اُمت کے قلب میں خنجر۔۔۔

266

ترکی نے متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو منافقانہ طرز عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ اور خطے کے لوگ اس معاہدے کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے جبکہ جمعرات کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ابو ظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید نے ایک مشترکہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ یہ تاریخی پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام میں مدد دے گی۔۔پاکستان اسرئیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتا ، یہ حکم اور نصیحت بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کی ہے جسے کوئی پاکستانی حکمران تبدیل نہیں کر سکتا۔قائدِ اعظم اور آل انڈیا مسلم لیگ ہمیشہ فلسطین کی آزادی کے لیے آواز اٹھاتے رہے- فلسطین کی حمایت میں 1933ء سے ۱1947 تک اٹھارہ قرار دادیں منظور کی گئیں- پورے برصغیر میں آل انڈیا مسلم لیگ باقاعدگی کے ساتھ یومِ فلسطین پر سیاسی سرگرمیوں کا انعقاد کرکے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی رہی- قائدِ اعظم محمد علی جناح جہاں برّصغیر پاک و ہند کے مسلمانان کی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے وہیں جدوجہدِ آزادیٔ فلسطین کے لیے بھی مسلسل تگ و دو کر رہے تھے کیونکہ ملّت کا پاسبان ہونے کے ناطے پوری امّتِ مسلمہ کا غم آپ کی رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھا- آپ نے عالَمِ عرب کی حریت کی خاطر جو جدوجہد کی اس کا اعتراف خود عرب لیڈروں نے بھی کیا-۔ قائداعظم آزاد اور خود مختار فلسطین کے حامی تھے اور انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر اپنا نقطہ نظر بیان کردیا تھا۔قائد اعظم نے عربوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا’’اپنے حقوق کے لیے ڈٹ جائیں اورخبردار ایک یہودی کو بھی فلسطین میں داخل نہ ہونے دیں،یہ امت کے قلب میں خنجر گھسایا گیا ہے، یہ ایک ناجائز ریاست ہے جسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا‘‘۔دوسری جنگ عظیم میں قائداعظم نے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کی کوشش کرنے پر امریکہ پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ’’ یہ نہایت ہی بے ایمانی کا فیصلہ ہے اور اس میں انصاف کا خون کیا گیا ہے‘‘۔مسلم لیگ کے ہر اجلاس میں محمد علی جناح تقسیمِ فلسطین کی بھرپور مخالفت اور اسرائیل کے قیام سے پیدا ہونے والی مستقل بدامنی سے خبردار کرتے رہے۔ یہ معاملہ صرف تقریروں اور قراردادوں تک محدود نہ رہا، قائد اعظم کا مفتی ٔاعظم فلسطین سید محمد امین الحسینی سے بھی رابطہ تھا۔ برطانوی وزیر اعظم لارڈ ایٹلی کے نام قائد اعظم کے تار کا ذکر کرتا ہے محمد علی جناح کی طرف سے تار موصول ہوا، جس میں انہوں نے مداخلت کرنے پر ٹرومین کی ملامت کی: ”میرا فرض ہے کہ میں آپ کو اس امر سے آگاہ کروں کہ عربوں کی قیمت پر قومِ یہود کی خوشنودی کے آگے ہار ماننے پر مسلم دنیا اور مسلم انڈیا کی طرف سے پْرزور ناراضگی اور پوری شدت کے ساتھ مزاحمت کی جائے گی۔‘‘۔۔ قائد اعظم نے فلسطین میں اسرائیل کے قیام کی ہر طرح سے مخالفت کی اور امریکی اور برطانوی حکومت کو مجرم قرار دیتے ہوئے 8 نومبر 1945ء کو قیصر باغ بمبئی میں تقریر کرتے ہوئے یہ بھی کہا: ”… امریکی اور برطانوی حکومتیں کان کھول کر سن لیں، پاکستان کا بچہ بچہ اور تمام اسلامی دنیا اپنی جانیں دے کر ان سے ٹکرا جائیں گے اور فرعونی دماغ کو پاش پاش کر دیں گے…‘‘ ایسے میں اسرائیل پاکستان کو کیونکر معاف کر سکتا تھا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل کے فاؤنڈنگ فادر بن گوریان (Ben Gurion) نے پیرس کی ایک یونیورسٹی میں اپنے لیکچر میں کہا: ”عالمی صیہونی تحریک کو اپنے بارے میں پاکستانی خطرے سے بے پروا نہیں رہنا چاہیے… پاکستان اب اس کا اولین ہدف ہونا چاہیے، اس لیے کہ یہ نظریاتی ملک ہمارے وجود کے لیے خطرہ ہے… سارے کا سارا پاکستان یہودیوں سے نفرت اور عربوں سے محبت کرتا ہے۔ ہمارے لیے خود عرب اس قدر خطرناک نہیں جس قدر کہ پاکستان ہمارے لیے خطرناک ہے۔ لہٰذا پاکستان کے خلاف فوری قدم اٹھانا عالمی صیہونیت کے لیے اشد ضروری ہے۔۔ دستخط شدہ خط
پاکستان اور اسرائیل کے بیچ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش 1947ء میں کی گئی تھی، جب اسرائیل کے اولین وزیر اعظم ڈیوڈ بین گوریون نے ایک تار جناح کو روانہ کیا جو پاکستان کے اہم بانی اور ملک میں قائد اعظم کے نام سے جانے جاتے تھے۔ تاہم جناح نے اس تار کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ فلسطین دْنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے،یہ اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان تھا جس کے بیشتر حصے پر اب اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی ہے- در بدر خوار پھرنے والے یہودیوں کی فلسطین کی جانب نقل مکانی 17 ویں صدی کے اواخر میں شروع ہو گئی تھی ۸۴۹ء سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا جو خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں فتح ہوا پھر صلاح الدین ایوبی کی فتح کے بعد خلافت عثمانیہ میں رہا مگر بعد میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس پر قبضہ کرلیا- چار صدیوں تک عثمانیوں کی حکمرانی میں رہنے والے اس خطے کو 1917میں برطانیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا اور یہودیوں کے لئے ایک قومی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا -۔بعد ازاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعہ فلسطین کو تقسیم کرکے ایک عرب اور ایک اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا اعلان کر دیا- برطانیہ نے اس علاقے سے اپنی افواج واپس بلالیں۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کے ساتھ ہی فلسطینی ریاست بھی قائم کر دی جاتی لیکن ایسا نہ ہوا-۔۔مسلمانوں کے علاقوں فلسطین اورمقبوضہ کشمیر پر ناجائز قابض ہنود و یہود کے شکنجے سے نجات دلانا آزاد مسلم ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن عالم عرب اپنی ذمہ داری کو نہ صرف پس پشت ڈال رہے ہیں ہنود اور یہو و نصاریٰ سے دوستی کا معاہدہ بھی کر رہے ہیں۔ علامہ اقبال فلسطین کے مسلمانوں سے متعلق بہت پہلے فرما چکے تھے۔۔۔
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے
تری دَوا ،نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یَہود میں ہے
سْنا ہے میں نے، غلامی سے اْمتوّں کی نجات
خودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے!