ترک صدر نے آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے پر تنقید کو مسترد کردیا

306

استنبول: ترک صدر رجب طیب اردوان نے بازنطینی دور کی یادگار آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے ترکی کے فیصلے پر عالمی سطح پر مذمت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے میں ان کے ملک کی ‘خودمختار حقوق’ کے استعمال کا اظہار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ترک صدر نے  اعلان کیا تھا کہ یونیسکو کے عالمی ورثہ قرار دیے گئے آیا صوفیہ میں 24 جولائی سے مسلمان نماز پڑھ سکیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ناقدین کا کہنا تھا کہ ترک صدر مسلم اکثریتی ملک کے سیکولر ستونوں کو ختم کررہے ہیں۔

ماضی میں انہوں نے کئی مرتبہ اس اہم ترین عمارت کو مسجد بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔