آسٹریلوی شہری نے پالتو کتے کیلئے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے ویکسین بنا لی

آسٹریلیا میں ایک مشین لرننگ ماہر پال کوننگھم نے چیٹ جی پی ٹی، ایلفا فولڈ اور اپنے ذاتی الگورتھمز کی مدد سے اپنے کتے ’روزی‘ کے لیے ایک ذاتی نوعیت کی ایم آر این اے کینسر ویکسین تیار کرلی۔2024 میں اس پالتو کتے میں ماسٹو سائٹوما (کتوں میں جلد کے کینسر کی سب سے عام قسم) کی تشخیص ہوئی۔ سرجری اور کیموتھراپی نے صرف ٹیومرز کی رفتار کو کم کیا، مگر انہیں ختم نہ کر سکے۔ ویٹرنری ڈاکٹروں نے روزی کو صرف ایک سے چھ ماہ کی زندگی کا وقت دیا تھا۔اس کے بعد کتے کے مالک نے اپنے 17 سالہ تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا۔چیٹ جی پی ٹی نےپال کو امیونوتھراپی اور جینومک سیکوینسنگ کی طرف جانے کا مشورہ دیا اور ایک مکمل لائحہ عمل بنانے میں مدد دی۔ جس میں ٹیومر کا ڈی این اے سیکوینس کرنا، اسے صحت مند خلیوں کے ڈی این اے سے موازنہ کرنا، میوٹیشنز کی نشاندہی کرنا اور مخصوص نیو اینٹیجنز کو ہدف بنا کر ویکسین ڈیزائن کرنا شال تھا۔



