ہفتہ وار کالمز

جنگ کی کڑکی میں پھنسا ڈونلڈ ٹرمپ !

ایک پاکستانی کے طور پر میں صرف اپنے ملک کے حالات و معاملات کی طرف متوجہ نہیں رہ سکتا ۔دنیا جہان کے تمام مسائل و معاملات ، حالات و واقعات اور احوال و مآل میں دلچسپی لینے اور ان پر کوئی نہ کوئی رائے بنانے یا موقف اپنانے کی عادت ہر پاکستانی کا مشترکہ مشغلہ ہے۔ لہٰذا ، اس کے باوجود کہ پاکستان سرکاری طور پر افغانستان کے ساتھ حالت جنگ و جدل میں مصروف ہے۔لیکن جو جوش و جذبہ اور جو مزا گزشتہ سال مئی میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی منہ ماری میں آیا تھا ، وہ پاک افغان جنگ میں کہاں۔ویسے بھی عام پاکستانی اس جنگ کو محلے کے کسی گھر سے آنے والی میاں بیوی کی لڑائی مارکٹائی کی آوازوں کی طرح سن اور جہاں تک نظر آ سکتا ہو ،دیکھ رہے ہیں۔ ہاں مگر ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں نے پاکستانیوں میں وہی جوش و جذبہ ، توجہ اور ذوق و شوق پیدا کر دیا ہے ،جو اس سطح کی خطرناک جنگوں کو دیکھنے ،سننے اور سیکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔یقینی طور پر ایران امریکہ اسرائیل جنگ کے احوال مستقبل کے جنگی تدریسی نصابات کا لازمی حصہ بنیں گے۔یعنی یہ کہ ایک واحد عالمی سپر پاور امریکہ کس طرح ایک فسادی اور جنونی ملک اسرائیل کے اُکساوے اور بہکاوے میں آ کر ایک غیر ضروری جنگ میں شریک ہوا، اور اپنی رسوائی کا سامان کر بیٹھا ۔اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل ایران کو تاریخ کی بدترین گولہ باری کا نشانہ بنانے اور غیر متعین نقصانات پہچانے کے باوجود اس کا بال تک بیکا نہیں کر سکے ، جوں جوں جنگ طوالت اختیار کرتی جا رہی ہے ،ایران کی قوت مزاحمت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے اڑتالیس گھنٹے کی جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے اور ایران جنگ بندی کے اس مطالبے کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے۔ ایران کے ان مظالم نے امریکی صدر کی ذہنی صحت اور نفسیاتی حالت پر بہت بُرا اثر ڈالا ہے۔ اس وقت امریکیوں کی سب سے پہلی ترجیح اپنے فاتر العقل صدر کے نفسیاتی اور حیاتیاتی عوارض کا علاج ہونی چاہیئے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو دوسری بار صدر بنا کر امریکیوں نے ایک طرح سے بندر کے ہاتھ میں استرا پکڑا دیا تھا ،اور اب وہ نادان صدر دوسرے ملکوں کے ساتھ ساتھ خود امریکہ کو بھی زخمی کر رہا ہے۔یہ دنیا کا پہلا قصائی ہے ،جسے دکان کے تختے کے نیچے بیٹھا کتا کنٹرول کر رہا ہے۔امریکیوں کو فوری طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو باندھ کر رکھنا چاہیئے ، تاکہ نفسیاتی بیماریوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی ٹیم کے آنے تک یہ اپنے پاگل پن سے مزید توڑ پھوڑ نہ کر سکے۔ اس وقت لطائف و ظرائف کی عالمی مارکیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بنائے اور پھیلائے لطیفے بھی زیر گردش اور کافی مقبول ہیں ۔حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ ایران نے انہیں اپنا سپریم لیڈر بنانے کی پیش کش کی ہے ۔اب ایک عام پاکستانی کے طور پر میرے لیے ایک امریکی صدر کے بیان کو جھٹلانا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ہاں میں اپنے دل پسند ملک ایران کو سمجھا اور بتا سکتا ہوں کہ انہیں اس بے چارے ،قسمت کے مارے ڈونلڈ ٹرمپ کو سپریم لیڈر بننے کی پیش کش نہیں کرنی چاہیئے تھی۔سچی بات تو یہ ہے کہ میں دل و جان سے ایران کی دلاوری اور مثالی مزاحمت کا معترف اور حمایتی ہوں،لیکن جو بات غلط ہے، وہ غلط ہے۔ ایران کو امریکہ کے فاتر العقل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سپریم لیڈر بنانے کی پیشکش نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ اگر اس پیشکش کا اعلان خود ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی منہ سے نہ کیا ہوتا ،تو میں اسے بالکل بکواس خیال کرتا اور نظر انداز کر دیتا۔پر یہ بیان تو ٹرمپ کا ہے ۔جب سے یہ پیشکش ہوئی ہے ، بے چارہ نیتن یاہو کا ستایا اور جنگ کا اکتایا ہوا صدر مکمل طور پر سودائی ہو گیا ہے۔بہکی بہکی باتیں اور لہکی لہکی حرکتیں کر رہا ہے۔میرا پُرزور مطالبہ ہے کہ ایران اپنی اس پیش کش کو فوراً واپس لے۔اس بے چارے ٹرمپ کو ستانے کے لیے نیتن یاہو ہی کافی ہے۔پچھلے دنوں مارکو روبیو نے اشک آور لہجے اور المناک انداز میں شکایت کی تھی کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔وہ کہتا ہے اگر ایران دھمکیاں نہ دے تو ہم کل ہی آبنائے ہرمز کھول سکتے ہیں۔اس نے یہ نشان دہی نہیں کی کہ امریکہ اور اسرائیل کن بین الاقوامی قوانین کے تحت ایران پر تباہ کن حملے کئے جا رہے ہیں ۔اگر امریکیوں کا ذہنی افلاس اس حد تک پہنچ چکا ہے،اور وہ اپنے علاج پر بھی آمادہ نہیں ہیں ، تو پھر ان کے لیے اجتماعی بد دعا کا بندوبست کرنا چاہیئے۔ امریکی حکومت میں فساد کی ایک جڑ وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ اپنی ہر ناکامی و نامرادی کا سبب امریکی جرنیلوں کو قرار دے کر اپنی شیطانیت اور نالائقی پر پردہ ڈالنے میں مصروف نظر آتا ہے ۔اس سے منسوب تمام بیانات اس کی کج فہمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔اب عین جنگ کے دوران اعلی فوجی جرنیلوں کی برطرفی نے ہم پاکستانیوں کو کافی حیران کیا ہے۔ ہم پاکستانیوں کو بتایا، سمجھایا ، سکھایا اور باور کرایا گیا تھا کہ ؛اگر ملک نازک دور سے گزر رہا ہو، حالت جنگ و جدل میں ہو، یا کچھ بھی ، تو ملک کے آرمی چیف کو مدت ملازمت مکمل ہو جانے کے باوجود ؛ قواعد و ضوابط کے مطابق آرام کرنے ، گالف کھیلنے اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کی اجازت دینے کی بجائے اسے نازک دور کے نام پر مدت ملازمت میں توسیع دے دینی چاہیئے ۔ اس بے اصولی پر پاکستان میں اتنا زیادہ عمل کیا گیا ہے کہ اب تو اس عمل کو توسیع کہنا بھی صورت حال کی صحیح کفالت نہیں کرتا۔ گویا اب مان لینا چاہیئے کہ پاکستان میں محبت کی طرح توسیع مدت ملازمت کی بھی کوئی حد،کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ایسے میں یہ پڑھ کر کہ عین حالت جنگ میں امریکہ کے ضعیف الذہن اور تہی الفراست صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آرمی چیف کو برطرف کر کے گھر بھیج دیا ہے، میں چاروں طرف پھیلے حیرت کے دھویں ہٹانے میں مصروف ہوں۔ اس کا تو صاف صاف مطلب یہ ہوا کہ اگر عین لڑائی میں بھی آرمی چیف کو ہٹا دیا جائے تو ملک کی سلامتی اور جاری جنگ پر کوئی آنچ نہیں آتی، کوئی فرق نہیں پڑتا اور اسی قابلیت اور اہلیت کا حامل کوئی دوسرا جرنیل صورت حال کو سنبھال لیتا ہے۔ویسے کمال ہے۔ اگر مجھے انگریزی زبان میں لکھنا آتا تو میں ایکس پر چھوٹی اور بڑی اے بی سی میں شدید احتجاجی نوٹ لکھتا۔ بہرحال ،میری رائے ہے کہ پاکستان کی حکومت اور حکومت کے متوازی تنظیم "ایکس سروس مین” کے عمائدین کو امریکہ سے شدید احتجاج کرنا چاہیئے۔اگر ملک میں مذہبی تنظیموں کے ذریعے امریکی آرمی چیف کے حق میں جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے کروائے جا سکیں تو بھی صورت حال پر اچھا اثر پڑنے کا قوی امکان ہے ۔ پاکستان ایک کام یہ بھی کر سکتا ہے کہ عین حالت جنگ میں ریٹائر کر دیئے جانے والے امریکی آرمی چیف کو پاکستان بلا کر کسی بڑے اور بے مقصد ادارے کا سربراہ بنا دیا جائے۔ تاکہ تجربہ اور قابلیت ضائع نہ ہو ۔اگر نازک دور میں آرمی چیف کو برطرف کرنے کی رسم چل نکلی تو کم ازکم پاکستان جیسے ملکوں کے لیے یہ اچھی مثال نہیں ہو گی۔ ایران پر حملہ آور امریکہ میں تو آرمی چیف سمیت چار سے متجاوز دفاعی افسران کو فارغ کیا جا چکا ہے۔برطرف ہونے والے جرنیل اپنی تربیت اور جنگی تجربے کی بنیاد پر جو مشورے وزیر جنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دے رہے تھے ،وہ ان کی خواہشات اور اسرائیل کے شیطان صفت نیتن یاہو کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔ اس جنگ سے فوری طور پر علحدہ ہو جانا امریکی مفاد میں ہے ،جبکہ اسرائیل کی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ اس جنگ کو طول دے کر پورے خطے کے مسلمان ممالک تک پھیلا دیا جائے۔اس جنون میں خسارہ ہی خسارہ ہے۔اب یہی دیکھ لیں ؛ پرانے زمانے میں لونگ گواچ جایا کرتا تھا، اس زمانے میں امریکی فائٹر پائلٹ گواچ رہے ہیں۔وہ بھی ایران کی فضاوں میں، ایران جو امریکہ تک کا خیال نہیں کرتا،سیدھا منہ پہ چمانٹا دے مارتا ہے۔ ایران نے دو ایٹمی ممالک جن میں سے ایک کبھی واحد سپر پاور ہوا کرتا تھا، کو دو ٹکے کا کر کے رکھ دیا ہے۔ایران نے دختران استقبالیہ رکھنے والے اماراتی عربوں کے پردے بھی چاک کر دیئے ہیں۔ ایران میں حکومت تبدیل کرکے اپنی پسند کے ایرانی حکمران تلاش کرنے والا امریکہ ، اب ایران میں اپنا گم شدہ پائلٹ تلاش کر رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button