0

غزہ ‘ دو مختلف جنگیں!

غزہ کی ایک جنگ وہ ہے جو اسرائیل کو نظر آ رہی ہے اور ایک وہ جسے امریکہ دیکھ رہا ہے۔ یہ دونوں اس لیے مختلف ہیں کہ دونوں ممالک کے اہداف‘ اور اغراض و مقاصد ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں۔ امریکہ جلد از جلد جنگ بندی چاہتا ہے تا کہ عالمی رائے عامہ کی تنقید سے نجات حاصل کر لے اور اسرائیل ‘ حماس کو عسکری اور سیاسی اعتبار سے مکمل طور پر ختم کرنے تک جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔ یہ بات بھی ابھی طے نہیں ہے کہ بنجامن نتن یاہو غزہ سے اسرائیلی افواج کی واپسی چاہتا بھی ہے یا نہیں‘ وہ تو غزہ پر قبضہ کرکے نئی یہودی آبادیاں تعمیر کرنا چاہتا ہے۔امریکہ کے علاوہ یورپی ممالک بھی اسرائیل پر غزہ سے واپسی کے لیے دبائو ڈال رہے ہیں۔ نتن یاہو حکومت نہ صرف اس پالیسی کو مسترد کر رہی ہے بلکہ وہ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ اسکے مغربی اتحادی مشرق وسطیٰ کی سیاست کو اس لیے نہیں سمجھتے کہ انکا واسطہ بادشاہوں اور مطلق العنان حکمرانوں سے نہیں پڑا۔ اسرائیل بڑی ڈھٹائی سے غزہ پر مستقل طور پر تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ‘ فرانس‘ جرمنی اور دوسرے مغربی ممالک اپنی حکمت عملی کے مطابق فلسطین کا مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام سے جڑی غزہ کی جنگ کا اختتام کس کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے اسکے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
اسرائیل اور مغربی ممالک‘ غزہ کی جنگ کے حوالے سے کتنی مختلف اور متضاد سوچ رکھتے ہیں اسکا اندازہ دو ہفتے قبل امریکہ کی طرف سے پیش کیے جانے والے امن منصوبے سے لگایا جا سکتا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کا تجویز کردہ ہے ‘ یروشلم کے حکمران کہتے ہیں کہ ایسا ہے تو سہی مگر ہم حماس کے مکمل خاتمے کے بغیر جنگ بندی کے کسی معاہدے کو قبول نہیں کر سکتے۔ سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ حماس کی عسکری طاقت نو مہینے کی جنگ میں ختم کر دی گئی ہے اب وہ غزہ پر حکمرانی نہیں کر سکتی‘ اسکے جواب میں نتن یاہو حکومت کہتی ہے کہ حماس ابھی تک رفاح میں مزاحمت کر رہی ہے‘ اسرائیل پر راکٹ برسا رہی ہے اور غزہ کے شمالی علاقے میں وہ پھر سے فعال ہو چکی ہے اس لیے جنگ بندی نہیں ہو سکتی۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ کیا بائیڈن انتظامیہ غزہ کے زمینی حقائق سے بے خبر ہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ چند روز پہلے نصیرات کی اپارٹمنٹ بلڈنگ سے جن چار یرغمالیوں کو اسرائیلی کمانڈوز نے حماس کے تسلط سے آزاد کرایا انکی انٹیلی جنس رپورٹ امریکی خفیہ ایجنسی نے مہیا کی تھی۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ امریکہ غزہ کے حالات سے پوری طرح با خبر ہے۔ یہ اگر درست ہے تو پھر وہ اسرائیل سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیو ں کر رہا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے اندازے کے مطابق حماس میں جو دم خم رہ گیا ہے اسے اسرائیل غزہ سے اپنی فوجوں کی واپسی کے بعد سرجیکل آپریشنز کے ذریعے ختم کر سکتا ہے اس لیے اس جنگ کو مزید طول دینے کی بجائے اب غزہ میں عرب ممالک کے تعاون سے تعمیر نو کا کام شروع کر دینا چاہیئے۔ جب غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا شروع ہو گااور اسکے بعد جب وہاں سڑکیں اور عمارتیں بنتی نظر آئیں گی تو دنیا سکھ کا سانس لے گی اور اسکا سارا فائدہ صدر بائیڈن کو ہو گا جو پانچ نومبر کے صدارتی انتخاب سے پہلے ایک امن پسندعالمی لیڈر کے طور پر سامنے آئیں گے۔ یہ امریکی سفارتکاری کی ایک ایسی کامیابی ہو گی جسے امریکی عوام نہ صرف پسند کریں گے بلکہ وہ صدر بائیڈن کو دوسری مدت صدارت کے لیے منتخب بھی کر لیںگے۔ دوسری طرف بنجا من نتن یاہو صدر بائیڈن کی کامیابی کے اس منظر نامے کو بالکل پسند نہیں کرتے انہیں تو ڈونلڈ ٹڑمپ کے صدر بننے کا انتظار ہے جس نے اپنی صدارت کے دوران دل کھول کر اسرائیل کی مدد کی تھی ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ کی جنگ کو بائیڈن اور نتن یاہو نہ صرف مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کو سیاسی طور پر شکست بھی دینا چاہتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کہہ چکے ہیں کہ وہ صدر بنتے ہی ولادیمیر پیوٹن سے بات کرکے یوکرین جنگ ختم کرا دیں گے۔ یہ منظر نامہ یورپی ممالک کو اس لیے منظور نہیں کہ وہ یورپ میں روس کو ایک مرتبہ پھر ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرتا ہو انہیں دیکھنا چاہتے۔اس لیے برطانیہ اور یورپی یونین بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے خوفزدہ ہے۔ وہ سب غزہ میں جنگ بندی کرا کے صدر بائیڈن کو اسکا کریڈٹ دینا چاہتے ہیں۔
اسرائیل میں امریکی نیوز ایجنسیوں اور تھنک ٹینکس کے کیے ہوے کئی سرویز کے مطابق تقریباّّ تین چوتھائی اسرائیلی فلسطین کے دوریاستی حل پر یقین نہیں رکھتے۔ انکے خیال میں انہیں فلسطینیوں سے کسی سمجھوتے کی اس لیے ضرورت نہیں کہ سعودی عرب‘ اردن اور دیگر عرب ممالک ان سے تعلقات بحال کرنے پر آمادہ ہیں۔ یہ عرب ممالک حماس ‘ حزب اللہ اور ایران کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسرائیل ان تینوںکا قلع قمع کر دے۔ اسکے بر عکس امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ جب تک فلسطینیوں کو ایک آزاد ریاست نہیں ملتی اسوقت تک اسرائیل غیر محفوظ رہیگا اور مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار رہیگا۔ دوسری طرف نتن یاہو کی جنگی کابینہ میں انکے وزیر دفاع Yoav Gallant اور وزیر خزانہBezalel Smotrich کئی مرتبہ جنگ بندی کی مخالفت کرنے کے علاوہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کو اپنے تحفظ کےلیے لبنان میں حزب اللہ سے ایک طویل جنگ لڑنا ہو گی۔ایکطرف امریکہ اسرائیل کو تمام محاذوں پر جنگ بندی کے مشورے دے رہا ہے اوردوسری طرف نتن یاہو کی جنگی کابینہ ہر محاذ پر دشمنوں کو شکست دینا چاہتی ہے۔ اس اعتبار سے غزہ میں اسوقت دو مختلف جنگیں جاری ہیں ایک امریکہ کے اغراض و مقاصد کی اور دوسری اسرائیل کے مفادات کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں