نئی قسم کا تغیراتی وائرس پہلے سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے، تحقیق

55

واشنگٹن : طبی ماہرین نے ایک تحقیقی مقالے میں دعویٰ کیا ہے کہ ایک نئی قسم کا تغیراتی کورونا وائرس پہلے سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے تاہم خوش قسمتی سے یہ متاثرہ افراد کو بیمار نہیں کر رہا ہے۔

نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے والی بیماری کا سبب بننے والا موجودہ وائرس اس اصل کورونا وائرس سے تین سے چھ گنا زیادہ تیز رفتاری سے پھیلتا ہے، جو ووہان سے پھیلنا شروع ہوا تھا۔

امریکی ریاست نارتھ کیرولینا کی ڈیوک یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ اس بات کے واضح ثبوت ملے ہیں کہ کورونا وائرس کی

ایک اور نئی شکل سامنے آئی ہے جو یورپ سے امریکہ تک پھیل گئی ہے۔

سائنسی جریدے سَیل میں شائع ہونے والی ایک تازہ ترین رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ کوویڈ 19 کی تبدیل شدہ شکل جو اس وقت دنیا کے لاتعداد انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، اس وبا سے کہیں زیادہ شدید اور مہلک ہے جس کا پھیلاؤ چین سے شروع ہوا تھا۔

محققین کے مطابق تحقیقاتی مطالعے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ نئی قسم کے تغیراتی کورونا وائرس سے لوگوں میں انفیکشن کا امکان پڑھ جاتا ہے لیکن اس کے حملے سے متاثرہ شخص زیادہ بیمار نہیں ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.