ہفتہ وار کالمز

راج ہٹ اور بالک ہٹ !

بچپن میں اماں اور خالاؤں نے بہت سی کہاوتیں سنائی تھیں جن میں یہ کہاوت بھی تھی:تین ہٹیں زندگی میں بہت ستاتی ہیں: راج ہٹ، بالک ہٹ اور تریا ہٹ۔راج ہٹ اقتدار کا زعم ہوتا ہے۔بالک ہٹ لڑکے کی وہ ضد ہوتی ہے جو وہ نوجوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے ہوئے کرتا ہے اور اکثر اپنے لئے بھی اور دوسروں کیلئے مصیبت کا سامان پیدا کرتا ہے۔تریا ہٹ عورت کی وہ ضد، وہ نخرا ہوتا ہے جس کے بیشمار روپ ہیں اور جو تاریخ بناتی بھی ہے اور تاریخ کے دھارے کا رخ بھی پھیردیتی ہے !امریکہ کے صدر عالی مقام میں راج ہٹ بھی حد سے زیادہ ہے اور بالک ہٹ کی ان کی شخصیت اور کردار میں جیسے راجدھانی ہے۔ لیکن ان کا قصور اتنا نہیں ہے جتنا ان لوگوں اور افراد کا ہے جنہوں نے ان کی بالک ہٹ کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی انہیں اپنے ملک کی قیاد ت کیلئے منتخب کیا اور وہ اپنے دوسرے دورِ صدارت میں اس رعایت اور ان کے مداحین کی اس کھلی فیاضی سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن انہیں یہ ادراک نہیں ہے کہ ان کی یہ بالک ہٹ ان کے منصبِ صدارت کیلئے کیا گل کھلارہی ہے اور ان کے ملک اورعالمی برادریء اقوام کیلئے کیا کیا مسائل پیدا کر رہی ہے !انہوں نے اپنے یارِ غار، صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے ایران پر اس موڑ پہ جنگ مسلط کی جب ایران پُر امن معاہدہ کیلئے آمادہ ہوچکا تھا۔ ایران کے پڑوسی ملک عمان کے وزیر خارجہ نے حالیہ دنوں میں دنیا کیلئے یہ انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین جو مذاکرات عمان کی ثالثی سے ہورہے تھے ان میں وہ مقام آگیا تھا کہ ایران ان شرائط پہ صاد کرچکا تھا جو امریکہ کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام کے ضمن میں رکھی گئی تھیں۔ علی لاریجانی، جنہیں اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کوشش سے ہدف بنا کرشہید کیا گیا وہ اس کیلئے تیار تھے کہ ایران تمام تر افزودہ یورینیم کسی اور ملک کے حوالے کردے گا اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کو اس کا اختیار دے دیگا کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات کا پابندی سے معائنہ کرتا رہے!ایسے میں ایران پر جارحیت مسلط کی گئی جو بین اقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی تھی!لیکن صدر ٹرمپ میں جو راج ہٹ ہے وہ اتنا قابو سے باہر ہے کہ وہ کسی قانون، کسی ضابطہ کو خاطر میں لاتا۔ بقول شخصے، ٹرمپ ہر قانون کو اپنے جوتے کی نوک پہ رکھتے ہیں اور یہ انکی بالک ہٹ کا اثر ہے جو انہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ
میں اپنے آپ سے بڑھ کر کسی کو کیوں چاہوں
مجھی پہ ختم ہے قصہ مری محبت کا !
اپنی ذات کے سحر میں ، جو بالک ہٹ کا ہی ایک روپ ہے، جب راج ہٹ کے بادہ کا خمار بھی شامل ہوجائے تو نشہ دو آتشہ ہوجاتا ہے۔بیسویں صدی کے امریکی دانشوروں میں ہنری کسنجر کا مقام بہت اوپر ہے ۔ لیکن کسنجر بھی اسی طرح امریکہ کے عالمی چوکیدار ہونے کے منصب کے اسی طرح قائل تھے جیسے ٹرمپ ہیں!تو کسنجرکا ایک قول بہت مشہور ہے کہ دنیا میںسب سے زیادہ طاقتور نشہ اقتدار کا ہوتا ہے اور جب ایسے شخص کو اقتدار مل جائے جس کی رگوں میں بالک ہٹ کا زہر خون بن کر دوڑ رہا ہو تو کوئی بھی اندازہ کرسکتا ہے کہ اس کے تکبر اور نخوت کا کیا عالم ہوگا !اقتدار اورظرف کا معاملہ بھی خوب ہے! جس میں ظرف ہو اُسے اقتدار کا نشہ مغلوب نہیں کرتا لیکن وہ جو محسن بھوپالی کہہ گئے ہیں، اور سولہ آنے کھری بات کہہ گئے ہیں،
میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے !
تو کم ظرف کے ہاتھوں میں اقتدارکی باگ ڈور ایسے ہی ہے جیسے کسی منہ زور گھوڑے پر کسی ایسے کو سوار کردیا جائے جسے گھڑ سواری نہیں آتی اوروہ اس کی ابجد سے بھی ناواقف ہو تو پھر وہ چھٹ بھئیا کیا گل کھلاتا ہے، کیا کیا تماشے کرتا ہے اس کی کہانی دیکھنی ہو تو دیکھو کہ ٹرمپ نے اپنے سوا سالہ اقتدار کے زمانے میں کیا کیا ہے اور کیسے کیسے ناٹک دنیا کو دکھائے ہیں اور، ستم بالائے ستم، دکھانے کا یہ سلسلہ طولِ شبِ فراق کی مانند بڑھتا ہی چلا جارہا ہے !راج ہٹ تھی جس نے ٹرمپ کو اکسایا کہ وہ ایران پر چڑھ دوڑیں، ہر بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اس پر جنگ مسلط کردیں۔یہ راج ہٹ کا ہی نشہ تھا جس نے انہیں ترغیب دی کہ ایران پہ جارحیت کاعمل ویسے ہی بارآور رہے گا جیسے وینزویلا پر ان کی یلغار تھی جو چند گھنٹوں میں اس ملک کے صدرکو گرفتار کرکے اور اُسے دنیا کے سامنے ہتھکڑیاں پہناکے کامیاب ہوگئی !لیکن بالک ہٹ نے ان کی آنکھوں پہ جہالت کی جوپٹی چڑھائی ہوئی تھی اس نے انہیں یہ دیکھنے اور جاننے سے باز رکھا کہ ایران وینزویلا نہیں ہے جوکسی پکے پھل کی طرح ایک پتھر مارنے پر ان کی گود میں گرجائے گا !عمران خان نے ٹرمپ کے پاکستانی مقلدین کیلئے جو تاریخی کلمہ کہا تھا وہ ان چھٹ بھئیوں کے سرپرست پر بھی پوری طرح سے صادق آتاہے : "ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں ہیں، دوسرے یہ سیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔تو ٹرمپ کی بالک ہٹ بھی انہیں یہ سبق دیتی ہے کہ وہ عقلِ کل ہیں اور انہیں کوئی نہیں سکھاسکتا بلکہ وہ دنیا کو سکھاسکتے ہیں اور دنیا پر یہ لازم ہے کہ وہ ان کی بات پر دھیان دیں ورنہ نہ سننے کے نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہیں!
انکی راج ہٹ انہیں ترغیب دے رہی تھی کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ، آیت اللہ خامنائی کو ہلاک کرنے کے بعد ایران کی قیادت کا شیرازہ بکھر جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اسلئے کہ ایران کا نظام کسی ایک شخصیت کا ہرہونِ منت نہیں ہے بلکہ وہ اسلامی انقلاب کی روح، یعنی شورائیت پر دارو مدار کرتا ہے اور اسی لئے ایک شخصیت کے چلے جانے سے وہ نظام متزلزل نہیں ہوتا!ٹرمپ اپنی جارحیت کا کوئی بھی ہدف حاصل نہیں کرسکے: نہ ایرانی قیادت تبدیل ہوئی، نہ ایرانی عوام حکومت کے خلاف بغاوت پہ آمادہ ہوئے، نہ ایران کی دفاعی صلاحیت میں فرق پڑا، نہ ہی ایران کا جوہری پروگرام جس کے بارے میں ٹرمپ نے گذشتہ جون کی امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے بعد یہ ڈینگ ماری تھی کہ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور تنصیبات کونیست و نابود کردیا ہے، اس تک انہیں رسائی نصیب ہوئی!ٹرمپ کی حالت اس وقت، جنگ کے پانچ ہفتے مکمل ہونے کے بعد اس شکاری کے جیسی ہے جو جوش میں چیتے کی پیٹھ پہ سوار تو ہوگیا ہے لیکن اب خوف کا شکار ہے کہ جب وہ پیٹھ سے اترے گا توچیتا اُسے پھاڑ کھائے گا !ٹرمپ کی بالک ہٹ نے انہیں شیخیاں بھگارنا اور ڈینگیں مارنا ہی سکھایا ہے جسے پاکستان کی زبان میں بڑھکیں مارنا کہتے ہیں!ڈینگیں مارنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں لیکن وہ اپنی دریدہ دہنی اور غلیظ زبان کیلئے بھی شہرت رکھتے ہیں اوراب ایران کے خلاف ان کی جارحیت جو بند گلی میں اسیر ہوچکی ہےاور انہیں نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا تو ان کی دریدہ دہنی اور ہرزہ سرائی کا عالم اس جنونی کا ہے جسے غار کے دہانے پر روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی!ان کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ ایران نے اپنے پر مسلط جارحیت کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جس سے دنیا کا بیس فیصد تیل اور مائع گیس گذرا کرتی تھی اور امریکہ اپنی عسکری برتری کے باوجود اس انتہائی اہم آبی شاہراہ کو ایران کے حصار سے آزاد کروانے سے قاصر ہے !ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی ذمہ داری سے تو اپنے ہاتھ کھڑے کرلئے ہیں لیکن ان کی ایران کو دھمکیاں تہذیب کے دائرے سے گرگئی ہیں۔ٹرمپ اپنی شائستگی اور تہذیب کیلئے تو کبھی کوئی شہرت نہیں رکھتے تھے لیکن اب وہ جس زبان میں ایران کوپتھر کے دور میں واپس بھیج دینے کی دھمکی دے رہے ہیں اس میں وہ گالم گلوچ پہ اتر آئے ہیں!حیرت ہوتی ہے کہ اس زبان وبیان کا حامل شخص اس ملک کا صدر ہے جو دنیا کو تہذیب سکھانے کا دعویدارہے۔ ٹرمپ کی تاریخ سے ناواقفیت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ اس ملک کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دینے کی دھمکی دے رہے ہیں جس کی تاریخ اور تہذیب پانچ ہزارسالہ پرانی ہے جبکہ امریکہ کی تاریخ محض دو صدی پرانی ہے ! راج ہٹ اور بالک ہٹ کا آمیزہ ٹرمپ جیسے اتھلے شخص کی زبان سے وہ ہرزہ سرائی کروا رہا ہے جس پر ہر امریکی کا سر شرم سے جھک جانا چاہئے۔ میری مرحومہ بیوی، عابدہ کرامت نے کیا خوب کہا تھا:
کھلی زبان تو لوگوں کا خاندان کھلا
تو ٹرمپ اپنی دریدہ دہنی سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ان کی تربیت میں کسر رہ گئی۔ بالک ہٹ ان سے افراد کی کردار کشی کرواتی رہی ہے اور راج ہٹ یہ فرعونی دعویٰ کہ وہ ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دینگے !یہ محض فرعونیت کا انداز نہیں ہے بلکہ یہ اس شخص کا احوال ہے جسے اپنے ارضی خدا ہونے کا دعویٰ ہے: لیکن خدائی کا دعویٰ کرنے والے کو یاد رکھنا چاہئیے کہ یہ زمین، یہ کائنات مالک الملک کی ہے اور وہی ہے جو افراد اور ملتوں کی تقدیر بناتا اور بگاڑتا ہے:
آتش بجاں کردے گا وہ فارس کی زمیں کو
یہ دھمکی بہت دیتا ہے شیطان کا چیلا
سمجھاؤ اسے اس کی نہیں رب کی زمیں ہے
لگ جائے نہ کل کو تری تذلیل کا میلہ !
ٹرمپ کا جنون اب ایران میں اسکولوں، ہسپتالوں اور جامعات کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس نے اس مذاکراتی عمل کو بھی معطل کردیا ہے جس میں پاکستان ثالث کا اہم کردار ادا کر رہا تھا!ٹرمپ کے بقول ان کے پسندیدہ فیلڈ مارشل اور کٹھ پتلی سیاسی بالشتیوں کیلئے ایک موقعہ آیا تھا کہ وہ اپنا کوئی کردار دکھاسکیں لیکن مداری نے خود ہی بساط لپیٹ دی۔ اب سیاسی گماشتے آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بہانے ایک طرف پاکستان کے بیگناہ شہریوں پر پٹرول کا بم مار رہے ہیں، پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے ، تو دوسری طرف انہیں سبسٹڈی ہونے کی گو لی بھی دے رہے ہیں۔ منافق سے منافقت کبھی دور نہیں ہوتی۔ تو سیاسی مداریوں نے قوم کو فریب دینے کیلئے یہ نیا ناٹک رچایا ہے کہ کابینہ کے وزراء ایک مہینے کیلئے تنخواہ نہیں لینگے!کس پہ احسان کر رہے ہو، میاں؟ کابینہ کے وزراء کو جو مراعات حاصل ہیں تو انہیں تنخواہ کی ضرورت ہی کہاں ہے ! تنخواہ تو ان کیلئے جیب خرچ ہے اور بس!نئے جال لائے پرانے شکاری !پاکستانیوں کو ان مداریوں، شعبدہ بازوں اور جعلسازوں سے کب نجات ملے گی؟ اللہ ہی جانے !۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button