نوازالدین صدیقی نے طلاق کے معاملے پر خاموشی توڑ دی

310

رواں برس مئی میں بولی وڈ اداکار نوازالدین صدیقی کی اہلیہ عالیہ صدیقی نے شوہر سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ان سے طلاق کا مطلبہ کیا تھا۔

مئی کے آغاز میں عالیہ صدیقی نے شوہر پر بیوفائی اور جاسوسی کرنے سمیت نان نفقہ نہ دینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان سے خلع حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرتےہوئے اداکار کو بھی نوٹس بھجوائے تھے۔

ابتدائی طور پر نوازالدین صدیقی کی اہلیہ نے ان پر کوئی الزامات نہیں لگائے تھے، تاہم بعد ازاں میڈیا میں ان کے حوالے سے کئی طرح کی خبریں آئیں، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ اداکار اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنانے سمیت انہیں بلیک میل بھی کرتے رہے۔

اس سے قبل بھی ایسی خبریں آئی تھیں کہ نوازالدین صدیقی نے بیوی پر شک کرتے ہوئے نجی جاسوسوں سے ان کی جاسوسی کروائی تھی۔

عالیہ اور نوازالدین صدیقی نے 2010 میں شادی کی تھی اور ان کے درمیان 2015 کے بعد اختلافات کی خبریں آنے لگی تھیں، تاہم 2017 کے بعد ایسی خبروں میں تیزی آگئی۔

دونوں کو دو بچے بھی ہیں اور دونوں رواں برس سے ہی الگ ہوچکے ہیں۔

نوازالدین صدیقی نے رواں برس جون میں عالیہ صدیقی کو قانونی نوٹس بھجواتے ہوئے ان کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ انہیں اور اپنے بچوں کو مکمل خرچ ادا کرتے آئے ہیں۔

تاہم اب نوازالدین صدیقی نے بیوی کی جانب سے طلاق مانگے جانے پر خاموشی توڑتے ہوئے مختصر طور پر کہا کہ ان پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں۔

شوبز ویب سائٹ پنک ولا کو دیے گئے انٹرویو میں نوازالدین صدیقی نے رواں برس ریلیز ہونے والی اپنی ویب سیریز اور فلموں پر بھی بات کی اور ساتھ ہی انہوں نے ذاتی زندگی پر بھی مختصر بات کی۔

اداکار نے واضح کیا کہ وہ بیوی کی جانب سے طلاق مانگے جانے کے معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے، وہ اپنی خاندانی باتوں کو میڈیا کے سامنے نہیں لانا چاہتے۔

تاہم انہون نے واضح کیا کہ وہ اپنے بچوں اور خاص طور پر بیٹی سے خاص محبت کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے کچھ بھی کریں گے۔

اداکار نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کے اور عالیہ کے درمیان طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟

خیال رہے کہ جیسے ہی نوازالدین صدیقی سے طلاق لینے کے لیے ان کی اہلیہ عالیہ صدیقی نے خلع کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

اس کے چند ہفتوں بعد نوازالدین صدیقی کی بڑی بھتیجی ساشا صدیقی نے اپنے چھوٹے چچا یعنی نوازالدین صدیقی کے بھائی پر سنگین االزامات لگائے تھے۔

ساشا صدیقی نے دعویٰ کیا تھا کہ چچا کم عمری میں ان کا جنسی استحصال کرتے رہے اور ایسا معاملہ کافی عرصے تک چلتا رہا۔

ساشا صدیقی کے مطابق جب انہوں نے اپنے چھوٹے چچا کی حرکتوں کی فریاد بڑے چچا یعنی نوازالدین صدیقی سے کی تو انہوں نے چھوٹے بھائی کو سمجھانے کے بجائے بھتیجی کو سمجھانا شروع کیا کہ وہ غلط سمجھ رہی ہیں۔

ساتھ ہی ان کی بھیتیجی نے دعویٰ کیا تھا کہ نوازالدین صدیقی نے انہیں کہا کہ اگرچہ وہ ان کی بھتیجی ہیں، تاہم ان کی والدہ ہندو ہیں، اس لیے وہ ان کی باتوں پر یقین نہیں کریں گے۔

نوازالدین صدیقی نے بھتیجی کے الزامات پر بھی کوئی واضح جواب نہیں دیا تھا۔