0

حی یا علی خیر العمل!

ایوب خان کا دور معاشی اعتبار سے خاصا معتبر تھا، اس دور میں صنعت پھول پھل رہی تھی لوگوں کا رجحان نئے نظریات کی جانب ہو رہا تھا، مغرب بھی پاکستان کی جانب متوجہ تھا عالمی منظر نامے میں اب پاکستان نظر آنے لگا تھا، محمد شعیب بہت باکمال وزیر خزانہ تھے، ہنر مندی سے دو پانچ سالہ منصوبے کا میابی سے ہم کنار کئے اور ایسا لگا کہ پاکستان خطے کی ایک مضبوط معاشی طاقت بن جائیگی، ایوب خان ذہین شخص نہ تھے مگر ان کے ساتھ کچھ روشن خیال لوگ تھے اور بہت مستعد بیورو کریسی، احکامات بہت تیزی سے بجا لائے جاتے اور کوئی منصوبہ سرخ فیتے کا شکار نہ ہوتا، کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لئے یہ صورتِ حال بہت خوش کن ہوتی ہے اور مستقبل روشن نظر آنے لگتا ہے، بہت دیانت داری سے اگر تجزیہ کیا جائے تو نو آبادیاتی نظام کے ٹوٹنے کے بعد آزادی حاصل کرنے والے ممالک کی سب سے بڑی ضرورت صنعت کاری ہی ہوتی ہے جس کی جانب برٹرینڈ رسل نے بھی اشارہ کیا تھا، رسل کو اندازہ تھا کہ ہند ایک بڑی آبادی والا ملک ہے یہ اگر میکانیت کی جانب متوجہ ہوا تو بہت جلد ایک بڑی طاقت بن جائیگا،اور شائد اسی خوف سے ہند کی تقسیم عمل میں لائی گئی، ہندو اور مسلمان جو ہزار سال سے ایک ساتھ رہ رہے تھے الگ الگ قومیں بن گئے تقسیم کے لئے تحریک چلی اور بلا آخر ہندوستان بھارت اور پاکستان کی شکل اختیار کر گیا، کچھ اہتمام پس پردہ ہوتے ہیں جو نظر نہیں آتے دنیا نے سیاست برطانیہ سے ہی سیکھی ہے، گاندھی جناح اور نہرو کی شان میں چاہے کتنے ہی قصیدے پڑھ لیجیے مگر یہ سب کردار برطانیہ کے سیاست دانوں کے مقابلے میں بونے ہی تھے تقسیم ہند کے بارے میں ایک دلچسپ تبصرہ یہ بھی ہے تحریک پاکستان کو بہت اچھے خطیب میسر آ گئے جو کانگریس کو میسر نہ تھے، انہوں نے اپنی خطابت کے ایسے جوہر دکھائے کہ دنیا دنگ رہ گئی ، ایوب خان سے بہت سے اختلافات کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس نے قوم کی ضرورت کو بھانپ لیا تھا، ایوب خان رہتے نہ رہتے مگر صنعت کاری کا یہ تسلسل جاری رہنا چاہیے تھا ایوب کے مارشل لاء پر ہزار سوال کھڑے کر دیجیےمگر یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ مار شل لاء سے قبل ملک میں کیا ہو رہا تھا، دنوں اور مہینوں میں پاکستان کے وزیر اعظم بدل جاتے تھے کیا اسی سیاسی طرز کو باقی رہنا چاہیے تھا، ایوب خان کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی آمریت کو جمہوریت کی شکل دے دیں سو انہوں نے کنونشن مسلم لیگ بنا لی اور کچھ غیر معروف شخصیات نے اس جماعت میں شمولیت اختیار کر لی، مگر اصل خطرہ اس بنیادی جمہوریت کے نظام سے تھا جو ٹوٹی پھوٹی قیادت پیدا کر رہی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ بنیادی جمہوریت نے جڑیں پکڑ لیں تو ملک کو نئی قیادت ملنا شروع ہو جائیگی، بہت سے خوف اور ڈر میں مبتلا پرانے سیاست دان جمہوریت کا راگ الاپنے لگے تھے مگر کوئی بھی عوام کو جمہوریت کا اصل مفہوم بتانے سے قاصر تھا اور اب جبکہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے جمہوریت کہیں پیچھے رہ گئی ہے اور ملائیت نے اپنے پہلے پہلے دانت قوم کی رگوں میں گاڑ دیئے ہیں، جمہوریت کے لئے پہلے محترمہ فاطمہ جناح کا استعمال ہوا پھر قومی محاذ بنا اور قیادت کا گھنٹہ پیر پگارا کے گلے میں باندھ دیا گیا مجھے یاد ہے کہ 1967/68 میں کونسل مسلم لیگ نے کراچی کی ایک طلبہ تنظیم MUSLIM STUDENTS FEDERATION سے رابطہ قائم کیا خاصی INVESTMENT ہوئی، مسلم اسٹوڈینس فیدریشن کے روح رواں شہنشاہ حسین ہوا کرتے تھے جن کے ہاتھ پر ایک خون کا الزام تھا، شہنشاہ حسین نے ایک جلسے کا اہتمام کیا جس کی صدارت دولتانہ نے کی، اس نشست میں جو بہت خوف کے عالم میں ہوئی تھے اور سنا گیا کہ اس کارنر میٹنگ کی خبر خفیہ اداروں کو ہو چکی ہے اور اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد آگئے تو دولتانہ گرفتار ہو جائینگے دولتانہ چھپ چھپاتے جلسے میں پہنچے انہوں نے بہت کم وقت گزارا مگر اپنی تقریر میں ایک بات کہہ گئے کہ اگر بنیادی جمہوریت کا نظام جڑ پکڑ گیا تو ملک کا زمیندار اور زرعی نظام تباہ ہو جائیگا ، کیا دولتانہ نے بھانپ لیا تھا کہ صنعت کاری زمیندار کو کھا جائیگی اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا صنعت کاری کے بارے میں ایک مدلل بات کی گئی کہ صنعتیں روزگار پیدا کرتی ہیں، زراعت روزگار نہیں دیتی، اس پورے پس منظر کے بعد غور کیجئے کہ بھٹو نے سوشل ازم کے نام پر پاکستان کی صنعتوں کو برباد کیا اور تمام صنعتی گروپ پاکستان سے چلے گئے اور پھر پیپلز پارٹی وڈیروں کی جماعت ہی ہو گئی بینظیر ہوں یا زرداری ان کی پہچان ایک وڈیرے کی ہی ہے بلاول آکسفورڈ کی ڈگری لے کر آئے مگر ان کا لباس، چال ڈھال اور ان کی زبان ایک وڈیرے کی ہی ہے یہ عجیب بات ہے کہ امارات کا شہزادہ آکسفورڈ پڑھنے جاتا ہے تو صحرا کو شہروں میں بدلنے کا منصوبہ اور عزم لے کر آتا ہے بلاول بھی اسی یونیورسٹی سے ڈگری لیتا ہے امید تھی کہ وہ روشن خیالی لے کر آئیگا وہ پاکستان آیا تو پکا وڈیرہ نظر آیا، پاکستان میں ملائیت نے پنجے گاڑ لئے ہیں اور ان کی طاقت کلاشنکوف میں ہے، پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت ان ملاؤں کی حمائیت کے بغیر اقتدار میں نہیں آسکتی، ساری سیاسی جماعتوں کو ان دہشت گردوں کے ووٹ چاہیئے اور ان کی طاقت بھی، پختوں خواہ میں ہر چند کہ پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمن کے ووٹ کھا لئے اور مولانا کو بدترین شکست ہوئی مگر سیاست کی نگری کے لیل و نہار ہی عجب ہیں اب پی ٹی آئی کو مولانا کے مدارس کے طلباء چاہیے تحریک چلانے کے لئے ،اور مولانا کو پی ٹی آئی کا بیانیہ استعمال کرنا ہے، نتیجہ یہی نکالا جا سکتا ہے کہ سیاسی جماعتیں ہوں یا دینی جماعتیں سب کی سب روشن خیالی کا راستہ روکے کھڑی ہیں ،اور یہ روشن خیالی اور کچھ بھی نہیں سوائے انسانی فلاح کے انسانی فلاح جس کی ضمانت سائنس اور ٹیکنالوجی دیتے ہیں سائنسی نظریات ان کو مادی فلاح کا ادراک دیتے ہیں، صنعت کی اپنی تہذیب ہوتی ہے صنعت کو تعلیم یافتہ SKILLED LABOR درکار ہوتی ہے اس کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم چاہیے ایسی تعلیم کے لئے تعلیمی ادارے چاہیے صنعت کو جہاں SKILLED LABOR چاہیے وہاں ایسا مزدور چاہیے جو DISCIPLINED ہو ایسا معاشرہ ایسی تہذیب ملائیت کی جڑیں کھوکھلی کر دیتی ہے ایسی تہذیب اور ایسے معاشرے سے ملائیت کو خوف آتا ہے اس معاشرے میں مادی وسائل کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ترقی اہم ہو جاتی ہے، پاکستان میں جو بھی سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئینگی وہ اپنے اقتدار کے لئے ملاؤں کی محتاج ہونگی لہٰذا فی الحال تو پاکستان میں ایسے معاشرے کا قیام ممکن نظر نہیں آتا تو سوال یہ ہے کہ ملک کیسے چلے گا، عام فرد یہ سمجھتا ہے کہ آئی ایم ایف پیسے دے گا اور روٹی ملے گی، عام فرد شائد یہ نہیں جانتا کہ آئی ایم ایف جو پیسہ دیتا ہے وہ قرض ہوتا ہے اور یہ قرض لوٹانا بھی ہوتا ہے، ملک میں کار خانے ہونگے تو وہ مال بنے گا جس کو باہر کی منڈیوں میں بیچ کر زر مبادلہ کمایا جائے گا ایسا تب ہی ہوگا جب کار خانے لگیں گے مسجدیں اور مزار بننے سے زر مبادلہ نہیں کمایا جا سکتا مدرسہ سے جو قرآن حفظ کر کے نکلتا ہے اس کو بیرون ملک کیا ملک میں بھی نوکری نہیں ملے گی، اب حال یہ ہے کہ فوج کی تنخواہیں بھی قرض لے کر ادا کی جاتی ہیں، اور تو اور قرض کی قسط بھی قرض لے کر ادا کی جاتی ہے، جمہوریت، آئین، قانون، پارلیمنٹ، کچھ بھی قوم کے کام نہیں آرہا، سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی راستہ نہیں، فوج ان مسلح گروپس کو ختم کرنے کے لئے نہیں جو اس نے حکومتوں کو بلیک میل کرنے کے لئے بنائے تھے تو اس کا مطلب ہے کہ ملک کو قرضوں کے عذاب سے بچانے کا کئی فارمولہ نہیں، اور یہ بات طے ہے کہ جب تک ملائیت کا غلبہ ہے اس وقت تک مادی ترقی نہیں ہو سکتی جو وقت کی اہم ضرورت ہے ایسا لگتا ہے کہ اسلام کے نام پر ملک کی تباہی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جاہل عوام کو قرآن دکھاتے رہتے ہیں اور اشتعال دلاتے رہتے ہیں، یا اقبال کے شعر سنا کر گمراہ کرتے رہتے ہیں کوئی OUT OF THE BOX SOLUTION چاہیئے کمیونزم جیسا کوئی نسخہ چاہے عالمی طاقتیں کتنی پاپندیاں ہی کیوں نہ لگائیں، ایک مشکل وقت سے نکلنے کے لئے مغرب پر انحصار ختم کرنا ہوگا، بنگلہ دیش نے بھی چند سال کے لئے آئین اور اسلام طاق میں رکھ دیا تھا تب کہیں جا کر ملک پٹری پر آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں