نواز شریف نے پاکستانی فوج پر حملہ کر دیا، اے پی سی میں مجرم نواز شریف کے بیان پر بھارت میں خوشیاں منائی گئیں

257

اس ہفتے اسلام آباد میں اپوزیشن پارٹیوں کے بھان متی کے کنبے کی طرف سے ایک آل پاکستان کانفرنس یعنی اے پی سی کا اجلاس بلایا گیا، بظاہر اعلان کے مطابق یہ پی ٹی آئی کی حکومت اور عمران خان کے خلاف کانفرنس بلائی گئی تھی مگر مولانا ڈیزل فضل الرحمن کے اختتامی بیان اور آصف علی زرداری خاص طور پر نواز لیگ کے میاں مجرم نواز شریف کی تقاریر نے ثابت کر دیا کہ یہ کانفرنس پاکستانی فوج، پاکستانی عدلیہ، نیشنل احتساب بیورو(نیب) کے خلاف طلب کی گئی تھی، نواز شریف مکمل طور پر فوج کے خلاف بولتے رہے بلکہ زہر افشانی کرتے رہے، یہ بالکل اسی طرح کی تقریر تھی جو ایم کیو ایم کے نواز شریف کی طرح سے خود ساختہ لیڈر الطاف حسین نے کی تھی جس کے بعد اس شخص اور اس کی جماعت پر پابندی لگا دی گئی تھی، سوال یہ ہے کہ اس پاکستان مخالف تقریر کے بعد پنجاب کے اس رہنما اور جماعت پر بھی پابندی لگائی جائے گی یا نہیں؟ اسی طرح پٹھان مولوی فضل الرحمن کے خلاف کوئی ایکشن لیا جائے گا یا نہیں؟ افسوس کی بات اور قابل توجہ امر یہ ہے کہ اس کانفرنس کے اکثریتی لوگوں کی تعداد وہ تھی جو کہ یا تو مجرم تھے ،ملزم تھے یا بھگوڑے تھے، مولوی فضل الرحمن کے والد محترم مفتی محمودقیام پاکستان کے سخت مخالف تھے، ان کی جماعت پاکستان کیلئے کافرستان اور قائداعظم کے لئے کافر اعظم کے القابات استعمال کرتی تھی، اس ہفتے اے پی سی کے بعد ملا فضل الرحمن کی تقریر سے وہ آبائی دشمنی اور نفرت صاف طور پر جھلک رہی تھی جو انہیں ورثے میں ملی ہے، یہاں ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک سزا یافتہ ،بھگوڑے اور مطلوب مجرم کو نشریاتی رابطوں پر نیشنل نیٹ ورک پر تقریر آن ایئر جانے کی پیمرا نے کیونکر اجازت دی؟ اور کچھ ہو نہ ہو مگر ہمارے پڑوسی دشمن ملک اور چنددیگر غیر ملکی نشریاتی اداروں نے نواز شریف کی فوج مخالف تقریر کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا، خاص طور سے ہندوستان میڈیا زی نیوز، انڈین ایکسپریس، ہندوستان ٹائمز اور ڈیلی نیوز جیسے اخبارات اور ٹی وی نے اس قسم کی ہیڈ لائن لگائیں جیسا کہ ہمارے کالم کی ہیڈلائن ہے، یوں لگ رہا ہے کہ میاں صاحب انڈین بیانیہ لے کر چل رہے ہیں، پاکستان میڈیا ریگولیٹری بھارٹی(پیمرا) نے کیونکہ اس ریاست دشمن اور پاکستان مخالف تقریر کو آن ایئر جانے دیا؟ ایک ایسا اجتماع جس میں تکنیکی بنیادوں پر سارے مجرم اور ملزم بیٹھے ہوئے تھے اس کی کارروائی بالکل نشر ہی نہیں ہونا چاہیے تھی پھر تو منظور پشتون، محسن داوڑ اور علی وزیر جیسے پی ٹی ایم کے لوگوں کی بھی پاکستان مخالف اور فوج مخالف جلسوں کی تقاریر نشر ہونا چاہیے تھیں، میاں نواز شریف کی تقریر سے تو یوں لگ رہا تھا وہ جیسے انڈین ایجنسی ’’را‘‘ کا موقف بیان کرنے والے ترجمان ہوں، ایک لحاظ سے اچھا بھی ہوا کہ بقول شاعر
گو ذرا سی بات پہ برسوں کے یارانے گئے
چلو اچھاہوا کچھ لوگ پہچانے گئے!
وہ لوگ جواب تک میاں شریف اینڈ فیملی کو مظلوم سمجھ کر دلوں میں ہمدردی کے جذبات رکھتے تھے، اب انکی آنکھیں بھی کھل گئی ہوں گی، پاکستانی ذرائع ابلاغ پر آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کی جانب سے ایک اجلاس میں سیاسی رہنمائوں کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ فوج کا ملک میں کسی بھی سیاسی عمل سے بالواسطہ اور بلاواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے، یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فوج کو اس بات کی تردید کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ الغرض یہ کہ آج کی اپوزیشن پارٹیوں کے متعلق رائے عام میں جو تھوڑی بہت ہمدردی باقی تھی وہ میاں صاحب کی تقریرنے مکمل طور پر ختم کر دی۔