کہاں راجہ بھوج کہاں گنگوا تیلی !

7

جاگیرداری نظام بجائے خود ہی بہت بڑی لعنت ہے لیکن اس نظام سے منسلک کلچر پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے!
المیہ یوں ہے کہ اس کی اساس، اس کی جڑیں جہالت میں ہیں اور جہالت گمراہی کو فروغ دینے میں سب سے نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے کہ نواز شریف جیسے عقل و فہم و خرد سے عاری ایک نیم خواندہ انسان کو اہالیانِ لاہور، اور میں بہت احتیاط کے ساتھ نواز کے بے عقل حامیوں اور مداحوں کو پورے پنجاب پر محیط نہیں کررہا بلکہ ان عقل کے اندھوں کو صرف لاہور تک محدود کررہا ہوں کیونکہ شریف خاندان کے حمایتی اب صرف اس شہر تک سمٹ کے رہ گئے ہیں جسے اس لٹیرے خاندان نے خوب نوازا ہے اور اس کی ترقی کے بہانے اپنے آپ کو اور اپنی تجوریوں کو اس سے بھی کہیں زیادہ نوازا ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ شریف خاندان کی مداحی ان انعام یافتہ افراد اور گروہوں تک محدود ہے جنہیں اس خاندان کی لوٹ مار سے براہِ راست یا بالواسطہ فیض پہنچا ہے اور اب یہ چوروں کے گرہ کٹ برادران سراسیمہ اور پریشان ہیں کیونکہ شریف خاندان کی پول کھل جانے اور ہوا بگڑ جانے کے بعد ان کے سروں پر دستِ مرحمت رکھنے والے نظر نہیں آرہے!
مریم نواز تو مفرور نواز شریف کی بیٹی ہونے کے ناطے سے اپنے بھگوڑے باپ کی تعریف و توصیف میں جو بھی زمین آسمان کے قلابے ملائیں اس کو ایک بیٹی کی پکار سمجھ کے نظر انداز کیا جاسکتا ہے کہ بیٹیاں اپنے باپ کے ضمن میں عام طور سے جذباتی ہوتی ہیں اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے لیکن جب دخترِ نیک اختر تعریف کی سب حدیں پھلانگ جائیں اور یہ دعوی کریں کہ نواز شریف صرف ان کے قائد نہیں بلکہ ان کے امام بھی ہیں تو پھر ہمارا یہ کہنا غلط نہیں رہیگا کہ جاگیردارانہ مزاج کا خمیر جہالت سے اٹھتا ہے۔شریف خاندان کا جاگیرداری سے دور دور علاقہ نہیں۔ یہ خاندان تو لوہاروں کا ہے جنہیں یوں کہا جائے کہ اصلی تے وڈے جاگیرداروں کی زبان میں کمی کہاجاتا ہے لیکن پیسہ آجانے کے بعد انہیںاور ان جیسوں کو کمی کہنے والی زبانوں پر تالے پڑجاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوہار خاندان والے بھی اب جب مخاطب کئے جاتے ہیں تو انہیں میاں صاحب کہہ کے اعزاز دیا جاتا ہے۔ پیسے کی اپنی ایک الگ کیمیا ہے۔ یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ پیسہ آیا کیسے اور کہاں سے آیا۔ کسی کا مالدار ہونا ہمارے معاشرہ میں ستر عیب چھپالیتا ہے۔ ہندی کی ایک بہت پرانی کہاوت ہے: مایا تیرے تین نام، پرسو، پرسا، پرس رام!
سو لوہار خاندان کے فرزند بھی اب میاں صاحب ہوچکے ہیں اور کس کی مجال ہے کہ انہیں یاد دلائے کہ ان کی اصل کیا ہے!اور اس کے ہمراہ یہ بھی تو اپنی جگہ بڑی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جاگیرداری کا زہر ایسے پھیلا ہے کہ اب پیدائش کے اعتبار سے جاگیردار ہونے کی ضرورت ہی نہیں رہی کیونکہ اب پاکستانی سوسائٹی اور سماج کے ہر طبقہ کی سوچ جاگیردارانہ ہوچکی ہے اور اسی تعلق سے سماجی رویے بھی جاگیردارانہ ہوچکے ہیں۔ ان رویوں میں ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ جس کے سامنے ہاتھ پھیلایا جائے یا گردن جھکائی جائے تو پھر اس کی ہر بات پہ آمنا ا و صدقنا کہنا بھی لازمی ہوجاتا ہے۔
سو یہی ہوا ہے کہ مریم نواز نے جب اپنے مفرور باپ کو اپنا امام کہا تو پھر ان کے حواری اور درباری ان سے دو ہاتھ کیوں نہ جاتے کہ مصاحبی کے تقاضے یہی ہیں کہ ممدوح کو عرشِ معلی پہ بٹھادو!
مریم نے نواز کو جب اپنا امام قرار دیا تو مصاحبوں نے اس میں اپنی طرف سے اور پھندنے لگائے اور کہا کہ نواز پاکستان کے نجات دہندہ ہیں بالکل اسی طرح جیسے ایران کے امام خمینی تھے اور دونوں میں مماثلت یہ بیان کی گئی کہ جیسے امام خمینی ایران سے دور رہتے ہوئے اسلامی انقلاب کے بانی بن گئے تھے بالکل اسی طرح میاں نواز شریف بھی لندن سے پاکستان میں انقلاب لانے کے کام کا آغاز کرچکے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ان کی کوششیں بھی امام خمینی کی طرح بار آور ہونگی اور وہ ایسے ہی سرخرو و کامران پاکستان لوٹ کر آئینگے جیسے امام خمینی اپنے وطن واپس لوٹ کر آئے تھے انقلابِ ایران کی کامیابی کے بعد!
ایسی بے سرو پا اور مضحکہ خیز باتوں کو عام طور سے نظر انداز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے کیونکہ ان کا چرچا کرنے سے انہیں وہ شہرت مل جاتی ہے جس کی یہ حقدار نہیں ہوتیں لیکن پاکستانی معاشرہ کی نہج یہ ہے کہ ایسی بے تکی باتوں سے نہ صرف جہالت ٹپکتی ہے بلکہ ان سادہ لوحوں کے گمراہ ہونے کی گنجائش نکل آتی ہے جو ان لن ترانیوں کے سیاق و سباق سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ نواز کے مداحوں کے حلقے ویسے ہی جاہلوں سے اٹے ہوئے ہیں ایسے میں ایک دو ٹکے کے بھگوڑے پاکستانی سیاستداں کو امام خمینی جیسے زعیم کے برابر کھڑا کرنے کی کوشش انتہائی قابلِ مذمت ہے اور اس پر جتنی لعن طعن ہو وہ کم ہوگی!
عمران خان نے بہت اچھا کیا جو اس کی فی الفور اور بھرپور مذمت کرڈالی۔ بہت ٹھیک کہا عمران نے کہ کہاں وہ نیک و پارسا مجاہد، امام خمینی، جس نے اپنے استقلال اور عزم سے اس شہنشاہی کی جڑیں اکھیڑ دیں جو ہمارے خطہ میں ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطی میں سامراجیت اور طاغوت کا سب سے معتبر کارندہ اور سپاہی تھا۔ امریکہ بہادر کیوں ایران کی عداوت اور مخالفت میں ایک کے بعد ایک حد پار کئے جارہے ہیں وہ صرف اسلئے کہ امام خمینی کے لائے ہوئے اسلامی انقلاب نے سامراج کی چولیں ہلا کے رکھدی ہیں۔
عمران نے یہ بھی صحیح کہا، حالیہ تاریخ کے تناظر میں، کہ خمینی ایران سے باہر رہنے پر یوں مجبور تھے کہ شہنشاہ ایران نے سامراج کی خوشنودی اور اپنے تاج و تخت کی بقا کیلئے امام خمینی کو ملک بدر کیا تھا۔ وہ پہلے دس برس عراق میں جلاوطنی کا عرصہ گزارتے رہے لیکن جب ۵۷۹۱ میں ایران اور عراق میں شطالعرب پر معاہدہ ہوا تو شاہ نے صدام حسین پر شرط عائد کی کہ وہ خمینی کو اپنے ملک سے جانے پر مجبور کریگا۔ اس کے بعد امام خمینی نے فرانس میں پناہ لی اور پھر چار برس وہ پیرس میں مقیم رہے جہاں سے وہ انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران کے روحانی اور دنیاوی رہنما کی صورت میں کامیاب و سرخرو اپنے وطن واپس لوٹے!
ایسے پارسا اور بے داغ کردار کے مالک سے اسے مماثلت دی جانے کی جراتِ رندانہ مریم نواز کے اشارے پرکی گئی ہے جو پاکستان کی عدالتوں کے مطابق ایک مفرور مجرم ہے اور اب اشتہاری بھی ہوچکا ہے۔ نواز جیسے کردار سے عاری مجرم کو جس نے اپنے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور اپنا گھر بھرا، جس کے بیٹے بھی اشتہاری مجرم ہیں اور ملک سے مفرور ہیں اسے امام خمینی سے مشابہت دینا نہ صرف اخلاقی طور پر معیوب ہے بلکہ ایرانی اگر اسے اپنی توہین سمجھیں تو بیجا نہ ہوگا کہ نواز کے بھانڈوں کی جسارت ملاحظہ ہو کہ وہ ایک چور اور لٹیرے کو ایرانی انقلاب کے بانی اور روح رواں سے ملارہے ہیں!
ایرانی اگر ہم سے یہ کہیں تو ہمیں کوئی شکوہ کرنے کی گنجائش نہیں ہوگی کہ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگوا تیلی ! چہ نسبتِ خاک را بہ عالمِ پاک !
لیکن اس موضوع پر عمران کو یہ یاد دلانا غیر ضروری نہیں ہوگا کہ وہ حضرت، نسیم فروغ نام کے، جو عمران کی کابینہ میں وزیرِ قانون ہیں انہوں نے بھی جنوبی افریقہ کے تاریخ ساز اور بین الاقوامی شہرت و ساکھ کے حامل رہنما نیلسن منڈیلا کی شان میں بڑی گستاخی کی تھی اپنے اتھلے قائد ڈون الطاف کو پاکستان کا نیلسن منڈیلا کہہ کر۔ !
نواز اور ایم کیو ایم کے ڈون الطاف دونوں میں اس اعتبار سے بڑی مماثلت ہے کہ دونوں بھارت کے پاکستان دشمن ایجنڈا کو دیدہ و دانستہ پروان چڑھانے کے مجرم ہیں۔ الطاف تو اب سے بہت عرصہ پہلے اپنی پاکستان دشمنی اور بھارت نوازی میں ننگا ہوکر پاکستانی قوم کے سامنے آچکا تھا اور اس بھانڈ کی یہی ذلالت نہ صرف ایم کیو ایم کو لے ڈوبی بلکہ پاکستان میں مہاجر نام کو اس کلبِ بھارت نے مطعون کردیا۔ لیکن الطاف کے زہر نواز کی شر انگیزی کے مقابلے میں بہت معمولی ہے اسلئے کہ اول تو الطاف بھائی کبھی صاحبِ منصب و اقتدار نہیں ہوئے دوسرے ان کے ماننے والے کراچی، حیدرآباد سندھ اور ایک دو اور شہروں سے آگے نہیں بڑھے۔ ایم کیو ایم ایک لسانی تحریک تھی اور اسی لئے اسے پاکستان میں ہمہ گیریت حاصل نہیں ہوسکی۔
لیکن نواز تو وہ ملت فروش ہے جو تین بار، پاکستان کی انتہائی بدنصیبی سے ملک کا وزیرِ اعظم رہا اور جس کی جڑیں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں ہونے کے سبب سے اس کے ماننے والے الطاف کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رہے ہیں اور شاید آج بھی ہیں! یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اپنی لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کی مہم میں نواز مارِ آستین بن گیا ہے اور کھلم کھلا ملت فروشی پر اتر آیا ہے۔ یہ خطرناک کھیل ہے اور اس میں ملک میں جمہوریت کی بقا کا سوال دن بہ دن اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ ملک کے سب لٹیرے ایک پلیٹ فار م پر جمع ہونے کی کوشش کررہے ہیں جس کا ہدف محض یہ ہے کہ حکومت اور اس کے ساتھ فوج کو بلیک میل کیا جائے تاکہ یہ دونوں گھبراکے ان چوروں کے ساتھ کوئی ڈیل کرنے پر مجبور ہوجائیں !
جمہوریت کی بقا اور سلامتی کا نعرہ ان چوروں کی طرف سے زیادہ لگایا جارہا ہے کیونکہ اس کے سوا ان کے پاس اور کوئی لبادہ نہیں ہے اپنی عریانیت چھپانے کیلئے۔ جاگیردارانہ معاشرہ میں طاغوتی طاقتوں کو مذہب کی تجارت کرنے والے اٹھائی گیرے ہمراہی بہ آسانی مل جاتے ہیں سو یہاں بھی یہی ہورہا ہے کہ نواز اور زرداری کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا مفسد اور منافق، مولانا ڈیزل، شامل ہوگیا ہے کیونکہ اب اس کی لوٹ مار اور ارتکازِ مال کے خلاف تحقیقات کا گھیرا بھی تنگ ہورہا ہے۔ یہ ڈیزل ویسے بھی عمران کا جانی دشمن ہے کیونکہ عمران نے اسے کبھی منہ نہیں لگایا اور نواز اور زرداری جیسے گھاگ اس کا منہ بند کرنے کا نسخہ جانتے ہیں۔ سوجہاں ایک طرف یہ فسطائی اور طاغوتی قوتیں مل کر حکومت اور فوج کو ہراساں کرنے کیلئے ہاتھ پیر مار رہی ہیں وہاں دوسری طرف یہ عمران اور فوج کیلئے بھی لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ کس حد تک ان مفسدوں کو ڈھیل دیتی ہیں۔ جمہوریت میں کیا کسی بھی نظام میں آزادی کی حدود کا تعین کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ شر پسندوں کو ایک حد سے زیادہ ڈھیل دینا ملک کی سالمیت اور سلامتی کیلئے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ حکومت اور فوج کیلئے وہ وقت دور نہیں ہے جب ان دونوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان شیطانوں کی دراز رسی کو کھینچنے کا وقت آگیا ہے۔ مصلحت ایک حد سے آگے بڑھے تو کمزوری بن جاتی ہے اور موجودہ حالات میں پاکستان اس کمزوری کا متحمل نہیں ہوسکتا۔!

Leave A Reply

Your email address will not be published.