یہ لہو رائیگاں نہ جائے گا !

وہ جنگ جو صیہونی طاغوت کے علمبردار نوسرباز اور استعماری تکبر اور طاقت کے نشہ سے چور گرو گھنٹال نے ایران پر مسلط کی ہے کس طرف جارہی ہے، اس کا اختتام کب اور کیسے ہوگا اور اس کے نتیجہ میں خلیجِ فارس اور اس کے گرد آباد عرب ریاستوں پر کیا اثرات مرتب ہونگے، یہ سوال موجودہ دور کے ہر صاحبِ علم و دانش کے ذہن میں پیدا ہورہا ہے!فی الحال اس لاکھ روپے کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے اور کوئی بقراط وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ یہ اونٹ کی مثال بھی اچانک آگئی لیکن سوچتا ہوں کہ اس خلیجِ فارس کے جغرافیائی محلِ وقوع پر یہ حرف بہ حرف صادق آتی ہے اسلئے کہ جو جنگ ایران پر صیہونی اور سامراجی گٹھ جوڑ نے مسلط کی ہے اس سے سب سے زیادہ خلیج کے وہ عرب ممالک متاثر ہورہے ہیں جنہیں قدرت نے صحرائی زمینوں میں تیل کی دولت سے مالا مال کرکے اونٹوں سے بے نیاز کردیا ہے ! اونٹ نشین آج، تیل کی دولت سے فیضیاب دنیا کی سب سے بڑی قدرتی دولت کے مالک بن گئے ہیں!
ہمارے دور کے ایک بہت ہی نامور، لیکن اتنے ہی متنازعہ، مغربی دانشور ہنری کسنجر کا ایک قول ہمیں اس وقت یاد آراہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا: دنیا میں سب سے زیادہ دیرپا نشہ اقتدار کا نشہ ہوتا ہے!
اسی اقتدار کے نشہ سے مغلوب صیہونی نوسرباز نے اپنے قلبی اور جگری حلیف، یعنی استعماری گروگھنٹال جن کے متعلق ان کے حلقہ بگوش یہ کہتے ہیں، اور وہ خود اس قول پر مسکراہٹ کے دونے نچھاور کرتے ہیں، کہ وہ امریکہ بہادر کے پہلے یہودی صدر ہیں (جبکہ وہ نہیں ہیں) کو یہ باور کروایا کہ ایران پر یلغار کرنے کا اس سے بہتر کوئی سنہرا موقع نہیں ہوسکتا اور جیسے مچھلی پکڑنے کیلئے کانٹا استعمال کیا جاتا ہے امریکی صدر نے وہ کانٹا نگل لیا اور ایران پر یلغار کردی !ایران پر حملہ اس دن کیا گیا جب یورپی ملک آسٹریا کے صدر مقام، ویانا میں ایران اور امریکہ کے مابین ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی اٹامک انرجی کمیشن کی شراکت سے مذاکرات ہونا طے پایا تھا۔ ویانا کا انتخاب اسلئے کیا گیا تھا کہ وہ بین الاقوانی اٹامک انرجی کمیشن کا صدر مقام بھی ہے!سامراجی اور استعماری گرو گھنٹال نے اپنے صیہونی نوسربازحلیف کا لگایا ہوا مچھلی پکڑنے کا کانٹا طاقت کے زعم اور نشہ سے مغلوب ہوکر نگلا!
ان کا نشہ دوآتشہ ہوگیا تھا اسلئے کہ اس سال کے آغاز کو تین دن ہی ہوئے تھے کہ انہوں نے جنوبی امریکہ کے ملک، وینزویلا، پر چڑھائی کرکے اس کے صدر کو گرفتار کرلیا تھا اور اُسے ہتھکڑیاں پہناکے اپنے ملک لے آئے تھے جہاں اس پر امریکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا!آپ نے غور کیا اس پیش رفت پر کہ ایک خودمختار ملک پر بلا جواز حملہ کیا گیا، اس کے صدر کو اقتدار سے محروم کیا گیا، اسے دنیا کے سامنے بے عزت کرکے اپنے ملک لایا گیا اور اُس پر اِس امریکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا جس قانون کا اس پر اطلاق نہیں ہوتا!دنیا کا کوئی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ کسی خود مختار ملک پر بلاجواز چڑھائی کریں، اس کے صدر مملکت کوگرفتار کرکے اپنے ملک لے آئیں اور پھر اس پر اپنے قانون کا شکنجہ کس لینے کی دھمکی دیں!لیکن المیہ یہ ہے کہ موجودہ امریکی صدر کو طاقت کا ایسا نشہ ہے کہ وہ صرف اور صرف جنگل کے قانون کو مانتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ جس کی لاٹھی اسی کی بھینس!انہیں وینزویلا پر یلغار کرنے کا محرک یہ تھا کہ وینزویلا تیل کی دولت سے مالا مال ہے اور تیل کی صنعت کے ماہرین کا یہ خیال ہے کہ وینزویلا کے تیل کے ذخائرسعودی عرب کے ذخائر سے کہیں زیادہ ہیں۔ اب ان کا سامراجی دماغ انہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تیل کے ان ذخائر پر امریکہ کا حق سب سے اول اور زیادہ ہے کیونکہ ان کی محدود فراست انہیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ چونکہ امریکی تیل کی کمپنیاں جو وینزویلا کا تیل نکالتی تھیں (اور بقول شخصے اس ملک کے عوام کا بھی لغوی معنی میں واقعی تیل نکالتی آئی تھیں) ان کو ان کا استعماری حق دینا موصوف اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔تو اسی جنگل کے قانون پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے ایران کو بھی تر نوالہ سمجھتے ہوئے اس پر یلغار کردی!لیکن موصوف یہ بھول گئے کہ ایران وینزویلا نہیں ہے !اول تو ایران رقبہ میں یورپ کے چار بڑے ممالک، فرانس، جرمنی، انگلستان اور اسپین کے مجموعی رقبہ سے بڑا ہے!پھر ایران کا بیشترحصہ پہاڑی ہے اور صحرائی بھی ہے جوایران کو قدرتی حفاظت عطا کرتا ہے!اور جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ کہ ایران میں آج سے سینتالیس (47) برس پہلے جو اسلامی انقلاب آیا تھا اس نے ایران کو نظریاتی قوت اور اعتماد عطا کیا ہے۔ اور موصوف، استعماری سربراہِ مملکت، اس حقیقت کا یکسر ادراک نہیں رکھتے کہ ایک نظریاتی ملک کو آپ طاقت کے نشہ سے شاید وقتی طور پہ مرعوب کردیں لیکن اس کی نظریاتی بنیادوں کو متزلزل نہیں کرسکتے !ایران کی اساس تو اسلام کا وہ بنیادی تصورِ شہادت ہے جس کی بہترین تعریف خواجہ غریب نواز، سلطانِ مشائخ ہند، کے اس شعر سے ہوتی ہے کہ:
سرداد نہ داد دست در دستِ یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حسین
تو جو قوم اس دولتِ شہادت اور قربانی سے سرشار ہو اسے ہرانا، شکست دینا یا مات دینا کارِ محال ہے!پھر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ ایران ایک عرصہ سے اس بلاجواز حملہ کیلئے تیاری کر رہا تھا!ایران کا اسلامی انقلاب بیسویں صدی کے تین کامیاب انقلابات میں سے ایک ہے۔ بقیہ دو چین اور کیوبا کے انقلابات ہیں۔ چین تو بہت بڑا ملک ہے جو اپنے مخصوص نظریہِ مملکت اور ریاست کی بنیاد پر آج دنیا کی سب سے مضبوط اقتصادی طاقت بن چکا ہے اور اس بنیاد پر دنیا سے اپنا لوہا منوا چکا ہے لیکن آج تک کیوبا کے انقلاب کو ختم کرنا بھی دُنیا کی سب سے مضبوط عسکری طاقت کیلئے ممکن نہیں ہوا!
کیوبا امریکہ کی ریاست فلوریڈا سے محض سو کلو میٹر دور ہے اور امریکہ نے آج پینسٹھ برس (65) ہونے کو آئے کیوبا کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور ہر طرح کی اقتصادی پابندیوں سے اسے جکڑا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود وہ کیوبا کے انقلاب کا بوریا بستر لپیٹنے سے قاصر ہے!
تو ان حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ایران پر جو جنگ مسلط کی گئی ہے وہ ایران کی اسلامی اور نظریاتی بنیادوں کو کوئی گزند نہ پہنچاسکے گی! ایران پر یلغار کرنے کی ایک ضرورت یہ بتائی گئی تھی کہ اس کے ریاستی نظام کو بدل کے اس پر پھر سے شہنشاہیت کو مسلط کردیا جائے اور اس کیلئے ایران کے آخری شہنشاہ، رضا شاہ پہلوی کے فرزند کو، جو سامراج اور استعمار کی گود کا پالا ہوا ہے اور امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کا باسی ہے، متبادل کے طور پہ پیش کیا جارہا تھا۔ لیکن استعماری گماشتہ کا ایران پر حکومت کرنے کا خواب کبھی بھی شرمندہء تعبیر نہیں ہوسکے گا!استعمار کی اسی ضرورت اور ترجیح کے تحت ایران کے رہبرِ اعلیٰ، آیت اللہ خامنائی کو یلغار کا پہلا ہدف بنایا گیا کیونکہ حملہ کرنے والے نادانوں اور طاقت کے نشہ سے چور استعماری گماشتوں کا یہ خام خیال تھا کہ رہبرِ اعلیٰ کی شہادت ایرانی قیادت کو منتشرکردے گی اور حملہ آوروں کے منشور کو حاصل کرنے کا راستہ کھل جائے گا!لیکن ہوا یہ کہ رہبرِ اعلیٰ کی شہادت نے ایرانی قوم کو نہ صرف جذبہءشہادت سے سرشار کردیا بلکہ انہیں قومیت اور وطن پرستی کی قوت سے ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑا کردیا جس کا ثبوت یہ ہے کہ رہبرِ اعلیٰ کے جانشین کو ایک دو دن میں ہی منتخب کرلیا گیا جو شہید خامنائی کے ہی فرزندِ ارجمند ہیں!ایرانی انقلاب کی جڑیں تواس بلاجواز حملہ اور طاغوتی یلغار سے اور مضبوط ہوگئیں لیکن ایران کے پڑوسی عرب ممالک کیلئے مسائل کی یلغار ہوگئی جن میں سرِ فہرست یہ دردِ سر ہے کہ ہر خلیجی ملک میں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں جو اس نازک صورتِ حال میں بلاشبہ ان ممالک کیلئے امتحان بن گئے ہیں!امریکی فوجی اڈے عرب کے متمول ممالک میںرکھنے کا بنیادی جواز یہ تھا کہ وقتِ ضرورت یہ استعمال ہونگے ان ممالک کی حفاظت کیلئے لیکن ان کی آنکھیں تواس نازک گھڑی میں کھلیں جب امریکہ بہادر نے ان ممالک کا دفاع کرنے کے بجائے ان کو ایران کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا اور اپنی تمام تر قوت صرف اور صرف صیہونی ریاست کے دفاع کیلئے مختص کردی!ایران کا یہ موقف چاہے درست نہ ہو کہ پڑوسی عرب ممالک کی سرزمینوں پر قائم امریکی فوجی اڈے اس پر حملہ کیلئے استعمال ہوئے ہیں لیکن ان ممالک کیلئے اپنی بات کو ثابت کرنا بھی معروضی حالات کے پیشِ نظر بہت دشوار ہوگا۔ ان بیچارے ممالک کا تو حال یہ ہے
کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
اب اگر ان ممالک کی قیادت میں تھوڑی بہت بھی فراست ہو، تدبر ہو، تو ان کو امریکی سامراج اور استعمار کے ضمن میں اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی اس حالیہ تجربہ کے عنوان سے تبدیلی لانی ہوگی!ایرانی قیادت سے بھی یہ امید رکھنی چاہئے کہ وہ اپنی اس پالیسی پر زیادہ دیر تک کاربند رہنے پر اصرار نہیں کرے گی، اور اسے جلد ترک کردے گی، کہ ان ممالک کو ہدف بنایا جائے اور ڈرون حملے ان پر جاری رکھے جائیں اسلئے کہ ان کی سرزمین طاغوت کے ایجنڈا کو پوری کرنے کیلئے استعمال ہوئی ہے۔ایران نے اپنے اصولی موقف کو بہترین طریقہ پر ثابت کردیا ہے کہ اس پر جنگ مسلط کی گئی ہے اور وہ صرف اپنے دفاع کیلئے اور اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایرانی قیادت کیلئے یہ سنہرا موقع ہے اپنے عرب پڑوسی ممالک کے دل جیتنے کا اگر وہ اس نازک گھڑی میں فراخ دلی اورذہانت کا ثبوت دے اور عرب ممالک کیلئے گنجائش پیدا کرے کہ وہ استعمار کی قوت پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنے پڑوسی ایران سے مفاہمت کی راہ ہموار کریں اور اپنے خطہ کو استعمار اور طاغوت کے استبدادی منشور کیلئے استعمال نہ ہونے دیں!
وہ جو کہاوت ہے کہ ہر سیاہ بادل کے حاشیہ پرایک روشن لکیر ہوتی ہے جو اس امید کو تقویت بخشتی ہے کہ اندھیرا چھٹنے کو ہے اورروشنی ہویدا ہونے والی ہے۔ ہم نے اسے یوں اپنے ان چار مصرعوں میں باندھا ہے:
دھوپ چھاؤں ہے زندگی کا مزاج
زندگی چاہتی ہے لینا خراج
کشمکش روشنی اندھیرے میں
روشنی ٹہری تیرگی کا علاج !
اللہ کی رحمت سے مسلمان مایوس نہیں ہوتا۔ تو ایران اور اس کے پڑوسی ممالک کو بھی اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کی ضرورت کو اہمیت دینا ہوگی۔ اللہ ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد کرنے پر قدرت رکھتے ہوں۔ حالات کی موجودہ پیش رفت نے ایران اور خلیج کے عرب ممالک کو یہ موقعہ فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے خطہ کوسامراج اور صیہونی یلغار سے پاک کرسکیں۔ دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ اس موقع کو ہاتھ سے نہیں کھونا چاہئے اور صیہونیت کے اس خواب کو خام کرنے کیلئے تیاری کی جائے کہ وہ گریٹر اسرائیل کے منصوبہ کو تکمیل نہ دے سکے۔
سامراج اور استعمار ہمیشہ سے تقسیم کرو اور پڑوسی کو پڑوسی سے لڑاؤ کے فارمولے کو استعمال کرکے کامران رہے ہیں اور اپنے مذموم ارادوں کو کامیابی سے ہمکنار کرتے آئے ہیں۔ قدرت نے اب ان کے اہداف کو غلط ثابت کرنے کاایک سہنرا موقع فراہم کیا ہے۔ اسے ہاتھ سے ہرگز گنوانا نہیں چاہئے۔
تو ہم اس دعا کے ساتھ اس کالم کو ختم کرتے ہیں کہ:
قیادت میں تدبر خشتِ اول ہے ریاست کی
تدبر کا نہ ہونا ناتوانی ہے قیادت کی
نظامِ جبر سے، طاغوت سے کیسے نمٹنا ہے
سمجھتے ہیں وہی جن میں رمق ہو کچھ کرامت کی !



