دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف پُر تشدد واقعات میں اضافہ ہوا، یونیسکو

312

اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف پرُتشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافے کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو قرار دے دیا۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ثقافتی ایجنسی نے کہا کہ امسال جنوری اور جون کے درمیان 21 مظاہروں کے دوران صحافیوں پر حملہ ہوئے اور انہیں گرفتار کیا گیا یا بعض واقعات میں ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں کہا کہ ‘گزشتہ پانچ برس میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے غیرقانونی طاقت کے استعمال کے دوران صحافیوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا’۔

65 ممالک میں ہونے والے مظاہروں کی تحقیقات کرنے والے یونیسکو کے مطابق 2015 اور 2020 کے وسط کے دوران ہونے والے مظاہروں کے دوران کم از کم 10 صحافی مارے گئے تھے جبکہ صحافیوں پر حملوں یا گرفتاریوں کی 125 واقعات پیش آئیں۔

ملازمت کے دوران ہلاک ہونے والے رپورٹرز شام، میکسیکو، اسرائیل، نکاراگوا، شمالی آئرلینڈ، نائیجیریا اور عراق میں کام کرتے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مظاہروں کی کوریج کرنے کی کوشش کرنے والے دنیا بھر کے سیکڑوں صحافیوں کو ہراساں، مارا پیٹا ، ڈرایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘ان مظاہروں کے دوران فرائض کی انجام دہدی دینے والے متعدد صحافیوں کو گرفتار کیا گیا، ان کی خفیہ نگرانی کی گئی اور ان کے سامان کو نقصان پہنچا ہے۔