ہفتہ وار کالمز

جنگ جاری ہے!!

جنگ کی ایک تعریف یہ بھی کی گئی ہے کہ طاقت ور کمزور کو ملیامیٹ کر دینا چاہتا ہے اور جو بھی کمزور کی ملکیت ہے اس کو ہڑپ کر لینا چاہتا ہے یہ ذہنیت فیوڈل ذہنیت ہے پرانے زمانے میں زر اور زمین کی خاطر یہ رویہ اختیار کیا جاتاتھاجب ملکوں پر حملہ کیا جاتا تھا تب بھی ہوس زر اور زمین کی ہی ہوتی تھی محمود غزنوی نے اس بات کو بار بار ثابت کیا اسی لئے اسے ہم لٹیرا کہتے ہیں،1398میں تیمور نے ہندوستان پر حملہ کیا تغلق سلطنت کا تیا پانچہ کیا اور بے دردی سے دہلی کو لوٹا،1739 میں نادر شاہ نے مغلوں کو شکست دی، دہلی کو تاراج کیا اور شدید قتل و غارت گری کی تواریخ میں لکھاہے کہ نادر شاہ نے اپنی تلوار زمین میں گاڑ دی اور کہا جب تک خون تلوار کے دستہ کو نہیں بھگوتا اس وقت تک قتل زنی جاری رہے گی،اس وقت دہلی کے کچھ سر بر آوردہ لوگ نادر شاہ کے پاس آئے اور کہا کہ تو اگر خدا ہے تو ہم تجھے خدا ماننے کو تیار ہیں یہ خون خرابہ بند کردو،نادر شاہ نے کہا کہ میں خدا نہیں خدا کا قہر ہوں،ہلاکو اور چنگیز خان کاذکر بھی تاریخ میں موجود ہے کچھ حملہ آور تو ایسے گزرے ہیں جنہوں نے ملکوں پر حملے کئے آ ٓندھی کی طرح آئے لوٹ مار کی اور چلے گئے اور مورخ سوچتا رہا کہ آخر ان حملوں کا مطلب یا مقصد کیا تھاجواب نہ مل سکا،کارلائل نے عمر کے ایران کے حملے پر بھی اعتراض اٹھایا ہے کہ عرب قرآن لے کر تو ایران آئے نہیں تھے اس وقت تک قرآن کی تدوین ہوئی بھی نہیں تھی تو ایران کیا پیغام لے کر گئے تھے کارلائل یہی نتیجہ نکالتا ہے کہ مقصد ایران پر قبضہ کرنا تھا،بہر حال سلطنتوں کو تاراج کرنے کا مقصدعلاقے پر قبضہ کرنا اور دولت کا حصول ہی تھا ،مغرب میں بھی یہی ہوتا رہاانگلینڈ میں ٹیوڈر خاندان کا سارا زمانہ جنگوں میں ہی گزرا،جدید دور میں ہم نے جنگ عظیم اوّل اور جنگ عظیم دوم دیکھی ان دونوں جنگوں میں بے تحاشا خون بہا اتنا خون بہا کہ آخر اقوام متحدہ بنائی گئی جنگیں ہوتی رہی ہیں جنگیں ہوتی رہیں گی مگر دکھ یہ ہے کہ جنگیں ملک اپنے اپنے مفاد کے لئے لڑتے ہیں مگر خون انسانوں کا بہتا ہے افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک ملک کا سپاہی دوسرے ملک کے سپاہی کو مار دیتا ہے کیونکہ اس کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ تمہارا دشمن ہے جب کہ دونوں ایک دوسرے سے آشنا بھی نہیں ہوتے ان کی آپس میں دشمنی بھی نہیں ہوتی،یہ سیاست دان ہیں جو جنگ کےذمہ دار ہیں انہی سیاست دانوں نے یہ فلسفہ گھڑا ہے کہ A soldier is born to kill.،جنگ کی نفسیات پر بھی بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیںایک کتاب Grab Hooperکی ہے اس نے لکھا ہے کہ مہذب ممالک میں جنرلز جنگ کا فیصلہ نہیں کرتے جنگ کرنے کا فیصلہ سیاست دان کرتے ہیں سیاست دان بھی انسان ہوتے ہیں پڑھ لکھ کر مہذب ہو جاتے ہیں عقل اور دانش مندی بھی آجاتی ہے مگر ان کی اپنی سائیکی ہوتی ہے،کون جانے کہ وہ اپنے کس ہمسائے کو پسند کرتا ہے کس کو نہیں،کتابوں نے اس کے ذہن سے کس کا بغض نکال دیا ہے کس کا باقی رکھا ہے اس کاانحصار اس بات پر بھی ہے کہ اس کا Political Environment کیسا ہے یا اس نے ذاتی طور پر اپنے ذہن میں کن تعصبات کو پنپنے کا موقع دیا ہے امریکہ کی سیاست کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ Democratsعام طور پر ملک کی معاشی حالت کو بہتر بناتے ہیں اور Republicansخارجہ امور پر توجہ دیتے ہیںاور جنگوں کے شوقین ہوتے ہیں،Hooper کے نظریات کا اطلاق زیادہ تر تیسری دنیا کے سیاست دانوں پر ہوتا ہے،ایسی مخاصمتیںایشیا میں زیادہ دیکھی گئیں مثلاً بھارت اور پاکستان میں وہی سیاست دان عوام میں جگہ بنا پاتا ہے جو دوسرے ملک سے بغض رکھتا ہو،بہت دیانت داری سے اگر پاکستان کے سیاست دانوں کی بات کی جائے تو بھارت کو اپنا ازلی دشمن کہتے ہیں اور بھارت کے سیاست دان اکھنڈ بھارت کی بات کرکے پاکستان کے وجود سے ہی انکار کر دیتے ہیںاور پاکستان میں تھرتھری پڑ جاتی ہے کاش ایسا ہو کہ بھارت اور پاکستان دوست بن جائیں اور دونوں ملک دفاع پرخرچ کرنے کی بجائے اپنے عوام کی تعلیم،صحت، کھیلوں اور Human Developementپر خرچ کریں کشمیر پر بات جاری رکھیںآج ایران امریکہ جنگ کو دسواں دن ہے جنگ میں بارود آگ لگاتا ہے آگ برستی ہے،بچے بزرگ عورتیںاس آگ کا ایندھن بنتی ہیں پراپرٹیاں تباہ ہوتی ہے نجی املاک جو افراد نے بڑی محنت سے بنائی ہوتی ہیں تباہ ہو جاتی ہیں ایسا نہیں کہ اس جنگ میں ایران میں ہی معصوم لوگ مارے جارہے ہیں اس آگ میں یہودی بچے اور عورتیں بھی آگ میں جلتے ہیںایرانی اور اسرائیلی عوام کا کوئی قصور نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ اس جنگ میں اسرائیل جارح ہے تو ظاہر ہے اس کے تمام جنگی اقدامات ایران کی بربادی کا سبب بن رہے ہیں ایران اسرائیل Rivaliryپرانی ہے بہت سی دوسری باتوں کے علاوہ اسرائیل کا ایران سے فلسطین کے معاملے پر جھگڑا ہے اسرائیل سمجھتا ہے کہ ایران اس کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے اسرائیل نے غزہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا امریکہ اس کے ساتھ ساتھ رہا برطانیہ فرانس اور یورپی یونین بھی مدد کرتے رہے غزہ تباہ کرنے کے آخری مراحل میں اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا تھا اب پھر امریکہ کی ملی بھگت سے حملہ ہو گیاایران اس وقت بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتا رہا اور اب بھی جوابی وار کر رہا ہے ایران اس وقت دو بڑی طاقتوں کے نبرد آزما ہے اور اپنی مفلسی کے باوجود اس نے انتہائی پا مردی سے مقابلہ کیا ہے اسرائیل کی تباہی بھی ہوئی ہے اس قدر زیادہ کہ اسرائیل نے میڈیا کو اس کی covrageسے روک دیا ہے نہ تصاویر بنائی جا سکتی ہیں نہ ویڈیوز بنائی جا سکتی ہیں اور نہ ہی اس تباہی کو نشریات کا حصہ بنایا جا سکتا ہے اس کا مطلب ہے کہ وار کاری ہوا ہے ایران نے امریکی اہداف کو چن چن کر نشانہ بنایا ہے اس کے بہت قیمتی ریڈار سسٹم بھی تباہ کر دیئے گئے،امریکہ کی جانب سے شدید حملے جاری ہیں تہران،قم،اور اصفہان کھنڈرات کا نقشہ پیش کر رہے ہیںخبر یہ بھی تھی کہ امریکہ کی بمباری سے ایران کی میزائیل بنانے کی ایک سائٹ تباہ ہو گئی آج صبح ایران کے تیل کے ذخائر کو اسرائیل نے نشانہ بنایا اور وہاں آگ ہی آگ تھی، ڈاکٹر شاہد مسعود GNNپر پروگرام پیش کرتے ہیں وہ بتا رہے تھے کہ ابراہام لنکن کو خاصا نقصان پہنچا ہے اس لئے وہ پیچھے چلا گیا ہے اس دوران ایران نے دعوی کیا ہے کہ اس نے کئی امریکی فوجیوں کو گرفتار کر لیا ہے اور اس خبر کی تصدیق امریکی میڈیا نے بھی کی کہ سات امریکی فوجی مارے گئے ہیں ایران کے صدر پزشکیان نے خبر دی تھی کہ دو سو امریکی مارے گئے ہیں مگر باخبر ذرائع نے اس بات کی تصدیق نہیں کی،امریکی صدر ٹرمپ کی کسی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا صدر ٹرمپ بھی شائد Unpridictableہیں ان کے بیانات میں شفافیت نہیں گزشتہ روز ٹرمپ نے ایک طویل پریس کانفرنس کی کہا کہ ہم جنگ کے خاتمے کی طرف جا رہے ہیںانہوں نے کہا کہ ایران کے ڈرون حملوں میں 83%اور میزائل حملوں میں 90% کمی آگئی ہے ہم نے ایران کے 47بحری جہاز ڈبو دیئے ہیں ذرائع نے اس بات کی تصدیق نہیں کی نہ ہی کوئی ویڈیو جاری کی گئی ایک مبصرKurt Carlsonکے مطابق امریکہ کے پاس اسلحہ کا ذخیرہ کم ہو گیا ہے ٹرمپ نے خود کہا کہ ہمارے پاس سستےReceptorsموجود ہیں مگر یہ ابھی تک خلیجی ریاستوں کے ہاتھوں میں نہیںکہا جا رہا ہے کہ امریکہ کے خلیج کے ہر ملک میں اڈے تھے دفاعی معاہدے بھی تھے مگر امریکہ ان کا دفاع کرنے میں ناکام رہا اب خلیجی ممالک موجودہ معاشی حالات کے تحت امریکہ سے اپنی سرمایہ کاری نکالنے کی بات کر رہے ہیں یہ امریکہ کے لئے بڑا دھچکا ہوگااب خلیجی ممالک کو ایران کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے سینٹ کام نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے خلیجی اڈوںکو ایران پر حملوں کے لئے استعمال کیا،عباس عراقچی نے کہا کہ اب کوئی ہم سے شکایت نہ کرے،ٹرمپ نے صورتِ حال کی ذمہ داری مارک روبیو،ہیسگیتھ اور اپنے داماد پر ڈال دی ہے کہ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ اگر ہم نے ایران پر حملہ نہ کیا تو ایران ہم پر حملہ کر دے گاسپر پاور کے صدر کا یہ بیان ان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے سوال یہ ہے کہ سی آئی اے اور پینٹاگوں کہاں تھی،لگتا ہے کہ اسرائیل کے دباؤ میں یہ جنگ بغیر کسی منصوبہ بندی کے لڑی گئی اور اب تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معاشی انحطاط کی وجہ سے ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن سے بات چیت کو اپنی Face Savingبنا لیا ہے امریکہ نے ایران کے بارے میں غلط اندازے لگائے ایران میں رہبرِ معظم کا انتخاب بھی ہو چکا ہے جو ایک Hard Linerسمجھے جاتے ہیں اور پوری ایرانی قوم ان کے پیچھے کھڑی ہے،مشرقِ وسطیٰ میں اب نئی صف بندی ہوگی شائد امریکہ پر انحصار کم ہو روس اور چین کے رول میں اضافہ ہو پاکستان کا بھی فائدہ ہو سکتا ہے،ٹرمپ کو ہر محاذ پر سبکی کا سامنا ہےاگر وہ مڈ ٹرم ہار گئے تو ان کو خدشہ ہے کہ ان کا مواخذہ ہوگاجو امریکی سیاست میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگاٹرمپ کی ٹیرف پالیسی بھی منہ کے بل گر چکی،ہر چند کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کے اشارے مل رہے ہیں کیونکہ امریکہ کے جنگی اخراجات بہت بڑھ چکے مگر ایران کی جانب سے مختلف اشارے مل رہے ہیں ایک ایرانی صحافی حسین باقری نے ایک نیوز چینل کا بتایا کہ ایران جنگ کو طول دے گا تاکہ امریکہ اور اسرائیل کے جنگی اخراجات ان کے لئے مشکلات کا باعث بنیں، عالمی معیشت پر دباؤ بڑھے اور امریکہ کی جانب سے یہ جو vicious cycle بن چکا ہے کہ یہ جو ہر دو سال کے بعد حملے کر دیتا ہے وہ بند ہو جائے اور مشرقِ وسطیٰ اپنی American Based politics پر نظرِ ثانی کرے،مغرب کو روس نے تیل کی فراہمی کی پیشکش کی ہے ہمارا خیال ہے کہ جب بھی یہ جنگ بند ہوگی اس کے بعد بہت سی چیزیں تبدیل ہو جائیں گی مگر ابھی جنگ جاری ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button