صنعا میں بڑی کارروائی کا خدشہ؟ سعودی اتحاد نے انخلا کا حکم جاری کردیا

صنعا / ریاض: یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان حملوں میں شدت آگئی ہے۔سعودی اتحاد نے جولائی کے بعد پہلی مرتبہ یمن کے دارالحکومت صنعا کے لیے انخلا کا حکم جاری کیا ہے، جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے بدھ کو بتایا کہ ملک کے مشرقی حصے میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک عمارت پر حملے کے نتیجے میں محدود پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ دوسری جانب سعودی دارالحکومت ریاض میں حوثیوں کے داغے گئے میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد ان کا ملبہ گرنے سے چار افراد زخمی ہوگئے۔اس سے ایک روز قبل، منگل کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مغربی یمن میں تیل کی تنصیبات سمیت حوثیوں سے منسلک اہداف پر حملے کیے تھے۔ یہ کارروائیاں سعودی سرزمین پر کئی برسوں کے دوران ہونے والے سب سے ہلاکت خیز حملے کے جواب میں کی گئیں۔سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یمن کے دارالحکومت صنعا اور مغربی صوبوں ذمار اور صعدہ میں حوثیوں کی ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو ان کی جنگی سرگرمیوں کے لیے رسد فراہم کرتی تھیں۔



