مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور!

328

صحافت کی زبان میں یوں کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہمارے وزیرِ خارجہ، شاہ محمود قریشی، ان دنوںخبریں بنا رہے ہیں!اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شاہ صاحب نے خبریں بنانے کی کوئی مشین ایجاد کرلی ہے۔ نہیں، ہرگزایسا نہیں ہے بلکہ معاملہ یوں ہے کہ شاہ جی ان دنوں خبروں پر چھائے ہوئے ہیں اور اخبارات کے صفحات اور ٹیلیوثرن چینلز کی خبریں ان سے متعلق ہیں یا ان کی سرگرمیوں کی روداد بیان کرنے سے معنون ہیں۔
گزشتہ ہفتے کے کالم میں ہم نے ان کے اس بیان پر تذکرہ کیا تھا جس نے خلیج کے عیاش اور طاغوت کے غلام شہزادوں کی جبینوں پر سلوٹیں بیشمار ڈال دی تھیں اور وہ سلوٹیں ہر دن یوں لگتا ہے کہ اور گہری ہوتی جارہی ہیں۔ کم ظرف کی ایک بڑی علامت یہی ہے کہ اس سے کھری بات برداشت نہیں ہوتی کیونکہ منافقوں کے کان تو صرف اپنی مدح سننے کے عادی ہوتے ہیں تو پھر شاہ صاحب کی سچی، کھری باتیں تو چاپلوسوں کی لن ترانیاں سننے کے عادی کانوں پر شاہ صاحب کے بے لاگ جملوں اور فقروں نے تو ہتھوڑے برسائے ہونگے۔
لیکن شاہ صاحب بھی اپنی دھن کے پکے ہیں اور لگتا ہے کہ عمران خان نے جو مشن، جو مہم، ان کو تفویض کی ہے وہ اسے اس کے منطقی انجام تک لیجانے کا بیڑا اٹھا چکے ہیں۔ سو خلیج کے اتھلے اور بے پیندے کے شہزادوں کے گرگٹ کی طرح بدلتے رنگ دیکھنے کا ان کو نہ دماغ ہے نہ ضائع کرنے کیلئے وقت۔ وہ اس کے بجائے فوری عازمِ سفر ہوگئے اپنے دیرینہ اور کھرے، با اعتماد دوست پڑوسی چین کے زعما اور لیڈروں سے ملاقات کیلئے جبکہ، ایک دلچسپ اتفاق یہ بھی ہے کہ ہمارے عسکری رہنما یا سپہ سالار دوڑے گئے ریاض تاکہ روٹھے بالم کو منانے کی سبیل کریں! لیکن ریاض سے آنے والی خبروں سے یہ بھید کھلا کہ خادمِ حرمین کے طاغوت کے غلام شہزادے اور ولیعہدِ معظم پاکستان سے اتنے ناراض ہیں کہ انہوں نے جنرل قمر باجوہ کو شرفِ ملاقات بخشنے سے صاف انکار کردیا۔ چھچھورے کی پہچان اولین یہی ہوتی ہے کہ غیر معمولی صورتِ حال میں اس کی کم ظرفی اسے اور کتنا نیچے گراتی ہے!
عربوں کی نہ تھمنے والی گراوٹ پر تو ہم نے گذشتہ کالم میں خاصی روشنی ڈالی تھی لیکن بہت تکلیف دہ ہے یہ احساس اور ادراک کہ اس زوال کی کوئی اتھاہ فی الحال نظر نہیں آرہی۔ مال و منالِ دنیا کا گھمنڈ اور سر پر مغربی استعمار کے ہاتھ نے عرب حکمرانوں کو بالکل ہی دیوانہ کردیاہے۔ پاکستان کے باب میں تو ہم نے اپنی سفارتی زندگی میں جس کے کتنے ہی برس ان چھٹ بھیوں کے درمیان گذرے یہ اچھی طرح سے جان لیا تھا کہ ان کے ہاں صرف ایک کسوٹی ہے اور وہ ہے مالِ دنیا کی اور اس کسوٹی پر پاکستان مسلم دنیا کی سب سے مضبوط عسکری طاقت ہونے کے باوجود انہیں نادار اور ان کے بقول مسکین نظر آتا ہے سو ہمارے بارے میں ان کا نظریہ وہی ہے جو در پر آئے ہوئے فقیر کے بارے میں ہوتا ہے۔ عمران خان کیلئے سب سے بڑا چیلنج، خارجہ پالیسی کے باب میں یہی ہے کہ پاکستان کو اسلامی اخوّت اور برادری کے اس گرداب سے کیسے نکالا جائے جس میں ہم کتنی ہی دہائیوں سے گھرے ہوئے ہیں اور مغرب کے بے دام غلام خلیجی عرب شیوخ کے ناز و نخرے اٹھاتے آئے ہیں۔
ان شیوخ کے حوصلے، مغربی استعمار کی سرپرستی سے، اتنے بڑھ چکے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ کے ناکام دورۂ ریاض کے ختم ہوتے ہی یہ افواہیں پھیلنی شروع ہوگئی ہیں کہ ولی عہدِ خدام حرم کی قیادت میں وہ پاکستان میں سیاسی نقشہ بدل دینے کی سازش کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عمران حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے اور پاکستان میں اقتدار ان کاسہ لیسوں کو سونپا جائے جو شیوخ کی ہر بات پر بے چون و چراں عمل کریں۔ اس ضمن میں قیادت کیلئے نام لیا جارہا ہے ان ذاتِ شریف کا جو گذشتہ تین برس سے کاغذ پر بنی ہوئی اسلامی فوج کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں اور سعودیوں کے بڑے وفاداروں میں شمار ہے ان کا!
تو اس پس منظر میں ہمارے وزیرِ خارجہ کا دورۂ چین اپنے تمامتر سیاق و سباق میں سمجھ میں آجاتا ہے!
ہمارے سپہ سالار پاکستان کے روایتی سیاسی قبلہ کی سمت گئے تھے لیکن وہاں ان کی پذیرائی تو کجا ان سے جس سرد مہری کا سلوک کیا گیا اس سے ، ہمیں امید ہے، ان کی آنکھیں کھل گئی ہونگی اور اگر نہیں کھلی ہیں تو ہم دعا کرینگے کہ جلد کھل جائیں کیونکہ وہ موٹی کھال کے بے غیرت اور بے شرم نواز یا شہبازشریف نہیں ہیں جو اپنے عرب مربیوں کی ہر بات پہ کہتے ہیں؎
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھاکے بے مزا نہ ہوا!
شاہ محمود قریشی ان سے زیادہ سمجھدار نکلے کہ انہوں نے یہ ادراک کرلیا ہے کہ پاکستان کا نیا سیاسی قبلہ اب مشرق میں ہے، وہ مشرق جس کی بابت حکیم الامت ایک صدی پہلے فرماگئے تھے گراں خواب چینی سنبھلنے لگے ہمالہ سے چشمے ابلنے لگے۔ ظاہر ہے کہ شاہ محمود نے چین جانے کا فیصلہ بزعمِ خود نہیں کیا ہوگا وزیرِ اعظم عمران خان اس میں برابر کے شریک ہونگے اور سربراہِ حکومت ہونے کے ناطے انہیں شریک ہونا بھی چاہئے۔ عمران کو بخوبی ادراک ہونا چاہئے کہ قومی معاملات میں نہ مستقل دوست ہوتے ہیں نہ مستقل دشمن۔ اگر کوئی چیز مستقل ہے، اور ہمیشہ ہونی چاہئے، تو وہ ہے قومی مفاد! پاکستان کا قومی مفاد اب سے نہیں برسوں سے اپنے پڑوسی اور سچے دوست چین سے وابستہ ہے۔ چین نے بارہا اپنے خلوص، اپنی ہمدردی اور اپنی قابلِ قدر امداد سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کا واقعی سچا ہمدرد اور دوست ہے۔ زبانی جمع خرچ میں تو عربوں سے آگے کوئی نہیں لیکن جب پاکستان کو ان کی ضرورت پڑی، کشمیریوں پر بھارت کی ظالم سرکار کے مسلسل مظالم کو دنیا کے سامنے آشکار کرنے کی تو ہمارے عرب بھائی ہمیں کمال ڈھٹائی سے ٹھینگا دکھا گئے۔ یہی نہیں کہ بقول مرحوم استاد قمر جلالوی کے؎
مری نمازِ جنازہ پڑھائی اوروں نے
مرے تھے جن کیلئے وہ رہے وضو کرتے!
بلکہ ہمارے اور کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کیلئے خادمِ حرمین الشریفین نے مودی کو اپنے گھر بلاکر اسے کشمیریوں کے حقوق غصب کرنے کے انعام کے بطور اپنے ملک کے سب سے بڑے اعزاز سے بھی نوازا! الامان و الحفیظ۔
سو عمران کو اب بخوبی احساس ہوگیا ہے کہ دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔ دوست وہ ہوتا ہے جو وقت پڑنے پر کام آئے پیٹھ میں چھرا نہ گھونپے!
ہمیں اپنا سیاسی قبلہ فوری بدلنے کی یوں اور بھی ضرورت ہے کہ عرب شیوخ کا اپنا سیاسی قبلہ بدل رہا ہے۔ ہمارے علامہ اقبال نے ، کہ نظر، بینا رکھتے تھے، آج سے ایک صدی پہلے دیکھ لیا تھا کہ پاسبانِ حرم کیسے خوشی خوشی فرنگی استعمار، جو اس وقت مغرب کی سب سے بڑی استعماری طاقت تھی، کی گود میں بیٹھنے پر مسرور تھے۔ انہوں نے فرنگیوں کے اشارے پر خلافتِ عثمانیہ کے خلاف ترک دشمنی میں بغاوت کی تھی اور فرنگ کا ساتھ دیا تھا۔ اس وقت اقبال نے یہ تاریخی شعر کہے تھے؎
اس دور میں مئے اور ہے جام اور ہے جم اور
ساقی نے بنا ئی روشِ لطف و کرم اور
تہذیب کے آذر نے ترشوائے صنم اور
مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور!
تو شیوخِ عرب نے سعودی عرب کی سربراہی میں اور اس دور کی سب سے بڑی استعماری طاقت امریکہ کے اشارے پر ایک طرف ہنود سے تو دوسری طرف یہود سے پینگیں بڑھانی شروع کردی ہیں۔ اب یہ ایک نئی تثلیث وجود میں آرہی ہے: بھارت، اسرائیل اور مالدار خلیجی ریاستیں۔ یہ گٹھ جوڑ، یہ طاغوتی مثلث، ایران کے خلاف ہے اور اس کا اسکرپٹ واشنگٹن میں ٹرمپ کے صیہونی داماد جیرڈ کشنر نے اور اسرائیل کے توسیع پسند صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لکھا ہے۔
ظاہر ہے کہ اس تثلیث میں پاکستان کی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی ہونی چاہئے۔ شہزادے ہم سے خفا ہیں کہ ہم ایران دشمنی میں ان کا ساتھ دینے اور ان کے آلۂ کار بننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا گھمنڈ تو یہ تھا کہ انہوں نے عمران کی حکومت کو تاخیر سے ادائیگی کے عوض تیل بیچ کر اور پاکستان کے مرکزی بینک میں تین ارب ڈالر رکھوا کر پاکستان کی غیرت اور حمیت کو خرید لیا ہے کیونکہ عربوں کا تصورِ غلامی آج بھی وہی ہے جو آج سے چودہ سو برس پہلے تھا۔ وہ اپنے ملازموں کو بھی غلام سمجھتے ہیں اور نادار ملکوں کو بھی فقیر گردانتے ہیں جن کے منہ ڈالروں سے بند کئے جاسکتے ہیں۔ !
اس کے برعکس چین نہ توسیع پسندی کی راہ پر چل رہا ہے اور نہ ہی وہ اقتصادی تعاون کے عوض غلامی اور فرمانبرداری کا مطالبہ کرتا ہے۔ چین نے اپنی ہزارہا برس کی تاریخ میں آجتک کبھی اپنی جغرافیائی حدود سے باہر نکل کر کسی ملک کے خلاف جارحیت کا ارتکاب نہیں کیا۔ کوئی اگر یہ کہے کہ منگولوں نے تو آدھی دنیا پر قبضہ کرلیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے نادانوں کو تاریخ پڑھنی چاہئے تب انہیں معلوم ہوگا کہ منگول چین کے نہیں تھے منگولیا کے تھے! چین دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بننے کی منزل سے بہت قریب ہے اسی لئے تو مغربی استعمار، جو اس خام خیالی کا شکار ہے کہ دنیا میں پہلے نمبر پر رہنا تو صرف اس کا پیدائشی حق ہے، سہما بھی جارہا ہے اور شور بھی مسلسل مچا رہا ہے لیکن شور مچانے اور بیہودہ الزام تراشی سے حقیقت نہیں بدلا کرتی۔ امریکہ کا سورج غروب ہورہا ہے اور اقبال کی زبان میں مشرق سے سورج طلوع ہورہا ہے۔ مغرب سے یہی حقیقت سہی نہیں جارہی۔ پھر اقبال یاد آگئے جنہوں نے کیاخوب کہا تھا؎
عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے!
سو عمران حکومت کیلئے آگے بڑھنے کا راستہ اب صاف سامنے ہے۔ سعودی عرب ہمیں ایران کے خلاف ویسے ہی استعمال کرنا چاہتا ہے جیسے صحرائی بدوؤں نے فرنگی استعمار کے سامنے سر جھکاتے ہوئے ترکوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ عربوں کی یہ کوشش آج کی نہیں ہے کہ وہ ہمیں اپنی ایران دشمنی کیلئے آلۂ کار بنائیں۔ وہ برسوں سے اسی جستجو میں ہیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ آج پاکستان میں ایک بالغ نظر حکومت ہے جو جانتی ہے کہ ہمارا قومی مفاد اب ان کے ساتھ نہیں ہے جو ہنود اور یہود کی گود میں جابیٹھے ہیں۔ مودی کو ہیرو سمجھنے والے ہمارے دوست نہیں ہوسکتے اور نیتن یاہو کے ایجنڈا کو سینے سے لگانے والے نہ ہمارے دوست ہیں اور نہ ہی عالمِ اسلام کے۔ یہ بغلی گھونسے ہیں جن سے احتیاط لازم ہے۔
پاکستان کا مستقبل، جیسا کہ عمران خان نے کامران خان کے ساتھ اپنے ٹی وی انٹرویو میں کہا اب اس چین کے ساتھ وابستہ ہے جو تعاون پر ایمان رکھتا ہے غلام بنانے پر نہیں۔ وقت کی ضرورت اور پاکستان کا قومی مفاد یہ تقاضہ کررہا ہے کہ ہم اب چین، ترکی اور ایران کے ساتھ مل کر ایک ایسا تعمیری یا پروگریسو اتحاد قائم کریں جس میں برابری اور برادرانہ تعاون کی بنیاد پر تمام رکن ممالک اپنے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کریں اور استعمار اور صیہونی مفسدوں کی چالوں کو ناکام بنادیں۔
عمران کیلئے اور پاکستان کیلئے یہ بہت اہم اور حساس موڑ ہے جس پر صحیح سمت کا تعین پاکستان کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی شاہراہ پر گامزن کردے گا۔ عربوں سے ہم بھرپائے۔ نادان اور کم عقل کی دوستی ہمیشہ مہنگی پڑتی ہے اور عرب دنیا کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر یہ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اگلے سو برس میں اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ عرب موروثی قیادتوں کے بھنور سے باہر نکل سکیں گے۔ ترس آتا ہے عرب ممالک کے ان عوام پر جنہیں تحریر و تقریر کی آزادی تو کجا حکومتِ وقت کے خلاف ہونٹ ہلانے اور منہ کھولنے کی سکت بھی حاصل نہیں ہے!