ہفتہ وار کالمز

پاکستانی ایکسپورٹرزکے لیے نادر موقع!

چند رو ز پہلے، راقم کو جنوبی فلوریڈا کے علاقے سئنرائز میں پاکستانی گروسری سٹور میں خریداری کے لیے جانا پڑا، تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تقریباً تمام اشیاء بھارت ساختہ تھیں۔صرف چند برانڈ جوچاول، چائے اور مصالحوں کے تھے جو پاکستانی تھے۔ میرے استفسار پر مالک نے بتایا کہ کیا کریں، مجبوری ہے۔ہمیں یہاں کوئی پاکستانی ڈسٹری بیوٹر ملتا ہی نہیں۔ صرف انڈین سامان لاتے ہیں جو ہمیں لینا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا صرف نیشنل کے مصالحے آتے ہیں جو ہم رکھتے ہیں۔اور یہ کہ اس پورے علاقے میں پاکستانی گروسری سٹور نہیں ہیں۔ اگر یہاں کوئی یہ کاروبار کرے تو اس میں بڑا منافع ہے۔ہم نے اس دن جو چیزیں خریدیں، ان کی قیمتیں آپ کی اطلاع کے لیے لکھ دی ہیں تا کہ آپ موازنہ کر سکیں کہ پاکستان میں یہ کتنے کی ملتی ہیں۔ یاد رہے کہ ایک کلو میں 2.205 پائونڈ ہوتے ہیں، اور ڈالر کی قیمت 280 روپے لگائی گئی ہے۔
پاکستانی دوکان میں اشیائے خورد و نوش کے بھائو، چند دن پہلے:
مونگ کی دال ۷۴۰ روپے فی پائونڈ، کلو کی قیمت ۱۶۳۲ روپے
بیسن ۲ پائونڈ ۱۲۵۸ روپے، فی کلو
باسمتی سیلا چاول زیبرا ۱۰ پائونڈ ۔۵۸۸۰ روپے، فی تھیلا ۹۶۵،۱۲ روپے
قصوری میتھی ۔ ۲۵ گرام ۵۰۱ روپے
بڑا قیمہ ۲ پائونڈ ۔ ۳۶۳۹ روپے
بڑا گوشت ہڈی والا ۲ پائونڈ ۔ ۳۶۳۹ روپے
نہاری کا گوشت برف میں فروزن۔ فی پائونڈ ۱۸۱۸ روپے، کلو ۰۰۸،۴ روپے
دھنیہ ۔ ۲۸۰ روپے میں ایک گٹھی
پودینہ ۔ ۲۸۰ روپے میں ایک گٹھی
سنا ہے کہ پاکستان گوشت بھی برآمد کرے گا، تو اس لیے گوشت کی قیمت بھی لکھ دی ہے۔ بکرے کا حلال گوشت آج کل نایاب ہے۔ سنا ہے کہ جب آئے گا تو ۱۵ ڈالر کا پائونڈ ملے گا۔ ابھی تک ۱۲ ڈالر کا پائونڈ مل رہا تھا۔ اس کے مقابلے میں آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ سے حلال بکرے اور بھیڑ کا فروزن درآمدہ گوشت سات ڈالر کا پائونڈ مل رہا ہے۔ کچھ لوگوں کو اس میں بُو آتی ہے اور کچھ کو اس میں بڑا ریشہ اچھا نہیں لگتا۔ لیکن جب امریکی بکرے کا گوشت ۱۵ ڈالر کا پاونڈ لینا پڑا تو غالباًیہ سب کمیاں نظر انداز کی جائیں گی۔
اس خیال سے کہ پاکستان کو زر مبادلہ کی سخت ضرورت رہتی ہے، اور اس کو برآمد کے لیے مواقع چاہئیں، اس کالم کو اسی موضوع پر لکھا جا رہا ہے۔
گذشتہ سال یعنی ۲۰۲۴ء میں پاکستان نے کل دس بلین ڈالر سے کچھ اوپر کی چیزیں امریکہ کو براآمد کیں، جو اس سے گذشتہ سال کے مقابلے میں ۳ء۶ فیصد زیادہ تھیں۔ یعنی ۵۲۳ ملین ڈالر۔اس کے مقابلے میں امریکہ کی پاکستان کو براآمدات کا حجم۱ء۲ بلین تھا جو گذشتہ سال کے مقابلہ میں ۳ء۳ فیصد زیادہ تھا۔
اطلاعاً عرض ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو Most favored nation کا رتبہ دیا ہوا ہے، جس کے مطابق اسے معمول کے مطابق، غیر تفریقی تجارتی شرائط دی جاتی ہیں۔بلکہ حالیہ دور میں پاکستان کو ٹیرفس میں بھی رعایت دی گئی ہے کچھ اشیا پر صرف ۱۹فیصد ٹیرف لگایا گیا ہے۔جو موسٹ فیورڈ نیشن کے رتبہ سے بھی زیادہ ہے۔پاکستان کی کل برآمدات کے لیے سب سے اہم ملک امریکہ ہے۔ امریکہ نے نومبر ۲۰۲۵ء میں دو سو سے زیادہ کھانے پینے کی اشیاء، زراعتی پیداوارکوٹیرف کی فہرست سے نکال دیا ہے، جس سے انڈین برامد کنندگان کو فائدہ ہو گا۔اور مصالحہ جیسے ہلدی، ادرک، دار چینی، ہری الائچی، اور زیرہ پر ٹیرف نہیں لگے گا۔اس میں کاجو اور دوسرے میوہ جات شامل ہیں۔بھارت نے۸۰ سے ۹۰ بلین ڈالر کی چیزیں امریکہ کو بیچیں جو پاکستان کے مقابل میں آٹھ نو گنا زیادہ بنتا ہے۔بھارت امریکہ کو دوائیاں، قیمتی جواہر، اور سونے کے زیورات ، انجینئرنگ کی مصنوعات، ملبوسات، اور پٹرول سے بنائی ہوئی مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ اس لحاظ سے امریکہ بھارت کا سب سے بڑا برآمدی ملک ہے۔ سن ۲۰۲۴ء میںامریکہ میں مصالحوں کی مارکیٹ 19.35 بلین ڈالر کی تھی۔یہ مارکیٹ اگلے سال بڑھ کر 20.24 بلین ہو گئی۔اور ہر سال ۶ء۴ فیصد بڑھوتری کی توقع کی جاتی ہے۔ مارکیٹ کی تحقیق اور اندازوں کے مطابق مصالحوں کی مارکیٹ میں واضح رحجان صحت کے نقطہ نظر اور کھانا پکانے کی نئی تراکیب کی طرف ہو رہا ہے۔ شمالی امریکہ میں بالخصوص صحت سے متعلق اشیاء کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ثابت مصالحے مارکیٹ میں سب سے زیادہ مانگے جاتے ہیں اگرچہ پسے ہوئے مصالحے سہولت اور ہمہ گیری کی وجہ سے بھی مقبول ہیں۔صحت کی فکراور شعوراور خوراک تیار کرنے میں جدت، مارکیٹ میں بہتری لانے کی وجوحات ہیں۔
امریکہ کی گروسری مارکیٹ میں مصالحوں کی منڈی میں، پاکستان اور بھارتی کمپنیوں کے مصالحے نہیں بلکہ امریکن اور یوروپی کمپنیوں کے مصالحے بکتے ہیں ، جیسے میکارمک، اولم انٹرنیشنل، کرافٹ، ہائنز، یونی لیور، ایسوسی ایٹڈ برٹش فوڈز، ڈہولر، سپائس ورلڈ ، باڈیہ سپائسز اور فرنٹیر کو آپ۔
آن لائین شاپنگ نے خریداری کے نئے مواقع پیدا کر دیئے ہیں۔صارفین آن لائین جا کر اپنی پسند کی چیزیں خرید سکتے ہیں اور ان کے سامنے ورائٹی بھی زیادہ ہوتی ہے اور قیمتوں کا موازنہ بھی آسان۔وہ نئی مصنوعات بھی دیکھ سکتے ہیں، جو عام دوکانوںپر نہیں ہوتے۔مصالحے کھانوں میں جان ڈال دیتے ہیں۔ان میں خوشبو، اور شکل کے علاوہ لذت بھی بڑھاتے ہیں۔اس لیئے زیادہ صارفین ، عمدہ ، اچھی کوالٹی کے مصالحوں کے متلاشی ہیں جو ہمیشہ ایک جیسی کوالٹی، تازہ، اور متفرق نتایج دیں۔مختصراً، اگر کوئی پاکستانی کمپنی اعلیٰ کوالٹی کے عمدہ مصالحے اور دوسری مصنوعات امریکہ میں بیچنا چاہے تو اس کا امکان بہت ہے۔ لیکن مصنوعات کی عمدگی کافی نہیں۔ اس کمپنی کو امریکہ کے درآمدی قوانین کو سمجھنا اوریہاں کی مارکیٹ کے ماحول کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔جن کمپنیوں نے یہاں اپنی مصنوعات بیچی ہیں، ان کو اندازہ ہو گا کہ کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
امریکہ میں مسلمانوں کے اچھی خاصی تعداد ہے جو حلال مصنوعات کی تلاش میں رہتے ہیں،خصوصاً ذبیحہ گوشت کی۔اگر پاکستا ن ذبیحہ گوشت امریکہ بھیجے تو بہت فائدہ کا سودا ہو گا۔ لیکن اس کے لیے کچھ پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔سب سے پہلے تو امریکہ میں درآمدات، خصوصاً کھانے پینےکی چیزوں سے متعلق قوانین کو سمجھنا، مصنوعات میں پھیلائو، اور تجارتی وسائل کی مضبوطی پر دھیان دینا ہو گا۔ مثلاً سن ۲۰۲۵ء میںپاکستان کی درآمدات پر ۱۹ فیصد ٹیر ف دکھایا گیا ہے جبکہ بھارتی اشیا پر ۲۵ فیصد ہے۔یہ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے ایک خوش آئیند موقع ہے۔اگر پاکستانی برآمد کنندگان اپنی مصنوعات کی کوالٹی اور درآمدی پالیسیز اور پروسیجرز کو اچھی طرح سمجھ لیں ،جیسے ایف ڈی اے کے ادویات سے متعلق قوانین ہیں۔اسی طرح سے کسٹم کے قوانین دوسری اشیاء کے لیے۔ بین الاقوامی سرٹیفیکیشن کے لیے جو ضروری اقدام ہیں، وہ جاننا اور ان پر عمل کرنا لازمی ہے۔یہ پہلے سے ہی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مٹھی گرم کر کے کسٹمز سے نہیں نبٹا جا سکتا۔امریکہ میں کھانے پینے کے علاوہ بھی کئی اشیا کی مانگ موجود ہے جو پاکستان پورا کر سکتا ہے، جیسے IT، دوائیاں، معدنیات، اور کچھ زراعتی اشیاء۔فی زمانہ، انٹر نیٹ پر سب معلومات مل جاتی ہیں ۔
پاکستانی میمن برادری کاروبار میں بڑی سوچ سمجھ رکھتے ہیں۔ وہ امریکہ میں بھی خرید و فروخت کرنا جانتے ہیں، اگر حکومت ان کے مسائل حل کرے تو پاکستان کی برآمدات بڑھ سکتی ہیں۔ یہاں نیشنل اور شان کے مصالحے اکثر مل جاتے ہیں۔ لیکن ان کا بھی اور کمپنیوں کی مصنوعات کے ساتھ مقابلہ ہے۔ پاکستانی چاول بھی مل جاتے ہیں لیکن اور چیزیں اکا دکا ہی ہوتی ہیں۔ سب شیلفوں پر دیپ اور لکشمی اور دوسری بھارتی اشیاء ہی نظر آتی ہیں۔یہی صورت حال فروزن سیکشن کی ہے۔ابھی کی خبر ہے کہ امریکہ کسانوں نے جو چاول اُگاتے ہیں، صدر ٹرمپ کو شکایت کی ہے کہ بھارت اتنا چاول لا رہاہے کہ ان کو سخت نقصان ہو رہا ہے۔ صدر ٹرمپ غالباً بھارتی چاول پر ٹیرف بڑھا دے گا۔کیا ہمارا قابل سفارت خانہ اور اس کے تجارتی سفارت کار اس معاملے میں پاکستانی تاجروں کو رہنمائی دے رہے ہیں؟ یا ان کو خود ہی سارے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں؟ کیا پاکستانی تاجروں نے نیو یارک، سان فرانسسکو اور میامی میں اپنے اڈے بنائے ہوئے ہیں یا وہ اس مارکیٹ میں آنے کے لیے سنجیدہ ہی نہیں ہیں؟ایک رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ پاکستانی جو امریکہ میں آباد ہیں وہ بھی اس کام میں مدد دے سکتے ہیں، جو سیاسی فورمز پر بھی پاکستانی تاجروں کی رسائی کروا سکتے ہیں۔پاکستان نے زیادہ زور کپڑے کی مصنوعات پر دیا ہوا ہے۔اور جب سے نئی حکومت آئی ہے کپڑے کی ملیں بند پڑی ہیں۔ اس طرح یہ شعبہ بھی زر مبادلہ نہیںلا رہا ہو گا۔پاکستان ایک اور طریقے سے زیادہ زر مبادلہ کما سکتا ہے ۔ وہ ایسے کہ بجائے خام مال بیچنے کے اس کو کسی حد تک مصنوعات کی شکل دے دے، جسے قدر و قیمت میں اضافہ کہتے ہیں۔پاکستان کے سرجیکل اور میڈیکل اوزار، انڈوں کی پروڈکٹس، وغیرہ کی مارکیٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔زیورات، بجلی کے ٹرانسفارمرز، چمڑے کے ملبوسات،کھیلوں کا سامان میں پاکستان نے اپنا نام پیدا کیا ہوا ہے۔ لیکن پاکستان کو اب دوسرے شعبوں میںبھی جگہ بنانی چاہئے۔ اور اس اتفاقی موقع کو(کم کسٹمز ڈیوٹی)ضائع نہیں ہونے دینا چاہیئے۔
پاکستان، بد قسمتی سے، ایک ایسے سیاسی اور معاشی ماحول میں پھنسا ہوا ہے کہ جس میں برآمدات اور ملکی صنعتی ماحول کو ساز گار بنانا حکومت کی ترجیحات میں نہیں۔یہ حکومت غالباً ایسے کام نہیں کرنا چاہتی جن میں اس کو ذاتی مالی فائدے نہ ہوں۔اس لیے سارا وقت قرضے لینے میں مصروف رہتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی اچھا کام کرنا ہے تو عوام کو خود ہی آگے بڑھنا ہو گا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button