
خلیجِ فارس کی لہروں کے بیچوں بیچ چھپا ایک چھوٹا سا جزیرہ ’’خارگ‘‘ کیا تہران میں بیٹھی طاقتور ایرانی حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے؟یہ سوال آج کل عالمی سیاست اور دفاعی حلقوں میں گونج رہا ہے۔ خارگ، جو ایران کے ساحل سے محض 30 کلومیٹر دور واقع ہے، رقبے میں تو نیویارک کے علاقے مین ہٹن کے آدھے حصے سے بھی کم ہے، لیکن اسے ایران کا ’’معاشی دل‘‘ کہا جاتا ہے۔یہ محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک بہت بڑا آئل اسٹوریج سینٹر ہے جہاں سے ہر ماہ 5 کروڑ بیرل سے زائد خام تیل دنیا بھر کو بھیجا جاتا ہے۔ یعنی ایران کے کل تیل کی برآمدات کا 90 فیصد حصہ اسی ایک ننھے سے جزیرے سے گزرتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ جزیرہ ہمیشہ سے خصوصی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ٹرمپ 40 سال پہلے بھی، جب وہ صرف ایک بزنس مین تھے، ایک انٹرویو میں یہ کہہ چکے تھے کہ اگر وہ صدر بنے اور ایران نے کسی امریکی بحری جہاز پر ایک گولی بھی چلائی، تو وہ جزیرہ خارگ پر قبضہ کرلیں گے۔ آج وہ ایک بار پھر وائٹ ہاؤس میں ہیں اور ان کا ملک اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔



