0

یہ اسلامی مملکت ہے؟

میرا سر شرم سے جھک گیا جب میں نے وہ ویڈیو دیکھا جس میں ایک بھارتی مبصر پاکستان کے نامور صحافی، عمران ریاض، کو احرام کی حالت میں لاہور ائیر پورٹ پر حج کیلئے آخری پرواز پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دی گئی!
بھارتی مبصر نے اپنے چند جملوں میں اس دریدہ فسطائیت کو پوری طرح سے بے نقاب کردیا جو یزید عاصم منیر اور اس کے نشہء طاقت سے مغلوب ٹولہ نے پاکستان پر مسلط کیا ہوا ہے۔
بھارتی صحافی نے کہا کہ ہم تو غیر مسلم ہیں لیکن پاکستان تو اسلامی جمہوریہ ہے جس کا نظام کہنے کو اسلامی اقدار کے مطابق ہے تو پھر عمران ریاض کو کیوں اسلامی عقائد کا ایک بنیادی فریضہ ادا کرنے سے روک لیا گیا؟ کیا یہی وہ اسلامی نظام ہے جس کا ڈھنڈورا پاکستان میں رات دن پیٹا جاتا ہے!
ہمیں یقین ہے کہ ہماری طرح ہر اس ذی شعور پاکستانی نے جس نے بھارتی مبصر کو یوں ہمارے ملک کا نام لیکر طعنہ دیتے ہوئے سنا ہے اس کا بھی سر ہماری طرح شرم سے جھک گیا ہوگا، وہ بھی ہماری طرح دل میں خون کے آنسو رو رہا ہوگا۔
کس حال کو پہنچادیا ہے اس فسطائی، شر پسند ٹولہ نے پاکستان کو! کس قعرِ مذلت میں ملک گر چکا ہے ان غنڈہ گرد جرنیلوں کے ہاتھوں جو پاکستان کو اپنے باپ دادا کی جاگیر سمجھ کر اس کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں اور ان کی خر مستیاں پاکستان کو دنیا بھر میں ذلیل اور رسوا کرنے کا باعث بن گئی ہیں!
عمران ریاض اپنی بیباکی اور حق کی حمایت میں اپنی آواز اٹھانے کی بدولت ان دشمنانِ پاکستان کی نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ ایک عرصہ سے یہ دہشت گرد ٹولہ اور اس کے چور سیاسی گماشتے عمران ریاض کی آواز دبانے کیلئے اپنے ہر قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرچکے ہیں لیکن اس کی آواز کو دبا نہیں سکے۔ قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے باوجود حق کے اس داعی کا حوصلہ بلند ہے اور وہ ان ملک دشمنوں کے سامنے جھکنے یا ان کے ساتھ سودا کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہے۔
حج پر جانے کی سعادت حاصل کرنا ہر ایماندار مسلمان کا وہ خواب ہے جسے وہ جب بھی ممکن ہو تعبیر سے آراستہ کرنا چاہتا ہے۔ قرآنِ پاک جہاں حج کی فضیلت حاصل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے وہیں ، جگہ جگہ، دشمنانِ دین اور کافروں کو یہ تنبیہ بھی کر رہا ہے کہ بیت اللہ کی طرف رخ کرنے والے مسلمان کو روکنا بدترین اقدامِ کفر ہے جس کا انجام اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ مسجد الحرام جانے سے روکنے والا جہنمی ہے اور ہمیشہ جہنم کے شعلوں کی نذر کیا جائے گا۔
وردی والے طاغوتی ٹولہ کا خود ساختہ سربراہ، عاصم منیر تو بزعمِ خود حافظِ قرآن ہے تو اسے یہ تو پتہ ہوگا کہ قرآن میں کتنے سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے ان مشرکوں اور کافروں کی جو مسلمانوں کو بیت اللہ جانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں! یا پھر عاصم منیر نے طوطے کی طرح قرآن رٹ تو لیا ہے لیکن اس کی جہالت نے اس کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے کہ وہ ان بیشمار آیاتِ قرآنی کا مفہوم نہیں جانتا جو بیت اللہ کی راہ مسدود کرنے والوں کو جہنمی قرار دے رہی ہیں؟
نہیں۔ اصل لعنت عاصم منیر اور اس کے حواریوں اور گماشتوں پر یہ ہے کہ فسطائیت کے نشہ نے ان سب کو اس غلط فہمی کا شکار کردیا ہے کہ پاکستان ان کے باپ دادا کی جاگیر ہے جس کے ساتھ یہ کوئی بھی سلوک روا رکھنے کے مختار ہیں اور کسی کی مجال نہیں کہ انہیں پکڑ سکے، ٹوک سکے یا روک سکے!
یہ وہ زعم ہے، نہیں بلکہ یہ وہ خناس ہے، جو ہر یزید، ہر فرعون کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتا ہے۔ پھر انہیں اپنے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنے آپ کو خدائی کے درجہ پر فائز کردیتا ہے اور اس خبط میں مبتلاء ہوجاتا ہے کہ زمین بھی اس کی ہے اور زمین کے باسی بھی سب اس کے غلام ہیں جن پر فرض ہے کہ اس کے ہر حکم کو بلا چون و چرا بجا لائیں۔
اس زعم نے، خدائی کے وہم میں مبتلا ہوجانے والوں کے انجامِ عبرت سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں لیکن اس لاعلاج مرض کی ایک اور لعنت قدرت کی طرف سے یہ ہے کہ ہر یزید، ہر فرعون، یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جو اس سے پہلے آنے والے یزید یا فرعون کا انجام ہوا وہ اس کا نہیں ہوگا۔ اور یہی خوش فہمی ہر یزید، ہر فرعون کو لے ڈوبتی ہے کیونکہ قدرت کی طرح تاریخ بھی کبریائی کا دعوی کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کرتی اور اس کو یونہی دریا برد کردیتی ہے جیسے موسیٰ کے فرعون کو کیا تھا!
پاکستان اسلام کے نام پر ہی حاصل نہیں کیا گیا تھا بلکہ پاکستان بنانے والے کا خواب تو یہ تھا کہ اس آزاد مملکت کا نظام ان اسلامی اقدار کی بنیاد پر استوار کیا جائے گا جن کا لب لباب انسانیت کے احترام اور انسان کے بنیادی حقوق کی پاسداری پر مبنی ہوگا!
قدرت نے بابائے قوم کو اپنے خواب کو تعبیر میں بدلنے کا موقع نہیں دیا لیکن ان کے بعد بھی پاکستان کے آئین کی اساس اسلام کے انہیں آفاقی اصولوں اور اقدار پر رکھی گئی۔ ملک کا آئین یہ کہتا ہے کہ اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے اور ہر قانون قرآن اور سنت کی روشنی سے مزین ہوگا۔ لیکن طالع آزماؤں نے جس بیدردی سے آئین کی دھجیاں اڑائی ہیں اور ملک کے قانون کو بار بار اپنے بوٹوں تلے روندا ہے وہ ہماری تاریخ ہے، دردناک تاریخ۔
لیکن آج تک کسی فوجی آمر، کسی طالع آزما نے یہ جسارت نہیں کی تھی کہ کسی پاکستانی کو اس حالت میں کہ وہ احرام پہنے ہوئے ہو حج کا فریضہ ادا کرنے سے روک لے!
عاصم منیر اور وردی پوش وہ غنڈہ عناصر جو جی ایچ کیو پر قابض ہیں اور افواجِ پاکستان کی ذلت اور رسوائی کا سبب ہیں، جو فوجی قیادت کے نام پر جسِ قوم کا رستا ہوا ناسور بن چکے ہیں آئینِ پاکستان اور ملک کی اعلی عدالتوں کے فیصلوں کی پامالی کے ساتھ ساتھ اسلامی شعائر اور اقدار کی بھی توہین کر رہے ہیں اور کھلم کھلا ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
حیرت تو یہ ہے کہ اسلامی اقدار کی اس بیدردی سے توہین ہو، پامالی ہو لیکن اسلام کے ملکی ٹھیکیداروں کی طرف سے نام کو بھی احتجاج نہیں کیا گیا۔ احتجاج تو کجا، کسی عالمِ دین، کسی مفتی نے چوں تک نہیں کی۔ دنیا کی منفعت، لالچ اور ہوس نے دین کے ٹھیکیداروں کے منہ بھی ایسے سیئے ہیں کہ اُن سے اف تک نہیں نکل رہی۔
ٹھیک ہی تو کہتا تھا بھارتی مبصر۔ یہ کام اگر بھارت میں ہوا ہوتا، یا کسی یورپی ملک یا امریکہ نے ایسی جسارت کی ہوتی تو پھر دیکھتے کہ علمائے سو کی لمبی لمبی زبانیں کس طرح شعلے اگلتی دکھائی دیتیں لیکن اپنے حلوے مانڈے کی اتنی فکر ہے کہ یزیدِ وقت کھلم کھلا دینی شعائر کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا ہے لیکن مجال ہے کہ کوئی مولوی بول جائے۔ یہ ہے کردار دین کی تجارت یا سیاست کرنے والوں کا !
آج حج پر جانے سے روکا ہے کل مسجد میں جانا بھی ممنوع قرار پاسکتا ہے۔ یزیدِ وقت کے حوصلوں کو ہوا دینے والی بات ہے ناں کہ اس کے اس اقدام کی مذمت نہ کی جائے۔ اس بزدلی، اس خاموشی، اس سناٹے سے تو اس کا حوصلہ اور بڑھے گا!
پاکستان پاکستان رہا ہی کہاں ہے!
پاکستان بنانے والا ایک قانون داں تھا جس کیلئے قانون اور اس کا احترام ناگزیر حقیقت تھی۔ بابائے قوم آج کتنے رنجیدہ ہونگے کہ ان کا پاکستان فوجستان بن چکا ہے جس پر ایک فسطائی ٹولہ قابض ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار، کوئی حصہ نہیں تھا۔ پاکستان جب بن رہا تھا تو یہ فرنگی کے غلام تھے اور آج یہ مغربی استعمار کے ایجنٹ ہیں۔ ملت فروش ہیں یہ جو اپنے ملک کی خود مختاری کا سودا کرچکے ہیں!
مغربی استعمار کی غلامی کا منہ بولتا ثبوت تو وہ بجٹ ہے جسے ابھی چند دن پہلے یہ کہہ کے قوم کے سامنے پیش کیا گیا کہ اس میں غریب عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا لیکن جب تفصیل سامنے آئی تو غریب کا تو ذکر ہی کیا اس سفید پوش، متوسط طبقہ کو بھی غربت کی لکیر کے نیچے دھکیلنے کی یہ بجٹ وارننگ دے رہا ہے جس کیلئے اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا ایک ایسا پہاڑ بنتا جارہا ہے جسے سر کرنا اب اس کے بس سے باہر ہوگیا ہے۔
وزیر خزانہ اورنگزیب کو یہ کہہ کے لایا گیا تھا کہ وہ مالیاتی مسائل کو حل کرنے کے ماہر ہیں لیکن جو بجٹ انہوں نے قوم پر ٹھونسا ہے اس سے تو کہیں ان کی مہارت یا دور اندیشی کا کوئی شائبہ نہیں جھلکتا۔ وہ بھی وزارت خزانہ کے بابوؤں کی طرح مکھی پہ مکھی بٹھانے والے نکلے۔
بجٹ میں بظاہر تو تنخواہ دار طبقہ کے مشاہروں میں اضافہ کیا گیا ہے لیکن انکم ٹیکس کی جو قلابازیاں نئے بجٹ میں اس طبقہ سے لگوائی جائینگی وہ متوسط، تنخواہ دار طبقہ کی کمر توڑدینے کیلئے بہت ہیں۔
اورنگزیب نے متوسط طبقہ کے ساتھ بہت بھونڈا مذاق کیا ہے بلکہ جعلسازی کی ہے۔ ایک طرف تنخواہیں بڑھائیں تو دوسری طرف انکم ٹیکس کے نام پر اس سے زیادہ رقم جیبوں سے نکلوائی جائیگی۔ یعنی ایک ہاتھ سے دیا جائے گا لیکن دوسرے ہاتھ سے واپس لے لیا جائے گا۔
صاف ظاہر ہے کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کو خوش کرنے اور اس کی تسلی کیلئے، اسی کی رضا سے بنایا گیا ہے۔ اورنگزیب اور اس کی ٹیم آئی ایم ایف کے سہولت کار اور کارندے ہیں اور کچھ نہیں۔
یہ سب کچھ اس زعم میں، اس نشہء طاقت کی بدمستی میں ہورہا ہے کہ یزیدی ٹولہ اپنے آپ کو پاکستانیوں کا خدا اور مالک و مختار سمجھتا ہے۔ بندہء بے دام ہیں ، نہیں، غلام ہیں پاکستانی عوام اس طاغوتی ٹولہ کیلئے جو اپنا حق سمجھتا ہے پاکستانیوں کے سینے پر مونگ دلنا لیکن استعمار کے سامنے جھک جانا بھی اس کا ایمان ہے۔ آخر کو مغربی استعمار ستر برس سے انہیں عسکری کٹھ پتلیوں کے واسطے سے تو پاکستان کو اپنا غلام بنائے ہوئے ہے!
چور وزیر اعظم شہباز، جو اصل میں چڑی باز ہے، اپنے عسکری سرپرستوں کے لہجہ میں بولنے کی نقل کر رہا ہے لیکن عقل سے پیدل ہے۔ بات کرنے سے پہلے سوچنا اس احمق کو آتا ہی نہیں۔ اپنے تازہ ترین بیان میں اس نے آئی ایم ایف سے جو نیا قرض یہ بھکاری مانگ رہا ہے اس کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ڈینگ ماری کہ اس کا قوم سے وعدہ ہے کہ یہ پاکستانی تاریخ کا آخری پیکج ہوگا!
شیخ چلی بننے والے اس بھکاری نے بھونڈا مذاق تو کیا ہے لیکن بین السطور یہ کہہ گیا ہے کہ فسطائی فوجستان کی اندھیر نگری میں یہ جو چوپٹ راج اس کی سربراہی میں جاری ہے یہ پاکستان کو ڈبونے کیلئے کافی ہے۔ اس کے بعد نہ پاکستان رہے گا نہ آئی ایم ایف کے پاس کشکولِ گدائی یا بھیک کا پیالہ لیکر جانے کی نوبت آئے گی!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں