ہفتہ وار کالمز

امن و آتشی کی کاوش

دنیا میں امن و آتشی کے لئے میزبانی کا شرف اللہ نے پاکستان کے حق میں کر کے سفارتی حلقوں میں اسے عزت کی معراج دے دی ہے گو ہمسایہ ممالک افغانستان و ہندوستان میں اس موجودہ شرف میزبانی سے ناخوش سے ہیں بھارتی میڈیا اس حوالے سے مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے جب کہ مسلمان ملکوں میں پھیلی بے چینی جو امریکی اڈوں کی وجہ سے ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن رہی ہے اس سے پھیلتے عدم استحکام کا خاتمہ ہو سکتا ہے اس ممکنہ پھیلتی جنگ کے خاتمے کے لئے پاکستان کا ثالث بننا باعث فخر ضرور ہے مگر ایران اور امریکہ و اسرائیل کے مابین مطالبات جو سامنے آ رہے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایک فریق بھی اسے تسلیم کرے گا ۔دونوں فریق یہ خواہش لئے ہوئے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ ہو مگر پسِ پردہ جن عزائم کا جنم صرف تصور میں تھا وہ شرائط کی صورت مذاکرات کی میز پر لائے جا چکے ہیں لیکن اس کا حل طلب ہونا بھی فریقین کی رضامندی پر منطبق ہو گا ،اس میں شرکاء کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ جنگ بند کرا سکیں امریکہ و اسرائیل کی خواہش ہے کہ ایران اپنے ایٹمی اثاثے تلف کرے جب کہ ایران اپنے آپ کو ایٹمی طاقتوں کے دائرے میں لا کر اپنے دفاع کو مضبوط و مستحکم کرنا چاہتا ہے ایران کے مخالف فریق چاہتے ہیں کہ رضا شاہ پہلوی والا دور حکومت ایران میں دوبارہ آئے مگر ایران کے موجودہ حکمران اسلامی طرز حکومت کو جمہوری نظام سے بہت بہتراور اسے دودرس نتائج کا حامل قرار دیتے ہیںامریکہ اپنے 15نکاتی منصوبے کی تفصیلات میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ ،بیلسٹک میزائل کا خاتمہ ،یمن حوثیوں اور لبنان میں حزب اللہ کی حمایت کا خاتمہ شامل ہے ان متذکرہ نکات میں سے ایک بھی ایران کے لئے قابل قبول ہونا مجھے ممکن نہیں لگتا کیونکہ جیسے افغانستان میں بھارت دہشت گردوں کی سر پرستی کر رہا ہے تو اس کی سرکوبی کے لئے پاکستان بھی میدان عمل میں ہے جیسے اسرائیل غزہ میں اور ہندوستان کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے تو اقوام متحدہ خاموش تماشائی ہے اور امریکہ اسرائیل کی کھلی حمایت کر رہا ہے جب بڑی طاقتوں والے اپنے دامن میں جنگ کے انگارے لئے دوسرے پناہ گزینوں کے کیمپوں پر حملہ آور ہوں گے تو جواب میں پھول تو نہیںآنے ۔انسانی بقاء اس بات کی متقاضی رہی ہے کہ جنگ و جدل کی بجائے امن و آتشی کا ماحول دنیا میں پھیلے کشیدہ ماحول میں بھی مذاکرات اور جنگ کے بعد بھی مذاکرات سے منزل کا تعین کرنا ہوتو پھر ہٹلر جیسے سربراہان کی پیروی میں امن کو سپرد ِ نا کیا جائے مشرق ِ وسطی اور ایران کے مابین اسرائیل کی وجہ سے پھیلی جنگی کشیدگیوں نے مجھے مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کی بات یاد کرادی جسے تاریخ بھی اپنے اوراق میں سمیٹے ہوئے ہے ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم فرماتے ہیں کہ یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف سازشوں نے اُمت مسلمہ کو جو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک لڑی میں پروئے گئے تھے وہ تسبیح ایک یہودی عبداللہ ابن صبا کی سازشوں سے دانے دانے ہو گئی اور مسلمان فرقہ واریت کے دائروں میں بٹ کر کمزور ہوگئے مذکورہ یہودی سازشوں سے جاری رہنے والی جنگوں سے ایک لاکھ کے قریب مسلمان آپس کی لڑائی میں ایک دوسرے کی تلواروں اور تیروں سے ختم ہوئے شیعہ سنی کشیدگی کی وارداتیں ماضی کے آئینے میں دیکھیں تو ارض ِ قائد پہ بھی فرقہ واریت کی ہولی کئی بار کھیلی گئی اور کئی گھرانوں نے ایک دوسرے کو اڑا کر اسے فتح سے تعبیر کیا مگر دیکھا جائے یہ فتح مسلم کمیونٹی کی نہیں ہے یہ اُن تاریخی قوتوں کی فتح ہے جن کے مذموم عزائم ہیں مسلمانوں کے خلاف، اور انھیں آج بھی حسب ِ خواہش مسلمانوں کی تباہی دیکھنے کی تمنا ہے یاد رہے کہ خواہش ذہنی نہیں دلی تمنا کی آرزو ہوتی ہے جو اپنے اہداف کی متلاشی رہتے ہوئے بڑی بیتابی سے پسند کے کھوج میں رہتی ہے ممکن و ناممکن کاوشوں کی مانند ۔اس لاحاصل جنگ میں کس کو کس پہ عبور حاصل ہونا ہے اُسے تباہی کہتے ہیں کیونکہ ایران پابندیوں کی سختیاں و سوشل بائیکاٹ کی دھمکیاں سہتے سہتے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق میدان جنگ میں سب کچھ تباہ کرنے اور کروانے کیلئے تیار ہے امریکہ و اسرائیل اپنے 15نکاتی شرائط پرنظر ثانی کرے اور ایران بھی اپنے ایٹمی عزائم کے حوالے سے دنیا کے دیگر ممالک کو اعتماد میں لے تو امن و آتشی کی فضاء قائم ہو سکتی ہے بصورت ِ دیگر ہولناک تباہی ہو گی ۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button