0

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی آئی ایس آئی کے خلاف کارروائی !

جب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے جرأت سے کام لیتے ہوئے فوج اور آئی ایس آئی کی مداخلت کے خلاف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا تب سے عدلیہ نے اپنا رخ بدل لیاہے۔ چیف جسٹس قاضی عیسیٰ نے پہلے تو اسے ٹالنے کی کوشش کی ایک کمیشن بنانے کی کوشش کی لیکن ان جج صاحب کے انکار کے بعد ان کو سوموٹو ایکشن لینا پڑا اور معاملات پلٹنے جارہے ہیں ساری عدلیہ ایک طرح سے فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف کھڑی ہو گئی ہے ہر طرف سے فوج کی مرضی کے خلاف فیصلے آرہے ہیں عدلیہ کے ججوں نے اپنے قلم کے خلاف دبائو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ابھی تک معاملہ ہائی کورٹ کے ججوں تک تھا جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج تھے اور وہ اپنے فیصلوں میں آزادی سے انتظامیہ اور فوج کے خلاف ریمارکس دے رہے تھے اب بڑھتے بڑھتے بات نچلی سطح پر ججوں تک چلی گئی ہے۔ سرگودھا کے ATC کے جج مسٹر محمد عباس نے ایک بڑا ایکشن آئی ایس آئی کے افسروں یا انتظامیہ کے خلاف لیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد صاحب کو ایک خط لکھا جس میں بتایا گیا کہ کس طرح آئی ایس آئی کے لوگ ان کو تنگ کررہے ہیں اور دبائو ڈال رہے ہیں ان کے گھر کی جہاں ان کی فیملی رہی تھی اس کی گیس کاٹ دی گئی ہے۔ واپڈا سے مل کر بجلی کا بل لاکھوں کا بنوا کر بھیج دیا ہے اتنی بجلی ان کی فیملی استعمال کرتی ہے نہ کبھی اتنا بل آج تک آیا دبائو ڈالنے کے لئے آئی ایس آئی کے لوگ اس قدر گر گئے ہیں کہ وہ ججوں کے دماغ ٹھیک کرنے لگے ہیںان پر دبائو ڈالنے لگے ہیں۔ قانون اور انصاف کا دور ختم ہو گیا ہے اب ڈنڈے اور بدمعاشی کا دور آگیا ہے۔ آئی ایس آئی کے فوجی افسر اب بدمعاش بن گئے ہیں وہ لوگوں کی گیس بند کرنے لگ گئے ہیں وہ ججوں کے گھر جعلی بجلی کے بل بھیجنے لگ گئے ہیں۔ یہ ہے ملک میں ان ڈیکلیرڈ مارشل لاء ملک کے کئی وکلاء کھلے عام اب اس طرح کے ظلم کے خلاف مارشل لا کو یاد کررہے ہیں ملک کاچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جس بزدلوں کی طرح برٹش ایمبیسی کی ایک ایمبیسیڈر کی تقریر کی لکھ کر وضاحتیں پیش کررہا ہے وہ باعث شرم ہے اس بزدل انسان کو بحیثیت چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اس طرح کی صفائی لکھ کر نہیں دینی چاہیے تھی اس طرح ملک کی کتنی بدنامی ہوئی ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد صاحب نے اس خط پر سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے پنجاب کے آئی جی کو طلب کیا سرگودھا کے پولیس افسروں کو طلب کیا۔ آئی ایس آئی کے لوگوں کو طلب کیا ، وہ فوج اور انتظامیہ کی آنکھ کھول دینے کے لئے تھا۔ آج بھی کارروائی ہوئی پنجاب کے آئی جی نے معاملے کو ٹالنے کی کوشش کی جب چیف جسٹس نے ان سے پوچھا کہ ان بندوں کو تلاش کیا گیا جو لوگ جج اے ٹی سی محمد عباس صاحب کے گھر والوں کو تنگ کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو آئی جی پنجاب نے جیو فینسنگ کا بہانہ کیا کہ اس جیو فینسنگ میں ٹائم لگے گا اس کے بعد ہی بندوں کا پتہ چل سکے گا درحقیقت فوج اور آئی ایس آئی پریشان ہیں کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ عدلیہ کے ججوں کے ذہن سے فوج اور آئی ایس آئی کا خوف اور ڈر ختم ہوتا جارہا ہے۔ عوام تو ان چار کے ٹولے سے نفرت کرتے ہی تھے اب ان میں جج اور وکیل بھی شامل ہو گئے ہیں۔ ہر آدمی اب کھل کر بولنے لگا ہے۔ فوج اور آئی ایس آئی کے ٹائوٹ جرنلسٹوں اور فیصل واوڈا جیسے لوگوں کی بولتی بند ہوتی جارہی ہے دوسری طرف کے پی کے کے وزیراعلیٰ نے فوج اور مرکز کی حکومت کے خلاف تقریریں کر کر کے ان کو پنجوں پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان چارکے ٹولوں کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کیا کریں کس طرح اپنا اقتدار قائم رکھیں، دراصل اس وقت ملک میں حکومت فوج کی ہی ہے اس میں تین آدمی سرفہرست ہیں آرمی چیف عاصم منیر اس کے نام کے ساتھ حافظ لکھتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے۔ حافظ ہو کر بھی ظلم کے اس کے یہ کارنامے ہیں پتہ نہیں اللہ کے گھر وہ کس طرح اپنے ظلم کا حساب دے گا۔ دوسرا آئی ایس آئی کا چیف ندیم انجم تیسرا ڈرٹی ہیری جنرل فیصل نصیر ہے۔ ان کے ساتھ چیف جسٹس پریم کورٹ قاضی عیسیٰ ملا ہوا ہے۔ اس وقت ملک میں ان چار آدمیوں کی حکومت ہے چیف جسٹس نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان لیکر یہ سمجھا تھا کہ پی ٹی آئی ختم ہو جائے گی ایسا نہیں ہوا۔ اب انصاف پسند ججوں کے خلاف یہ چاروں مل کر کارروائی کررہے ہیں دیکھیں اس کاانجام کیا ہوتا ہے فوج کی طاقت سے اللہ کی طاقت بہت بڑی ہے۔ جب اللہ انصاف کرنے پر آتا ہے تو فرعون جیسے لوگ بھی نشان عبرت بن جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں