ابنِ خلدون پر پہلے پہل مغرب میں کام ہوا اور مغرب نے ہی مسلمانوں کو یہ بتایا کہ یہ مورخ اور فلاسفر آپ کا ہے،دو سو سال پہلے تک دینی رہنما ابنِ خلدون کا نام بھی نہیں جانتے تھے ابنِ خلدون کی Approach بہت آفاقی تھی اس نے اپنامقدمہ صرف عرب معاشرے کے اصولوں، روایات، اور قبائلی نظام سے نہیں اٹھایا اس لئے ہمیں ابنِ خلدون سب سے مختلف نظر آتا ہے ابنِ کثیر، ابنِ تیمہ یا امام غزالی عرب معاشرے کو ہی پیمانہ بناتے ہیں اور زیادہ تر احادیث کو ہی اپنے مقدمے کی بنیاد بناتے ہیںامام غزالی یونانی فلسفے سے قدرے واقف تھے مگر انہوں نے یہ بھاری پتھر چوم کر رکھ دیا وہ جانتے تھے کہ یونانی فلسفہ مسلم معاشرے کی شکل بدل کر رکھ دے گا اور تبدیلی سے ان کو بہت ڈر لگتا تھاان تمام رجعت پرست امام اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ زمانہ بدلے گا نہیں اور زندگی اسی ڈھرے پر چلتی رہے گی سو یونانی فلسفے کا ترجمہ ضرور ہوا مگر یہ تراجم مغرب کے کام آئے اور انہی تراجم نے مغرب کو dark agesسےنکال لیا اور یورپ میں نشاۃ الثانیہ کا احیاء ہوا ،دنیا میں کچھ بھی ہوتا رہے مسلم اماموں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ مادی ترقی بلاآخر ایک دن ان کو پستی اور غلامی کے غاروں میں دھکیل دے گیاور یہی ہوا،پھر ہم نے الزام لگانا شروع کر دیا کہ ہماری خلافت ہماری بادشاہت ہماری حکومت باقی رہتی اگر مغرب ہمارے خلاف سازش نہ کرتا عقل کے اندھوں کو یہ کہاں معلوم تھا کہ سازش کمزوروں کے خلاف ہوتی ہے جہاں چند سکوں کے عوض پوری پوری فوج بھی خرید لی جاتی ہے اور یہ ایک بار نہیں ہزاروں بار ہوا مسلمانوں کی مسلمانوں کے خلاف غداری کے قصے تاریخ میں بھرے پڑے ہیں کل کی ہی خبر ہے کہ صومالیہ کے ایک حصے صومالی لینڈ کو صومالین نے ہی ایک الگ اسٹیٹ بنا لیا ہے راتوں رات اسرائیل سے معاہدہ بھی کر لیا اور اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم بھی کر لیاہمارے یہاں بھی پختون علیحدگی کی بات کر چکے ہیںوہ افغانستان کے ساتھ الحاق کے لئے تیار ہیں مگر اس بات سے خائف ہیں کہ اگر پختون خواہ نے افغانستان کے ساتھ الحاق کیا تو کنٹرول افغانیوں کا ہوگااور پختونوں کی عیاشیاں ختم ہو جائیں گی علیحدگی پسند تحریکیں صرف ایشیا ءاور افریقہ میں ہی چلتی ہیں مغرب میں علیحدگی پسند تحاریک نہیں چلتیں لوگ ہمارے ہاں سستےداموں بکنے کے لئے مل جاتے ہیں آپ کو مغرب میں ایک معمولی لکھاری نہیں ملتا جو آپ کا ہم نوا ءبن جائے،قرآن کی چند آیات حفظ کرنے والے اور دوچار احادیث کا جاپ کرنے والے مولویوں کی سمجھ میں یہ بات آتی نہیں ہےسو تمام دنیا میں مسلم معاشرہ ایسے ہی لوگوں سے بھرا پڑا ہے اور بات یہ کہ شرمسار بھی نہیںمسلمانوں کی سولہ سالہ تاریخ میں بڑے لوگ کم پیدا ہوئے بڑے لوگوں کی فہرست زیادہ لمبی نہیںوہ جن سے مسلمانوں کی روحانی عقیدت ہے وہ فہرست طویل ہے میں اموی ،عباسی اور فاطمین خلفاء اور عثمانی سلاطین کو زیر بحث نہیں لاتاان کا شمار بڑے لوگوں میں نہیں ہوتا،Shakespearنے کہا تھا کہ کچھ لوگ بڑے پیدا ہوتے ہیںکچھ کو بڑا بنا دیا جاتا ہے اور کچھ پر بڑائی خود آکر گر جاتی ہے سو بادشاہوںاور سلاطین کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہےجن پر بڑائی خود آکر گر پڑی،تاریخ ہند و ستان پر غور کیجیے رام، کرشنا،تاریخی شخصیات نہیں،اشوک ،چندر گپت موریہ اور کنشک کا شمار راجاؤں میں ہوتا ہے ان کی انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف ضرور ہونا چاہیئے مگر اس دور میں لے دے کے ایک چانکیہ کا نام ایسا ہے جو متاثر کرتا ہے،مسلمانوں کی ہندوستان میں ہزار سالہ تاریخ ہے اس دوران سوائےصوفیاء کے کوئی دانشور پیدا نہیں ہوا،فیضی اور ابوالفضل کی کہانیاں مشہور ہیں،مجھے تاریخ میں کہیں تعلیم کا ذکر نظر نہیں آتا،مغلوں نے ہندوستان کو تین چیزیں دیں اُردو،تاج محل اور مزار پرستی،ہندو اور مسلمان مل کر انگریزوں کو لاکھ براکہیں مگر سو سال کے اندر انگریزوں نے ہندوستان کی شکل بدل دی تھی،نظامِ تعلیم،نظامِ انصاف،سڑکیں، پل،پولیس،اسکول، کالجز،ہسپتال،hill stationsاور تو اور اُردو کی شکل بھی بدل د ی، اس پوری سعی نے ہندوستان کو کچھ سوچنے اور لکھنے والے لوگ دے دیئے ان میں سے ایک کا نام محمد علی جناح تھاوکیل اور جج تو سرسید اور اکبر الہ آبادی کے بیٹے بھی بنے مگر ان میں کوئی جناح نہ تھاایک عام سا لڑکا جو بہت سے دوسرے لڑکوں کی طرح انگلینڈ گیا بیرسٹر بنا اور اپنی رگ وپے میں قانون بسا کر واپس لوٹااور وہ ہندوستان کا سب سے بڑا وکیل بن گیازرداری کے والد حاکم علی زرداری جناح کے بارے میں کچھ بھی کہتے رہیں مگر چاند پر تھوکا نہیں جاتا،ابوالکلام آزاد نے India Wins Freedom تحریر کی مگر وہ آٹھ سو صفحے کی کتاب میں جناح کے خلاف کچھ بھی نہ لکھ سکے،اس وقت ویب پر وہ کتابیں موجود ہیں جو جناح کے کام اور شخصیت کے بارے میں ہیں ان کی تعداد درجنوں میں ہے ان میں کچھ انگلش اور کچھ ہندو مصنفین بھی ہیں جسونت سنگھ کی کتاب ان میں اہم ہے پاکستانی اور ہندو رائیٹرز نے اپنے اپنے تجزئیوں میں اپنی پسند کو بھی شامل کر لیا ہے ان میں کرن دوشی اور رشی کیش جھا نے اپنے تجزئیوں میں اپنی پسند کو شامل نہیں کیا اور وہی لکھا جس کی تاریخ نے تائید کی اور لاجک نے اپنایاجناح نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز آل انڈیا نیشنل کانگریس کی رکنیت سے کیا،جلد ہی کانگریس چھوڑ دی اور آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی،چلیں کچھ Hypothiticalبات کر لیتے ہیں فرض کر لیتے ہیںکہ آل انڈیا مسلم لیگ نہ بنتی تو انڈیا کی آزادی کا مقدمہ کانگریس کو ہی لڑنا پڑتا،اور سیدھا سادا مقدمہ کہ ہندوستان کو آزادی دی جائے،میرا خیال ہمیشہ ہی یہ رہا کہ ہندوستان جب سے تاجِ برطانیہ کے زیر انتظام آیا تاج برطانیہ نے ہندوستان پر تا دیر تسلط برقرار رکھنے کی شعوری کوشش نہیں کی،اگر تسلط برقرار رکھنا ہوتا تو آل انڈیا کانگریس بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی،میرے صحافی دوست نے اس کا جواب یوں دیا کہ برطانیہ کانگریس کے ذریعے ہندوستان کا نظم و نسق چلانا چاہتا تھامیراجواب یہ تھا کہ کانگریس کے سبھی رہنما تو آزادی کی بات کرتے تھے،کوئی رہنما ایسا نہ تھا جو انگریز راج کے حق میں ہوزیادہ سے زیادہ کانگریس transition of powerکے مسئلے پر بات کر سکتی تھی جناح کے سامنے مسلمانوں کےسامنے ایک الگ ملک کا مقدمہ رکھنا اس کے خد و خال بیان کرنااور اس کے لئے مسلمان جیسی قوم کو mobilize کرنے جیسا کٹھن کام تھا کانگریس کو ہندؤں کو mobilize کرنے جیسا کام تھا ہی نہیں وہ ایک ہی تالاب سے پانی بھی پی رہے تھے اور نہا بھی رہے تھے،یہ کام تو جناح کا تھا جنہیں نیا کنواں کھودنا پڑ رہا تھا،جناح نے سیاست میں اپنے طور نہیں بدلے مگر گاندھی کو عشروں جنوبی افریقہ میں سوٹ پہن کر پریکٹس کرنے کے باوجود ہندوستان میں اپنا حلیہ تبدیل کرنا پڑا،پوری سیاسی زندگی میں جناح نے کبھی اپنا موقف تبدیل نہیں کیا اور صرف قانون اور دلیل کی بات کی،ایک انگریز مصنف نے جناح کو سیکیولر لکھا ہے وہ سیکیولر ہی تھے وہ دو قومی نظرئے کے لئے لڑ رہے تھے ۔بعد میں مودودی صاحب نے دو قومی نظریہ کو دو مذہبی نظریہ بنا دیاجناح تو کہہ رہے تھے کہ آپ آزاد ہیں آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لئے،اپنے مندروں میں جانے کے لئے یا کسی بھی عبادت کی جگہ پر،آپ پاکستان کے آزاد شہری ہیںجناح نے تقسیم کے فوراً بعد civil autonomy کی بات کر دی تھی،civil service کے خطوط بھی واضح کر دیئے تھے اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں جن کا تذکرہ محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب My Brotherمیں کر دیا کچھ کھوٹے سکے پنجاب اور سندھ کے وڈیرے تھے جنہوں نے جناح کے قتل کے بعد سنپولوں کاروپ دھار لیا،قائد کے سارے سیکیولر نظریات پر لیاقت علی خان نے پانی پھیر دیا،نو آبادیاتی تاریخ میں جناح کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے طویل قانونی جنگ لڑی اور مسلمانوں کو ایک نیا ملک دیا۔بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے شائد اس کا اندازہ جناح کو بہت پہلے تھاوہ اس نفسیات کو پہلے سے سمجھتے تھے کہ جب رعیت اکثریت بن جاتی ہے تو وہ کتنی خطرناک ہو جاتی ہے اور فاشزم کیسے اس کا ہتھیار بن جاتا ہے جناح کی سیاسی زندگی جدید تاریخ میں بہت منفرد ہے جس کی تاریخ نہیں ملتی۔۔ آسماں اُس کی لحد پہ شبنم افشانی کرےunprecented۔



