ہفتہ وار کالمز

لاج تو رکھتے !!!

نام یاد نہیں رہا قول کسی کا ذہن میں رہ گیاکسی نے کہا تھا میں بھیڑ کو راستہ دے دیتا ہوں اور اپنی شخصیت بچا لیتا ہوںیہ بات کوئی دانشور ہی کہہ سکتا ہے دانشور کبھی جھگڑتا نہیں ،اس کے پاس کسی سے جھگڑنے کے لئے وقت ہی نہیں ہوتاوہ اپنا منصب پہچانتا ہے،اس کی ذمہ داری بڑی ہوتی ہے کبھی کبھی وہ اپنے آپ سے ہی الجھ جاتا ہے شاعر مصوراور دانشور کی اپنے آپ سے جنگ ہوتی ہے یہ جنگ اس کے اندر ہوتی ہے،دکھائی کسی کو نہیں دیتی،مگر ہوتا یہ ہے کہ شاعر،مصور، اور دانش ور جو جنگ اپنے اندر لڑتے ہیں ہار جیت سے قطع نظر وہ کوئی کام کی بات انسان اور انسانیت کے نام کر جاتے ہیں،جو ان کے کام آتی ہے مغرب کی یہ بات قابل ستائش ہے کہ انہوں نے جو کچھ پڑھا اس کو اپنی ذات میں Incorporateکر لیا مشرق میں ایسا نہ ہو سکا،کہا گیا کہ مغرب کی ر وایتit Novels/short stories کی ہے برِ صغیر کی روایت شعر کی ہے،مجھے کچھ حیرانی ہے روایت تو صدیوں میں بنتی ہے،شعر گوئی تو مغلیہ دور کی دین ہے،امیر خسرو کی تاریخ پیدائش اکتوبر 1325کی ہے خسرو کو سات سو سال ہوئے ہیں ،ہمارے بہت محترم ڈاکٹرجمیل جالبی نے اُردو ادب کی تاریخ بھی خسرو کے دور سے ہی شروع کی ہے ایک اور شاعر تھے قائم ،ان کا تذکر ہ سب سے پہلے کیا ہے تو گویا بات سات سو سال کی ہی ہے،سات سو سال میں روائت تو نہیں بنتی نا،مغلوں نےاُردو کو گود لے لیا اور مشاعرہ بازی شروع،دل کی شاعری ہوتی رہی غالب پہلے شاعر تھے جس نے عقل سے بھی کام لیااب اگر غالب یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت ،یہ بات سمجھ نہیں آئی تو غالب سے ہی پوچھ لیتے کہ حضور جنت کی حقیقت ظاہر فرما دیجیے مگر جنت عقیدہ ہے تو ہے،مولانا طارق جمیل نے جنت کو اتنا رنگین بنا دیا کہ جنت ہاتھوں ہاتھ بکی کچھ تو جنت کے چکر میں فنا کی راہ چل دئے،خود کش جیکٹ پہن لی خود بھی عدم آباد کی راہ لی اور بہت سے دوسروں کوبھی ساتھ لے گئے،غالب نے یہ بھی کہا کہ؎
زندگی اپنی جو اس رنگ سے گزری غالبؔ
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے!
غالب کو اس شعر پر بھی خوب داد ملی ،سمجھا کوئی نہیں جو سمجھے وہ خاموش رہے غالب ہی اگر ہماری زندگی میں Incorporateہو جاتا تو دلدر دور ہو جاتے ،خیر کوئی وقت آئے گا جب اتنا شعور آجائے اورلوگ تعلیم یافتہ ہو جائیں سوچنے لگیں اور پھر یہ احساس ہو کہ یہ جو شاعر اور ادیب ہیں یہ کام کی باتیں کرتے ہیں ان کی باتوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے یہ باتیں زندگی سنوارتی ہیں،ذہن اجالتی ہیں ترقی کی راہ دکھاتی ہیںپی بی شیلے نے کہا تھا کہPoets are the unannounced legislature of the world,یہ جو شاعر ہوتے ہیں یہ دنیا بھر کو قانون سکھاتے ہیں مگر یہ اعلان نہیں کیا جاتا کہ یہ قانون بناتے ہیں ساغر نے کہا تھا؎
ہم فقیروں سے دوستی کر لو
گر سکھا دینگے بادشاہی کے!
مغرب کو جب تک شاعروں اور ادیبوں کی رہنمائی حاصل رہی مغرب تہذیب کا پیش رو رہا مگر مغرب کے سیاست دان کا شاعروں اور ادیبوں سے ناطہ ٹوٹا اور تاجروں اور Realtorsنے عنانِ حکومت سنبھالی حالات ابتر ہونا شروع ہو گئے ،سیاست سے وقار اور سنجیدگی رخصت ہو گئی ۔اس تبدیلی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے کبھی ملک کو اور کبھی ساری دنیا کو ،مگر ان بے وقار اور سنجیدگی سے عاری لوگوں کا کچھ نہیں بگڑتا،تاریخ لاکھ ان پر خاک اُڑاتی رہے سیاست اور تہذیب پر جو داغ پڑ جاتے ہیں ان کے اثرات بھی خطر ناک ہوتے ہیں نالیوں اور گٹر سے چوہوں اور کاکروچز کو باہر نکلنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کی امید ہو چلی تھی اور ایران نے یورینیم کی افزودگی صفر کرنےپر اتفاق کر لیا تھامعاہدے کا اعلان باقی تھا کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا،اس سے نتیجہ یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کی نیت تھی ہی نہیں اور پہلے سے فیصلہ ہو چکا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کو مل کر ایران پر حملہ کرنا ہے شائد یہ احساس بھی کہیں دماغ میں شور مچاتا ہو کہ چند ماہ پہلے ایران اسرائیل اور امریکہ کی ضربیں سہہ چکا ہے کمزورہو چکا ہوگا ابھی اپنے زخم چاٹ رہا ہوگایہ مناسب وقت ہے کہ ایران کو ملیا میٹ کر دیا جائے ،اسی لئے امریکہ رجیم چینج کے ارادے سے ایران پر حملہ آور ہوا اور شدید حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای مارے گئے بہت شدید غلط فہمی تھی کہ آ یت اللہ خامنہ ای اور بہت سے دیگر اہم شخصیات کی شہادت کے بعدایران گھٹنے ٹیک دے گااسی لئے ترمپ نے بار بار ایران سے سرینڈر کا مطالبہ کیا امریکی عوام کو یہ بتایا گیا کہ ایران جوہری ہتھیار ایک ہفتے میں بنا سکتا ہے ۔پچھلے معرکے میں بتایا تھا کہ ایران ایک ماہ کے اندر ایٹم بم بنا لے گا ،پچھلی بار بھی امریکی عوام اس جنگ کے حق میں نہیں تھی اس بار بھی جنگ پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی،وینزویلہ کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے نیویارک منتقل کرنا بھی قابلِ گرفت رہاایران سے جب مذاکرات شروع ہوئے تھے تو بات یورینیم کی افزودگی پر ہونی تھی مگر اسرائیل کے شدید دباؤ پر امریکہ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بلاسٹک لانگ رینج میزائیل پر بھی بات ہوگی ارادہ بات چیت کا نہیں تھا امریکہ سمجھ رہا تھا کہ ایک افلاس زدہ ملک کو ویزویلہ کی طرح دبوچا جا سکتا ہے مگر پندہ دن کی جنگ نے ٹرمپ کے سارے اندازے غلط ثابت کر دئے،نہ تو رجیم چینج ہوئی، نہ حکومت کا تختہ الٹا گیا ،نہ یورینیم ہاتھ آیا،بلکہ اس کے برعکس ایران نے بے مثل مزاحمت دکھائی خلیج میں امریکہ کے اڈوں کو نشانہ بنایا،اسرائیل کو بربادی کا سامنا کرنا پڑا اور آبنائے ہرمز کو بھی ایرانیوں نے بند کر دیا اور سمندر میں بے پناہ فوجی Deploymentکے باوجود آبنائے ہرمز نہ کھلوائی جا سکی،کہا جا رہا تھا کہ امریکہ دنیا کی Sole super powerہے اس دعوے کو بہت بڑا دھچکہ لگا ہے ،تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ اب یہ دعوی مشکوک ہو چکا،ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے یورپ کے کان کھڑے کر دئے تھے اور اس بار یورپ نے غزہ کو برباد کرنے میں تو امریکہ اور اسرائیل کی مدد کی تھی مگر ایران معرکے میں یورپ اور امریکہ کی مدد کو نہیں آیا،دو دن پہلے ہی ٹرمپ نے شکست خوردہ لہجے میں کہا تھا کہ آنبائے ہرمز کھلوانے کے لئے برطانیہ،فرانس، اٹلی،چین اور جاپان کے فوجی جہاز آئیں اور Strait of Harmuzکھلوائیں ۔ایران نے جب بھارت کے دو جہازوں کو دو جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی تو فرانس اور اٹلی نے بھی ایران سے درخواست کی کہ ان کے جہازوں کو بھی گزرنے کی اجازت دی جائے،ہرمز بند ہونے کی وجہ سے دنیا میں تیل اور توانائی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پرمرتب ہو رہے ہیںمہنگائی بڑھ گئی ہے، افراط زر کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور کساد بازاری اپنے جبڑے کھول رہی ہے۔covidسے دنیا بمشکل نکلی تھی کہ امریکہ نے اسرائیل کے مطالبات پر ایران پر حملہ کرکے دنیا کو پھر مشکلات میں ڈال دیاہر چند کہ ایران میں بے پناہ بربادی ہوئی ہے مگر ایران کے حوصلے بلند ہیںاب ایران نے جنگ بندی کےلئے چند شرائط رکھ دی ہیں،خلیجی ممالک سے امریکی اڈے ختم ہوں،ایران کو اس کی بربادی کے ازالے کے طور پر پانچ سو بلین ادا کیا جائے اور ایران پر تمام پابندیاں ختم کی جائیں،اور مستقل امن کے لئے ضروری ہے کہ ہر دو سال کے بعد ایران پر حملہ نہ کرنے کی ضمانت دی جائے،یہ سوال اہم ہے کہ خلیجی ممالک نے امریکہ کو اپنے ممالک میں امریکی اڈے کیوں بنانے کی اجازت دی،اور ان کے کیا مقاصد تھے اگر یہ اڈے خلیجی ممالک کے دفاع کے لئے تھے تو کیا امریکہ ان کا دفاع کر پایا،ہلاکو خان نے جب بغداد کو تباہ کیا تو عباسی خلیفہ زمین پر بیٹھا تھاہلاکو نے حکم دیا کہ خزانہ پیش کیا جائے ہیرے جواہرات کا ڈھیر لگا دیا گیاہلاکو نے مٹھی بھر کر ہیرے اٹھائے اور خلیفہ کے منہ میں ٹھونس دئیے اور کہاکھاؤ ان ہیروں کو،یہی حال خلیجی بادشاہوں کا ہے سونے کے ڈھیر پر بیٹھ کر یہ ممالک نہ تو اپنی فوج بنا سکے نہ دفاعی نظام،یہ امریکی اڈے خطے کے دیگر ممالک کو خوف زدہ کرنے کے لئے بنائے گئے تھے اور فی الحال ان اڈوں کے خاتمے کے کوئی آثار نہیںاگر اڈے ختم ہوئے تو خلیج کی تمام بادشاہتوں کا بھی خاتمہ ہوگاحال ہی میں امارات نے چھ سو اسرائیلی ابھی واپس کئے ہیںچھ سو اسرائیلی امارات میں کام کر رہے تھے مگر پاکستان پر ویزے کی پابندی ہے،مگر ہمارا میڈیا امارات کو برادر ملک کہتا ہے،خبر ہے کہ ایران نے ابراہام لنکن کو شدید نقصان پہنچایا ہے او ر،وہ اب قابلِ استعمال نہیں رہا،ایران خستہ حال ملک سہی مگر امریکہ تمام تر وحشیانہ حملوں کے باوجود ایران سے Will to fightختم نہیں کر سکتاکسی نے کہا ہے کہ بڑا ملک اگر جنگ جیت نہیں رہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنگ ہار رہا ہے اورچھوٹا ملک اگر جنگ ہار نہیں رہا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ جنگ جیت رہا ہے صورتِ حال کچھ یہی ہے ٹرمپ جنگ سے نکلنے کی کوئی نہ کوئی صورت نکال ہی لیں گے مگر تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ اس خطے میں ایران کا اپرہینڈ ہوگااگر ایسا ہوگا تو یہ امریکہ کی بڑی شکست متصور ہوگی اور خلیج کی سیاست از سر نو مرتب ہوگی جو Will to fightایران نے دکھائی اگر ویزویلہ بھی دکھاتا تو سوچئے صورت کیا بنتی،بہر حال جدید تاریخ رقم ہوئی ہے اور ابھی تاریخ کے بہت سے صفحات ابھی لکھے جانے ہیں،تیل کی عدم ترسیل سے اگر یورپ کی فیکٹریاں بند ہو جائیں گی تو کون سی قیامت آجائے گی امریکہ کو تیل مہنگا ملے گا تو کون سا آسمان گر پڑے گا مشرق کو بڑے زخم لگے ہیں تھوڑی سی خراش ان ممالک کو لگ جائے تو کیا مضائقہ،تکلیف کے ہجے ان کو بھی یاد ہو جانے چاہیئے جن کے نزدیک عالمی قوانین کچھ نہیں، اقوام متحدہ کچھ نہیں جن کے نزدیک اخلاقیات کچھ نہیں اور جو انسانیت کو روندنا اپنا حق سمجھتے ہیںاور امن کی ہر قرارداد کو ویٹو کر دیتے ہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button