ہوئے تم دوست جس کے۔۔۔!

257

اللہ بچائے عمران خان کی کابینہ کے وزیروں سے! یہ تو نہیں معلوم کہ وزیروں، مشیروں اور خصوصی معاونوں کی جو فوجِ ظفر موج عمران کے اپنی حکومت میں جمع کی ہے ان میں سے کتنے اس کی پسند کے ہیں اور کتنے اس پر مسلط کئے گئے ہیں، اور یہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جتنا جتنا وقت گذر رہا ہے عمران حکومت کے کارنامے صرف پاکستان کے عوام کیلئے ہی نہیں بلکہ دنیا کیلئے حیرت اور مضحکہ دونوں ہی کا سامان با افراط مہیا کررہے ہیں! ایک وزیرِ بے تدبیرتو وہ ہیں فواد چوہدری نام کے جن کو یہ بیماری ہے کہ وہ ہر روز ٹی وی پر دکھائی دیں اور خبروں میں رہیں۔ ایسے لوگوں کو عرفِ عام کہا جاتا ہے کہ وہ توجہ اپنی طرف راغب کرنے کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس کے حصول کیلئے وہ بلا سبب ہی بول پڑتے ہیں۔ ایک پرانا قول ہے کہ کچھ لوگ، جو ذہین اور موقع شناس ہوتے ہیں، اس وقت منہ کھولتے ہیں جب ان کے پاس کہنے کو کوئی ڈھنگ کی بات ہوتی ہے، کچھ ایسا ہوتا ہے جو لوگ سننا پسند بھی کرتے ہیں لیکن ایک دوسری قماش ان لوگوں کی ہے جو اپنا منہ ضرور اور بیجا بھی کھول لیتے ہیں صرف اسلئے کہ انہیں کچھ کہنا چاہئے چاہے وہ بر محل نہ بھی ہو۔! ہمیں یاد ہے کہ اپنی طالب علمی کے زمانے میں کراچی کے اسکولوں اور کالجوں میں ایک ضرب المثل بہت مقبول تھی اور وہ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں تھی جنہیں اپنا منہ کھولنے کا، چاہے ضرورت ہو یا نہ ہو، مرض ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق کہا جاتا تھا کہ انہیں زبان کی بواسیر تھی! تو فواد چوہدری اسی مکتبِ فکر کے نمائندے ہیں جنہیں بولنے کی بواسیر ہوتی ہے۔ ابھی گذشتہ ایک ہفتے میں موصوف نے دو بار اپنا منہ کھولا ان موضوعات پر جن کا انہیں ثابت یہ ہوا کہ رتی برابر بھی علم نہیں تھا۔ بواسیر کا پہلا حملہ موصوف پر ہوا ذیقعد کے چاند کے حوالے سے جب انہوں نے ذیقعد شروع ہونے سے پہلے ہی یہ اعلان فرمادیا کہ اس سال بقرعید، جو ذیقعد کے بعد شروع ہونے والے ذی الحج کے مہینے کی دس تاریخ کو پڑتی ہے۳۱ جولائی کو ہوگی! یا وحشت، ذیقعد شروع نہیں ہوا لیکن موصوف جست لگا کر پہنچ گئے بے رکے ہوئے ذی الحج اور بقرعیدپر۔ یہ چھچورا پن ان کا اس بحث کے سلسلے سے ہے جو ان کے اور رویتِ ہلال کمیٹی کے صدر، مفتی منیب الرحمان کے درمیان رویتِ ہلال کے موضوع پر ایک عرصے سے چلی آرہی ہے۔ مفتی صاحب بیچارے مرنجانِ مرنج اور نستعلیق انسان ہیں لیکن ان کا مدٌِ مقابل ایک گھٹیا اور لچر سوچ کا انسان ہے جو خود نمائی کے مرض میں مبتلا ہے اور اس کا یہ مرض اندازہ ہورہا ہے کہ لاعلاج ہے کیونکہ جاہل کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو، بزعمِ خود، عالم و فاضل سمجھتاہے اور فواد چوہدری کو بھی یہ غلط فہمی ہے اپنے بارے میں کہ وہ سائنس کا بہت درک رکھتے ہیں کیونکہ اسی شعبہ کے وہ وزیر ہیں۔ لیکن وہ جو کہاوت ہے کہ حضرتِ عیسی کا گدھا اگر دس بار بھی کعبہ ہو آئے تو حاجی نہیں ہوتا۔ اور پھر قرآن تو فواد چوہدری جیسوں کے بارے میں بہت صراحت سے کہہ رہا ہے، سورۃ جمعہ میں، کہ ایسے جہلا اس گدھے کی مانند ہیں جس پر کتابیں لاد دی گئی ہوں! دوسرا سانحہ فواد چوہدری کی حماقت کا یہ ہوا کہ ابھی چند دن پہلے پاکستان میں جو سورج گرہن ہوا تھا اس کے بارے میں موصوف نے اپنی وزارت کی ویب سائٹ پر بڑے طمطراق سے معلومات پوسٹ
ؒکیں لیکن وہ معلومات سب کی سب چاند گرہن کے بارے میں تھیں۔ اب آپ سوچئے کہ جو جاہل چاند گرہن اور سورج گرہن کا فرق نہ جانتا ہو کیا وہ اس قابل ہے کہ وزارتِ سائنس اور ٹیکنالوجی کا قلمدان اس کے سپرد کیا جائے؟ عمران خان نے یہ کیوں کیا ہوا ہے کہ ایسے جہلا اس کی کابینہ کے اہم اراکین ہیں اس کا جواب ہم ہی نہیں بہت سے ایسے حساّس پاکستانی تلاش کررہے ہیں جنہیں اس کا شعور ہے کہ فواد چوہدری جیسے بھانڈ جنہیں صرف خبروں میں رہنے کا شوق ہے اپنی حماقتوں سے عمران کی ذات کو اور حکومت کو تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہیں اور دنیا عمران پر ان جاہلوں کی ذہنی قلابازیوں کے سبب ہنس رہی ہے اور کہ رہی ہے کہ نیا پاکستان بنانے کا جسے دعوی تھا اس میں تو یہ پرکھ بھی نہیں ہے کہ کون دوست ہے اور کون دشمن۔ ہمیں خود اس سے بہت دکھ ہوتا ہے کہ عمران نادان دوستوں میں گھرا ہوا ہے اور یہی بھانڈ اور مسخرے ایک دن، جو جلد بھی آسکتا ہے، اس کی حکومت کے گلے میں پھندا بن سکتے ہیں! لیکن جو کارنامہ عمران کے وزیرِ مواصلات اور شہری ہوابازی، غلام سرور خان نے کیا ہے اس کے سامنے تو فواد چوہدری کی حماقتیں بھی ماند پڑ گئی ہیں! آپ کو یاد ہوگا کہ عید سے دو دن پہلے، جمعۃ الوداع کے دن، پی آئی اے کی وہ پرواز جو لاہور سے کراچی آرہی تھی ۹۸مسافروں اور عملہ کے افراد کیلئے موت کا ہنڈولا بن گئی تھی اور جہاز کراچی کے ہوائی اڈے پر اترنے کے بجائے نزدیک کی ایک بستی پر گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ اس پرواز کی تباہی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق سانحہ ہواباز، یعنی پائلٹ کی غلطی کے سبب ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ہواباز اور اس کا معاون لاہور سے لیکر کراچی تک کے سفر میں ہمہ وقت کرونا وائرس کی بات کرتے رہے تھے اور جہاز کی طرف ان کی توجہ نہ ہونے کے برابر تھی۔تو اس موضوع پر لب کشائی کرنے کے دوران وزیرِ موصوف نے یہ کہہ کر دھماکہ کیا کہ ملک میں
۸۵۰ ہوابازوں میں سے ۲۶۲ کے لائسنس جعلی پائے گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ جس ملک میں تیس فیصد ہوباز جعلساز ہوں اس ملک میں ہوائی حادثات نہ ہوں تو تعجب کی بات ہے! وزیرِ موصوف نے تو یہ اعداد و شمار بڑی صفائی سے قومی اسمبلی کے ایوان میں پیش کردئیے لیکن ایک لمحہ کیلئے بھی یہ نہیں سوچا کہ ان کے اس بیان، اس برملا اعترافِ حقیقت کا نزلہ کہاں گرے گا اور ملک کیلئے کیا کیا مسائل کو جنم نہیں دیگا! ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ حکومت کو کراچی کے حادثے کے بعد یہ کارروائی کرنی ضروری نہیں تھی۔ ضروری تھی، بہت ضروری تھی، لیکن کارروائی کرنے کا ایک طریقہ، ایک سلیقہ ہوتا ہے۔ گندے کپڑے دھونے چاہئیں، صفائی ہونی چاہیے لیکن گھر کے میلے کچیلے کپڑے سرِ بازار نہیں دھوئے جاتے، اپنے گھر کا کوڑا اور کچرا بیچ چوراہے پر نہیں ڈالا جاتا! پاکستان میں کونسا شعبۂ حیات ہے جس میں بے ایمانی اور کرپشن نہیں ہے؟ وہ دو چور، زرداری اور نواز جو دس برس تک پاکستان کے سینے پر مونگ دلتے رہے، ملک کو لوٹتے اور کھسوٹتے رہے ان کے سیاہ ادوار میں اگر شہری ہوابازی کا شعبہ کرپشن سے محفوظ رہتا تو حیرت کی بات تھی۔ زرداری ڈاکو کے دور میں تو پی آئی اے پر جو دست درازیاں ہوئیں ان کی تاریخ ہوشربا ہے۔ اور نواز اور اس کے چور خاندان نے تو ملک کے دیگر شعبوں کی طرح پی آئی اے کو بھی اپنی جاگیر سمجھا ہوا تھا تو کوئی حیرت کی بات نہیں جو ہوائی جہاز اڑانے کے انتہائی حساّس شعبہ میں بھی وہ جعلساز بھرتی کئے گئے جنہیں بس چلانے کی صلاحیت بھی نہیں تھی لیکن گنگا بہہ رہی تھی تو ایسے چوروں اور ٹھگوں نے بھی گنگا اشنان کیا اور خطیر معاوضوں پر پی آئی اے میں بھرتی کئے گئے۔ یہ قومی ایر لائنز جو تباہ و برباد ہوئی ہے انہیں سیاہ کارناموں کا ثمرہ تو ہے!لیکن وزیرِ موصوف کو اپنی زبان کھولنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا کہ ان کے اعترافِ گناہ کا خمیازہ وہ نہیں بلکہ قوم بھگتے گی اور پاکستان کے ہواباز، جن کی اکثریت بے داغ ہے اور اپنے پیشے میں کمال مہارت بھی رکھتی ہے اس بیانِ اعترافی کے بعد وہ بھی مشکوک ہوجائینگے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر بھی نہ صرف انگلیاں اٹھیں گی بلکہ بڑے بڑے سوالیہ نشان لگ جائینگے! جگ ہنسائی تو پاکستان کی ہوہی رہی ہے اور دنیا تھو تھو کررہی ہے لیکن پاکستانی ہوابازوں کی چھانٹی کا عمل شروع ہوگیا ہے ان ایئر لائنز میں جن سے ہمارے بہت سے پائلٹ اورہواباز وابستہ ہیں، آج سے نہیں بلکہ برسوں سے! اور اگر بیرونی ایر لائنز اب پاکستان کے ہر ہواباز کے متعلق شکوک و شبہات رکھیں تو انہیں الزام نہیں دیا جاسکتا اس کا موقع تو انہیں خود ہمارے وزیر بے تدبیر نے فراہم کیا ہے۔ سو اگر یہ اطلاعات آنی شروع ہوگئی ہیں کہ کویت ایرویز نے ۱۷پاکستانی ہوابازوں کو معطل کردیا ہے اور ۵۶انجینئرز پر بھی نزلہ گر رہا ہے تو کوئی حیرت کی بات نہیں۔ خلیج کے عرب ممالک کے حکمراں، جو عیاش اور انسان دشمن ہیں، ویسے بھی مودی کے بھارت سے بہت مرعوب ہیں اور بھارت سرکار ایک عرصے سے ان ممالک میں یہ مہم چلاتی آئی ہے کہ پاکستانی محنت کشوں کی جگہ بھارتیوں کو دی جائے تو اب تو ہماری حکومت نے بذاتِ خود بھارت سرکار کے ہاتھوں میں بھری ہوئی پستول دے دی ہے کہ وہ اس سے پاکستانی محنت کشوں کو نشانہ بنائے اور نشانہ بنیں گے اس بارے میں کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے! ہمارے سفارتکار بیچارے محدود وسائل اور حکومتی بے اعتنائی کے باوجود رات و دن اس کوشش میں رہتے ہیں کہ اپنے ہموطنوں کیلئے امیر ممالک میں زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع تلاش کئے جائیں اور ملازمتیں حاصل کی جائیں لیکن ایک جاہل وزیر، بغیر سوچے سمجھے، اس پر غور کئے بغیر کہ اس کی لاف زنی اس کے محنت کشوں کیلئے کیسے مسائل کو جنم دیگی، ایک دن اسمبلی میں کھڑا ہوتا ہے اور ایک ایسا بیان داغ دیتا ہے جو ایک منٹ میں برسوں کی سفارتکاری کے منہ پر سیاہی مل دیتا ہے! دکھ ہوتا ہے یہ سب کہتے ہوئے اس وزیر اعظم کے دور میں جو اس دعوے کے ساتھ سریر آرائے سلطنت ہوا تھا کہ وہ ایک نئے طرزِ جہانبانی کا آغاز کرے گا اور ایک نئے پاکستان کی تعمیر اس کے ہاتھوں سے ہوگی لیکن دو برس کے اقتدار کے بعد ہم جیسے، جو عمران کی حمایت میں غلط بات سننے کو آمادہ نہیں ہوتے تھے، یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ دو سالہ اقتدار میں کچھ بھی نہیں بدلا۔ وہی پرانا پاکستان ہے، وہی الل ٹپ طرزِ حکمرانی ہے، وہی طالع آزما ہیں اور وہی موشگافیاں ہیں جنہوں نے پہلے بھی بارہا ملک کو زمانے بھر میں مذاق بنایا ہوا تھا اور اب بھی جگ ہنسائی کی وہی روش جاری ہے! عمران کے خلاف درونِ پاکستان اور بیرونِ ملک بھی ایک عمومی تاثر بہت عرصے سے یہ چلا آرہا ہے کہ حکومت کی باگ ڈور پوری طرح سے اس کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ پاکستان کی رسوائے زمانہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں عمران حکومت کی زیادہ تر کلیں ہیں۔ یہ جو واقعات ہیں جن پر آج بحث ہوئی یہ اس تاثر کو مزید ہوا دینے کا سبب بن سکتے ہیں اور بنتے رہے ہیں۔ فواد چوہدری اور غلام سرور جیسے کوتاہ بین وزیروں کی کابینہ میں مستقل شمولیت اور ان کو اہم شعبے تفویض کرنے کا مسلسل عمل اس کی مزید نشاندہی کرتا ہے کہ اقتدار اور فیصلہ سازی کی باگوں پرعمران کی گرفت ڈھیلی پڑرہی ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ عمران ایسے احمقوں کو اپنے ارد گرد رکھنے پر مجبور ہو۔ یہ بغلی گھونسے ہیں، نادان دوست اور مشیر ہیں اور نادان کی دوستی مہنگی پڑتی ہے۔ ایسے کور چشموں سے تو دانا دشمن بہتر ہیں!
کرامت غوری