نواز شریف فوج مخالف کیوں؟ کیایہ راز کھل گیا؟

17

راقم کا ارادہ تھا کہ ایک دفعہ پھر کووِڈ۔۱۹ کی عالمی وباء کی واپسی پر کچھ بات کی جائے، لیکن سوشل میڈیا پر ایک ایسی کہانی دیکھنے کو ملی کہ بے اختیار موضوع سے ہٹنا پڑا۔لیکن پھر بھی تھوڑا کووِڈ کا ذکر ہو جائے۔ یہ بلائے نا گہانی کہیں جانے والی نہیں۔اس کا مداوا کرنا بھی ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ اگر پاکستانی تھوڑی تکلیف اور سہ لیں، اور ہجوم والی جگہوں میں، ماسک پہننا گوارہ کر لیں تو اس منحوس بیماری کے پھیلائو میںکافی فرق پڑ سکتا ہے۔لیکن یہ خدا کے شیر ان چھوٹی موٹی بیماریوں سے کہاں ڈرتے ہیں، اور وہ بھی ایسے جراثیم سے جو نظر بھی نہیں آتے۔ یہ قوم تو چوہوں، لال بیگوں اور آوارہ کتوں (ہماری مراد ہر گز ہر گز کسی سیاسی پارٹی کے کارکنوں کی طرف نہیں ہے جو رات کی تاریکیوں میں تنظیم سازی کے بہانے پارٹی کی رکن خواتین کے گھروں کا رُخ کرتے ہیں) سے بھی خوفزدہ نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ بھائی چارے کا سلوک روا رکھتے ہوئے مل جل کر رہتے ہیں۔کراچی کے عوام تو کچرے کے ڈھیروں کے ساتھ بھی مصالحتی رویہ رکھتے ہوئے ، بس ناک سکیڑ کر ، پاجامے کے پائنچے اوپر کر کے گزر جانے کے عادی ہو چکے ہیں۔موت تو بر حق ہے اور ہرجاندار کو آنی ہے وہ بھی جب اللہ کا حکم ہو گا۔ ان کیڑے مکوڑوں سے ڈرنے کا کیا سوال ہے؟ پھر بھی کووِڈ سے بچنے کے لیے، بلکہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ دوسروں کو بچانے کے لیے، ماسک کا استعمال ضروری ہے بلکہ یہ ایک معاشرتی ذمہ واری بھی ہے۔کووِڈ سے ضروری نہیں کہ موت ہی آئے۔ لیکن ایک اذیت ناک بیماری کا امکان تو موجود ہے۔حکام کو چاہیے کہ ایسی تمام جگہوں پر جہاں پاکستانی بکثرت پائے جاتے ہیں جیسے مساجد، جلسے جلوس، جلسہ گاہ کی سٹیج پر، شادی ہال، سکول، کالج، وغیرہ، وہاں ماسک پہننا قانوناًلازمی ہو اور جو پہننے سے انکار کرے اس کو تعزیرات پاکستان کے تحت ،جرمانہ، یا کوڑوں کی سزا یقینی بنائی جائے۔ کووِڈ پر اتنے کو ہی زیادہ سمجھیں، اور اب چلتے ہیں اس مزیدار کہانی کی طرف جو راقم نے سوشل میڈیا پر پڑھی اور خیال آیا کہ اپنے قارئین کو بھی پڑھائی جائے۔ تو ملاحظہ ہو:
’’افغانستان میں بہت سارا جنگی سامان تباہ شدہ بکھرا پڑا ہے۔ جس میں کثیر تعداد روسی اور امریکی ٹینکوں کی ہے۔ بکتر بند گاڑیاں ، توپیں، ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر، وغیرہ ، انکی شیٹیں اتنی موٹی ہیں کہ کوئی انہیں کاٹ نہیں سکتا۔ اور وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے اٹھا نہیں سکتا۔ پھر ہر صوبے والے وہ اسلحہ اٹھانے نہیں دیتے۔
انڈین سٹیل ٹائکون جندال اور سجن نے وہ سارا سکریپ خریدا اور کابل منتقل کر دیا۔ ایک خالی جگہ پر ڈھیر کر دیا۔ اب اُسے انڈیا لے جانا تھا۔ جہاںاس سے ٹینک، توپیں، اور بکتر بند گاڑیاں بنتیں۔ وہ اسکریپ انڈیا لے جانے کے تین طریقے تھے۔ پہلے ہوائی جہاز سے ۔ وہ اتنا مہنگا طریقہ تھا کہ نیا ٹینک آتا تھا۔ دوسرا طریقہ سمند رکے راستے، اس کے لیے پاکستان سے گذرنا پڑتا تھا۔ اور تیسرا طریقہ سب سے سستہ تھا اور وہ تھا ٹرکوں پر لاد کے براستہ پاکستان جی ٹی روڈ سے بھارت منتقل کرنا۔
جندال نے حسین نواز سے لندن میں ملاقات کی پھر حسین نواز انڈیا آیا اور ایک سٹیل مل لگانے کا منصوبہ بنا۔ سٹیل مل دو سال میں مکمل ہو گئی ، نواز شریف وزیر اعظم تھا اس نے پاکستان کے رستے واہگہ بارڈر تک سامان لے جانے کی اجازت دے دی اور روڈ ٹیکس اور فارن ٹیکس بھی معاف کر دیا، یوں پہلی کانوائے بنی جس میں سو ٹرالر تھے۔
جیسے ہی یہ کانوائے لنڈی کوتل سے پاکستان میں داخل ہوئے پاک فوج کو رپورٹ گئی، جنرل کیانی نے وزیر دفاع سے بات کی کہ یہ جنگی سکریپ ہے اس سے جنگی سامان بن کر پاکستان کے خلاف استعمال ہو گا۔ پاکستان کے پاس اتنی موٹی شیٹ کاٹنے اور پگھلانے کی صلاحیت نہیں تھی۔ نواز شریف نے کہایہ سکریپ جانے دیں، فوج کا اس سے کیا تعلق؟ جنرل کیانی نے شہباز شریف سے بات کی لیکن وہی جواب۔ جب یہ سکریپ نو شہرہ کے قریب پہنچا تو فوج نے تمام کانوائے روک کر ایک خالی جگہ پر اتار لیا۔ اور طورخم سرحد پر فوج لگا دی۔ اور کہا کہ کوئی جنگی سامان یہاں سے نہ گذرے ۔
جندال تین دفعہ مری آیا اور وزیر اعظم کو کہا کہ میرا اربوں کا نقصان ہو گا، آپ یہ سکریپ جانے دیں۔ جنرل کیانی کے بھائیوں کو کہا گیا ، اور بھی بہت ساری آفرز دی گئیں۔ لیکن فوج نہ مانی۔ اور یوں جنرل کیانی نے اپنی طاقت سے وہ سکریپ روک دیا۔ اور آج بھی کابل میں پڑا ہے۔ پاک فوج نے کہا حسین نواز پاکستان میں سٹیل مل لگائے ، جگہ فوج دے گی، سامان فوج خریدے گی، لیکن جندال نہ مانا۔ یوں حسین نواز اور جندل اور سجن کا خواب چکنا چور ہو گیا۔
وہاں سے تکلیف شروع ہوئی۔ پھر راحیل شریف سے بات کی گئی، اس نے بھی وہی جواب دیا۔ پھر نواز شریف صاحب جو پہلے ہی پرویز مشرف کے ساتھ مستی کر کے جوتے کھا چکے تھے ایک بار پھر پاک فوج کے خلاف ہو گئے۔اور پاک فوج اور انٹیلی جنس اداروں پر طرح طرح کی الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع کر دیا جو آج کے دن تک جاری ہے۔
یہ تھیں نواز شریف اینڈ فیملی کی چند بھارت نوازیاں۔ ‘‘
اس کہانی میں درج کردہ کچھ واقعات کی شہادت تو اکثر اخباروں اور ٹی وی کے تجزیہ کاروں کی زبانی سنی گئی ہے، مثلاً بھارتی لوہے کے صنعت کارجندل کا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ نواز شریف کی قیام گاہ پر آنا، اور تنہائی میں پاکستانی حکام کی غیر موجودگی میں، ملاقات کرنا، جندل کا مری جانا، وغیرہ۔ اب اس کہانی کو پاکستانی فوج ہی صحیح یا غلط ثابت کر سکتی ہے ، جو غالباً نہیں کرے گی۔لیکن راقم یہ سوچ رہا ہے کہ بر صغیر کی دو ایٹمی طاقتیں، پانی پر نہیں، کشمیر پر نہیں، زمین کے کسی ٹکڑے کے لیے نہیں،کیا محض ایک کچرے کے ڈھیر کی خاطر بھِڑ جائیں گی؟ یا پھر جیسے کہ فوج کا اندازہ ہے کہ اس کچرے سے جنگی ساز و سامان بنایا جا سکتا ہے، جو اگر بھارت چلا گیا تو وہ سامان پاکستان کے خلاف استعمال ہو گا۔اس لحاظ سے پاکستان حق بجانب ہے کہ اس کو بھارت نہ جانے دے۔اگرچہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات نارمل بھی ہو جائیں؟
اس واقعہ سے جو اشارے ملتے ہیں، ان میں نواز کی اولاد جو لندن میں بیٹھی ہے، اس کا پاکستان کے خلاف کردار اجاگر ہوتا ہے۔ اگر واقعی اس نے بھارت میں سٹیل مل بنوائی ہے تو یہ پاکستان کے ساتھ کھلی غداری ہے۔ پاکستان کی قومی سٹیل مل کا جو بیڑہ غرق کیا گیا، کیا اس کے پیچھے بھی کوئی ایسی سازش نہیں؟ اگر پاکستان کی سٹیل مل کامیابی سے چلتی رہتی تو بھارتی سٹیل کو مسابقہ نہ ہوتا؟
بھارتی سیاستدان اور صنعت کار، بلکہ میڈیا کی مہربانی سے، بچہ بچہ جان گیا ہے کہ پاکستان کا ہر بندہ برائے فروخت ہے خواہ وہ ملک کے اندر ہے یا باہر۔ اسی لیے انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ وزیر اعظم کو ہی خرید لیا جائے۔ سب کام آسان ہو جائیں گے۔ تھوڑے دن پہلے جب ان کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو پکڑا گیا تو بھارتی وزیر داخلہ یا اسی پوزیشن کے کسی بندے نے میڈیا پر کہا تھا کہ ہمیں پاکستان میں دہشت گرد بھیجنے کی کیا ضرورت ہے، ہمیں جتنے چاہییں، وہ آسان نرخوں پر وہیں سے مل جائیں گے۔اور بات بھی ٹھیک ہے۔ ہماری قوم میں، بھوکوں ، مدرسوں کے طالبعلموں اور غداروں کی کمی نہیں۔ جسے چاہو، چند لاکھ روپوں میں خود کش جیکٹ پہنا دو اور جہاں مرضی بھیج دو۔ اسی لیے جب کوئی غداری کرتا ہے تو لوگ دوسری طرف منہ پھیر لیتے ہیں، کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اب نواز شریف کا معاملہ ہی دیکھیں کہ کسی نٹ کھٹ نے اس پر اور اس کے رفیقوں پر غداری کا مقدمہ کر دیا تو کیسی ہاہا کار مچی؟ میڈیا تڑپ اٹھا، کہ دیکھو یہ کیا ہو رہا ہے؟ پاکستان میں تو کبھی کسی پر غداری کی مقدمہ نہیں ہوا۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان میں غداری کی عظیم الشان مثال ملک کے دو ٹکڑے کرنے سے بڑھ کر کیا ہو سکتی تھی۔ اس سے چھوٹی مثالیں بھی موجود ہیں، لیکن مجال ہے کہ کسی ایک بندے کو بھی سزا ملی ہو؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ غداری ہمارا قومی نشان ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ بھٹو کو پھانسی دی گئی جو اصل غدار تھا، لیکن اس وجہ سے نہیں، بلکہ وجہ قصوری کے باپ کا قتل تھا۔
بھارتیوں نے نواز شریف کے علاوہ، الطاف حسین کو بھی خریدا۔ اس نے ایم کیو ایم کے جوانوں کو بھارت میں لے جا کر دہشت گردی کی ٹرینینگ دی۔ الطاف حسین کو پاکستان سے کوئی محبت نہیں تھی وہ تو سارے مہاجروں کو واپس بھارت لے جانا چاہتا تھا۔اس نے حتی الوسع کراچی میں بھتہ خوری اور تاوان کا طوفان کھڑا کر دیا، اور دہشتگردوں کی با قاعدہ فوج بنا لی جو اوسطاً روزآنہ دس قتل کرتی تھی۔جس کا مطلب اتنی دہشت پھیلانا تھا کہ کوئی بھتہ نہ دینے اور تاوان نہ دینے کا تصور بھی کر سکے۔ ان حرکتوں سے اس نے پوری مہاجر آبادی کو یرغمال بنا دیا۔ پاکستانی حکومتیں اس کے سامنے بے بس نظر آتی تھیں۔ لیکن اس پر بغاوت کا الزام کسی عدالت میں نہیں لگایا گیا۔
بادی النظر میں پاکستانی آئین کی دفعہ ۵ کی شق نمبر ۱ کہتی ہے:’’مملکت سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔‘‘ شق نمبر ۲ کے مطابق: ’’ دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو، واجب التعمیل، ذمہ واری ہے۔‘‘ لیکن سنگین غداری دفعہ ۶ کے تحت ، صرف دستور کی تنسیخ سے متعلق ہے۔دوسرے لفظوں میں آئین نے ملک سے غداری کی نہ تو تشریح کی ہے اور نہ سزا بتائی ہے۔ یہ معاملہ عدالت عالیہ پر چھوڑ دیا ہے ۔اب یہ آئین کے ماہر وکلاء ہی جانتے ہیں کہ ابتک عدالت عالیہ نے ایسے کتنے کیس بھگتائے ہیں اور کیا سزائیں دی گئیں ہیں۔ ایک کیس جو ذہن میں آتا ہے وہ ڈاکٹر شکیل کا ہے جس نے اسامہ بن لادن کی امریکیوں کے لیے مخبری کی تھی۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ اس پر کوئی مقدمہ بنا اور سزا ہوئی یا وہ ابھی تک انتظاماً ہی قید کاٹ رہا ہے؟
اگر نواز شریف اور اس کے بیٹے کی سوشل میڈیا پر کہانی سچ ہے، تو کیا یہ پاکستان کے مفادات کے خلاف بیوفائی کا ثبوت ہو گا یا عدالت عالیہ ماضی کی روایات کے مد نظر، کوئی تکنیکی وجہ سن کر کیس فارغ کر دے گی؟ اب یہ وقت ہی بتائے گا!

Leave A Reply

Your email address will not be published.