ایسا نہیں ہوتا

5

یہ کیسے ہو گیا کہ پاکستان کے کسی ادارے میں کوئی اخلاق باقی نہیں رہا جبکہ ہر ادارے کے لوگ یہی مانتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ ان سا صاحب کردار اور بااخلاق کوئی نہیں، سب اسلام پر جان دینے کے لئے تیار، مگر منافقت ہر قدم پر عیاں، پاکستان کس حال کو پہنچ گیا مگر کوئی بھی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں، فوج، سیاستدان، میڈیا، تاجر، جج ،بیوروکریسی، ماہرین تعلیم اور دانشور، سب پاکباز اور متقی، ہر شخص کے نام کے ساتھ بڑے بڑے القاب، کوئی حکیم الامت، کوئی قائد ملت، کوئی قائد عوام، کوئی شیخ الاسلام، کوئی مجاہد ملت، حتی کہ شاعر اور ادیب بھی رحمتہ اللہ علیہ ہو گئے، شخصیات کو پوجا جانے لگا اور کسی کو اختلاف کی جرأت نہیں، جنون ایسا کہ سر قلم کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار، مگر حقائق سب اس کے برعکس، ۱۹۷۱ میں جب سقوط ڈھاکہ ہوا تو لندن ٹائمز نے لکھا تھا کہ پاکستان کی بنیاد سے پاکستان کا ہر فرد ایک ایک اینٹ نکال لینا چاہتا ہے، روس کے وزیراعظم خروشیف نے بھی کہا تھا کہ میں خدا کو نہیں مانتا مگر پاکستان کا نظام جس طرح چل رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ خدا ہے، سیاسیات نے مگر اصول وضع کر دئیے ہیں، یہ اصول بتاتے ہیں کہ ملک کو تباہ کرنے کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے، یہی وہ لوگ ہیں جو ملک کے شعبوں کو کنٹرول کرتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو ملک کی سمت متعین کرتے ہیں، ان کو سنوارنے اور بگاڑنے کی تمام ذمہ داری حکمرانوں پر ہی عائد ہوتی ہے، عدلیہ، میڈیا، انتظامیہ اور مقننہ سب ریاست کی نگرانی میں کام کرتے ہیں اور حکومت کے وژن کے مطابق کام کرتے ہیں، ان پر بیرونی طاقتیں اثر انداز ہو جائیں تو یہی وہ لوگ ہیں جو دانستہ ملک کے ہر شعبہ کو کرپٹ کر دیتے ہیں، پاکستان میں یہی ہوا اس ملک پر یا تو سیاست دانوں کی حکومت رہی یا فوج کی، تو ملک کی مادی اور ذہنی پسماندگی کی تمام ذمہ داری سیاست دانوں کی ہے یا فوج کی، فوج اس لئے زیادہ جواب دہ ہے کہ کبھی اس نے آمریت مسلط کی اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر کبھی سول حکومتوں کو DICTATEکیا، اور یہ بھی ہوا کہ انا پرست سیاست دان کمزور ہونے کے باوجود فوج کو بلاوجہ للکارتے رہے، یہ عمل بھی بیرونی اشاروں پر ہوا ہے۔
فوج کی بار بار مداخلت اور سیاست دانوں کی کم عقلی کے باعث ملک میں استحکام آ نہیںپایا چونکہ یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے تو فوج کو الزام تو دیا جائیگا۔
چند دن قبل ایک کرنل کی بیوی نے پورے پاکستان میں ہلچل مچادی، ایبٹ آباد جاتے ہوئے ایک پولیس ناکے پر خاتون کو پولیس نے روکا، خاتون نے رکنے سے انکار کرتے ہوئے نہ صرف پولیس کو ڈانٹ پلائی، بلکہ کار سے اتر کو پولیس کی رکھی گئی رکاوٹیں بھی ہٹائیں، کار سرکار میں مداخلت کی اور پولیس کانسٹیبل کی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہر رکاوٹ کو عبور کیا اور یہ جاوہ جا، یہ خبر سب سے پہلے سوشل میڈیا نے بریک کی، پھر کرنل کی بیوی سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، ہمارے آرمی چیف نے بھی سیاست دانوں کی طرح پینترا بدلتے ہوئے کرنل کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا، اب کوئی چیف کو بتائے کہ جرم تو کرنل کی بیوی کا ہے آپ کرنل کے خلاف تحقیقات کا حکم کیسے دے سکتے ہیں، یہ آگ بجھانے کی احمقانہ کوشش تھی، ذرا سی بات تھی کہ عورت نے سول لاء توڑا تھا سول انتظامیہ کو اپنا کام کرنے دیا جاتا، عورت سول حکام کے سامنے سرنڈر کرتی، پرچہ کٹتا اور قانونی کارروائی کی جاتی اور بات رفع دفع ہو جاتی، مگر ہوا یہ کہ سوشل میڈیا پر فوج کے ریٹائرڈ سورما چلے آئے اور عجیب عجیب سوال اٹھائے جانے لگے، کسی نے ادارے کی تضحیک کاالزام لگا دیا، کسی نے کہا کہ اس قوم پر فوج کے احسانات ہیں، کسی نے کہا کہ فوجی اور ان کی فیملیز تو بہت DECENTلوگ ہوتے ہیں، ایک سابق میجر نے تو TWEETکیا ’’اگر سکون سے کھانا کھاتے ہو تو فوج کا شکریہ ادا کرو‘‘ حد یہ کہ یہ بھی لکھا گیا کہ جو فوج کے بارے میں لکھ رہے ہیں ان کی حب الوطنی ہی مشکوک ہے، یہ بھی احسان جتایا جاتا رہا ہے کہ اگر تم چین سے سوتے ہو تو یہ بھی تم پر فوج کا کرم ہے، ان سب سوالوں کے مدلل جواب دئیے جا سکتے ہیں، ملک کی ایک مربوط تاریخ ہے جو عوام کے خون اور قربانیوں سے لکھی گئی ہے، اس تاریخ میں جگہ جگہ بوٹوں کی دھمک سے عوام سہم بھی گئے ہیں۔
ہم یہ سارے فوجی بیانئے مسترد کرتے ہیں، فوج اس ملک کا ایک ادارہ ہے جس کو چلانے کے لئے قوم اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹتے ہیں تاکہ فوج اپنا کام بھوک کی تپش سے آزاد رہ کر انجام دے سکے، فوجیوں کے بچے شاندار سکولوں میں جا سکیں، فوجیوں کو بیروزگاری اور مہنگائی کا بھی احسا س نہ ہو، وہ اس ادارے کو مضبوط دیکھنے کے لئے آدھی روٹی کھاتے ہیں اور پیلا گدلا پانی پیتے ہیں گیس اور بجلی کو ترستے ہیں تنگ آ کر خود سوزیاں کرتے ہیں، خودکشیاں بھی کرتے ہیں، ہم اگر قوم بن جاتے تو فوج کو آئین کے دائرے میں ہی رہنا تھا اس وقت اس کا بخوبی اندازہ ہوتا کہ فوجی اور شہری میں کیا فرق ہے، فرانس کا ایک فوجی جب کسی معرکے میں کام آگیا تو اخبار میں خبر لگی کہ فرانس کا ایک فوجی فرانس پر قربان ہو گیا، سارتر چیخ اٹھا اس نے کہا وہ فرانس کا شہری تھا، فرانس پر قربان ہوا ہے، ڈیگال کے حکم پر یہ خبر دوبارہ لگائی گئی کہ فرانس کا بیٹا فرانس پر قربان ہو گیا۔
پاکستان کی فوج ہر دور میں حاکمیت سے جڑی رہی ہے مگر اس فوج نے کوئی اتاترک، ناصر کوئی ڈیگال پیدا نہیں کیا، صرف طالع آزما ہی پیدا کیا جن کا رویہ عوام دوست نہ تھا ملک دوست بھی نہ تھا، ورنہ ملک بے بسی کی تصویر بنا ہوا نہ ہوتا جبکہ ہر ادارہ تباہ ہو چکا ہے، معاشی بدحالی اپنے عروج پر ہے، صرف دو طبقے ہیں جو پریشانی سے آزاد ہیں، ایک فوج جو پیٹ بھر کر روٹی کھاتی ہے اور دوسری فوج کی سرپرستی میں پلنے والے مولوی، عوام کا حال ہم جانتے ہیں، دنیا بھر میں ایسا نہیں ہوتا جو پاکستان میں ہورہا ہے، فوج کو اپنے روئیے پر غور کرنا چاہیے، فوج کا بڑا احترام ہے مگر یہ بھی نہ ہو کہ ایک مجرم عورت کو بچانے کے لئے آئین اور سول انتظامیہ کو لات رسید کر دی جائے ہمیں معلوم ہے کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ جو عجلت میں لائی گئی ہے اور پی آئی اے کے جہاز کا حادثہ اس واقعے پر بہت سی مٹی ڈال دے گا اور کرنل کی بیوی بچ جائیگی۔
واصف حسین

Leave A Reply

Your email address will not be published.