عوام کو اب کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہوگئی ہے!!

8

درندوں میں انسانیت ہوتی ہے یا نہیں یہ تو معلوم نہیں لیکن انسانوں میں درندگی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے اور ان کی درندگی اپنوں پر حملہ کر کے انہیں چٹ کر جاتی ہے ،درندے پھر بھی اپنوں کو نہیں چباتے علاوہ بھیڑیوں کے، بھیڑیوں کے لئے مشہور ہے کہ غاروں میں سوتے وقت اپنی ایک آنکھ کھلی رکھتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے ہی لوگوں سے خطرہ ہوتا ہے کہ ذرا ان کی آنکھ جھپکی اور ادھر چیر پھاڑ دئیے گئے، غفلت کا انجام ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے، جیسے کہ پاکستانی عوام اپنے حکمرانوں کے کارناموں سے بے خبر خواب خرگوش کے مزے لیتی رہی اور جب خزانہ خالی ہو گیا تو ہوش آیا کہ ڈائن کا بھی ایک اصول ہوتا ہے کہ وہ سات گھر دائیں اور سات گھر بائیں چھوڑ کرآگے والوں کا کلیجہ چباتی ہے لیکن یہاں تو پہلے اپنوں پر ہی ہلہ بول دیا گیا۔ سب سے بڑا ڈاکو اسحاق ڈار ہے جسے خاقان عباسی اپنی ایئر بلیو میں بٹھا کر لے گئے، بعد میں اسے وزیراعظم بنایا گیا، اس وزیراعظم نے پہلے ہی پی آئی اے کی کمر توڑ دی تھی، اپنی ایئر لائن کو ترقی دینے کے لئے ، کسی نے کوئی بازپرس نہ کی، قومی املاک خسارے میں چلی گئیں، سٹیل مل بند ہو گئی، محب وطن پاکستانیوں کا دل خون کے آنسو روتا ہے، ان کے بس میں جو کچھ ہے وہ کررہے ہیں۔
مریم نواز صاحبہ کا ایک طنزیہ کلام نشر ہورہا تھا، بڑا درد ناک بیانہ تھا جو وہ اپنے والد صاحب کے کارناموں پر پڑھ رہی تھیں ’’وہ کیسا غدار تھا جو بھارتی پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کر گیا( ماشاء اللہ ابھی محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان حیات ہیں انہوں نے بتا دیا کہ دھماکہ کس نے کیا، نواز تو ایک پٹاخہ بھی نہیں پھوڑ سکتے تھے، صحافیوں نے شیر کو کیا دھمکی دی تھی جو دم دبائے گیدڑ کی طرح فرار ہو گیا) ’’وہ کیسا غدار تھا جس نے پورے ملک کو روشنی دی:مریم نواز!‘‘ (اور پورے ملک کو اندھیرے میں جھونک دیا گیا) ایک اور احسان کر گیا ’’وہ کیسا غدار تھا جو موٹروے بنا گیا جس پر جہاز بھی لینڈ کر سکتے ہیں اور ٹیک آف بھی کر سکتے ہیں‘‘ تو بی بی پاکستان سے اپنی ان نام نہاد خدمات کا کتنا بڑا تاوان وصول کیا کہ اربوں لوٹ کر فرار ہو گئے۔ تم تو وہ لوگ ہو جس تھالی میں کھایا ہو اس میں چھید کر دیتے ہو، اصل کتا بھی گھر کی ہانڈی میں منہ نہیں ڈالتا، یہ تو وہ کتا کرتا ہے جس کی ماں گلہاروں میں گھوم پھر کر کما کر لائی ہوتی ہے، اپنی یہ ہرزہ سرائی بند کرو۔ ملک کی غربت جو تمہاری عطاء کر دہ ہے ملک کی اس کی لوٹی ہوئی دولت واپس کر کے غربت دور کر نے دو، عوام اب تمہارے بہکاوے میں نہیں آئیں گے، میڈیا نے اب عوام میں شعور بیدار کر دیا ہے کہ وہ کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کرنے لگے ہیں۔ عوام اگر چاہتے ہیں ان کی بدحالی ختم ہو، ملک کو ترقی کی راہ پر لگایا جا سکے تو اب اٹھ کھڑے ہوں، کوئی حربہ حکومت، عدلیہ اور فوج کے خلاف کامیاب نہ ہونے دیں، جب تک عوام ان فاسق و فاجر منافق لوگوں کے خلاف آواز بلند نہیں کریں گے، گھروں سے باہر نہیں نکلیں گے ان ڈاکوئوں سے چھٹکارا ناممکن ہے۔
وزیراعظم پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر چلانا چاہتے ہیں، وزیراعظم صاحب آپ سے عرض ہے کہ یہاں پر آپ قوانین بھی اسی ریاست کے لائیں، ریاست مدینہ بھی ہجرت کے بعد وجود میں آئی اور پاکستان بھی ہجرتوں کی بے شمار کہانیاں لئے ہوئے ہے، قائداعظم سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان کا قانون کیا ہو گا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ’’ہمارا قانون تو چودہ سو سال پہلے بن گیا ہے‘‘ اور پچھلے حکمران اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے تھے، انہیں یہ پورا یقین کامل تھا کہ ہم پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا، کسی کی مجال نہیں، اللہ بھلا کرے پاناما لیکس کا جس نے سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا، جلتی پر تیل کا کام عوام نے کیا عمران خان کوووٹ دے کر وزارت عظمیٰ کی کرسی پر لا بٹھایا، اپوزیشن( وطن دشمن) جس نے PDMبنا لی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کچھ عرصے پہلے دست و گریباں تھے، کوئی کسی کا پیٹ پھاڑ رہا تھا سڑکوں پر گھسیٹ رہا تھا، غدار کہہ رہا تھا کہ ملک توڑنے والوں سے ہاتھ نہیں ملائے گا، تو اب سب شیر و شکر ہورہے ہیں لیکن یہ اتحاد زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے گا۔ انشاء اللہ۔
عمران خان سے ایک استدعا ہے کہ معصوم بچوں کے خلاف جو جنسی جرائم ہورہے ہیں ان کی طرف خاص توجہ دی جائے۔ ہائے وہ زینب جسے اذیتیں دے کر مارا گیا اور دوسری یہ انتہائی معصوم زینب جس کی عمر صرف ڈھائی سال تھی اسے کیسی بے دردی سے مارا گیا۔ ڈاکٹر فضہ اکبر نے بتایا کہ اس کے پیٹ سے لیکر سینے تک کے حصے کو چاک کر دیا گیا، اذیتوں کے نشانات بھی پائے گئے، وہ معصوم جو فریاد کرنا بھی نہیں جانتی تھی شاید ماں یا باپ کو پکارا ہو۔ کس بربریت اور ظلم کا شکار ہوئی، اس کی اذیت کو سوچئے کتنا روح فرسا المیہ ہے۔ آہ یہ معصوم بچے جو ان درندوں جنسی جنیونیوں کی ہوس کے شکار ہوتے ہیں کیا ان کے لئے کوئی دل نہیں پسیجتاکیوں قانون حرکت میں نہیں آیا۔
حراست میں لئے جانے والے ملزمان کو کیوں عبرت ناک سزائیں نہیں دی جاتیں، ریاست مدینہ کے قانون کے مطابق سنگ سار کرنے کی سزا بالکل مناسب ہے چونکہ یہ ظالم لوگ ان معصوم بچوں کو بڑی اذیتیں دے کر مارتے ہیں، سیدھے سیدھے پھانسی تو چند منٹوں کی اذیت ہے۔ ابھی زینب کی خبر آئی تھی کہ ایک دوسری چار سالہ بچی اور ایک آٹھ سالہ لڑکے کی خبر بھی آگئی، جسے جنسی بربریت کا نشانہ بنانے کے بعد رسی کی مدد سے درخت پر لٹکا دیا گیا تھا، ظلم کی انتہا ہے لیکن والدین بھی بری الذمہ نہیں ٹھہرائے جا سکتے، ڈھائی سالہ بچی گلی میں کھیل رہی تھی اور ماں باپ اس کی حفاظت سے بے خبر تھے، جب روز ایسے واقعات ہورہے ہیں تو والدین کیوں اتنی خوش فہمی میں کہ ان کے بچے کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہو سکتا ،ایک جنسی جنونی جو کئی بچوں کا باپ ہے اس نے بھی یہ فعل قبیح انجام دیا، اس لئے پہلے بھی ایک پڑوسی نے ایک بچی کے ساتھ اپنے بچوں کے سامنے سب کچھ کیا، اگر سخت سزائیں نہ ہوئیں، والدین اپنی اولاد کی طرف سے یہ کوتاہی سرزد ہوتی رہی تو ان جرائم کی بیخ کنی ناممکن ہو جائے گی۔
نوٹ: طاہرہ انور صاحبہ آٹھ سال سے اردو پڑھارہی ہیں، بچوں کا اردو قاعدہ Amezonمیں دستیاب ہے، ان کا یہ مشن ہے کہ امریکی پاکستانی بچوں کو اپنی مادری زبان سے بھی روشناس کروایا جائے۔ جب تک بچوں کواپنی مادری زبان نہیں پڑھائی جائے گی وہ اپنی بنیاد کو نہیں سمجھ پائیں گے، اپنی تہذیب و ثقافت سے انہیں آگاہی نہ ہو کسے گی، اس لئے ضروری ہے کہ ان کو اپنی زبان پڑھنا اور لکھنا آنا چاہیے، طاہرہ انور صاحبہ کی کوشش قابل داد ہے۔ ان سے رابطہ بذریعہ ای میل جا سکتا ہے۔
UAMDORG.TAZIZ_786@YAHOO.COM
Urdu Academy of Maryland

Home

Leave A Reply

Your email address will not be published.