مشرق وسطیٰ میں کیا ہو گا؟ ٹرمپ کے داماد سے پو چھئے !

422

۱۳ اگست ۲۰۲۰ کے روز، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور یو اے ای(UAE) کے درمیان ایک معاہدہ ہو گیا ہے جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان پورے سفارتی تعلقات بحال ہو جائیں گے۔ یہ ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ معاہدے کوـ’’ ابراہیمی معاہدہ ‘‘کہا گیا ہے۔ جہاں تک فلسطینیوں اور مسلم امہ کا تعلق ہے ان کے لیے یہ ایک تاریخی دھماکہ ضرور ہو سکتا ہے، کہ ایک اورعرب ملک نے اسرائیل کی حیثیت کو تسلیم کر لیاہے۔ اس معاہدہ کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کے ملک میں سفارت خانے بنائیں گے اور سفیروں کا تبادلہ کریں گے۔اس سے پہلے مصر اور اردن، اسرائیل کو تسلیم کر چکے تھے۔اس معاہدے کے بعد ان ملکوں کے درمیان اقتصادی سر گرمیاں بشمول ہوائی سفر، شروع ہو جائیں گی۔ اس سفارتی پیش قدمی کو جہاں امریکی صدر اورامیدوار صدر بائیڈن نے سراہا ہے، فلسطینیوں نے نہایت غم وغصہ کا اظہار کیا ہے اور یو اے ای سے اپنا سفارت خانہ بند کرے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرکی نے بھی یو اے ای کی اس پیش قدمی پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ وہ بھی اپنے سفارتی تعلقات ختم کر سکتا ہے۔
پیشتر اس کے کہ ہم اور ملکوں کے رد عمل پر جائیں، پاکستان کے رد عمل کا ذکر کریں گے، جو ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ پاکستانی اپنا جشن آزادی منانے میں مشغول ہیں۔ اگر کوئی رد عمل آیا بھی تو اتنا شدید نہیں ہو گا جتنا کہ فلسطینیوں اور ٹرکی کا تھا۔ اس کی سیدھی وجہ ہے وہ مفادات جو پاکستان کے یو اے ای کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اور سب جانتے ہیں کہ سفارتی دنیا میں ہر ملک پہلے اپنے مفادات دیکھتا ہے پھر چونچ کھولتا ہے۔یو اے ای پاکستان کا ایک اہم برآمداتی شریک ہے۔ آخری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے یو اے ای کو 1.8 بلین ڈالر کی برامدات بھیجیں۔ اور اس کے مقابلے میں 6.33 بلین ڈالر کی درآمدات کیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی بیرون ملک کام کرنے والوں کی دوسری بڑی تعداد یو اے ای میں کام کرتی ہے جس نے ۲۰۱۸ اگست میں ۴۴۰ ملین ڈالر کی رقم پاکستان بھجوائی جو سعودی عرب سے باہر دوسری بڑی رقم تھی۔ان مفادات کی موجودگی میں پاکستان کو سوچ سمجھ اپنے رد عمل کا اظہار کرنا ہو گا۔اگر پاکستانی یہ سوچیں کہ کل کلاں کو معاملا ت پلٹا کھا سکتے ہیں، اور ان عرب ممالک کو پھر پاکستان کی ضرورت پڑ سکتی ہے، تو راستے با لکل بند نہ ہو جائیں۔ابھی تو دونوں ملکوں کا مفاد، بجائے جذباتی رد عمل کے، آپس میں باہمی مفاہمت میں ہیں۔ویسے بھی کچھ حالات ایسے رہے کہ پاکستان نے ان مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات میں مذہب کو ایک اہم کرداردیا، اور ان مالدار ملکوں کو ہمیشہ ایسا محسوس ہوا کہ پاکستانی بنیادی طور پر بھیک منگے ہیں۔ ہمیشہ امداد مانگتے رہتے ہیں۔ حقیقت بھی کچھ ایسی تھی کہ مکہ اور مدینے میں خیرات مانگنے والوں میں پاکستانی بھی نظر آتے تھے۔لیکن بد قسمتی سے شاہی ایوانوں میں بھی پاکستانی حکمران کبھی قرضہ مانگتے اور کبھی رعائیتی نرخوں پر یا ادھار تیل مانگتے نظر آتے تھے۔ یو اے ای کے ایک لیڈر نے تو کچھ سال قبل اس قسم کا طعنہ بھی پاکستانیوں کو مارا تھا۔خیر یہ تو فروعی باتیں ہیں۔ اصل مسئلہ ایران اور عربوں میں مخاصمت کا ہے۔اس میں پاکستان ایک مخمصہ میں ہے۔نہ وہ ایران کی مخالفت کرنا چاہتا ہے اور نہ عربوں کی۔جب ایران کے سعودیہ پر حملہ کی خبر اڑی تو سعودیہ نے پاکستان سے فوجی بھیجنے کا کہا ۔ پاکستان نے انکار کر دیا اور بدلہ میںدونوں ممالک کے درمیان مصالحت کی پیش کش کر دی۔ اگرچہ وہ پیش رفت کامیاب تو ہو گئی لیکن سعودی بادشاہ ناراض ہو گئے۔ اور بھی کچھ ایسی ہی نا راضگیاں تھیں۔ ان میں کچھ غیروں کا بھی ہاتھ تھا۔زیادہ ناراضگی تب ہوئی جب ہمارے وزیر خارجہ نے کشمیر کے لیےOIC پر دبائو ڈالا، یہ جانتے ہوئے کہ یہ ادارہ سعودی امداد سے چلتا ہے۔
یو اے ای کئی برسوں سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں مشغول تھا۔ وکی پیڈیا کے مطابق سن 2015 میںاسرائیل نے ابو ظہبی میں انٹرنیشنل رنیوایبل انرجی ایجنسی میں نمائیندگی کے لیے اپنا سفارتی دفتر کھول لیا تھا۔ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس سے بھی پہلے، سن2008 میں ایک اسرائیلی سفارت کار ابوظہبی میں آیا ہوا تھا۔ اس لیے کہ واشنگٹن کی خواہش تھی کہ کم از کم یہ ممالک جب تک سفارتی تعلقات بنیں، ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھیں۔
مغربی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ رابطہ ہوتے رہتے تھے۔ ان میں دوہا میں اسرائیلی موسادکے سربراہ کا دورہ، اور بنجمین یاہو کا اومان کا دورہ شامل ہیں۔ اسکے علاوہ ، گذشتہ سال بحرین میں ایک تجارتی نوعیت کے سیمینار میں ٹرمپ کا امن کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ یو اے ای کی اسرائیل کے ساتھ تجارت زور شور سے جاری ہے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ سعودی عرب اس پارٹی میں کب شامل ہو گا؟ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان تو پہلے ہی اسرائیل کی فنی ترقی سے مر عوب ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ دونوں ممالک قدرتی معاشی شریک کار ہیں۔ مسئلہ ان کے بیچ ولیعہد کے ۸۴ سالہ مریض والد کا ہے جو ابھی بھی مشرق وسطیٰ میں فلسطینیوں کے ساتھ انصاف دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ کہ یروشلم کے مقامات مقدسہ پر عربوں کا قبضہ ہو جائے۔
سوال یہ ہے اس دھماکہ دار پیش رفت کو ہضم کرنے کے لیے، فلسطینیوں کو کچھ تو ٹکڑا ڈالنا ہو گا۔ وہ ٹکڑا یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے جو فلسطینی زمینوں کو ہتھیانے کا منصوبہ بنا یا ہواہے ، اس کو التوا میں ڈالاجا رہا ہے۔ا
اب آتے ہیں اس عالمی رد عمل پر جو اس معاہدے کے خلاف یا حق میں آیا ہے۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق: فلسطینی قیادت کے ایک گروہ حماس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔فلسطینیوں کے صدر محمود عباس کے ترجمان نے اس معاہدہ کو ٹھکرا دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ ’’ فلسطینیوں کی قیادت یو اے ای ۔اسرائیل اور امریکہ کے اتحاد ثلاثہ کے اچانک اعلان کی مذمت کرتی ہے ۔ مندوب ابو رودینہ نے بیان کو پڑھتے ہوئے کہا کہ یہ سودا ’’ یروشلم، ال اقصیٰ اور فلسطینی نصب العین سے صریحاً انحراف ہے‘‘ ۔ پی ایل او کی ایک بے خوف ترجمان حنان اشروی، نے کہا کہ یو اے ای کا اعلان ایسے ہی ہے جیسے آپ کے دوست ہی آپکو بیچ دیں۔ انکے جواب میں یو اے ای کے وزیر خارجہ نے اس معاہدہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر بحال در اصل ایک نہایت ضروری حقیقت کا اعتراف ہے۔
اردن نے اپنے رد عمل میں کہا اگر ا س پیش رفت سے اسرائیل کو فلسطین کی ریاست قبول کرنے کی راہ نکل آئے تو معاہدہ برا نہیں۔اور اگر ایسا نہ ہوا تو، محترم وزیر ایمان سفادی نے کہا تو دیہائیوں پر محیط یہ عرب۔اسرائیلی نزاع اور بڑھ جائے گا اور پورے خطہ کے امن کے لیے خطرہ بن جائے گا۔
دوسری طرف، اسرئیلی دائیں بازو کے یہودی آبادکاروں نے بہت غصہ کا اظہار کیا، جو مغربی کنارے کو ہڑپ کرنے کے چکر میں ہیں۔لیکن نیتین یاہو نے کہا وہ اس انتظار میں ہے کہ کب اسے واشنگٹن سے ہری جھنڈی ملتی ہے۔آباد کاروں کی یشیوہ کونسل کے ڈیوڈ الہیانی نے کہا ’’اس (نیتین) نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔ اس نے اس علاقے کے پانچ لاکھ مقیموں اور سینکڑوںہزاروں ووٹرز کو دھوکہ دیا ہے۔‘‘
مصر کے صدر عبدل فتح ال سیسی، جو یو اے ای کے قریبی حلیف ہیں، نے معاہدہ کا خیر مقدم کیا۔ اور ٹویٹر پر کہا کہ میں نے اس مشترکہ بیان کو نہایت دلچسپی اور غور سے پڑھا جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینی زمینوں کے الحاق کو روک دے گا اور مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے اقدام اٹھائے گا۔بحرین نے معاہدے کا خیر مقدم کیا۔
ایران نے جیسا کہ توقع کی جا سکتی ہے، اسرئیل اور یو اے ای کے تعلقات بحال ہونے کی شدید مذمت کی۔اور کہا کہ یہ ایک انتہائی احمقانہ چال چلی گئی ہے جس سے صرف ایران کی پشت پناہی میں چلنے والی مزاحمتی مہم کو نقصان ہو گا۔ ایرانی وزارت کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’’فلسطین کے تشدد زدہ عوام اور دنیا کی تمام آزاد اقوام اس تعلقات کی بحالی کو اور اسرائیل کے مجرمانہ تسلط اورا س جرم میں شرکت کو کبھی نہیں بھولیں گی۔‘‘ یہ فلسطینوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔اس سے صہیونی ریاست کے خلاف خطہ کا اتحاد اور مضبوط ہو گا۔
ترکی نے کہا کہ تاریخ یو اے ای نے اسرائیل کے ساتھ جو معمول کے تعلقات بنانے کامعاہدہ کیا ہے، اس منافقانہ رویہ کو نہ کبھی بھولے گی اور نہ معاف کرے گی۔ ترکی کے محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ فلسطینی عوام اور انتظامیہ نے بجا طور پر اس معاہدے کے خلاف رد عمل دیا ہے۔’’ یہ بہت تشویش ناک بات ہے کہ یو اے ای ایک یکطرفہ عمل سے سن ۲۰۰۲ کے عرب امن معاہدے کو جسے عرب لیگ نے بنایا تھا،اسکی دھجیاں اڑا دے۔یہ تو بالکل نا قابل فہم تماشہ ہے کہ اس سہ طرفہ معاہدے کو فلسطینیوں کے حق میں پیش کیا جائے۔
عمان، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے معاہدہ کے حق میں بیان دیے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی معاہدہ کا خیر مقدم کیا۔کچھ مبصرین نے کہا اسرائیل کا مغربی کنارے کی زمینوں کو ہڑپ کرنے کا جو منصوبہ تھا وہ تو پہلے ہی ساری دنیا کی مخالفت کی وجہ سے کھٹائی میں تھا۔اس لیے نیتین یاہو نے کچھ بھی تو نہیں دیا۔
امریکی اٹلانٹک روزنامہ کا کہنا ہے یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ امریکی صدر کے داماد کشنر (Kushnar) کو اس نازک معاملہ پر تعینات کیا گیا ہے، ورنہ ہر سیاسی شعور رکھنے والے سعودی کو معلوم ہے کہ ولیعہدسلمان کے اور یو اے ای کے محمد بن زیاد کے ساتھ کشنر کے براہ راست روابط ہیں۔ لیکن ایسا کوئی فلسطینی قائد نہیں جس کے ساتھ ٹرمپ یا کشنر بے تکلف گپ شپ یا سودے بازی کر ے۔سو کوئی تعجب نہیں کہ اس انتظامیہ کی مشرق دسطیٰ کی حکمت عملی کا پہلا ثمر ایک ایسا معاہدہ ہے جو فلسطینیوں کو یکسر نظر انداز کر رہا ہے۔اس کے بجائے ان کے ایک کڑوڑ پتی شہزادے سے سودا کرلیا ہے۔
اب ذرا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی طرف نظر ڈالیں، جو مسلمان ملکوں سے متعلق ہے، وہ شرمناک حد تک ، اسلام کو ایسے استعمال کرتی ہے جیسے اسلامی ملک یہ سن کر موم کی طرح پگھل کر پاکستان کے جگری دوست بن جائیں گے۔اسی خوش فہمی میںگذشتہ ۷۳ سالوں سے پاکستانی طوطے کی طرح اسلام اسلام رٹتے رہتے ہیں۔ اب یہ تازہ ترین سعودی ولیعہد کی حرکت اور یو اے ای کی اسرائیل دوستی کو دیکھتے ہوئے اگر کوئی سبق ملتا ہے تو یہی ہے کہ ان عرب ملکوں کے لیے پاکستان کامسلم ملک ہوناکوئی اہمیت نہیںرکھتا۔ پاکستان کو بھی آیندہ سے اسلام اسلام کا ورد کرنا چھوڑ دینا چاہیے اور غیر مذہبی بنیادوں پر غیر ممالک کے ساتھ، خواہ مسلم یا غیر مسلم، تعلقات استوار کرنے چاہییں جیسے عیسائی ریاستیںآپس کے تعلقات میں کبھی مذہب کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتیں اور سیکیو لر بنیادوں پر لین دین کرتی ہیں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ جب پاکستان اسلام کا نعرہ مارتے دوسرے اسلامی ملکوں سے توقعات کرتے ہیں تو وہ حیران ہو کر ان کو دیکھتے ہیں۔ جب کہ سب کو پتہ ہے کہ ہر ملک اپنے مفاد کی بنیاد پر اپنی خارجہ پالیسی بناتا ہے۔اس میں مذہب کو شامل کرنا ایسا ہی جیسے کوئی فقیر خیرات مانگے اور اللہ کا نام استعمال کرے۔ پاکستان کو نئی خارجہ پالیسی بنانی چاہیے جس میں فلسطینیوں کی حمایت اس وجہ سے نہ کرے کہ وہ مسلمان ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ مظلوم ہیں اور ان کے شہری حقوق نہیں دیے جارہے ہیں۔جہاں تک کشمیریوں کاتعلق ہے پاکستان ان کے حق خود ارادیت اور انکے انسانی حقوق کی حمایت کرتا ہے ۔اورکرتارہے گا۔