ہفتہ وار کالمز

 پاکستان کی ابتری کی ذمہ وار، نواز فیملی

صاحبو، قدر دانوں، آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ پاکستان میں جو ہو رہا ہے اس پر ایک نظر اور ڈالی جائے، اور جہاں تک ممکن ہو سکے حالات کی تہہ تک پہنچا جائے۔آج کل کچھ دبی دبی زبان میں، لوگ کہہ رہے ہیں وہ سننے کے قابل ہے۔ہمارا اشارہ خواجہ سعد رفیق کے بیانات کی طرف ہے۔
قطع نظرخواجہ سعد رفیق جو کہ نون لیگ کے قائدین میں سے ایک ہیں، اور نواز شریف کے قریبی رفقاء میں سے ایک۔ ان سے معذرت کے ساتھ پاکستان کو کن لوگوں نے اس حال میں پہنچایا ہے اور پاکستانیوں پر ایک نا جائز اور بد عنوان حکومت قائم کر دی ہے، ان کے نام اور کردارپر روشنی ڈالنی چاہیئے۔اگر خواجہ صاحب برا نہ مانیں، تو یہ نواز فیملی ہی تو ہے جس نے لندن پلان بنایا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ فوج ان کی حکومت بنانے میں مدد کرے گی۔ اگر انہیں مقبول عام کا ووٹ نہ ملا تو بھی ، جعلی کاروائی کر کے ان کی حکومت بنا دی جائے گی۔فوج جب تک ممکن ہو، تحریک کے قائدین کو، خصوصاً عمران خان کو محبوس رکھے گی۔اگر کوئی مزاحمت ہوئی تو اسے سختی سے کچل دیا جائے گا۔ہمیں یقین ہے اس سازش کے پیچھے ہمارے آقا یعنی صدر امریکہ کی مرضی شامل ہے۔اور در اصل ان کو بھی ان کے آقاکی طرف سے یہی حکم ملا ہے۔اگر اس تعلق کو نظر انداز کر دیا جائے تو پاکستان اب وہ کر رہا ہے جو اس کی فوج چاہتی ہے، اور فوج وہ چاہتی ہے جو ڈونلڈٹرمپ کا آقا نیتن یاہو اسے کہتا ہے۔دوسرے لفظوں میں پاکستان کی فوج اب مکملاًاسرائیل کی غلام ہے۔اورپاکستان کو اس کے احکامات پر چلا رہی ہے جو اس کو بذریعہ ٹرمپ ملتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اس کا آغاز امریکی دفتر خارجہ میں سن 2022میں ہو چکا تھا۔ جب ہمارے جنرل باجوہ اور غدار پاکستان حسین حقانی وغیرہ نے یہودی افسروں کے ساتھ ملکر پاکستان میں رجیم چینج کی سازش کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرئیل کو پاکستان میں کوئی بھی وطن پرست حکومت قابل قبول نہیں۔ ان کو وہی لوگ پسند آتے ہیں جو بد عنوان ہوں اور بدعنوانیت کی سرپرستی کرتے ہوں، جیسے کہ نواز شریف برادران۔کیونکہ سارا مسئلہ ایٹمی اثاثوں کا ہے۔
اگر یہ پاکستانی سیاستدان انسان کے بچے ہوتے، با ضمیر ہو تے اور با کردار تو یہ کبھی بھی جنرلز کے ساتھ بیٹھ کر ایک نا جائز حکومت بنانے کا پلان نہ بناتے۔اور الیکشن ہار کر شریفانہ طریقے سے حزب مخالف کے ساتھ جا مل بیٹھتے، جیسا کہ مہذب ملکوں میں ہوتا ہے۔لیکن نہیں، ان کا باپ طوائفوں کے بازار میں پھولوں کے گجرے بیچتا تھا۔ ان کے خون میں شریفوں والا خون ہی نہیں تھا۔انہوں نے شیطان کو اپنی روح بیچ کر بھی حکومت لینی تھی۔لیکن ان کی اس حرکت سے پاکستان دن بدن کرپٹ سرکاری ملازموں اور سیاستدانوں میں بربادی کے راستے پر گامز ن رہا۔ اور آج پاکستان قرضوں کے بوجھ میں دھنس چکا ہے۔دنیا میں اس کی ساکھ ختم ہو چکی ہے۔اس کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔اسکی عدلیہ دنیا کی بد ترین عدلیہ میںشمار ہوتی ہے۔ اس کے پاسپورٹ کی عزت نہیں، اور شریف ابھی بھی اپنی تجوریوں کو بھرنے میں مصروف ہیں۔ آخرحکومت لیتے ہی کیوں ہیں؟ نواز کی بیٹی نے اس مفلوک الحال ملک کے خزانے سے ایک نجی جیٹ خریدا ہے جس کے پائلیٹ بھی گورے ہیں اور سارا خرچہ اس زر مبادلہ سے جس کے لیے چچا در در کشکول لیے پھرتا ہے۔کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اسمبلی میں زیادہ تر ارکان جعلی ووٹوں سے کامیاب قرار دئیے گئے۔ وہ ہر کاغذ پر دستخط کر دیتے ہیں کیونکہ ان کا ضمیر کبھی کا بک چکا ہے یا مردہ ہے۔اس لیے بس مزے ہی مزے ہیں۔
پاکستان آج جو بھی ہے وہ اس کے دشمنوں کی سازشوں اور حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ انہی پالیسیز کی وجہ سے چالیس فیصد پاکستانی لکھ پڑھ نہیں سکتے اور ڈھائی کروڑ بچے جنہیں سکول میں ہونا چاہیے، وہ سکول سے باہر ہیں۔ تعلیم کی کمی ہی نہیںبلکہ جو تعلیم ملی بھی وہ بے کار قسم کی۔ ہر ادارہ ان کرپٹ سیاستدانوں کی خدمت پر معمور ہے۔سب بندر بانٹ میں مصروف ہیں۔عوا م میں شعور ہی نہیں کہ وہ ملک کے حالات کا ادراک کر سکیں۔ اور کرپٹ طبقہ اسی اطمینان میں ہے کہ عوام کے ساتھ جو بھی کر لو وہ اُف نہ کریں گے۔
ہمارے قائدین، سیاسی اور غیر سیاسی ، امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کی چاپلوسی میں مصروف ہیں۔ اس کے ذرا سے اشارے پر جان نچھاور کرتے ہیں۔ اسقدرکہ ہمارے وزیر اعظم کا باقاعدہ مذاق اڑایا جا رہا ہے ۔ اس کے کارٹون بن رہے ہیں۔ امریکی صدر کی امریکہ میں بھی کوئی عزت نہیں کرتا۔ امریکہ بھر میں لوگ مظاہرے کر رہے ہیں کہ انہیں بادشاہت نہیں چاہیے۔دنیا میں جتنے مہذب ممالک ہیں انہوں نے ایران کی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔لیکن ہمارے کمانڈر انچیف ان کے ایک اشارے پر جان قربان کرنے پر تیار نظر آتے ہیں۔ اب ان کے ایک اشارے پر ان کے تیل بردار جہازوں پرپاکستانی پرچم لگا کر آبنائے ہر مز سے نکالنے کی کوشش کی اور ایرانیوں نے پکڑ لیا اور انہوں نے میزائل مار کر جہاز کو راکھ کر دیا۔ ہمارے پاکستانیوں کو ذرا شرم نہیں آئی کہ اپنی مراعات سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔
اس جوڑے نے سعودی عرب جا کر بغیر پاکستانی عوام سے پوچھے ایک دفاعی معاہدہ کر لیا۔صرف تھوڑی سی رعایت کی خاطر۔اگر اس معاہدہ کو پاکستانی اسمبلی میں پیش کیا جاتا اور اس پر بحث ہوتی تو شاید کوئی بہتری کی صورت نکل آتی۔لیکن وزیر اعظم اور کمانڈر انچیف کی جوڑی سمجھتی ہے کہ وہ ہی عقل کُل ہیں۔اب خدا کا کرنا کیا ہوا کہ واقعی سعودی عرب کو جنگ پیش آگئی اور وہ بھی ایران کے خلاف۔ ایم بی ایس نے پاکستان کو معاہدہ یاد دلایا کہ آئو، ایران سے جنگ کرو۔یہی نہیں ان کے آقا، ٹرمپ کا بھی یہی مطالبہ تھا۔ پاکستان کے دشمن تو یہی چاہتے تھے کہ پاکستان کو گندا کیا جائے۔مسلمان کو مسلمان سے لڑوایا جائے۔ لیکن اس جوڑی کو ابھی تک یہی خیال ہے کہ اس معاہدے سے بس انکو اربوں ڈالر کا ادھار مل جائے گا جس سے ملک کی معیشت چلتی رہے گی۔ ان کو ابھی تک یہ احساس نہیں ہوا کہ کم ازکم ٹرمپ کے جوتے پالش کرنے سے پاکستان کو بلین یا دو بلین کی گرانٹ مل جاتی، لیکن ٹرمپ بھی پراپرٹی ڈیلر ہے وہ پیسے لیناجانتا ہے ، دینا نہیں۔جیسے اس نے امن کا بورڈ بنا کر لوگوں سے ایک ایک بلین ڈ الر لینے کا پروگرام بنایا جو سیدھے اس کے یہودی داماد کی جیب میں جانے تھے۔
اس سلسلے میں، جو سب سے برا کام ہمارے جوڑے نے کیا کہ ٹرمپ کے کہنے پر افغانستان پر حملہ کر دیا اور اس کے لیے بھی پارلیمنٹ سے اجازت لینے کی تکلیف نہیں گوارا کی۔طالبان پر حملہ کرنے کے بہانے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانی شروع کر دی۔اول تو یہ پاکستانی طالبان آپ کے اپنے پروردہ تھے، جنہیں آپ نے کشمیر میں لڑنے کے لیے تیار کیا تھا۔یا کچھ اور مقاصد تھے۔اب آپ ان کو مارنے کے بہانے افغانستان کے طالبان سے جنگ مول لے بیٹھے ہیں۔ ٹرمپ کو وہاں سے حکم ملا ہے کہ افغانستان سے امریکہ کی چھوڑی ہوئی بگرام ایر بیس واپس چھین لو، جو ان کو چھوڑنی ہی نہیںچاہیے تھی۔دوسرا مقصد یہ تھا کہ جب اسرائیل اور امریکہ ایران پر حملہ کریں تو پاکستان اس جنگ میں الجھا رہے۔ کہیں جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی ایٹمی ہتھیار اسرائیل پر نہ داغ دے۔ہمارے قائدین میں اتنا دم نہیں ہے کہ وہ اس سکیم کو سمجھ کر اپنے مسلمان ہمسایہ ملک پر نہ چڑھ دوڑتے۔ اور ٹرمپ کو صاف انکار کر دیتے۔تو ٹرمپ کیا کرتا؟ پاکستان کو جو آئی ایم ایف سے ادھار ملتا ہے وہ روک دیتا؟ نہیں ،سر جی۔اس کو آئی ایم ایف اس لیے نہیں روکتا کہ پاکستان کے سر پر اتنا قرضہ ہے کہ اگر وہ ڈیفالٹ کر جائے تو پوری دنیا کی اقتصادی عمارت کا ڈھانچہ خطرے میں آ جاتا ہے۔ابھی یہ عمارت لشتم پشتم کھڑی تو ہے۔اس لیے ٹرمپ سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔البتہ اپنے مسلمان ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بنا کر رکھنا چاہیے۔خصوصاً ایران سے جو آپ کو ان مشکل حالات میں تیل تو دے رہا ہے۔
اب تیل کی بات بھی سن لیں۔ یہ حکومت اتنی نکمی ہے کہ جس کا کوئی حساب نہیں۔ بجائے اس کے کہ اپنے کرپٹ مالی نظام کو ٹھیک کرنے کے، عوام کا خون نچوڑ رہی ہے، پٹرول پر ٹیکس بڑھا بڑھا کر۔کیونکہ پٹرول پر ٹیکس، مالیہ بڑھانے کا آسان ترین طریقہ ہے۔جب ایران پر جنگ مسلط کی گئی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو اس کو بہانہ بنا کر شہباز شریف نے پاکستان کے عوام پر پورا بوجھ ڈال دیا۔ جب پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو زیادہ فرق ا ن لوگوں پر پڑتا ہے جو متمول ہیں اور کاریں دوڑاتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان عوا م پر بھی جو اس کی وجہ سے بڑھتے کرایوں، اجناس اور اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی قیمتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ اور وہ لاکھوں غریب موٹر سائیکلسٹ بھی جو اس سواری کو کام پر آنے جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔وزیر اعظم کو ان باتوں سے کیا غرض۔ وہ تو اس اوپر کی آمدن سے خوش ہیں جو مالیہ اکٹھا کرنے کے ذمہ وار دفتر مال کے افسران کو خاموشی سے پہنچا دیتے ہیں۔اگر یہ افسران ٹیکس کی چوری نہ ہونے دیں تو پاکستان کو کبھی اتنے قرضے ہی نہ لینے پڑیں۔ (اگر میرے بات کا یقین نہیں تومفتاح اسمٰعیل سے پوچھ لیں)لیکن وزیر اعظم کو کاسہ گدائی لیکر ملک ملک جانے کا ایسا چسکا پڑ گیا ہے کہ ان کا زیادہ وقت ہوائی سفر میں گذرتا ہے اور پاکستان میںکم۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔
پاکستان ایک انتہائی افسوس ناک ملک بن گیا ہے۔اس راقم کی ناقص رائے میں اس کا پورا الزام نواز شریف فیملی پر جاتا ہے۔اگرچہ فوج بھی اس میں شامل ہے لیکن ان کو بھی اس طاقت کی کرسی پربٹھانے والے بھی وہی ہیں۔
اب ذرا تفنن طبع کے لیے، نون لیگ کے جید اور بے باک رہنما، خواجہ سعد رفیق کی حالیہ تقاریر سے کچھ اقتسابات ملاحظہ ہوں:
24مارچ 2026 کو ایک شعلہ بیان تقریر میں، انہوں نے حکمران طبقے اور عوام میں جو ایک لا تعلقی کی خلیج ہے اس پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور فرمایا: ’’وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں اور گھنٹیوںکے بجنے کی آوازیں سنیں۔ یہ گھنٹیا ں بتا رہی ہیںکہ عوام غصہ میں ہیں اور ملک کے حالات پر بپھرے ہوئے ہیں۔‘‘ ۔ ’’ انہوں نے کہا کہ کہ موجودہ نظام سچی جمہوریت نہیں بلکہ منتخب چوروں کی حکومت ہے۔ اصل جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں شفافیت ہو، مستعدی ہو، جوابدہی ہو، خدمات ہوں، معاشرے کی بحالی ہو اور قوم کی سر بلندی ہو۔‘‘
خواجہ صاحب نے فرمایا ’’کہ ملک کو چند اچھے، باعزم آدمیوں کی ضرورت ہے، جو اس بگڑے نظام کو ٹھیک کر سکیں۔ ‘‘ انہوں نے ایک جرات مندانہ لیکن قابل مباحثہ مشورہ دیا کہ ہر اس شخص کواس نظام سے نکال دیا جائے جس نے گذشتہ پچاس سالوں میں کوئی بھی عوامی عہدہ لیا ہو۔ تا کہ وہ قوم کا لُوٹا ہوا پیسہ واپس لے آئیں اور نوکر پیشہ کو اتنی طاقت دے دی جائے کہ اپنے اختیارات استعمال کریں،ایک آخری موقع کی طرح۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’اشرافیہ کے خلاف عوامی طیش اور نفرت کا ماخذ شہریوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق نہ دینا جیسے تعلیم، جس کی وجہ سے لوگ بالکل مایوس ہو چکے ہیں۔‘‘
اسی مہینے میں سیاسی کارکنوں کے موضوع پر خواجہ صاحب نے ’’ سیاسی جماعتوں کے اندرونی مزاج کو تنقید کا نشانہ بنایا۔کہا،سیاسی جماعتیں خوشامدیوں کو پسند کرتی ہیں نہ کہ مخلص کارکنوں کو۔اور قائدین بھی اکثر درباریوں کو بمقابلہ مخلص کارکنوں کے جو خدمت گذار ہوتے ہیں، زیادہ چاہتے ہیں۔‘‘
خواجہ صاحب نے یہ اور بہت سے بیانات دئیے ہیں،جو انکی اپنی پارٹی پر فِٹ آتے ہیں۔ اور غالباً اسی کے تجربے کی بنیاد پر دیے گئے ہیں۔ لیکن اسپر کون دھیان دے گا؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button