ہفتہ وار کالمز

متفرقات نژداں از رحمان عباس

رحمان عباس کا ساتواں ناول نژداں ایک بڑا، تہہ دار ، جُدا اسلوب اور بیباک کیفیات کا حامل بے تکلف بیانیہ ہے ۔ یہ ناول انسانی سماج کی ذہنی زندگی کی اندرونی شہادت ہے ۔انسانی سماج سے مراد ایسے انسانوں کا سماج ہے جو نظریئے، عقیدے ، مذہب ، فرقے ، جاتی ؛ غرض زندگی کو تقسیم کرنے والی ہر واردات سے الگ اور بےزار ہوتا ہے ، ایسے لوگ تقسیم در تقسیم میں الجھے سماج کی الجھنوں سے خود کو آزاد کرانے کی خواہش کی پرورش کرتے اور ممکن حد تک اس کے لیے جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ رحمان عباس کے ناول نژداں پر مکرر توجہ کرنے سے پہلے یہ اعتراف ضروری ہے کہ میں بطور قاری شروع شروع میں نژداں کے متعین معنی سے آشنا نہیں تھا۔لغت کے دروازے پر دستک دی تو فارسی صفت "نژند” سے سامنا ہوا ،کہ جس کے معنی میں بے وسیلہ ، کمزور، سرنگوں ، رذیل ، خوار ، نیچلے طبقے کے بے نوا ، بدحال ،غمگین ، رنجور ، اُداس ، ناراض ،گنہگار آدمی وغیرہ شامل نظر آئے۔ ہر چند کہ بیسویں صدی میں ستر کی دہائی سے لے کر نوے کی دہائی کے وسط تک یعنی اکیس برسوں کے احوال ناول کے کینوس میں کوکن کے ان تمام پسے ہوئے طبقات کی زبوں حالی اور مصائب کی تصویر و تفصیل پیش کررہے ہیں ، اور جو براہ راست نژند کے معنی کی حدود میں آتے ہیں ۔لیکن نژند کے ن پر زبر ہے ،جبکہ نژداں کے ن پر بڑے اہتمام سے زیر ڈالی گئی ہے ،تو پھر لازماً نژداں کوئی الگ لفظ ہے اور جدا معنی رکھتا ہے ۔پھر وہی کیا جو ہونا چاہیئے تھا، یعنی یہ کہ نہ جاننے والے کو جاننے والے سے پوچھ لینا چاہیئے ۔تو ایک محرم راز معنی نژداں سے استفسار کیا ،جس سے یہ عقدہ کھلا کہ ؛ نژداں کوکنی زبان کا لفظ ہے ۔اور اس سے مراد عام تام کھانے یعنی دال چاول کے وغیرہ ساتھ غذائیت اور ذایقے سے بھرپور کسی بہتر (یا بیش قیمت) غذا کی پیش کش ہے ،جیسے مرغی ،مچھلی ، انڈے اور گوشت وغیرہ یوں کہہ لیں کہ اچھی اور غذائیت سے بھرپور مقوی غذا کو نژداں کہتےہیں۔یوں نژداں کے معنی سے آشنا ہونے اور ناول کے پہلے مطالعے کے بعد میں اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ؛ اُردو ناول کے "دسترخوان” پر نژداں کی شمولیت اس کے معنی و مفہوم کی مکمل کفالت کرتی نظر آ رہی ہے۔اُردو زبان کے دامن کی کشادگی دیگر زبانوں کے الفاظ و آہنگ کو خوشدلی سے قبول کرتی ہے۔ ایک زندہ زبان کی یہی خوبی اس کے نظام ابلاغ کی توانائی میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔نژداں اب اُردو زبان کا حصہ ہے ۔ناول میں رحمان عباس نے کئی مقامات پر ضرورت اور موزونیت کے مطابق متعدد مقامی الفاظ استعمال کئے ہیں ، جیسے واپرتا ( معنی نہیں بتاوں گا) اُردو میں دیگر زبانوں کے لفظ اور لہجے کی شمولیت ایک مفید بات ہے۔اگرچہ سادہ اور رواں زبان و بیان رحمان عباس کی پہچان ہے ۔وہ لسانی فوقیت اور لفظی جارحیت سے گریز کرتے ہوئے صرف ترسیل معانی پر متوجہ رہتے ہیں ۔ہاں مگر نژداں میں انہوں نے کچھ الفاظ و تراکیب کو بطور خاص استعمال کیا ہے ، اور یہ آمیزش الگ سے نظر آرہی ہے۔مثال کے طور پر طائرِ لاہوتی ، شش جہات، باطنی التہاب، عکس لاتفسیر، شور محشر، تحت الثریٰ وغیرہ۔ ماحول، مناظر اور کرداروں کے دماغ میں جھانکنا اور دل کو ٹٹولنا ،ظاہر سے زیادہ باطن میں دلچسپی اور اس کی گرہ کشائی کرنا رحمان عباس سے خاص ہے۔ شریفہ نژداں کا اہم کردار ہے ۔کہانی کا بیان کنندہ شریفہ کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے طویل بات چیت کرتے کرتے اس کے مزاج اور عادت کے بہت قریب ہو جاتا ہے۔شریفہ ایک دلچسپ قصے، ایک رنگدار کہانی اور ایک زندہ رہنے کا حق چھین لینے والے کردار کے طور پر پورے ناول میں دھڑکتی رہتی ہے ۔ ناول ہمیں شریفہ کے اس کردار سے متعارف کرواتا ہے ، جو محروم اور زیردست طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود من مرضی کے مطابق جینے کے راستے کشادہ کرنا جانتی ہے ،جو بہر صورت زندگی سے اپنا حصہ وصول کرنا چاہتی ہے، جو ایک بھرپور عورت ہے اور جو ناول کے مرکزی کردار کی توجہ، دلچسپی اور مطالعے و مشاہدے کا حصہ ہے۔شریفہ مرکزی کردار پر اعتبار تو کرتی ہے ،لیکن یہ کہہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتی کہ؛”۔۔۔۔۔ہر عورت کے سینے میں کئی داستانیں ہوتی ہیں جن میں سے بہت کم وہ مردوں کے گوش گزار کرتی ہیں۔ شاید عورت جانتی ہے بالعموم مرد اس کا اہل نہیں ہوتا کہ وہ ان خوں بستہ قصوں کو تحمل کے ساتھ سن سکے اور اگر سن لے تو برداشت کر سکے…..” لیکن وہ ناول کے مرکزی کردار کو اپنے ہر راز میں شریک کرتی نظر آتی ہے۔ جنگل رحمان عباس کی ذہنی زندگی کا استعارہ ہے ، جنگل اس کا استاد بھی ہے اور جنگل ہی اس کا شاگرد،جنگل اس کا دوست بھی ہے اور جنگل ہی کبھی کبھی اس کا رقیب بھی بن جاتا ہے۔رحمان عباس کی تخلیقی اپچ کو سمجھنے کے لیے جنگلی ہونا شرط نہیں، لیکن اس کے لیے قاری کا جنگل شناس ہونا نہایت ضروری ہے۔ نژداں میں رحمان عباس اپنے جنگل کے تصور کی عقدہ کشائی کرتے نظر آتے ہیں؛ ” جنگل آدمی کا اولین گھر ہے ۔ آدمی صدیوں جنگل میں مکین رہا ہے۔ جنگل سے باہر نکل کر آدمی اکیلے پن کا شکار ہوا جس نے تنہائی کے احساس کو جنم دیا۔ تنہائی کو دور کرنے کے لیے آدمی نے شبد تلاش کیے ۔ شبد آواز کی بکھری ہوئی لہریں ہیں، باہم ہوئیں تو الفاظ بنے ۔ الفاظ اداسی کی پیداوار ثابت ہوئے ۔ شبدوں نے آدمی کو مغرور بنایا۔ آدمی نے زمین اور مٹی سے رشتہ ختم کر کے آسمان سے جوڑنے کا خواب دیکھا۔ آدمی کی یہ چاہت الفاظ کا خواب ہے کیونکہ شبد اُداسی کی پیداوار ہیں ۔ دوسری طرف ایشور اور دھرم اداس ، تنہا، بیمار اور وحشی آدمی کے خود کو آکاش سے جوڑنے کے خواب کا نتیجہ ہے ۔ شبدوں نے آدمی کو عقیدہ اور نام دیئے ۔ یہودی ، زرتشت، عیسائی مسلمان ، جین ، بدھ، ہندو سکھ وغیرہ۔ یہ کام مٹی اور جنگل نے نہیں کیا۔ شبد عیار ہوتے ہیں۔ خلا کو خالق قرار دیتے ہیں ۔ آگے چل کر شبدوں میں آدمی پر حکومت کرنے کی خواہش پیدا ہوئی ۔ وہ اقتدار کی زبان بن گئے ۔ لفظ جب تک معنی کے لیے خود پر منحصر نہ ہو کر کسی طے شدہ نظام معنی سے منسلک ہو ، ایک خطرناک ہتھیار ہے ۔ اگر کسی دن اس زمین پر سے آدمی مٹ گیا تو اس کا کارن شبد ہوں گے جنگل نہیں ۔” اقتباس طویل ہے لیکن جنگل کو اختصار میں قید یا بیان نہیں کرنا ممکن ہی نہیں ۔اسی طرح اور اسی طرز کی توسیع میں؛ ممبئی شہر رحمان عباس کی ذہنی زندگی کا دوسرا بڑا جنگل ہے۔اس جنگل میں نژداں کا مرکزی کردار انواع و اقسام کے انسانوں کو شناخت کرتا اور سمجھنے بوجھنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ممبئی ہی میں ناول کے مرکزی کردار کو اسکندر نامی دوست بھی ملتا ہے ،جس کا باپ آفتاب احمد کےترقی پسند دانشور تھا اور محلے میں جسے کامریڈ کہا جاتا تھا۔اس ناول میں بڑے دھیمے سروں ممبئی کے اور اطراف و جوانب کے ترقی پسند ، کیمونسٹ شعراء و ادباء کا اچھا خاصا خاکہ اڑایا گیا ہے۔اپنے دوست اسکندر ہی اسے سدا بہار سے متعارف کراتا ہے؛ اس تعارف کی طوالت اس کی معنوی وسعت سے زیادہ نہیں ؛ ….۔ سدا بہار صحافی ہے۔ مصوری اور اُردو ادب پر انگریزی میں مضامین بھی لکھتی ہے ۔ پھر ، سکندر نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا اب میں تجھے سدا بہار کے بارے میں انٹریسٹنگ معلومات دوں گا، لیکن جب تک میری اسٹوری خلاس نہ ہو تو چپ رہنا۔ میں نے ہامی بھر لی۔سدا بہار نے شادی سے پہلے کئی بار حمل گرایا تھا۔ اپنی سہیلی رفعت کشمیری سے اس بابت کہا تھا: میں اتنی فرٹائل ہوں کہ کوئی اوپر اوپر سے بھی پیار کرے تو میرا حمل ٹھہر جاتا ہے ۔ میں چونک گیا۔ پھر اس نے جو کچھ بمبیا بولی میں کہا وہ یہ تھا کہ سدابہار دل پھینک اور شہوت پرست ہے۔ وہ سمجھتی ہے عورت کی مکمل تشفی محض ایک مرد کے بس کی بات نہیں ہے۔ عورت مباشرت کے وقت متلاطم دریا میں منقلب ہو جاتی ہے جس کو پار کرتے کرتے مرد نڈھال ہو جاتا ہے ۔ سدا بہار کا دعوی تھا کہ مرد سرعت انزال کی ندامت کو اکثر پیار، دولت، ملازمت، جفاکشی ، اسلاف کے کارناموں، کردار کی بلندی ، تقوی اور اپنی علمیت کے ذریعے ڈھانپنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کا اصرار ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ مرد اساس معاشرے نے عورت کو جبراً قانع ، صابر، اطاعت گزار اور مطیع بنانے کی کوشش کی ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ عورت کی طلب کو پورا کرنے کی اہلیت کم مردوں میں ہوتی ہے ۔ وہ اعلانیہ کہتی ہے کہ سچ یہ ہے کہ ایک مرد پر قناعت عورت اپنی خواہشوں کو تلف کر کے کرتی ہے۔ جس مرد پر یہ راز کھل جاتا ہے وہ عموماً اداس رہتا ہے مبلغ بن جاتا ہے یا شاعری کرتا ہے۔ سدا بہار کا کہنا ہے کہ ہری بھری عورت معاشرتی مجبوریوں کے سبب قناعت پسندی کا نقاب اوڑھ لیتی ہے لیکن جہانِ تصور میں وہ آزاد ہوتی ہے ۔ وہ ان مردوں کے خواب دیکھتی ہے جن کا وجود اس کے جذبات کو برانگیختہ اور ذہن کو متاثر کرتا ہے۔ وہ عورت خوش قسمت ہوتی ہے جس کے ہاتھ نادر مواقع لگتے ہیں۔ ان موقعوں پر اس کی روح مستفیض ہوتی ہے۔۔۔۔” اس تعارف کی تکمیل کرتے ہوئے اسکندر کے کامریڈ والد ….. آفتاب احمد نے سگریٹ کا ایک کش لیا اور صحافی سے کہا بہار بھی معرکے کی چیز ہے ،فیض احمد فیض پر مرتی ہے، باقی سب کی مارتی ہے ۔۔۔۔۔”یہ کیمونسٹ ، کامریڈ اور ترقی پسند شعراء سب ممبئی جیسے شہری جنگل کے درخت ، بادل اور پرندے تھے ۔ناول کا ایک اہم ترین کردار شاردا دیدی کا ہے ۔ناول کا مرکزی کردار شاردہ دیدی سے سننے، سیکھنے اور سمجھنے کے لیے طویل مکالمے سے مدد لیتا اور مکالمے کو جاری رکھتا ہے ؛ ….میں نے پوچھا کہ مذہب بدل کر دلتوں کو کیا ملا ؟مذہب بدل کر نہیں ، چھوڑ کر ۔ میری تصحیح کر کے وہ ایک لمحہ خاموش رہیں ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے مذہب اور تبدیلی مذہب پر کسی مفکر کی طرح شاردہ دیدی نے اظہار خیال کیا ، ان کا موقف تھا کہ ؛ ہر آدمی کنورٹیڈ یا جبرا ًکنورٹیڈ ہے ۔ بچہ بے مذہب پیدا ہوتا ہے ، شعور حاصل کرنے سے پہلے اسے مذہب کا اسیر بنا دیا جاتا ہے ۔ یہ بچپن کا بدترین استحصال ہے ۔ ہم سب بدلتے رہتے ہیں، خود تصورِ مذہب اور تصورِ خدا بھی بدلتا رہا ہے۔ بدلنا انتخاب سے زیادہ فطرت کا ایک قانون ہے ۔ ہر مذہب کا خالق سیاست کا ایندھن ہے ۔ مذہب کے نام پر ذات پات کا نظام تشکیل دیا گیا تھا جس نے صدیوں ہمارا استحصال کیا ۔ چنانچہ ہم نے مذہب اور دیوتاؤں کو خیر باد کہہ دیا۔ ان دیوتاؤں کو اپنی زندگی سے ہمیشہ کے لیے نکال دیا جن کے نام پر ہمیں ہر سکھ سے ویچت کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ بدھ ازم روایتی مفہوم میں مذہب نہیں ہے ۔ گوتم بدھ کا کوئی ایشور نہیں ہے اور نہ ہمارا کوئی ایشور ہے ۔ ہم اس خام تصور خالق اور مذہب سے ماورا ہو چکے ہیں جس نے صدیوں ہمارا خون پیا ہے۔” اور نژداں ہی ہمیں دیوتاؤں کے ستائے ہوئے مجبور و مقہور لوگوں کے ہاتھوں اپنے اپنے دیوتاؤں کو پانی میں بہا کر ہمیشہ سے لیے ان سے جان چھڑانے کے مناظر بھی دکھاتا ہے ۔ہرچند دیوتاؤں کے وجود تو رہے ایک طرف ،ان کے تصور تک سے جان چھڑانا آسان کام نہیں ہے ،لیکن بالآخر لوگوں میں اپنے دیوتاؤں ، اپنے بتوں اور اپنے خداؤں سے جان چھڑانے کی شکتی پیدا ہو گئی،لوگ ہزاروں کی تعداد میں قافلوں کی صورت نکل کھڑے ہوئے؛ ۔۔۔۔قافلے اس رات ملک کے طول و عرض میں ہزاروں مقامات پر نکل پڑے تھے ۔ ان قافلوں میں شامل لوگ اپنے اپنے بتوں ، خداؤں اور دیوتاؤں کو الوداع کہہ رہے تھے ، رخصت کر رہے تھے مختلف النوع دیوتا، نجی و اجتماعی بت جو کل دیو اور گاؤں دیوی کی حیثیت رکھتے تھے لیکن جن کا وجود سوائے دکھوں میں اضافہ کرنے کے اور کسی کام نہ آیا تھا آج مسترد کئے جارہے تھے۔ زمین پر دیوتاؤں کی یہ پہلی ذلت آمیز شکست تھی۔۔۔۔۔۔.ان گنت ٹوکریاں سطح آب پر بہتی ہوئی سمندر کی طرف جارہی تھیں ، جن میں متروک دیوتا تھے ۔ جب شاردہ کے باپ نے اپنی ٹوکری کو سپردِآب کرنا چاہا تو انھوں نے کہا، ایک منٹ رک جائیں ۔ وہ رک گئے ، شاردہ نے ایک دیوتا کو اپنے ہاتھوں میں لے کر چوما اور سرگوشی کے انداز میں کہا اپنے گھر جا کر خوش رہنا بھولنا مت ، تم چاول کے ساتھ مجھے دال تک نہ دے سکے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، یہ اشک دیوتاؤں کی رحلت یا رخصتی پر نہیں بلکہ بتوں سے نجات کی خوشی میں امڈ آئے تھے ۔” رحمان عباس کا ناول نژداں مجموعی طور پر دیوتاؤں کے ڈسے انسان کے آزاد اور مکمل انسان بننے کے احوال پر مشتمل ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button