ہفتہ وار کالمز

 ایران پر حملہ کیوں ہوا؟ جیفری ایپسٹین کے کارنامے

صاحبو۔ یہ ایران پر جنگ کس نے مسلط کی؟ امریکی کانگریس اور سینیٹ کے کچھ ارکان کہہ رہے ہیں کہ ایران نے کبھی امریکہ کو دہمکی نہیں دی۔اب تو عام اہلکاراور عوام بھی کہہ رہے ہیں کہ امریکہ نے کیوں ایران پر حملہ کیا؟ امریکی وزیر جنگ کے منہ سے نکل گیا کہ اسرائیل کی وجہ سے امریکہ کو بھی جنگ میں کودنا پڑا۔جنگ اسرائیل نے شروع کی۔ اب ایک مزے کی بات سنئیے۔
اسرائیلی ربائی سولومن بلیکسٹون ایک وڈیو میں کہہ رہے ہیں، ’’انہوں نے صرف دو دنوں کے اندر دو جنگیں شروع کروا دیں جن کا مقصد ایک تھا کہ کسی طرح اپسٹین کی فائلوں کو دفنا دیا جائے۔ یہ صرف یہودیوں کو پتہ ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ وقت کی ٹائم لائین ہے جو لوگ دیکھ نہیں رہے۔ فروری 19کوانگلینڈ کے شہزادے انڈریو کو ایپسٹین کے ساتھ تعلق رکھنے پر گرفتار کیا گیا۔فروری 24 کو بل گیٹس نے اپسٹین کے ساتھ میل ملاپ رکھنےپر معافی مانگی۔فروری 26 کوہیلری نے کانگریس میں اپنی صفائی پیش کی اور ورلڈ اکنامک فورم کے صدر نے استعفیٰ دے دیا۔فروری 27کو بل کلنٹن نے کانگریس کی کمیٹی میں اپنی وضاحت دی۔ان سات دنوں میںتاریخ کا اس سب سے بڑے سکینڈل کا بھانڈا پھوٹا۔اور اسی دن پاکستان نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔اس سے اگلے دن امریکہ (اسرائیل) نے ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کر دیا۔ یعنی دو دنوں میں دو جنگیں شروع ہوئیں،یہودی کہتے ہیں آپ سکینڈلز کو اس طرح غائب نہیں کر سکتے لیکن ان کو جنگوں میں دفنا سکتے ہیں۔سارا ہفتہ ایپسٹین خبروں کی سرخیاں بنا رہا۔اور اب ہر کوئی دھماکے دیکھ رہا ہے، اور کوئی بھی کلنٹن اور بل گیٹس کی بات نہیں کر رہا ہے۔اب اس میں شبہ وا لی بات ہے، کہ جس دن ایران کی جنگ شروع ہوئی،Open AI کو پینٹا گون سے بلینز ڈالر کا معاہدہ دیا گیا۔اسکا مالک کون ہے؟ بل گیٹس کی کمپنی مائکرو سافٹ۔منگل کے دن بل گیٹس نے ایپسٹین کے ساتھ تعلاقات پر معافی مانگی اور جمعہ کو دیفنس کا تاریخ میں سب سے بڑا کنٹریکٹ اسے دے دیا گیا۔طاقت ایسے کا م کرتی ہے۔ سات دنوں میں سات لوگوں کا پردہ چاک ہو گیا۔دو دنوں میں دو جنگیں شروع کی گئیں۔جب آپ جنگ کی کاروائی دیکھ رہے تھے، گیٹس کو ڈیفنس کا کانٹریکٹ دیا جا رہا تھا۔پرنس اینڈریو کو آزاد کیا جا چکا تھا اور اشرافیہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔زیادہ لوگ ان خبروں کہ علیحدہ دیکھ رہے تھے، یہودیوں کے لیے یہ ایک ہی کہانی کی لڑیاں تھیں۔وہ نہ صرف میڈیا پر قابض ہیں ، خارجہ حکمت عملی بھی وہی بناتے ہیں اور وہی بتاتے ہیں کہ کس کو کس طرح بچانا ہے اور کس کا بھانڈا پھوڑنا ہے۔اتنے بااثر لوگوں کو کیسے قابو میں کیا جائے؟یہ تو نہیں ہو سکتا، لیکن آپ ان کی حیثیت اور طریق کار کو پہچان سکتے ہیں۔ یہ نہ سوچیں کہ سکینڈلز سے ان کو گرایا جا سکتا ہے، ہمیشہ یاد رکھیں کہ وہ افرا تفری سے کیسے فائدہ اٹھا تے ہیں۔اور بھی مضبوط ہو جاتے ہیں۔البتہ اگر آپ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں کہ یہ کھیل کیسے کھیلا جاتا ہے،تو اپنے آپ کو باقیوں سے پہلے تیار کر لیں۔۔۔‘‘
سولومون بلیک سٹون غالباً سرمایہ کاری کی کمپنی چلاتے ہیں۔ان کی ساری باتیں تو صحیح لگتی ہیں سوائے اس کے کہ ایرانی لیڈر کو کس نے مارا؟ اس کا سہراتو اسرائیل نے پہلے دن ہی اپنے سر لے لیا تھا۔سلیمان بھائی اسرائیل کو بچانا چاہتے ہیں۔البتہ جہاں تک ایپسٹین کا تعلق ہے، وہ سولہ آنے سچ معلوم ہوتا ہے۔کہتے ہیں کہ ابھی ایپسٹین کی وہ فائیلں اور فوٹو گراف جن میں ٹرمپ بھائی کی کمسن لڑکیوں کے ساتھ حرکات دکھائی گئی ہیں، وہ روک لی گئی ہیں۔ کیونکہ بھائی نے ایران پر جنگ جو مسلط کر دی۔ اگر نہ کرتے تو ان کے ساتھ وہ حشر ہوتا کہ کہیں منہ چھپانے کے قابل نہ رہتے۔
ہمارے پاکستانی قارئین کو شاید یہ تجسس ہو کہ جیفری ایپسٹین کون ہے اور کیوں اتنا با اثر ہے، تو ان کی اطلاع کے لیے یہ مختصر سوانح پیش خدمت ہے۔
جیفری ایپسٹین ایک متمول امریکی یہودی تھا جسےاسرائیل نے بڑی شخصیات کو گندے کاموں میں الجھا کر ان کی تصاویر بنانا اور ثبوت اکٹھے کرنے کے لیے چنا تھا، تا کہ وہ جب ضرورت ہو ان کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کر سکے۔(یہ کام پاکستان میں بھی ایک سیاستدان کی بیٹی کرتی ہیں)۔یہ حضرت تھے کون؟
لاہوریوں کی زبان میں ایسے شخص کو طوائفوںکا دلہ کہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ یہ نہ صرف نوجوان لڑکیوں کو اغوا کرتا تھا اور کرواتا تھا، پھر ان کو بڑی شخصیات کو پیش کرتا تھا۔یعنی یہ بذات اونچے طبقہ کا دلال تھا۔مصنوعی ذہانت کی رپورٹ کے مطابق، جیفری 20جنوری 1953کو بروکلین نیو یارک کے ایک محنت کش یہودی گھرانے میںپیدا ہوا۔ اس نے ہائی سکول پاس کرنے کے بعد کالج میں پڑھا لیکن کوئی ڈگری نہیں لی۔ اس نے ایک ساتھی طالب علم کو متاثر کر کے بیر سٹرن کمپنی میں ملازمت کر لی۔ترقی کر کے پارٹنر بن گیا لیکن بے ضابطگی کے الزام میں نکالا گیا۔ 1982میںاس نے پھر اپنی کمپنی بنا لی جس میں صرف ان لوگوں کی سرمایہ کاری کرتا تھا جو ایک بلین ڈالرلگا سکتے تھے۔ اس کی جائدادیں نیو یارک، فلوریڈا، نیو میکسیکو، یو ایس ورجن آئیلینڈ میں ایک جزیرے لٹل سینٹ جیمز میں جہاں اس کی ایک عالیشان عمارت تھی۔ اس نے بڑی شخصیات کے ساتھ روابط رکھے جن میں بل کلنٹن، پرنس اینڈریو، شامل تھے۔کچھ صحافیوں کا کہنا تھا کہ اس کی سرمایہ کاری کی کمپنی میں شفافیت نہیں تھی۔
جیفری جنسی ٹریفک میں ملوث تھا اور قانون ساز یہ جانتے تھے۔ 2008میں ایک 14سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کے جرم میں پکڑا گیا لیکن انتہائی مشتبہ سودے بازی میں وہ 13ماہ کی قید کے بعد رہا ہوگیا۔یہ مقدمہ یو ایس اٹارنی میامی کے دفتر سے وفاقی قانون کے تحت ہوا۔لیکن بجائے اس کے کہ مقدمہ فیڈرل عدالت میں چلتا، ایپسٹین نے فلوریڈا کے مقامی اہلکاروں سے ساز بازکر لی جس کے تحت اس نے قبول کر لیا کہ وہ اس بات کا مجرم ہے کہ وہ دلہ تھا، اور کمسن لڑکیوں کو بطور طوائف مہیا کرتا تھا۔اس کو صرف 13 مہینے کی سزا ملی اور وہ بھی ایسے کہ اسے جیل سے باہر رہ کر رفاہ عامہ کے کسی ادارے کے ساتھ رضا کارانہ کام کرنا پڑا۔ اس معاہدے کے تحت اُسے اور اس کے شریک ملزموں کو کھلی چھٹی مل گئی۔ لیکن اس ڈیل پر بے تحاشا تنقید ہوئی، کہ یہ جیل کیوں اتنی فراخ دلانہ تھی، جب کے اس پر الزامات کے واضح ثبوت موجود تھے۔
جولائی 2019میں وفاقی جنسی ٹریفکنگ کے الزام میں ایپسٹین دوبارہ گرفتار ہوا، جب اس کے بارے میں 2005۔2002کے وقت کی حرکات منظر عام پر آئیں۔ایپسٹین کو فلوریڈا اور نیو یارک میں، قانون کے مطابق،رجسٹرڈ، کم عمر بچیوں کے ساتھ زنا کار ی کا مجرم تا حیات رکھا گیا۔جولائی 2019کی حراست ایپسٹین پر الزام لگایا گیا تھا کہ جنسی بردہ فروشی میں ملوث تھا اور وہ کم از کم چالیس کم عمر لڑکیوںکو اپنے عالیشان گھر میں لانے کی کوشش کر رہا تھا تا کہ ان پر جنسی حملے کروا ئے ۔عد التی کاروائی میں اس پر الزام لگایا گیا کہ وہ کمسن لڑکیوں کو جن میں کچھ 14 برس کی تھیں، ان کو پھانستا تھا۔ ان کو جنسی تعلقات پر معاوضہ دیا جاتا تھا۔کچھ سے کہا جاتا تھا کہ وہ اوروں کو لائیں۔اس کا یہ ادارہ باقاعدہ جنسی اڈا تھا۔
یہ انکشاف ہوا کہ ایپسٹین کے پاس ایک بوئینگ 727 جیٹ تھا جس میں وہ کم عمر مہمانوں کو لاتا لے جاتا تھا۔اس نے کسی دوسرے نام سے آسٹریا کا جعلی پاسپورٹ بنو ارکھا تھا ، جو 1987 میں ختم ہو گیا تھا۔
10اگست 2019میں جب وہ مقدمہ کی پیروی میں جیل میں تھا، وہاں ہی مردہ پایا گیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس نے گلے میں پھندہ ڈال کر خود کشی کی لیکن اور بھی بہت سی چہ میگوئیاںہوئیں۔ایک افواہ یہ بھی ہے کہ وہ مرا نہیں۔ اسےاسرائیل لے گئے تھے۔اس سے کچھ عرصےپہلے وہ اپنے جیل کے کمرے میں بے ہوش پایا گیا اور اس کی گردن پر ضربوں کے نشان تھے۔ اس کا ساتھی قیدی جو پولیس افسر تھا، اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے اپسٹین کو زد و کوب کیا۔جب پولیس نے ایپسٹین سے پوچھا تو اس نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔اس کے بعد سے اس کو خودکشی کے خواہشمندوں کی لسٹ میں ڈال دیا گیا۔لیکن چھ دن کے بعد اس کو اس لسٹ سے نکال دیا گیا اور ایک دوسری بلڈنگ میں منتقل کر دیا گیا۔لیکن اس پر دم مرگ تک پہرہ سخت کر دیا گیا۔19گست کی رات جیل گارڈ نے ہر آدھ گھنٹے چیک کرنے کے قوائدپر عمل نہیں کیا۔ جو دو گارڈ اس کی دیکھ بھال کے لیے مقرر تھے وہ تین گھنٹے کے لیے سو گئے۔اس کے کمرے کے باہر جو کیمرے نصب تھے انہوں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا۔ 10 اگست کو ایپسٹین نے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کر لی۔ اس کی لاش صبح ساڑھے چھ بجے پائی گئی، ڈاکٹر کے مطابق، وہ چند گھنٹے پہلے سے مرا ہوا تھا۔ 29اگست کو جج نے اس کے مرنے کی وجہ سے مقدمہ خارج کر دیا۔لیکن اس کے مرنے کے واقعات مشتبہ تھے۔جو وڈیو تھی وہ بھی کہا گیا کہ تبدیل کی گئی تھی۔اسی وڈیو میں پتہ چلتا تھا کہ کوئی اس کے کمرے میں داخل نہیں ہوا۔ اگر کسی نے اس کو پھانسی دی تو یہ بھی ممکن ہے۔2023 کے اواخر میں اور 2024کے شروع میں، ہزاروں صفحات کی فائیلیںجو عدالتی حکم کے باعث ضبط تھیں انہیں ظاہر کر دیا گیا جن میں 150سہولت کاروں کے نام شامل تھے۔ سن 2025 کے اواخر میں ایپسٹین فائلز کی شفافیت کا قانون پاس کیا گیا جو تمام فائلوں کے افشاء کا حکم دیتا تھا۔ایپسٹین کی دیرینہ سہولت کار خاتون، غزلین میکسویل، جنسی بردہ فروشی کے جرم میں 2021میں مجرم قرار دی گئی اور اس کو 20سال کی سزا ملی اور وہ اس وقت تک زندان میں ہے۔
پرنس اینڈریو اور بل کلنٹن کے علاوہ جو بڑی شخصیات اس کے محور میں تھیں ان میںڈونلڈ ٹرمپ، کیٹی کورک ،ووڈی ایلن اور ناروے کی کرائون پرنسیس شامل تھے۔ان سب کادستاویزی ثبوت جن فائیلوں میں تھا، نومبر 2025میں ان کو پبلک کر دینے کا قانون پاس کیا گیا ۔ ایپسٹین کی ای میلز کے 20,0000صفحات کو منظر عام پر پیش کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے ساتھ اس کے تعلقات 2000 میں ختم ہوئے۔ اگرچہ صحافی نہیں جانتے کہ کیوں۔ٹکر کارلسن کاخیال ہے کہ ایپسٹین ایک جاسوسی کا اثاثہ تھا۔ اور میگی کیلی کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی ایجنسی موساد کے لیے کام کرتا تھا۔سیاسی لحاظ سے وہ ڈیمو کریٹک پارٹی کی حمایت کرتا تھا۔ اور اپنی پبلک لائف میںشہرت کی خاطر کچھ بڑی یونیورسٹیز میں پروگرام چلوائے۔ایپسٹین کی شخصیت کے کئی رخ تھے۔ وہ ایک بزنس مین بھی تھا، مخیر بھی اور تعلیم کے لیے امداد دینے والا بھی اور جب کہ اس کا اصل پیشہ کمسن لڑکیوں کی دلالی تھا۔
کانگریس نے ایک نیا قانون بنایا جس سے ایپسٹین سے متعلق لاکھوں دستاویزات کو منظر عام پر لایا گیا۔ جنوری30، سن 2026 تک تیس لاکھ دستاویزات منظر عام پر آ چکی تھیں جن میں کچھ تصاویر اور وڈیو بھی تھیں۔لیکن اکثر میں سے کچھ کو چھپایا بھی گیا کہ لوگوں کی ذاتی معلومات افشا نہ ہوں۔ اس کی قانون اجازت دیتا ہے۔
ایک جریدے نیو نیشن کے مطابق، ایسی کہانیاں جو ایپسٹین کو بیرونی دنیاکا جاسوس قرار دیتی ہیں، خاصی شہرت پا رہی ہیںجب سے محکمہ انصاف اور ایف بی آئی نے اس کیس سے متعلق ثبوتوں کو مہیا کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔اس حکم نے صدر ٹرمپ کے حمائیتیوں میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ٹکر کارلسن (ٹی وی تجزیہ کار) اور میگن کیلی جن کے وسیع حلقہ ناظرین ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایپسٹین اسرائیلی ایجنسی موساد کا آلہ کار تھا۔ ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کانفرنس میں کارلسن نے کہا : ’’یہ ہر ناظرکو بالکل ظاہر ہے کہ اس شخص کے بیرونی حکومت کے ساتھ براہ راست تعلقات تھے، لیکن یہ کہنے کی اجازت نہیں کہ وہ ملک اسرائیل ہے‘‘۔
ـ’’ڈراپ سائٹ نیوز ‘‘میں ایک نیا سیریز شرو ع ہوا ہے جس میں ایپسٹین کی اسرائیل کی سراغرساں ایجنسی سے روابط کو دیکھا گیا ہے۔ اور کس طرح اس نے موساد کے لیے بے شمارڈیل کیں۔ڈراپ سائٹ نے انکشاف کیا کہ ایپسٹین نے اسرائیل اور منگولیا کے درمیان ایک سیکیورٹی معاہدہ بنانے میںمدد دی۔ اور شام کی خانہ جنگی میں، اسرائیل اور روس کے درمیان رابطہ کی راہ ہموار کی۔ڈراپ سائٹ نیوز کے مرتضیٰ حسین کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کےاسرائیلی خفیہ محکمے، امریکن خفیہ محکمے اور دوسرے ممالک کے خفیہ محکموں سے روابط تھے۔وہ اونچی سطح پر معاملات کو حل کرتا تھااور ڈیل کرواتا تھا۔ ڈیموکریسی نائو کی ایمی گڈمین کی (War and Peace Report) میں بتایا کہ وہ ایک نیا سیریز شروع کر رہے ہیں جس میں ڈراپ سائٹ ایپسٹین کی اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے ساتھ روابط پر روشنی ڈالیں گے اور کس طرح اس نے خفیہ طریقے سےاسرائیلی ایجنسی کے لیے ڈیلز بنائیں۔ سی این این نے انکشاف کیا کہ ایپسٹین نے گذشتہ پندرہ سالوں میں کئی بار ڈونلڈ ٹرمپ کا نام اپنی نجی ای میلز میں کیا۔ان ای میلز میں ایپسٹین نے بتایا کہ ٹرمپ نے ایک عورت کے ساتھ بہت وقت گذارا جو ایپسٹین کی بردہ فروشی کی شکار تھی۔
قارئین۔ اب آپ سمجھ گئے ہونگے کہ کس طرح ایپسٹین کی لی ہوئی تصویریں ، ٹرمپ کے لیے ایک ایسا عذاب بن گئی ہیں کہ اُسےاسرائیل کی ہر بات ماننی پڑ رہی ہے۔ یہی نہیں امریکہ کی کانگریس، وفاقی حکومت اور وہائٹ ہائوس پر بھی اسرائیلی حمائیتیوں کا قبضہ ہے۔بات بلیک میلنگ سے بہت آگے چلی گئی ہے۔جانے نہ جانے امریکن نہ جانے ،باغ تو سارا جانے ہے۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button