پاکستان نے سعودیہ کوایک ارب ڈالرز کا قرضہ واپس کردیا،آخرکار عرب عجم دشمنی رنگ لائی،عمران خان کو عقل آئی!!

232

انصار و مہاجرین مواخات کااصلی مظاہرہ اس ہفتے اس وقت دیکھنے کو ملا جب پاکستان نے او آئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کارپوریشن) پر دبائو ڈالا کہ مسئلہ کشمیر کے اوپر اگرسربراہان کانہیں تو کم از کم اسلامی وزائے خارجہ کا اجلاس بلایا جائے مگراو آئی سی کے مالک سعودیہ عربیہ نے جواب دیا کہ ہم نے جو تمہیں قرضہ دیا تھا ہمارے پیسے واپس کرو۔ اصل میں یہ انصار مہاجر مواخات نہیں بلکہ عرب عجم منافرت ہے جو عربوں کے ذہنوں میں ہمیشہ سے بسی رچی ہے ۔ آپ کو شاید یاد ہو کر جب پچھلے سال ترکی ،ملائیشیا پاکستان اور ایران کی مشترکہ سربراہ کانفرنس منعقد ہو رہی تھی کو آخر وقت میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ہر چیز طے ہونے کے باوجود اس میں شرکت سے انکار کردیا تھا بلکہ وزیر خارجہ سمیت کسی بھی وفد کو اس میں شرکت کے لئے نہیں بھیجا۔قوم کو تو وجہ کچھ اور بتائی کہ مصروفیت زیادہ ہے مگر ترکی کے صدر طیب اردگان نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ عمران خان نے انہیں بتایا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلطان نے انہیں دھمکی دی تھی سعودیہ بلا کر کہ اگر پاکستان نے اس سمٹ میں شرکت کی تو سعودی عرب میں ملازم چالیس ہزار پاکستانی ورکرز کو واپس بھیج دیا جائے گا ۔قرضے کے پیسے روک لئے جائیں گے اور ادھار تیل کی فراہمی بند کردی جائے گی جس کے لئے باقاعدہ ایک معاہدہ طے پایا تھا۔عمران خان کے اس فیصلے سے ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد بہت ناراض اورمایوس بھی ہوئے تھے مگر درگزر کرگئے تھے کہ سب کی اپنی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اورعمران خان کی شاید ہوگی۔ اس کے بعد جب اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے کا موقع آیا تو سعودی حکومت نے عمران خان کو متنبہ کیا کہ یہ آپ کا لوکل ایشو ہے اسے براہ کرم امت مسلمہ کا مسئلہ بنانے کی کوشش نہ کریں اورانڈیا کے خلاف کچھ نہ کہیں مگر عمران خان نے اس وقت ہی سعودی حکومت کے خلاف دراصل علم بغاوت بلند کردیا تھا اور سعودی اورعربوں کی غلامی سے نکلنے کافیصلہ کرلیا تھا۔ پھر اب جب مسئلہ کشمیر پر اسلامی کانفرنس بلانے کا سوال اٹھایا گیا تو سعودی عرب ہمارا اسلامی برادر ملک آپے سے باہر ہوگیا کیونکہ وہ سمجھ رہا تھا کہ عمران خان کو بھی شریف خاندان کی طرح سے ڈیل کر لے گا اوراب سعودیہ نے ڈالرز بھی بند کرنے کی دھمکی دے دی کیونکہ ایم بی ایس کا خیال ہے کہ ان کی ذاتی کمپنی اوآئی سی کے مقابل ایک عجمی اورآئی سی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو دراصل سعودیہ امریکہ مشترکہ مفادات کی ایک جعلی تنظیم ہے جسے مسلم امہ کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے جو بنیادی طورپر ایک عرب تنظیم ہے جہاں تک قرضے کا تعلق ہے تین ارب ڈالرز میں سے ایک ارب ڈالر پاکستان نے واپس کردیا ہے جبکہ بقیہ دو ارب ڈالرز چین پاکستان کو دے رہا ہے جو سعودیوں کے منہ پر ماردیا جائے گا۔رہ گئی بات ادھار تیل کی فراہمی کو بند کرنے کی تو وہ بھی کر کے دیکھ لے۔ دسمبر میں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان اسی نوعیت کا معاہدہ زیر تکمیل تھا کہ کویڈ کی وبانے آگھیر لیا ۔ پاکستان کی یومیہ آٹھ لاکھ بیرل تیل کی ڈیمانڈ ہے جبکہ آذربائیجان اپنی پوری پروڈکشن کو پاکستان میں کھپا سکتا ہے اور وہ پاکستان کو ایک سال کے کریڈٹ پر بھی تیل دینے کو تیار ہے۔آذربائیجان کی خاطر ہی اس کے دشمن ہمسائے آرمینیا کو تسلیم نہیں کیا ہے ۔ کہتے ہیں کہ خدا ایک دروازہ بند کرتا ہے تو دس اور کھولتا ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ بھی اب اچھے تعلقات ہیں اور ایران کو بھی اپنا تیل بیچنے کے لئے مارکیٹ درکار ہے تو پاکستان ایران سے بھی تیل خرید سکتا ہے پھر سعودی عرب اور عرب امارات کا دشمن ملک قطر بھی پاکستان کادوست ہے وہاں سے بھی تیل اچھے داموں مل سکتا ہے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ کئی سال سے سعودیہ اورامارات نے قطر کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے مگر اشیائے خورونوش ایران اور پاکستان سے قطر جارہی ہیں۔ شکر اور خوشی اس بات کی ہے کہ اب ہم سعودیہ کی غلامی سے باہر نکل آئے ہیں۔