WAR ROOM

ہم وار روم میں ہی بیٹھے ہیں پچھلے چھ ہفتوں سے،جنگ جاری ہے ادھر علالت نے آگھیرا،علالت میں کچھ علت بھی شامل ہے اور لت بھی ،علت کچھ بھی ہو مگر علالت بڑھاپے کی ایک لت ضرور ہے یہ ایک ایسا تعلق ہے جو کسی وقت بھی سر اٹھا سکتا ہے ہزار اس تعلق سے نظریں چرائیںیہ وہ اجنبی ہے جو کبھی بھی دروازہ کھٹکھٹائے بغیر آپ کے سامنے آبیٹھتا ہے اور جسم سے اپنا تاوان مانگتا ہے عارضہ عمر رسیدگی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اب اس کو Order of the day ہی سمجھا جائے،اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیئے کہ’’ مضمحل ہو گئے قوی غالبؔ، اب عناصر میں اعتدال کہاں‘‘جب عناصر میں اعتدال نہ ہو تو اس کیفیت کو بیماری کہتے ہیںسو ہم کسی اتنے سادہ تو ہیں نہیں کہ کسی کے سبب بیمار ہوں جانتے ہیں یہ Medical conditionsہیںDown the slope ہونے کا عمل جاری ہے لہٰذا کچھ دن ہسپتال میں گزارنے پڑے،ہسپتال میں قیام کس کو پسند ہوتا ہے،یہ بات اور بھی تکلیف دہ کہ ہسپتال میں موجود ہر صورت آپ کو احساس دلاتی ہے کہ آپ علیل ہیں دوائیں،انجکشن،اور اس پر اسٹاف کا تجارتی رویہ،مسیحا اور مسیحائی کی تمام شکلیں Caricatured،مسخ اور بگڑی ہوئی اگرآپ بہت زیادہ positiveہو کر سوچیں پھر بھی یہ صورتیں animatedہی لگتی ہیں،بچوں کے Cartoonsکے کرداروں کی طرح،ہسپتال پہلے بھی متعدد بارآنا ہوا مگر اس بار ہسپتال کا قیام Bitter experience رہا،ہسپتالوں میں Patient,s bill of rights آویزاں ہوتا ہے اور اس میں کہیں درج بھی ہے کہ آپ کسی معالج سے مطمئن نہ ہوں تو آپ علاج سے انکار کر سکتے ہیں،مگر یہ ایک نمائشی چیز ہے،اور کسی موقع پر آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کسی غیر اعلانیہ قید میں ہیں۔آپ کو نہ سنا جائیگانہ کسی بات کی اہمیت ہوگی،آپ مکمل طور پر اسٹاف کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں،آپ کو میڈیکل اسٹاف کے برے رویہ کا سامنا بھی ہوتا ہے،اس بار NY U LONGONEکی نئی صورت نظر آئی،کانچ کی چیزچٹخ بھی جائے تو دکھ ہوتا ہے سو دکھ ہوا،NY U Longoneکو پھر بھی میں recommendکرتا رہوںگا۔یہ علاج کا ایک معتبر ادارہ ہے مگر اتنا عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ اگر خدا نخواستہ ہسپتال جانا ہی پڑے تو آپ کی ایک مضبوط پراکسی ہونی چاہیئے جس کو میڈیسن کا کماحقہ علم ہو یا کوئی attorney جو آپ کے علاج کے بارے میں وقتاً فوقتاً معلومات لے سکے،علالت کے دوران بھی عالمی خبروں پر نظر رہی،ایک شخص نے دنیا کو دیوانہ بنا رکھا ہے،ہم لوگ چنگیز اور ہلاکو کے دور میں نہ رہے ہوں مگر اب اندازہ ضرور ہو رہا ہے کہ پانچ چھ صدی پہلے طاقت نے کس طرح خون چکھا ہوگا،خون کی کتنی ارزانی ہوئی ہوگی،اس زمانے میںتو کسی حملہ آور یا طالع آزما کو یہ بتانے کی ضرورت نہ تھی کہ وہ کسی علاقے پر کیوں حملہ آور ہو رہا ہے مگر اب بظاہر وقت بدل چکا ہے علم اور تہذیب کی باتیں ہو تی رہتی ہیں لہٰذا یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم ننگی جارحیت اس لئے کر رہے ہیں کہ عراق کے پاس Weapons of mass destructionہیں،لبیا کو اس لئے برباد کر دیا گیا کہ اپنے آپ کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا تھا،شام کی بربادی اس لئے ہوئی کہ اسرائیل کی خواہش تھی،اور ایران کی بربادی اس لئے ضروری ہے کہ ایران دنیا میں سر اٹھا کے کیوں چلنا چاہتا ہے وہ سر کش کیوں ہے وہ اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیوں دیکھتا ہے اس لئے ایران کا سر کاٹنا ضروری ہے مگر ہوا یہ ہے کہ اس بار ایران پوری تیاری کے ساتھ ایک بہت بڑے بت سے ٹکرا گیا جس سے بت کئی جگہ سے چٹخ چکا ہے،گرا نہیں ہے،ہر چند کہ ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن سول مقاصد کے لئے ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ ایران ایٹم بم ضرور بنائے گااور یہ بھی کہ یہ ایٹم بم اسرائیل پر چلائے گا، اب ان کا مطالبہ ہے کہ ایران افزودہ یورینیم ان کے حوالے کر دے،اور معاہدہ وہ کرے جو وہ چاہیں، ورنہ آٹھ گھنٹے کے اندر ایران کو ملیا میٹ کر دے پہلے انہوں نے بی ٹو بمبار سے بم گرا کر دنیا کو بتایا تھا کہ ہم نے ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا ہے اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ ایران جوہرہی ہتھیار بنانے میں ایک ماہ کی دوری پر ہے اس بار کہا گیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاربنانے سے صرف ایک ہفتے کی دوری پر ہے اب جنگ کو چھ ہفتے ہو چکے ہیں ایران نے کوئی ایٹمی دھماکہ نہیں کیا ،مگر ایران اس بار بہت stubornلگتا ہے اس نے سخت موقف اختیار کیا ہے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے،ایران کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ خطے کو جہنم بنا دینگے یعنی بربادی کا سامنا خلیجی ریاستوں کو ہوگا جو پہلے ہی اس جنگ کی وجہ سے دس بارہ سال پیچھے جا چکی ہیں،ایران کے ڈرونز اور میزائل نے خلیجی ریاستوں کا رخ کیا تو خلیجی ریاستیں ریت کا ڈھیر بن جائیں گی مگر اس کی پرواہ امریکہ کو کیوں ہو، امریکہ ان خلیجی ریاستوں سے وہ خرچ بھی وصول کر لیں گے جوخلیجی ریاستوں کے دفاع پر ہوا،ہر چند کے دفاع نہیں کیا جا سکتا اور جنگ کے بعد تعمیر نو کا کام بھی امریکی کمپنیاں ہی کریں گی،ایران کے حملوں کی صورت میں اگر خلیجی ممالک میں بجلی گھروں اور سمندری پانی کو میٹھا کرنے کے پلانٹس کو نقصان پہنچا تو خلیج چالیس سال پیچھے چلی جائے گی جس میں زندگی کا تصور بھی محال ہوگا ،ظاہر ہے یہ صورتِ حال قابلِ قبول نہیں ہو سکتی اس لئے جنگ روکنے کے لئے پاکستان ترکیہ، چین اور کئی دوسرے ممالک کی کوششوں کو تحسین کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے،چند لمحے قبل شہباز شریف نے امریکہ اور ایران سے جنگ روکنے کی درخواست کی ہے ۔گو کہ امریکی صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا جواب ہاں میں نہیں مگر دونوں نے اس پر محتاط رویہ اپنایا ہے جس کو positiveکہا جا سکتا ہے شہباز شریف نے ایران سے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھول دیں اور امریکہ سے درخواست کی ہے کہ پندرہ روز کے لئے جنگ بندی کر لیں اگر ایسا ہو گیا تو یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہوگی ،اس وقت عالمی میڈیا پاکستان کی کوششوں اور اس کے جوابی ردِ عمل کا جائزہ لے رہا ہے کیونکہ ٹرمپ کے ایلٹی میٹم کو چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیںاگر جنگ روک کر مذاکرات کی بات ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز کھل جاتی ہے تو یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہوگی،ایک امریکی وی لاگر ہیں Tucker Carlsonوہ ایک سابق امریکی اعلی فوجی عہدیدار سے بات کر رہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا کہ ٹرمپ امریکہ کے صدر ہیں اسرائیل کے صدر نہیں ان کو امریکہ کے مفادات کو ہی دیکھنا چاہیئے،اور امریکی حلقوں میں یہ بات کھلے عام کہی جا رہی ہے کہ امریکہ ایران سے اسرائیل کی جنگ لڑ رہا ہے اور امریکی ٹیکس ڈالرز پر،سی این این کے ایک پول کے مطابق امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے یہ بات صدر ٹرمپ نے بھی دہرائی اور کہا کہ سی این این کا پول کہتا ہے کہ میں جنگ ہار چکا ہوں مگر میں جنگ ہارا نہیںبات یہ ہے کہ ٹرمپ اس جنگ میں بری طرح پھنس چکے ہیںاور ان کو بھی فیس سیونگ چاہیئے اور ہمارا خیال ہے کہ شہباز شریف کی جنگ بندی کی درخواست فی الوقت ان کو فیس سیونگ دلا سکتی ہے،اس وقت الیکٹرانک میڈیا پر خبروں اور تبصروں کا ایک سونامی ہے ڈیڈ لائین ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی ہیں ،ایک تجزیہ کار جاوید چودھری ہیں ان کے تجزیوں میں افسانوی رنگ ہوتا ہے وہ آج کل اس کام پر معمور ہیں کہ ایران کو قائل کر سکیں کہ وہ جنگ سے باز رہے اور خلیجی ریاستوںکو ان کے حال پر چھوڑ دے،حماقت کے سر پر سینگ نہیں ہوتے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خطے کا ایک ملک خطے سے لا تعلق ہو جائے،امریکہ میں برنی سینڈرز نے ٹرمپ پر شدید تنقید کی ہے کہا ہے کہ ٹرمپ کی احمقانہ باتوں کو ہنسی میں اڑا دینا سنگین غلطی ہوگی،کچھ اراکین کانگریس نے ٹرمپ کے مواخذہ کی بات کی ہے مشی گن کی ایک رکن کانگریس نے یہاں تک کہہ دیا کہ فوج ٹرمپ کے احکامات ماننے سے انکار کر دیں اور آئین ان کو تحفظ فراہم کرے گا ادھر کچھ سابق فوجی افسران اور انٹیلی جنس اداروں کے سابق سربراہوں نے بھی ٹرمپ کے مواخذے کی بات کی ہےگویا اندرون خانہ صدر پر دباؤ بہت بڑھ گیا تھا اس لئے آخری خبریں آنے تک صدر ٹرمپ نے شہباز شریف کی یہ تجویز مان لی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھول دی جائے تو وہ دو ہفتے کے لئے جنگ بندی پر آمادہ ہیں،یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے،ایران اور اسرائیل بھی جنگ بندی پر آمادہ ہیں شہباز نے فریقین کو دس اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت دے دی ہے یہ غیر معمولی پیش رفت ہے اس کامیابی پر فیلڈ مارشل عاصم منیر، شہباز شریف اور اسحاق ڈار مبارک باد کے مستحق ہیں،امریکہ نے ایران کے دس نکات مان لئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ مذاکرات کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں،ایران کی یہ فتح ہے اور کہا جا رہا ہے کہ مجتبی خامنہ ای نے بھی جنگ بندی کی اجازت دے دی ہے امریکہ ایران جنگ بلا جواز تھی جو اسرائیل کے دباؤ پر شروع ہوئی تھی جس کا بہر حال خاتمہ نظر آرہا ہے۔ہم ہمیشہ سے ہی امن کے داعی رہے ہیں یہ اچھی خبر سنا کر ہم WAR ROOM کو تالا لگا رہے ہیں اس خواہش کے ساتھ کہ امن کا سورج جگمگاتا رہے گا اور انسانیت چین اور سکون سے اپنا سفرجاری رکھے گی ۔



