ہفتہ وار کالمز

دو بے لگام ممالک کی جنگ شکست آثار!

ایران پر اسرائیل و امریکہ کے مجرمانہ حملے جاری ہیں۔جنگ چھ اطراف ( دائیں بائیں آگے پیچھے ،اوپر نیچے)میں پھیلتی جارہی ہے۔ایران کے نئے رہبر بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو پسند نہیں آئے۔ اب وہ ان کو بھی بری نظر سے دیکھ اور پاگل دماغ کے ساتھ سوچ رہا ہے۔ اس سارے خونریز ہنگامے میں ؛ میرا خیال ہے کہ ایران تمام تر نقصانات اور قربانیوں سمیت اپنی بقا کی جنگ جیت رہا ہے ۔یاد رکھنا چاہیئے کہ؛ ایران اس وقت بھی تھا جب امریکہ اور اسرائیل نہیں تھے،اور ایران اس وقت بھی رہے گا، جب امریکہ اور اسرائیل نہیں ہوں گے۔ اس جنگ کے حوالے سے ایران کا ایک واضح موقف اور اصولی پیغام یہ ہے کہ یہ جنگ اسرائیل اور امریکہ نے شروع کی تھی ، اسے ایران تمام کرے گا۔دوسری بات یہ کہ جس ملک کی حدود کے اندر سے ایران پر حملہ کیا جائے گا، ایران اس کا کافی و شافی جواب دے گا۔اور حالیہ جنگ میں اسرائیل نواز فرضی عرب ریاستوں کو یہ جواب ملا بھی ہے،اور خوب ملا ہے۔وہ جو اقبال نے کہا تھا کہ؛
عرب رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے
تو امریکہ کے اشاروں پر رقصاں موجودہ عالم عرب کو ایک اچھا سبق مل گیا ہے۔باقی اسرائیل اور اس کا پالتو امریکہ( اب مالک کی لگام کتے کے ہاتھ میں آ گئی ہے )ضرور چاہیں گے کہ عرب ایران تنازع کو ہوا دی جائے ۔جس کے امکان کو کم یا ختم کرنے کے لیے ایرانی صدر نے مضروب خلیجی ممالک سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مشروط معذرت کا بیان جاری کیا تھا۔معذرت کے اظہار کو معافی خیال کرنے کی بجائے اظہار مروت و محبت شمار کرنا زیادہ بہتر ہو گا۔مجھے اور ایران ،دونوں کو بیک وقت یقین ہے کہ عرب امارات کو سبق مل گیا ہو گا کہ امریکہ کے جن فوجی اڈوں کو یہ ممالک اپنے دفاع کا کفیل سمجھ بیٹھے تھے ، وہ، اگر کوئی منہ نہ بنائے تو میں کفیل کی بجائے ذلیل کہنا چاہوں گا، کیونکہ ان امریکی اڈوں نے عرب امارات کے دفاع کی کفالت کرنے کی بجائے ذلالت و خجالت کا سامان کیا ہے۔ٹرمپ کی صورت اسرائیل کو ایک ایسا بندر میسر آ گیا ہےکہ جس کے ہاتھ میں پکڑا استرا دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ایران تو حملے کی زد میں ہے ،لیکن اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکہ کی بھی کتے والی تو ہو رہی ہے نا۔ٹرمپ پر جتنے بھی جنتر منتر قلعی کلنتر پڑھ لیں ،وہ ایک محب وطن صدر کے طور پر وفات پا چکا ہے۔اگر اسرائیل اور اس کا غلام ملک امریکہ ایران کو غزہ بنانا چاہتے ہیں ، تو ان کو خبر ہو کہ ایسا ممکن نہیں ہے ۔ میزائل مار کر ایک سو ساٹھ ننھی بچیوں کو اسکول کے اندر دوران تعلیم قتل کرنے والا روشن خیال اور انسان دوست امریکہ ایران کو غزہ سمجھ رہا تھا، امریکہ کے اس مجرمانہ فعل نے خود باشعور امریکیوں کے دلوں میں سفید فام مگر سیاہ باطن ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نفرت اور بے زاری کے طوفان بھر دیئے ہیں۔یقینی طور پر وسط مدتی انتخابات میں اس نفرت اور بےزاری کے نتائج سامنے آئیں گے۔ خطے میں اسرائیل اور امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کے درجہ بدرجہ پھیلاو کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ایران اور اس کے ہمسائے عرب ممالک کے مابین کوئی فرقہ وارانہ تفاوت ہے،مسئلہ ظالم اور مظلوم کا ہے۔ اور امر واقعہ یہ ہے کہ خلیجی ممالک اس وقت ظالم کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، دیکھنا ہو گا کہ خلیج کے کن ممالک نے امریکہ کو اپنی جغرافیائی حدد میں فوجی اڈے دے رکھے ہیں اور امریکہ ان فوجی اڈوں سے ایران پر میزائلوں کی برسات اور ہوائی حملے کر رہا ہے ۔ ایران نے پہلے سے اعلان کر رکھا تھا کہ جس ملک میں موجود امریکی اڈوں سے ایران پر حملہ ہوا، ہم جوابی کاروائی کریں گے ،اور وہ انہوں نے نہایت ایمانداری اور بڑے موثر طریقے سے کی ہے۔اب مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ ایران کے جوابی حملوں پر شکوہ گلہ کرنے کا یا آنسو بہانے کا اور دائیں بائیں لوگوں کو شکایتیں لگانے کا کون سا محل ہے ؟ کوئی ایک بیان ابھی تک ایسا میں نے نہیں دیکھا کہ کسی عرب ملک نے اسرائیلی اور امریکی حملے کی مذمت کی ہو ،یا ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہو۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے تمام یہودیوں کو پرامن طریقے سے زندگی گزارنے کا اور رہنے سہنے کا اسی طرح سے حق ہے، جس طرح دنیا کے تمام مسیحوں کو یا جس طرح سے دنیا کی تمام مسلمانوں کو پرامن طور پہ اپنی تنظیم اور ترتیب کے مطابق زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن مجھے کوئی بتا دے کہ اسرائیل کو یہ کس نے اجازت دی ہے کہ وہ ہر لحظہ ہر وقت اپنے آس پاس کے ممالک پر پیہم حملے کرتا جائے؟ ان پر بمباری کرے اور اس طرح اپنی جغرافیائی حدود میں توسیع کرنے کے خواب دیکھے؟ اور پھر یہ کہ اس کے خیال میں جو ملک اس کا دشمن ہے یا اس کے لیے قابل قبول نہیں ہے ،اسے صفحۂ ہستی پر رہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اور امریکہ جو دنیا میں خود کو انسانی حقوق کا علمبردار کہتا ہے انسانی بھلائی کا دعوی کرتا ہے، اور بزعم خود دنیا کے دیگر ممالک کو تمیز ، تہذیب اور ترتیب سکھاتا ہے، اس ملک کا اسرائیل کا پالتو بن کر بیک وقت بھونکنا اور کاٹنا کس قدر حیرت انگیز اور معیوب بات ہے ۔امریکہ کو اس طرح کے تماشے کرنے کا حق کس نے دیا ہے؟ ایک تو میں اب امریکی ووٹرز پر بھی حیران ہوں ۔ میں کبھی بھی یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ امریکی اتنے احمق اور بیوقوف ہو سکتے ہیں کہ وہ ایک ذہنی طور پر معذور شخص کو اپنا صدر بنا لیں۔ اور اب تو ایپسٹیین فائلز میں اس کی بدکرداری کا سارا کچا چٹھا بھی سامنے آ چکا ہے۔ ویسے کس قدر حیرت کی بات ہے کہ وہ امریکہ جو اپنے صدر بل کلنٹن کے اوول آفس کی ایک دفتری اہلکار خاتون کے ساتھ اسکینڈل پر لال مسجد کا مولوی عبدالعزیز بن گیا تھا، اب ایپسٹیین فائلز میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حرکتیں دیکھ پڑھ کر کس طرح سے چپ ہے ،جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ بدکرداری میں اور درندگی میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ لیکن اب اسرائیل کی کامل غلامی میں آنے کے بعد یہ سب کچھ امریکیوں کے لیے غیر اہم ہو گیا ہے؟ میرا تاثر یہ ہے کہ ٹرمپ کو امریکہ اور فاتر العقل قاتل نیتن یاہو کو یہودی کبھی معاف نہیں کریں گے۔ان دونوں نے مل کر نے غزہ میں بچے شہید کیے ،عورتیں شہید کیں، ہسپتالوں پہ حملے کیے ،انہیں ملیامیٹ کر دیا ۔ دنیا بھر خوب احتجاج ہوئے، لیکن بے حس مجرموں پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ اب انہوں نے ایران میں ایک سکول پر میزائل حملہ کر کے 160 ننھی طالبات سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا ہے اور اس مذموم فعل پر کوئی شرمندگی ، کوئی افسوس نظر نہیں آ رہا۔ انسانی حقوق کی کسی تنظیم نے کوئی احتجاج نہیں کیا، کوئی ملک بلبلا نہیں اٹھا. جبکہ جنگ ابھی جاری ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button