سٹیزن شپ کی تنسیخ

صدر ٹرمپ نے جسٹس ڈیپارٹمنٹ کو حکم دیاہے کہ وہ نئے سال کے ہر مہینے میں دو سو افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے مقدمات دائر کرے۔ امریکی آئین میں سٹیزن شپ کو خصوصی اہمیت کا حامل سمجھا گیا ہے اس لیے ٹرمپ انتظامیہ کو اس حکم کی بجا آوری میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔امریکی آئین میں Denaturalization کے لیے کوئی خصوصی شق موجود نہیں ہے مگر مختلف حکومتوں نے آئین کے آرٹیکل ونَ ‘ سیکشن 8 کی کلاز 4 کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ اسمیں لکھا ہے ا” Naturalization is a privilege, not a right, if obtained deceptively”اسکا مطلب یہ ہے کہ شہریت شہری کا استحقاق نہیں رہتی بلکہ ایک رعایت بن جاتی ہے جب اسے فریب دیکر حاصل کیا گیا ہو۔ یہ کلاز کانگرس کو اختیار دیتی ہے کہ وہ ایسے شہریوں کی سٹیزن شپ منسوخ کر ے جنہوں نے فراڈ کر کے یا غلط بیانی سے شہریت حاصل کی ہوتی ہے۔ اس کلاز کی رو سے شہریت کی تنسیخ صرف عدالتی عمل کے ذریعے ہی کی جا سکتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل وَن سیکشن 8 کی کلاز 18 کانگرس کو اختیار دیتی ہے کہ وہ قانون سازی کرکے دھوکہ دہی سے حاصل کی ہوئی شہریت کو منسوخ کرے۔ اس آرٹیکل کے مطابق سٹیزن شپ اس صورت میں بھی منسوخ کی جا سکتی ہے جب کسی نے اپنے بارے میں ایک بڑی حقیقت کو پوشیدہ رکھا ہو۔اسے Concealment of a material fact or wilful misrepresentation کہا گیا ہے۔ آئین کے مطابق سٹیزن شپ کی تنسیخ کسی ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے نہیں کی جا سکتی ۔
گذشتہ صدی میں امریکہ میں ایسے لوگوں کی سٹیزن شپ منسوخ کی گئی تھی جو کسی بنیاد پرست گروہ سے تعلق رکھتے تھے یا جنہوں نے نازی جرمنی کے دور میں جنگی جرائم کئے تھے۔ اس دور میں ایسے افراد زیر عتاب آئے تھے جنہوں نے شہریت حاصل کرنے کے لیے اپنا اصلی تشخص پوشیدہ رکھا تھا یا وہ جرائم میں ملوث رہے تھے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ایسے افراد کو شہریت کے حق سے محروم کیا گیا تھا جو امریکہ کے سیاسی مخالفین تھے ۔ان میں ایک بڑی تعداد ایسے جرمن نژاد لوگوں کی تھی جنہوں نے پہلی جنگ عظیم میں جنگی جرائم کئے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایسے لوگوں کی شہریت منسوخ کی گئی تھی جو ہٹلر کے حمایتی تھے اور انہوں نے جرمنی میں انسانی حقوق پامال کئے تھے۔ ان میں سے اکثر کو ہٹلر کے برپاکردہ ہولو کاسٹ یعنی یہودیوں کی نسل کشی کے عمل میں شمولیت کی وجہ سے شہریت سے محروم کیا گیا تھا۔بیسویں صدی کے پہلے عشروں میں Services United States Custom And Immigrationکے مہیا کردہ اعدادو شمار کے مطابق لگ بھگ 22 ہزار افراد کی شہریت منسوخ کی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق قانون کی معمولی خلاف ورزی کرنے والوں کو شہریت کے استحقاق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔آئین کی اوپر بیان کردہ کلاز وہ حربہ ہے جسے مختلف حکومتیں سنجیدہ نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف استعمال کرتی رہی ہیں۔ جو لوگ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کئے جاتے ہیں وہ بطور خاص اس یلغار کی زد میں ّآئیں گے۔ اس نوعیت کے مقدمے میں حکو مت کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ شہریت Unlawfully Procured یعنی غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھی۔امریکی آئین نے حکومت کو پابند کیا ہے وہ عدالت میں Clear, Convincing and Unequivocal یعنی واضح‘ معقول اور غیر مبہم ثبوت پیش کرے۔ ایسا ثبوت جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ ہو اور جسکی ایک سے زیادہ تشریح نہ کی جا سکتی ہو۔
جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے منگل سولہ دسمبر کو صدر ٹرمپ کا محولہ بالا حکمنامہ موصول کرنے کے بعد کہا ہے کہ وہ اگلے سال Denaturalization کے مقدمات ترجیحی بنیادوں پر دائر کرے گی۔ امریکی میڈیا کو جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے بتایا ہے کہ وہ 2026 میں ایسے افراد پر شہریت منسوخ کرنے کے مقدمات قائم کریں گے جو گینگ ممبرز رہے ہیں‘ جنہوں نے مالی فراڈ کئے ہیں‘ جنکا تعلق منشیات فروشی سے ہے اور جو پر تشدد جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ اس نوعیت کے کئی مقدمات پہلے بھی سپریم کورٹ جا چکے ہیں۔ ان مقدمات میں عدالت عظمیٰ یہ رولنگ دے چکی ہے کہ سٹیزن شپ کا حق اتنا اہم اور بنیادی نوعیت کا ہے کہ حکومت محض کسی خدشے کی بنیاد پر اسے واپس نہیں لے سکتی۔ عدالت عظمیٰ نے 2017 کے ایک مقدمے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ حکومت کو کسی کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے نہ صرف یہ ثابت کرنا ہو گا کہ جھوٹ بولا گیا ہے بلکہ یہ شواہد بھی پیش کرنا ہوں گے کہ اس جھوٹ کے سٹیزن شپ حاصل کرنے کے عمل پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے رواں سال کے پہلے نوماہ میںU.S. C.I.S کے اعدادو شمار کے مطابق 2.5 ملین غیر قانونی افراد کو ڈیپورٹ کیا ہے۔ ان میںتقریباّّ انیس لاکھ افرادایسے تھے جو خود ہی امریکہ چھوڑ کر چلے گئے۔ مبصرین کے مطابق Self Deport ہونے والے تارکین وطن کو یہ خدشہ تھا کہ انہیں گرفتار کر کے دوسرے ممالک کی جیلوں میں بھیج دیا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق سٹیزن شپ کھو دینے والے اکثر شہریوں کو گرین کارڈ رکھنے کی رعایت دی جا سکتی ہے۔ Census Bureau کے 2023 میں مہیا کردہ ڈیٹا کے مطابق امریکہ میں لگ بھگ پچیس ملین ایسے شہری ہیںجنہوں نے Naturalization کے ذریعے شہریت حاصل کی ہے۔ آجکل ان میں جو خوف و ہراس پایا جاتا ہے اسکی خبریں میڈیا میں نمایاں طور پر پیش کی جا رہی ہیں۔ نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک تقریب میں ایک مقرر نے کہا کہ امریکہ انے اگر نکال دیا تو پیارا پاکستان اپنے بازو پھیلا کر ہمیں خوش آمدید کہے گا۔



