ملا فضل الرحمن اللہ سے ڈریں فتنہ فساد کی قیادت نہ کریں

26

پاکستان کے ہارے ہوئے سیاستدان اور پارٹیاں دو سال سے سخت تکلیف میں ہیں، کہ عمران خان انتخاب جیت گیا اور وفاق اور تین صوبوں میں حکومت بھی بنا لی۔ مخالفین کے سینوں پر چھریاں چل گئیں۔ اس بات سے کم ، کہ عمران کیوں جیتا بلکہ اس بات سے کہ عوام نے کرپشن کے خلاف ووٹ دے دیا۔ اور شاید اس بات پر بھی کہ عمران خان ایک صاف شفاف شخصیت کا مالک ہے اور نہ خود کرپٹ ہے اور نہ کرپشن کو برداشت کرتا ہے۔ اب اس کے خلاف، اور خصوصاًاس کے تعینات کردہ وزیروں، مشیروں اور عہدیداروں کے خلاف کوئی نہ کوئی الزام تراشی کر کے عوام کی نگاہ میں اس کی قیادت پر حملے کرتے رہتے ہیں، جس کا ظاہری مقصد حکومت کو کمزور کرنا ہے۔ یہ ایک باقاعدہ مہم بن چکی ہے۔ اس مہم سازی کے نتیجہ میں عدالتوں کو بھی شریک کیا گیا۔ یہ انہیں سازشوں کا نتیجہ تھا کہ عمران خان کے قریبی مددگار اور دوست جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دیا گیا۔اس کے علاوہ کتنے ہی اور مشیر اور وزیر فارغ ہوئے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بُزدار کے پیچھے تو ہاتھ دھو کر پڑے ہیں۔ اسقدر پراپیگنڈا بُزدار کے خلاف کیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے کچھ کچے کانوں والے وزیر بھی مخالفین کی بات سچ سمجھنے لگ پڑے ہیں۔لیکن جب آپ غور سے بُز دار کی کار کردگی کو دیکھیں تو ماننا پڑے گا کہ پنجاب کے انتہائی کرپٹ ماحول میں جہاں سول سروس اور ہر سطح پر سرکاری ملازم کرپشن کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ان کے لیے اپنی عادات کو بدلنا ایک مشکل ترین چیلنج ہے۔ اس ماحول میں عثمان بُزدار ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا منصوبہ مکمل کر رہا ہے۔ اور سارا کام بغیر ڈھول تاشوں کے اور شو بازی کے جو ان کے سابق ہم منصب کا امتیازی نشان تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ ُبزدار نہیں بلکہ اس کا کورپٹ نہ ہونا ہے جس سے پٹواریوں، تحصیل داروں، ٹھیکیداروں اور دیگر مخالفین کے بڑے منصوبے خاک میں مل رہے ہیں۔
اب چونکہ دونوں بڑی جماعتوں کے اہم کردار کرپشن کے الزامات میں زیر تفتیش ہیں، ان میں کوششیں جاری ہیں کہ ملکر ایک متحد محاذ بنایا جائے۔ یاد رہے کہ پی پی پی اور ن لیگ میں ابھی تین چار سال پہلے اینٹ اور کتے کا بیر تھا۔ بلاول اور اس کا باپ بر سر عام نواز اور شہباز شریف کو للکارتے اور جواباً ادھر سے بھی اسی قسم کی مغلظات سنتے تھے۔ اور اب حکومت کے خلاف متحدہ محاذ بنا کر اسے گرانے کی باتیں کرتے ہیں۔ بظاہر اور سیاسی جماعتیں جیسے جماعت اسلامی، اور نیشنل عوامی پارٹی ، پوری طرح اس متحدہ محاذ میں شامل نہیں ہیں۔صرف شکست خوردہ اور انتہائی مایوس ،مولانا فضل الرحمان جنکی پارٹی جمعیت علمائے اسلام ہے، وہ مذہبی کارڈ کے سہارے اس مہم کے سرخیل بنے ہوئے ہیں۔
اس مہم کو اگر کہیں سے زندگی کی رمق ملی ہے تو وہ ایک غیر متوقع ارب پتی سے ملی ہے جو حکومت سے ناراض ہے کہ اس کی کمپنی پر اربوں کا تاوان سپریم کورٹ نے لگایا۔ ہماری مراد بحریہ ٹائون کے ریاض ملک سے ہے، جس نے میڈیا کے چند فاقہ زدہ اور قابل فروخت صحافیوں کو خرید کر حکومت کے خلاف ہر قسم کا پراپیگنڈا کروانا شروع کر دیا،۔ اس میں اخباروں کے علاوہ ٹی وی کی کئی چینل بھی شامل ہیں اس حرکت سے بھلا اس کو کیا کوئی فوری فائدہ ہو سکتا ہے؟ اس منفی مہم میں کم از کم ایک اور ارب پتی میڈیا مغل میر شکیل الرحمن بھی پوری طرح شامل ہے، جس کے سا تھ عمران خان کی ذاتی پُرخاش بھی ہے۔ شکیل الرحمن کچھ عرصہ سے زیر حراست ہے۔ اس پر ایک جائداد کی نا جائز منتقلی کا مقدمہ چل رہا ہے۔ شکیل الرحمن نے صحافی برادری کی ہمدردیاں لیتے ہوئے ، حکومت کے خلاف اپنے نہایت طاقتور میڈیا جن میں جیو ٹی وی ، جنگ اردو اور دی نیوز (انگلش) کو لگا رکھا ہے۔ ا نکے صحافی اور اینکرز کوئی نہ کوئی مخالفانہ مواد لیکر عمران خان کی کھچائی کرتے رہتے ہیں۔ اور اکثر ان صحافیوں کا حکومت کے خلاف مہم سازی کا رویہ اتنا ننگا ہوتا ہے کہ آدمی حیران رہ جائے کہ اپنے آقا سے وفاداری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے جو یہ ٹی وی تجزیہ کار اور صحافی بلا توقف عبور کر جاتے ہیں۔ میڈیا بالعموم ، حکومت پر نکتہ چینی کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے ، کیونکہ اگر وہ نہ کرے تو ہو سکتا ہے ان کے ناظرین اور قارئین انہیں حکومت کا پٹھو سمجھنے لگیں۔ اس کے علاوہ ٹی وی کے ناظرین بحث مباحثہ کو پسند کرتے ہیں جو تجزیہ کار کرواتے رہتے ہیں۔ اور اس میں ان کے لیے بہت آسان کام ہے کہ جس قسم کی بحث کروانی ہو اسی قسم کے مہمان بلا لیتے ہیں۔ان مہمانوں کے رحجان کا پہلے سے معلوم ہوتا ہے اور اسی کو استعمال کیا جاتا ہے۔عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ میڈیا کو گھاس نہیں ڈالتا جیسے گذشتہ حکومتیں اشتہاروں کی مد میں، بڑی بڑی رقمیںاپنے پسندیدہ چینلز اور اخبارات کو دیتی تھیں۔ اشتہاروں کا یہ سلسلہ تھم گیا ہے۔ اس وجہ سے کچھ صحافی اور چینل مالکان بھی بہت ناراض ہیں۔
ان حالات میں عمران خان جس بات کی سزا بھگت رہا ہے وہ اس کی ایمانداری، دیانت، اور ملک کی خدمت کا جنون نہیں تو کیا ہے؟ عمران خان نے پاکستان کا سر ملک میں ہی نہیں، ساری دنیا میں بلند کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے مسلمانوں کی ترجمانی کی ہے، اور پہلی دفعہ کسی پاکستانی حکمران نے اقوام متحدہ کے سٹیج پر کشمیر کا مسئلہ اجاگر کیا ہے۔ پاکستان سے آئے دن کی دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اور تو اوراس کی حکومت نے کووڈ ۱۹ کی عالمی وباء کا ایسے مقابلہ کیا ہے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔اس نے اپنی حکمت عملی سے کورونا کی وجہ سے بند ہو نے والے کاروباروں کو بحال کروا کر غریبوں اور دیہاڑی دار طبقہ کو فاقہ کشی سے بچایا ہے۔یہ کوئی بھی صاحب علم و ہوش نہیں کہہ سکتا کہ گذشتہ دو برس، عمران خان نے سو کر گزارے ہیں۔ اس نے ان دو سالوں میں جو کیا ہے اس سے پہلے کی حکومتیں پانچ سال میں نہیں کر سکیں۔
ان حالات میں، جب کہ پاکستان کی سرحدوں پر دن رات گولہ باری ہو رہی ہے، کورونا نے ملکی اقتصادیات کا باجا بجا دیا ہے، کچھ عالمی طاقتیں کسی نہ کسی محاذ پر پاکستان کو زک دینے کی کوششیں کر رہی ہیں، کیا پاکستانی حزب مخالف کو زیب دیتا ہے کہ بجائے حکومت کا ہاتھ بٹانے کے،حکومت کی ٹانگ کھینچنے میں لگی رہے۔ پی پی پی کا ذہنی نا بالغ لیڈر وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرے ۔ جس پارٹی نے سندھ کے مالی وسائل کا صفایا کر دیا اور کراچی کو کچرے کے ڈھیر میں ڈبو دیا، وہ ساری ذمہ واری وفاق پر ڈال دے، اس سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے۔
بندہ ملا فضل الرحمن سے پوچھے کہ تم کس خوشی میں حکومت کے خلاف مہم چلا رہے ہو؟ باقی لوگ تو غالباً قرآن کریم نہیں پڑھتے یا نہیں سمجھتے، تم تو قرآن پڑھتے ہو اور سمجھتے بھی ہو تو پھر بھی حاکم وقت کے خلاف فتنہ وفساد کروانے میں پیش پیش ہو؟ کیا تمہیں قرآن کی آیات پر یقین نہیں ہے؟ یا سمجھتے ہو کہ تم عام انسانوں سے بلند و بالا ہو؟ مجھے اجازت دو کہ میں یاد دہانی کے لیے کچھ قرآنی آیات کو پیش خدمت کروں؟ اس ناچیز کی رائے میں یہ تمہارے حسب حال ہیں:
قرآن مجید کی سورت (۷) الاعراف کی ۵۶ آیت ہے:
’’اور زمین میں اس کے سنور جانے کے بعد (یعنی ملک کا ماحول درست ہو جانے کے بعد فساد انگیزی نہ کرو اور (اس کے عذاب سے) ڈرتے ہوئے اور (اس کی رحمت کی) امید رکھتے ہوئے اس سے دعا کرتے رہا کرو، بیشک اللہ کی رحمت احسان شعار لوگوں (یعنی نیکو کاروں) کے قریب ہوتی ہے‘‘۔ (7:56)
قرآن مجید کی تیسری سورت کی آیت ۱۰۳ میں اللہ سبحان و تعالیٰ ٰ کا ارشاد ہے:
’’ اور تم سب ملکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو ‘‘، (3:103)
اور ادھر تم سب مخالفین کے ساتھ ملکر تفرقہ ڈالنے اور حکومت کے خلاف مہم چلانا چاہتے ہو؟ قرآن حکیم کی ۲۸ ویں سورت کی ۷۷ویں آیت مبارکہ ہے:
’’اور تو اس (دولت) میں سے جو اللہ نے تجھے دے رکھی ہے آخرت کا گھر طلب کر، اور دنیا سے بھی اپنا حصہ لینا نہ بھول اور تو (لوگوں سے ویسا ہی) احسان کر جیسا احسان اللہ نے تجھ سے فرمایا ہے۔ اور ملک میں (ظلم، ارتکاز اور استحصال کی صورت میں) فساد انگیزی (کی راہیں) تلاش نہ کر، بیشک اللہ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘۔(28:77) کیا اللہ کا یہ فرمان بھی تجھے اس مہم بازی سے باز نہیں رکھ سکتا؟
اگر یہ آیات کافی نہیں تو دو اور آیات جو ایک جیسا مفہوم رکھتی ہیں، ان پر غور کرو:
’’(یہ نافرمان وہ لوگ ہیں)، جو اللہ کے عہد کو اس سے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس (تعلق) کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘۔(2:27; 2:60)
گذشتہ برس، جب مولانا نے اسلام آباد پر مارچ کیا اور چند گھنٹوں کا دھرنا دیا تو وہ فتنہ فساد کی پوری تیاری کر کے آئے تھے اور اپنے ساتھ مدارسں کے کئی ہزارفارغ التحصیل طالبان کو ڈنڈوں وغیرہ سے مسلح کر کے لائے تھے۔ فتنہ فسادان کے ایک اشارے پر ہو سکتا تھا، جو بڑی مشکل سے بیچ بچا کروا کر رکوایا گیا۔ لیکن مولانا کو کسی وقت بھی فساد کروانے پر اکسایا جا سکتا ہے۔ اور لو گ تو شاید فساد سے پرہیز کریں لیکن اللہ کے یہ مجاہد حکومت کو گرا کر کسی نہ کسی حیثیت میں نئی حکومت میں کوئی پوزیشن حاصل کرنے کی تمنا تو ضرور رکھتے ہیں۔ لیکن یہ خواب پورا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ جو بات زیادہ یقینی ہے کہ فتنہ فساد کروا کے مولانا جہنم میں داخلہ کو ضرور یقینی بنا لیں گے۔وہاں ان کا استقبال جس چیز سے کیا جائے گا اس کا سوچ کر بھی ہم کانپ جاتے ہیں۔
جو دوسرے مخالفین ہیں وہ بظاہر مسلمان ہیں، قران اور اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، گر چہ انکے اعمال کیسے بھی ہوں۔ ان سے ہماری گذارش ہے کہ اگر پاکستان مضبوط ہو گا، اس کی اقتصادی حالت بہتر ہو گی اور ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو اس کے سارے وسائل کو بروئے کار لا کر ایک کامیاب، ترقی یافتہ، اور متمول ملک بننے سے نہیں روک سکے گی۔ ہمیں بالاخر ایک ایسا حکمران ملا ہے جو پاکستان کو اس منزل تک پہنچا سکتا ہے بشرطیکہ ہم اس کا ساتھ دیں اور اللہ کی دی ہوئی اس رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.