سنیما اسکرین خاموش اور کہانیاں اُداس ہیں

264

لمحہءِ حاضر میں دنیا پر واضح طور پر 2 موسم چھائے ہوئے ہیں، ایک وہ موسم جو کورونا کی عالمی وبا کی آمد سے پہلے کا تھا، یعنی دیدارِ یار کا موسم اور ایک یہ موسم، جب پوری دنیا ایک وبا کی لپیٹ میں ہے، یعنی فراموشئ بہار کا موسم، جس سے اب ہم سب تنگ بھی آچکے ہیں۔

اس ماحول میں جب انسانی زندگی ہی محفوظ نہیں تو کیسے ممکن ہے کہ انسانوں کو تفریح فراہم کرنے والے ذرائع متاثر نہ ہوں، خاص طور پر ایسی تفریح جس کے لیے گھر سے نکل کر کسی مخصوص جگہ جانا پڑے، انہی ذرائع میں سے ایک سنیما بینی بھی ہے۔

سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی فلموں کو ناظرین اپنی توجہ کا مرکز بناتے ہیں اور مخصوص تہواروں کو خاص بنانے کے لیے سنیما گھروں میں جاکر ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ خوشی کو منانے کی غرض سے سنیما جانا بھی ایک اندازِ دلربائی رہا ہے، لیکن موجودہ منظرنامہ کچھ اور ہے، پوری دنیا بشمول پاکستان سنیماؤں میں تاریکی راج کر رہی ہے، اسکرین خاموش اور کہانیاں اُداس ہیں۔

پاکستان میں ‘عید الفطر’ اور ‘عیدالاضحی’ بھی 2 ایسے ہی تہوار ہیں، جن پر فلموں کی نمائش ہونا سماجی ثقافت کی روایت کا تسلسل ہے۔ عید پر فلمیں ریلیز کرنے کے لیے جن سرگرمیوں کا پیشگی انعقاد کیا جاتا ہے، ان کا سلسلہ بھی تکونی ہے، یعنی اس کی 3 جہتیں ہوتی ہیں۔