جنرل مشرف کا نواز حکومت کی برطرفی کا اقدام آخری چارہ کار تھا جو ناگزیرتھا، اگر بغض مہاجر سے ہٹ کر تجزیہ کیا جائے!

7

آج ہم وٹس ایپ میں موصول ہونے والی ایک پوسٹ بالکل من و عن پیش کررہے ہیں، جو ان لوگوں کی نگاہیں کھولنے کیلئے کافی ہو گی جو بغض معاویہ میں جنرل مشرف کے خلاف اندھے ہو گئے ہیں۔
بارہ اکتوبر 1999ء کا دن ہے جب پاکستان کا آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف کمیٹی، پرویز مشرف اپنے سری لنکا کے سرکاری دورے سے پی آئی اے کی کمرشل پرواز 777 سے واپس کراچی آرہا ہے۔ اس کے ساتھ میجر جنرل طارق مجید اور بریگیڈئیر ندیم تاج بھی جہاز میں سوار تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاز میں سرکاری اہلکاروں سمیت مسافر بھی موجود تھے۔
جہاز ابھی فضا میں ہی ہے جب وزیراعظم نوازشریف یکایک پرویز مشرف کو اسکے عہدے سے ہٹا کر ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضاالدین بٹ کو آرمی چیف بنانے کا اعلان کردیتا ہے۔ اس اعلان کے فوراً بعد سول ایوی ایشن کو حکومت کی جانب سے ہدایات جاری کردی جاتی ہیں کہ مشرف کا طیارہ کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ مت ہونے دیا جائے۔
فضا میں اڑتے طیارے کے اندر بیٹھے مشرف کو کچھ علم نہیں کہ نیچے زمین پر کیا ہورہا ہے، پھر اچانک پائلٹ مسافروں کو بتاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے جہاز کو کراچی ائیرپورٹ لینڈنگ کی اجازت نہیں دی جارہی۔
مشرف سمیت تمام مسافر ششدر رہ جاتے ہیں۔ پائلٹ سمجھتا ہے کہ شاید کنٹرول ٹاور میں بیٹھا بندہ مذاق کررہا ہے، وہ ایک مرتبہ پھر لینڈنگ کیلئے رابطہ کرتا ہے اور اسے ایک مرتبہ پھر انکار سننے کو ملتا ہے۔
اس دوران طیارہ فضا میں تیس منٹ تک گردش کرتا رہتا ہے، جہاز میں فیول کا لیول کم ہونا شروع ہوچکا ہوتا ہے، مسافر بلند آواز میں کلمہ طیبہ کا ورد شروع کررہے ہوتے ہیں۔ مشرف اٹھ کر کاک پٹ میں جاتا ہے اور کنٹرول ٹاور سے خود رابطہ کرکے کہتا ہے کہ وہ آرمی چیف ہے، جہاز کو لینڈ کیوں نہیں کرنے دیا جارہا؟
آگے سے جواب ملتا ہے کہ حکومت کا حکم ہے کہ آپ کے جہازکو پاکستان میں لینڈ نہیں کرنے دیا جائے گا۔مشرف کہتا ہے کہ جہاز میں صرف وہ اکیلا سوار نہیں بلکہ ڈیڑھ سو دوسرے مسافر بھی موجود ہیں، جہاز کا ایندھن کم ہورہا ہے، ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں۔۔۔
آگے سے تھوڑی دیر کیلئے خاموشی ہوتی ہے، پھر چند منٹ بعد کنٹرول ٹاور سے جواب ملتا ہے کہ حکومت نے بات کرلی ہے، آپ جہاز کو موڑ کر انڈیا کی طرف لے جائیں اور بھارتی ریاست گجرات یا احمد آباد میں لینڈنگ کرلیں۔ یاد رہے کہ ابھی ایک سال قبل مشرف نے کارگل کے ذریعے بھارت کو شدید زک پہنچائی تھی اور اب حکومت پاکستان اپنے آرمی چیف سے کہہ رہی تھی کہ اس کا طیارہ پاکستان میں لینڈ نہیں ہوسکتا، البتہ بھارتی ریاست گجرات میں لینڈ کرلے۔۔۔ اس وقت گجرات کا وزیراعلی بھی شاید مودی ہی ہوا کرتا تھا۔
مشرف یہ سن کر سکتے میں آگیا۔ اس نے پائلٹ سے کہا کہ وہ کراچی کی بجائے نواب شاہ ائیرپورٹ کی طرف جہاز موڑ لے اور وہاں لینڈنگ کی کوشش کرے۔ پائلٹ نے ایسا ہی کیا لیکن وہاں سے بھی حکومت کی طرف سے انکار ہی ملا۔
جہاز میں موجود مسافروں کو اپنی موت صاف نظر آنا شروع ہوچکی تھی کیونکہ جہاز میں صرف پچاس منٹ کا فیول باقی بچا تھا۔ مشرف کے کہنے پر جہاز کو واپس کراچی کی طرف موڑا گیا۔ حکومت کی ہدایت پر رن وے کی بتیاں مکمل بجھا دی گئیں تاکہ جہاز لینڈ نہ کرسکے ۔۔۔ یہ دیکھ کر پائلٹ نے مایوسی سے مشرف کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ اب کیا ہوسکتا ہے؟
مشرف نے کنٹرول ٹاور سے آخری مرتبہ بات کی اور کہا کہ اس کی ملٹری پولیس سے بات کروائی جائے یا پھر انہیں اس صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔
اس دوران فوج کی قیادت تک خبرپہنچ چکی تھی، لیفٹنٹ جنرل مظفر عثمانی نے فوری طور پر کراچی ائیرپورٹ کو سیز کرکے کنٹرول سنبھالا اور مشرف کا طیارہ بحفاظت لینڈر کروا دیا۔
اس کے ساتھ ہی ملٹری پولیس نے ضیاالدین بٹ کو گھر میں محصور کردیا تاکہ کمان کی تبدیلی نہ ہوسکے۔ مشرف طیارے سے باہر نکلا، مسافروںکو بحفاظت لاؤنج تک پہنچایا اور وہیں کھڑے ہو کر اس نے ایمرجنسی ڈیکلئیر کردی اور نواز حکومت برطرف کردی۔
یہ واقعہ من و عن درست ہے جو کہ وکی پیڈیا سمیت دنیا کے تمام اخبارات کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اگر آپ اپنے بغض کو ایک طرف رکھ چکے ہیں تو اپنے ایمان سے بتائیں کہ کیا ملک کے آرمی چیف کے طیارے کو لینڈنگ سے انکار غداری نہیں تھی؟ کیا ڈیڑھ سو مسافروں کی جان خطرے میں ڈالنا، اقدام قتل کے مترادف نہیں تھا؟کیا پاکستانی کی فوجی قیادت کو بھارت کی سرزمین پر زبردستی طیارہ لینڈ کرنے کا کہنا سنگین غداری نہیں تھی؟
اور ہاں، مشرف کے ٹیک اوور کو اس وقت کے چیف جسٹس سعیدالزماں صدیقی نے قانونی قرار دیتے ہوئے تین سال کی مہلت دے دی تھی۔ سعید الزماں صدیقی کو نوازشریف نے زرداری کے مقابلے میں اپنا صدارتی امیدوار بھی کھڑا کیا تھا۔بعد میں آنے والے چیف جسٹس ارشاد حسن نے بھی مشرف کے ٹیک اوور اور آئین معطلی کو جائز قرار دیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جسٹس افتخار چوہدری بھی توثیق کرنے والے ججوں میں شامل تھا۔
جب ہم کہتے ہیں کہ اگر سزا ہی دینی ہے تو پھر سب کو دی جائے تو اس کے پیچھے یہی وہ واقعات ہیں۔۔۔ دیکھا جائے تو مشرف کا قصور کم تھا، اسے اکسانے والا، غیرآئینی احکامات دینے والا نوازشریف اصل غداری کا مرتکب ہوا تھا۔جو جو غلط ہیں سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کریں، چاہیں وہ جج ہوں، جنرل ہوں یا ستدان، مہاجروں کے بغض میں خالی جنرل مشرف کو ہی ہدف نہ بنائیں، آج بیس سال بعد یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ نہ مشرف نے اور نہ ہی اس کی آل اولاد نے ایک ٹکے کی کرپشن نہیں کی، ان کا جرم صرف حب الوطنی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.