طاقت جواز کی محتاج نہیں ہوتی!

ڈونلڈ ٹرمپ کے تخیل کا امریکہ ایک ناقابل شکست طاقت ہے۔ اسکی فوج اتنی طاقتور ہے کہ وہ کسی بھی دشمن ملک کے سربراہ کو اسکی قیام گاہ سے اٹھا کر نیو یارک کی جیل میں بند کر سکتی ہے۔وہ کسی بھی ملک پر بطور سزا جتنا ٹیرف چاہے لگا سکتا ہے۔ وہ برسوں پرانے دوست ممالک سے جب چاہے قطع تعلق کر سکتا ہے۔ وہ کسی بھی ملک پر کسی بھی وقت بمباری کر سکتا ہے اور ان میں سے کسی بھی غیر قانونی‘ غیر آئینی اور غیر اخلاقی اقدام کے لیے اسے کبھی بھی اور کہیں بھی جواب دہ نہیں ہونا پڑیگا۔ وہ جانتا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کا سربراہ ہے جسے دو بڑے سمندروںنے اس طرح سے اپنی آغوش میں لے رکھا ہے کہ اس پر کوئی بیرونی طاقت آسانی سے حملہ آور نہیں ہو سکتی۔ ایک ایسے طاقتور ملک کا صدر اور کمانڈر ان چیف ہوتے ہوے اسے اپنی طاقت کے استعمال کے لیے کسی جواز کی ضرورت نہیں۔ اسکی دانست میں طاقت اپنا جواز خود ہوتی ہے۔ وینزویلا اور ایران پر حملوں کے اس نے جتنے بھی جواز پیش کیے انکا حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ نکولس میڈورو کو اس نے ڈرگ مافیا کا سربراہ کہہ کر اغوا کر لیا۔ ایران پر حملے کے بارے میں وہ درجن بھر جواز پیش کر چکا ہے مگر وہ خود بھی ان سے مطمئن نہیں ہے۔ اسے اس تکلف کی کوئی ضرورت تو نہیں مگر وہ ہر روز اور ہروقت نیوز میڈیا پر چھایا رہنا چاہتا ہے اس لیے کچھ نہ کچھ کہتے رہنا ضروری ہے۔
گذشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد اس نے کہا تھا کہ انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اب اٹھائیس فروری کو ایران پر دوسرے خوفناک حملے کے وقت اس نے کہا کہ ایران خلیج میںامریکی ٹھکانوں پر حملے کی تیاری کر رہا تھا۔ کسی نے اس سے نہیں پوچھا کہ سیاسی اور معاشی طور پر ایک نحیف و نزار ملک کیسے ایک عالمی اور ایک علاقائی طاقت پر بہ یک وقت حملہ کر سکتا ہے۔ عالمی معیشت کو ایک شدید اور گہرے بحران سے دو چار کردینے والی جنگ کا سب سے زیادہ مضحکہ خیز بیان سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملے میں اگر پہل کر دیتا تو امریکہ کی اس جنگ میں شرکت تاخیر سے ہوتی جس سے ایران فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ اس تاویل میں چھپا ہوا اعتراف یہ ہے کہ اسرائیل کسی بھی صورت امریکہ کے قابو میں نہیںہے وہ جب چاہے اسے کسی بھی جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔ اس بیان کی کمزوری کو بھانپتے ہوے صدر ٹرمپ نے فوراًگرہ لگائی کہ اسرائیل نے انہیں ایران پر حملے کے لیے مجبور نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسرائیل پر دبائو ڈال کر اسے جنگ میں شمولیت پر آمادہ کیا۔ امریکہ میں اسرائیل مخالف حلقوں کو مزید مطمئن کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کی پریس سیکرٹری Karoline Leavitt نے کہا کہ "The president had a feeling that Iran was going to strike the United States”جس حکمران کو ہر روز درجنوں صفحات پر مشتمل انٹیلی جنس بریفنگ دی جاتی ہو اسکا یہ کہنا کہ اسکا خیال تھا کہ ایران حملہ کر دیگا اس لیے اسے پہل کرنا پڑی ایک عذر لنگ سے زیادہ نہیں۔ صدر ٹرمپ بہت پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ ریاستی ادارے انہیں مشورے دینے کے لیے نہیں بلکہ انکے احکامات پر عمل کرنے کے لیے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق پینٹا گون کے افسروں نے ایک کانگرس کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں کہ ایران امریکہ پر کسی پیشگی حملے کی تیاری کر رہا تھا۔ صدر ٹرمپ کے اس اضطراری فیصلے سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہیں کہ یہ جنگ کیا شکل اختیار کرتی ہے۔ ان سے جب یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم اتنا کچھ کر لیں اور پھر ایران میں ایک ایسا لیڈر آجائے جو اپنے پیشرو سے بھی بد تر ہو۔‘‘ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے نقطہ نظر سے اس جنگ کے بد ترین نتیجے سے بے خبر نہیں ہیں۔ صدر امریکہ کے اس جواب کو سن کر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کا طاقتور ترین شخص اپنے شروع کیے ہوے تماشے کو ایک تماشبین کی طرح دیکھ رہا ہے۔ اس نے جو کرنا تھا وہ کر دیا اب حالات اسکے کنٹرول میں نہیں رہے۔ منگل کو وائٹ ہائوس میں جرمنی کے چانسلر Friedrich Merz کی موجودگی میں صدر ٹر مپ نے یہ بھی کہا کہ ’’ ہم نہیں چاہتے کہ ایران میں کوئی نا پسندیدہ شخص حکومت سنبھال لے مگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ ایک بد ترین نتیجہ ہو گا۔‘‘ صدرٹرمپ کا یہ خوف اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہو انہیں اسکی کوئی پرواہ نہیں۔ انکے تخیل کا امریکہ ایک ایسے سیارے میں رہتا ہے جس پر اس دنیا میں برپا ہونیوالا کوئی حادثہ اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ انکی باتوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے جو کرنا تھا وہ کر دیا ہے اب اسے سنبھالنا کسی اور کی ذمہ داری ہے۔
وینزویلا اور ایران پر ان غیر ضروری اور بلا جواز حملوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد لبرل ڈیموکریسی کے دعویداروں نے جس Rules based International order کو نافذ کیا تھا وہ اب اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ اب ہر نیشن سٹیٹ کو اپنی سرحدوں کی حفاظت خود کرنا ہو گی۔ کوئی بھی کسی بھی وقت کسی پر بھی حملہ آور ہو سکتا ہے۔ اکیسویں صدی سو سال پہلے کی طرح جنگل کے قانون کے مطابق چلے گی۔جب طاقت کو کسی جواز کی ضرورت نہ رہے تو جنگیں نا گزیر ہو جاتی ہیں۔ ایک غیر محفوظ دنیا کب تک کسی بڑے حادثے سے بچ سکتی ہے ۔ اس سوال کے جواب کا وقت زیادہ دور نہیں ۔



