یہ کٹھ پتلیاں کون ہیں، کہاں ہیں؟

260

داناؤں کا قول ہے کہ عقلمند اس وقت بولتا ہے جب اس کے پاس کہنے کیلئے کچھ ہو لیکن اس کے برعکس احمق اور نادان ہمیشہ منہ کھولنے کو تیار رہتا ہے کیونکہ اسے کچھ کہنا ہوتا ہے چاہے وہ بات کیسی ہی بھونڈی کیوں نہ ہو!
بلاول بھٹو زرداری کا مسئلہ بھی یہی ہے، مریم نواز اور ان دونوں کے گرو ملا فضلو کی طرح، کہ وہ ہمیشہ کچھ کہنے کیلئے آمادہ رہتے ہیں چاہے وہ بات کہنے والی ہو یا نہ ہو۔ ان کے ساتھ ایک اور مسئلہ بھی ہے اور وہ یہ کہ وہ تو اپنے مستقبل کے بارے میں صرف یہ خواب دیکھ رہے تھے کہ وہ جوان ہونگے تو عیش کریں گے، کھائینگے پئیں گیں اور تفریحات میں زندگی گذاریں گے جو وہ اپنا پیدائشی حق سمجھتے تھے لیکن کیا کریں کہ گھاگ باپ نے جس کی اپنی ساری زندگی جوڑ توڑ کرتے گذری تھی، اور گذر رہی ہے، ان کے سب خواب چکنا چور کردئیے کیونکہ وہ تو اپنے سپوت کو بھی اپنے نقشِ قدم پہ چلانے کا منصوبہ بنائے بیٹھا تھا!
اب مشکل یہ آن پڑی ہے کہ باپ تو بسترِ مرگ پر ہے، بلکہ کراچی سے یہ افواہ بھی اڑ گئی تھی کہ پاکستان کا سب سے نامی نوسرباز گذر گیا ہے لیکن کچھ مصلحتیں ہیں جو اس کی موت کا اعلان موخر کیا جارہا ہے۔ کہنے والوں کا کہنا تھا کہ اس کیلئے بھی کسی مناسب وقت کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اس افواہ کو مزید تقویت اس سے ملی کہ زرداری اور بینظیر بھٹو کی دخترِ نیک اختر، بختاور کے نکاح پر پدر گرامی کہیں نظر نہیں آئے اور بڑے بھائی بلاول نے سرپرست کا کردار ادا کیا۔!
خیر، فی الحال اس سے بحث نہیں کہ زرداری زندہ ہے یا نہیں بلکہ موضوعٔ سخن تو بلاول کا وہ بیان ہے جو موصوف نے پی ڈی ایم، یا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، کے اس اجلاس کے بعد دیا جو اس تحریک کی آنے والے دنوں میں کارروائی یا حکمتِ عملی طے کرنے کیلئے منعقد کیا گیا تھا۔
یہ چنڈال چوکڑی، جس کی قیادت مُلا فضلو جیسے شاطر کے ہاتھوں میں ہے، اصل میں تو پاکستان کے سب نامی چوروں کی سبھا ہے جو اپنے تمام اختلافات کے ساتھ ساتھ اس پر متفق ہے کہ ان کی اور ان کے بڑوں کی وہ دولت جو پاکستان سے لوٹی گئی ہے عمران حکومت کے ہاتھوں سخت خطرے میں ہے اور اسے بچانے کیلئے اب ہاتھ پیر مل کر مارنے کی اشد ضرورت ہے!
مشکل یہ ہے کہ بھان متی کا یہ کنبہ جو مُلا فضلو نے صرف اپنا اُلو سیدھا کرنے کی نیت سے جوڑا تھا کسی ایک بات پر مشکل سے ہی متفق ہوسکتا ہے اسلئے کہ عمران سے اپنی جان چھڑانے کے سوا ان میں اور کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ سو پہلے تو انہوں نے عمران کو ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہوکے مرعوب کرنا چاہا کہ شاید وہ ان سب چوروں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا دیکھ کے رعب میں آجائے گا لیکن جب اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تو انہوں نے عمران کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی یہ دھمکی دیکر کہ ان کی پارٹیوں کے اراکینِ اسمبلی اپنی نشستوں سے مستعفی ہوجائینگے۔ لیکن ان کی یہ گیدڑ بھبکی بھی کام نہیں آئی جب حکومت نے صاف کہہ دیا کہ جو نشستیں خالی ہونگی وہ ضمنی انتخابات کے ذریعہ فوری بھردی جائینگی۔ اور حکومت کی اس دوٹوک بات نے ان کے غبارے سے ساری ہوا نکال دی کیونکہ ان کے اپنے پارٹی اراکین نے بغاوت کردی اور کہہ دیا کہ وہ مستعفی ہونے کیلئے آمادہ نہیں۔ پتہ نہیں کیا کیا جوڑ توڑ کرکے کہ ان کی پارٹیوں والے اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے وہاں ہونے کا واحد مقصد مال بنانے اور لوٹ مار کرنے کے سوا اور کچھ نہیں تو وہ کیسے آمادہ ہوسکتے تھے کہ گھر آئی لکشمی کو باہر نکال دیں!
تو جب یہ بلیک میل بھی ناکام ہوا تو چنڈال چوکڑی نے یہ رٹ لگانی شروع کی کہ عمران حکومت خود ہی مستعفی ہوجائے! اور اس کے ساتھ ساتھ شعبدہ بازوں نے حتمی تاریخیں دینی شروع کیں۔ پہلی حتمی تاریخ، جسے عرفِ عام میں ڈیڈ لائن کہا جاتا ہے، دسمبر کی پہلی تاریخ تھی، جب وہ گذر گئی تو اکتیس دسمبر، یعنی سال کے اختتام کی تاریخ دی گئی اس پہ بھی دال نہیں گلی تو پھر اس ماہ، یعنی جنوری کی اکتیس کی تاریخ دی گئی لیکن عمران حکومت نے ان مداریوں کی ہر ڈیڈ لائن کو جب اس حقارت سے نظر انداز کیا جس کی وہ مستحق تھی تو اب مُلافضلو کے چیلوں نے یہ تازہ دھمکی دی ہے کہ وہ اب اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرینگے! لیکن کب کرینگے اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔!
یہ بھی گیدڑ بھبکیوں کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان مداریوں اور گماشتوں کی بات پر اب پاکستانی عوام مزید بیوقوف بننے کی کمزوری پر قابو پاچکے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں ہے کہ ان کا اب کوئی اعتبار نہیں رہا کیونکہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ چنڈال چوکڑی ہے جو چوروں اور ڈاکووٗں کی وکالت کررہی ہے اور ان کے پاس پاکستانی عوام کے مسائل کیلئے سوائے نعروں کے اور کچھ نہیں ہے۔!
شریف آدمی تو فریب دہی کرتا ہی نہیں لیکن ایک معمولی بدمعاش بھی توبہ کرلیتا ہے جب اس کی بات کا وزن چلا جائے لیکن یہ زرداری اور نواز کے چٹے بٹے بہت ہی ڈھیٹ اور بے شرم ہیں اور یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اب ان کی جعلسازی اور فریب کے سب پردے چاک ہوچکے ہیں۔
لانگ مارچ کا پانسہ پاکستانی سیاست میں ایک عرصے سے پھینکا جاتا رہا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان جعلسازوں میں سے اکثر کو تو یہ علم ہی نہیں کہ بیسویں صدی کی تاریخ میں ماؤزے تنگ اور ان کے محبِ وطن ساتھیوں کا کیا مقام اور مرتبہ ہے اور اس لانگ مارچ نے، جس کی قیادت ماؤزے تنگ جیسے زعیم اور قد آور رہنما نے کی تھی اور جس کے نتیجہ میں چین اور چینی عوام کی تقدیر بدل گئی اور ایسی بدلی کہ آج ہم اسی چین کو اپنی آنکھوں کے سامنے دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بنتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
تاریخ کا شعور رکھنے والوں کیلئے یہ لانگ مارچ کی درخشاں تاریخ کی ہتک اور اسے مسخ کرنے سے کم نہیں ہے جب یہ بلاول، مریم نواز اور ملا فضلو جیسے چھٹ بھیے لانگ مارچ کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ اس نام نہاد لانگ مارچ سے؟ کچھ نہیں سوا اسکے کہ بقول میاں بلاول عمران جو ان کی دانست میں کٹھ پتلی ہے حکومت چھوڑ دے کیونکہ حکومت کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہے!
قربان جائیے اس ادا کے۔ چھاج بولے تو بولے چھلنی کیا بولے جسمیں ستر چھید!
بلاول کو یاد دلاؤ کہ ان کے نانا حضور، جو کسی طرح مرتے ہی نہیں ہیں، وہ کس کی پیداوار تھے؟ کس کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی تھے خود ساختہ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو؟ ان ہی کی کٹھ پتلی تھے جناب جن کی کٹھ پتلی ہونے کا الزام آج بلاول میاں عمران پہ لگا رہے ہیں!
اور ان مریم بی بی جن کی زبان ان کے والدِ بزرگوار کی لوٹ مار اور کرپشن کی داستان کی طرح لمبی ہوتی جارہی ہے، کوئی ان سے بھی یہی سوال کرے کہ بی بی آپ کے بابا کس کی ایجاد تھے؟ کس کی پیداوار تھے؟ ان ہی کی نا جن کو آج وہ باہر، دور لندن میں بیٹھے ہوئے آنکھیں دکھا رہے ہیں لیکن بزدل ہیں، ہمت ہوتی تو یہاں گھر واپس آکر اس اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لیتے جس کی کٹھ پتلی ہونے کا الزام آپ اور وہ عمران پر لگارہے ہیں!
ان شرپسندوں کے پاس شر پھیلانے کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور ہمیں تعجب بھی نہیں ہے اسلئے کہ جس مہم کی قیادت پاکستان کا سب سے بڑا مفسد مُلا فضلو کررہا ہو اس سے کسی بھلائی کی توقع رکھنا بے سود ہے۔
ورنہ پاکستان میں حکومت کیلئے اور عوام کیلئے مسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ سب سے پیش پیش تو ان دنوں، بلکہ گذشتہ ایک برس سے جاری و ساری، کووڈ کا مسئلہ ہے جس کی ویکسین کا حصول اس وقت حکومت کیلئے ایک بہت ہی کٹھن کام ہے۔ چین ہمارا ہمدرد ہے اور اس نے خیر سگالی کے عنوان سے پانچ لاکھ ویکسین پاکستان کو تحفہ میں دی ہیں لیکن پاکستان کی آبادی کو دیکھتے ہوئے یہ تو آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ لیکن حکومت اس پر اکتفا نہیں کررہی بلکہ سر توڑ کوشش کررہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مقدار اور تعداد میں ویکسین حاصل کی جائے تاکہ اس ابتلا سے جان چھوٹے۔ اور ویکسین کا حصول صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے ترقی پذیر اور غریب ممالک کیلئے یہ ایک پہاڑ بنا ہوا ہے جسے سر کرنا ان کے محدود وسائل کیلئے ممکن نہیں ہے۔ آج ہی کی شماریات کے اعتبار سے دنیا کی آبادی میں امیر ملکوں کی آبادی کل سولہ فیصد ہے لیکن ان متمول ممالک نے دنیا بھر کی ساٹھ فیصد ویکسین خرید لی ہے۔ کینیڈا کی مثال دی جائے تو اس کی حکومت نے اتنی مقدار میں ویکسین کے آرڈر دئیے ہوئے ہیں جو اس کے تمام شہریوں کو پانچ باردی جائے تو بھی بچ رہیگی!
لیکن ان مفسدوں کو ان مسائل کا نہ کوئی ادراک ہے اور نہ ہی انہیں حل کرنے کاشعور ان کے شیطانی دماغوں میں ہے۔ ان کی تمامتر سوچ کا محور صرف اور صرف اس حد تک ہے کہ اپنی چوری کو چھپائیں اور اپنی ناجائز کمائی ہوئی اربوں کھربوں کی دولت کو اس کے حقدار پاکستانی عوام تک پہنچنے نہ دیا جاسکے!
لیکن تاریخ نہ اچھوں کو فراموش کرتی ہے نہ ہی ان جیسے بدنہادوں کو اپنی چھلنی سے چھانے بغیر نکلنے دیتی ہے۔ وہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرکے ہی دم لیتی ہے اور کل کا مورخ ان جعلسازوں اور طاغوت کے گماشتوں کو بھی معاف نہیں کریگی جو قومی ابتلا اور سخت ترین آزمائش کے اس دور میں اپنی کرپشن اور لوٹ مار کو چھپانے اور بچانے کیلئے ہر شیطانی ہتھکنڈا استعمال کرنے سے بھی پرہیز نہیں کررہے۔! پر ان کا کھیل بہت جلد ختم ہونے والا ہے اور بھان متی کے اس کنبے کی ساجھے کی ہانڈی اسلام آباد کے چوک میں ہی پھوٹے گی۔ اسلئے پھوٹے گی کہ عمران دشمنی کے علاوہ یہ کاسی ایک بات پر متفق ہو ہی نہیں سکتے۔ نواز کم ظرف اپنے تیر صرف فوج کی سمت چلارہا ہے اسی فوج کو نشانہ بنا رہا ہے جس نے اس جیسے چھٹ بھیے کو وہاں پہنچنے کا موقع دیا جہاں تک پہنچنے کا خواب بھی اس جیسا نیم خواندہ اور کند ذہن عام حالات میں نہیں دیکھ سکتا۔ زرداری زیادہ کائیاں اور دنیا شناس ہے لہٰذا اس کی تلقین اپنے بیٹے کو یہی ہے کہ فوج سے ٹکرانے کی حماقت کبھی نہ کرنا۔ بلاول پارلیمان میں عمران کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد لانے کے حق میں ہے لیکن نواز کے گماشتے اس کی طرف مائل نہیں ہیں کہ انہیں اس میں اپنے لئے ہزیمت اور رسوائی نظر آرہی ہے اور کچھ نہیں۔!
المختصر، وہ دن قریب ہے جب یہ ابلیسی اتحاد بھی ریت کے گھروندے کی طرح بکھر جائے گا۔ پاکستان کی تاریخ اس سنگِ میل سے پہلے بھی کئی بار گذر چکی ہے سو یہ کوئی انوکھا تجربہ نہیں ہوگا۔ ہاں عمران کو خود اپنی پارٹی اور اپنے گرد و پیش ہر قماش کے مشیروں اور وزیروں پہ کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان میں سے کوئی میر جعفر یا میرصادق اس کے حق میں بغلی گھونسہ نہ ثابت ہو!!!