رمضان میں اللہ کو منا لو !

رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں مجھے حضرت بہلول دانا کے تاریخی واقعے نے بڑی دیر تک نمناک آنکھوں کے ساتھ افسردگی میں رکھا تاریخ آگاہی دیتی ہے کہ ہارون الرشیدکا اپنے دستے کے ہمراہ بازار سے گزر ہوا تو اچانک دستے میں شام ایک ہاتھی رک گیا ہارون نے رکنے کی وجہ پوچھی تو سپاہیوں نے بتایا کہ حضور سڑک کے بیچ میں حضرت بہلول بیٹھے ہیں تو ہارون نے حکم دیا کہ ہاتھی کو بٹھادو اور خود بہلول کے پاس جا کر بیٹھ گئے دیکھا کہ وہ زمین پر لکیریں لگا رہے ہیں اور مٹا رہے ہیں پوچھا بہلول آج ویرانے چھوڑ کر بازار میں کیا کررہے ہو بہلول نے جواب دیا کہ مالک اور مخلوق کی صلح کروا رہا ہوں مالک تو صلح کے لئے راضی ہے مگر مخلوق راضی نہیں ہو رہی کچھ عرصہ گزرا تو ہارون الرشید نے دیکھا حضرت بہلول قبرستان میں بیٹھے لکیریں کھینچ رہے ہیں تو پوچھ بیٹھے یہاں کیا کرہے ہو ؟بہلول نے روتے ہوئے جواب دیا کہ یہاں بھی صلح کر وا رہا ہوں ،مخلوق تو مالک سے صلح ،راضی نامہ کرنے کے لئے تیار ہے مگر مالک راضی نہیں ہو رہاہے سارے مہینوں کی افادیت اپنی جگہ لیکن رمضان المبارک میں سارے جہانوں کا پروردگار ،رب ذوالجلال و الاکرام اپنی رحمتوں کو مخلوق پر نچھاور کرتا ہے تو مخلوق کو بھی چائیے کہ وہ اُس کے سامنے سر بسجود ہو کر اُس کے فضل و کرم سے جھولیاں بھرتے ہوئے اپنی عاقبت کو سنوارے اور اللہ کی رحمتوں سے مستفید ہو کر جنت میں اپنی جگہ بنائے اللہ تبارک و تعالی،غفور الرحیم ہمارا اللہ تو مخلوق کے بڑے بڑے گناہوں کو ایک چھوٹی سی نیکی کے عوض مٹانے پر قادر ہے تو پھر جب زندگی میں اُس رب ِ کریم کی مرضی سے ہمیں اتنے مبارک مہینے میں سانسیں لینے کی مہلت ملی ہے تو ہم کیوں نہیں اپنی عاقبت کا سوچتے ؟ہم کیوں دنیا کے دھندوں میں الجھ کر اللہ کی یاد سے غافل ہو رہے ہیں کیوں ؟ بابا اللہ نے جب زندگی کی سانسوں کو طویل رکھا ہوا ہے تو قبل اس کے بلاوا آ جائے اللہ کو راضی رکھنے کے لئے اُس کے سامنے جھکنا اُس کا شکر ادا کرنا اُس کے بابرکت ناموں کا اذکار کرنا ہمارے اپنے لئے دنیا وا آخرت کی آسانیاں ہیں اللہ تبارک و تعالی تو ستر مائوں سے بڑھ کر اپنے بندے سے پیار کرتا ہے نافرمانیوں کو نظر انداز کر کے اُس کے دستر خوان کو اپنی نعمتوں بھر دیتا ہے کیونکہ وہ قادر ہے وہ گناہوں کا بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے ،رزاق ہے مالک ہے ساری خوبیوں کا مالک اور تمام تعریفیں اُسی کے لئے ہیںایک مسلمان کا ایمان ان ہی مذکورہ باتوں سے لبریز ہوتا ہے میں تو اس بات پر اللہ تعالی کے حضور سربسجود رہتا ہوں کہ اُس کی مہربانی سے میں انسان پیدا ہوا پھر اللہ نے مسلمان ہونے کا شرف بھی دیا اور سب سے بڑی بات جو مجھے روحانی طور پر مسحور رکھتی ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے حبیب ِ اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں پیدا کیا جس میں پیدا ہونے کی خواہش کا اظہار انبیاء کرام نے بھی کیا تو ہم سب بڑے نصیب والے ہیں کہ اللہ واحد ویکتا کے بندے ماننے والے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں مگر اللہ کی ان ساری رحمتوں کے باوجود ہمارا کردار احکامات ِ الہی کی پیروی کرتا نظر نہیں آتا نفسانی خواہشات کے حصول کے لئے جھوٹ مکروفریب کی باتیں کرنا ہمارا وطیرہ ہے اور اس پر شومئی قسمت کہ ہمیں فخر رہتا ہے اپنی اصلاح نہیں کرتے تجارت میں دیگر دہوکہ دہی کے ساتھ ساتھ ملاوٹ کرنا ،ذخیرہ اندوزی کی وارداتیں کر کے ضروریات زندگی کی چیزوں کو من مانی قیمتوں پر فروخت کرنا کہاں کی انسانیت ہے ؟سرکاری منصب پر بیٹھے عوام کو سہولت دینے کی بجائے اُن کو دفتروں کے چکر لگوا لگوا کر تنگ کرنا پھر رشوت لے کر خلق ِ خدا کے کام کرنا کون سے دین کی پیروی ہے جو ہمارے معاشرے میں کھلے عام ہو رہی ہے اور صرف حکومتی اہلکار جان بوجھ آنکھیں بند کر کے نہیں بیٹھے ان کے ساتھ قانون نے بھی چشم پوشی کی نیت سے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہے وہ مقدمات کے فیصلوں کو سامنے لانے میں اس قدر تاخیر کرتی ہے کہ نسلیں دار ِ فانی سے کوچ کر جاتیں ہیں مگر انصاف نہیں ملتا جیسے الائیڈ بنک کے پنشنرز سپریم کورٹ کے فیصلے باوجود اپنے پنشن کے حقوق لینے سے محروم ہیں رمضان کے اس مقدس مہینے میں حج ،عمرے پہ جانے سے پہلے ہم خود کو فرمان ِالہی کا، سنت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا پابندکیوں نہیں کرتے کتنا بہتر ہو کہ اللہ ہم سے راضی ہو جائے اور دنیا و آخرت ہی سنور جائے اپیل اس معاشرے سے جس کا راوی بھی حصہ ہے کہ اس رمضان میں انسانیت سوزی کے سارے کاموں سے توبہ کر کے حکمران اس پاکستان کو عملی طور پر قائد کی اس ریاست کو اسلامی جمہوریۂ پاکستان بنا دیں اسلامی احکامات کے تابع ملکی آئین کو کر دیں تو اللہ کی رضا ملنے میں دیر نہیں لگے گی ۔



