یو اے ای کی طرح سعودی عرب اسرائیل کیساتھ تعلقات بحال کرے: امریکا

304

نیو یارک:متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے کے بعد امریکا نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر کا کہنا ہے کہ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے جیسا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے کیا ہے۔

صحافیوں کو ایک ٹیلیفونک بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے خطے میں ان کے مشترکہ حریف ایران کے اثر و رسوخ کو بھی کم کیا جاسکے گا اور بالآخر فلسطینیوں کی مدد ہوگی۔

 

جیرڈ کشنر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے کاروبار، دفاع کے لیے بہت اچھا ہوگا اور میں واضح طور پر کہوں تو میرے خیال سے اس سے فلسطینیوں کی بھی مدد ہوگی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے اعلان کے بعد سے عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب خاموش ہے۔

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے نتیجے میں اسرائیل مغربی کنارے کے حصوں کے الحاق کو مؤخر کرنے پر راضی ہوا ہے، تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ یہ منصوبہ اب بھی موجود ہے۔

 

ونلڈ ٹرمپ کے داماد کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی شاہ سلمان اور ان کے بیٹے ولی عہد محمد بن سلمان بارہا ایک آزاد فلسطینی ریاست کے خواب کا اظہار کرچکے ہیں جہاں معاشی مواقع بھی موجود ہوں۔ بنیادی طور پر انہوں نے جو کہا وہ یہ ہے کہ وہ فلسطینی لوگوں کو ایک ریاست اور معاشی مواقع کے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق یو اے ای اور اسرائیل کے معاہدے پر خلیج تعاون ممالک (جی سی سی) میں سے بحرین اور عمان نے اس کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ سعودی عرب، کویت اور قطر نے ابھی کوئی ردعمل نہیں کیا۔ مسلم دنیا کے اہم ملک سعودی عرب کو یہودی ریاست کو باقاعدہ طور پر تسلیم کرنے سے قبل حساس سیاسی معاملات کا سامنا کرنا پڑے گا۔