ہفتہ وار کالمز

خیراتی ادارے!

سوچ رہا تھا کہ عمران کی بینائی کے مسائل ہیں اس پر لکھا جائے کچھ مسائل کے حل بہت سادہ سے ہیں مگر ہم ان کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں،جہاں تک عمران کی بینائی کے کم ہونے کا تعلق ہے سادہ سی بات ہے کہ عمران اس وقت قید میںہیں سو جیل کے قواعد کی رو سے عمران کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہی ہو سکتا ہے سو علاج کرا دیا جائے عمران پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں،لہذا ان کا علاج ماہرین چشم سے کرا دیا جائے مگر عمران کی بینائی کو لے کر احتجاج ہو رہا ہےقومی اسمبلی کے سامنے بھی دھرنہ دے دیا گیا ہے اچکزئی اور راجہ ناصر عباس بھی وہاں موجود ہیں اور درجن بھر اراکین پارلیمنٹ بھی،اگر وہ سمجھتے ہیں کہ عمران کی بینائی پر احتجاج اور دھرنہ بنتا ہے تو وہ ضرور احتجاج کریںمگر ہمارے خیال میں یہ بے سود ہوگا،آج کرکٹ کا بڑا مقابلہ تھا بھارت اور پاکستان کے درمیان،بھارت جیت گیا اس موضوع پر بھی لکھا جا سکتا تھاکہ میچ میں بھارت کے ہاتھ پاؤں کیوں نہیں پھولتے، ہمارے ہاتھ پیر کیوں سوج جاتے ہیں،ہم نے کئی دن پہلے ہی سوچ رکھا تھا کہ ہم خیراتی اداروں پر ہی لکھیں گے تو کچھ معروضات پیشِ خدمت ہیں،زکوۃٰخیرات اور صدقات یہ سارے الفاط مذہب نے دیئے ہیں یعنی اللہ کے نام پر غریبوں کی مدد کرومگر دنیا بھر میں غریبوں کی مدد کرنے کے عمل کے لئے لفظ Charityہے Charityکی ابتدا Scandanavian countriesسے ہوئی جہاں لوگ اپنے استعمال شدہ کپڑے گلی کی دیوار پر لٹکا دیا کرتے تھے جو ضرورت مند ہوتے وہ اپنے سائز کے کپڑے بلا قیمت وہاں سے لے جاتے اس عمل کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا آہستہ آہستہ لوگ وہ اشیاء اپنے گھروں سے باہر اپنی چھوٹی چھوٹی میزوں پر رکھ دیتے جو ضرورت سے زائد ہوتیں ،یہ خوبصورت عمل پھیلتا گیااور لوگ اپنی جیب سے اشیاء خرید لیتے اور ان کی تقسیم ہو جاتی یہ سلسلہ سارے یورپ میں پھیل گیاغالباً سب سے پہلے اسکاٹ لینڈ میں حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ہر کام تو نہیں کر سکتی مگر فلاح بہبود کے کام جو رضاکارانہ طور پر ہوتے ہیں ان میں ہاتھ بٹا سکتی ہےسو جو لوگ غریب لوگوں کی مدد باضابطہ طور پر کر رہے تھے حکومت نے ان کی مالی مدد کرنے لگی پھر ایک قانون بن گیا اصول وضع ہوئے اور ایک طریقہء کار بنا دیا گیاجو لوگ سوشل ورک کرنا چاہتے تھے وہ ایک انجمن بتاتے کہ ان کا دائرہ کار کیا ہوگااور فلاحی کاموں میں ضابطگی آگئی،اس طریقہء کار نے غریبوں کی زندگی آسان کر دی،وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شکل بدلتی گئی اور NGO’sکو ایک قانونی شکل دے دی گئی اور اب دنیا بھر میں NGO’sفلاحی کام کرتی ہیں اور یہ سب non prifitable organizationsہوتی ہیں جو قانون کے مطابق کام کرتی ہیں ان اداروں کے آڈٹ بھی ہوتے ہیں،یہ NGO’sنہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کی بہبود کے لئے بھی کام کرتی ہیں Environmentکے لئے بھی کچھ NGO’s کام کرتی ہیںگویا ان کا دائرہ کار وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے سنا ہے اور کچھ خبریں بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستانی Charityبہت زیادہ کرتے ہیں،کچھ سروےبھی یہی کہتے ہیں کہ پاکستان میں چیریٹی کا والیوم بہت زیادہ ہے یہ پیسہ زکوۃٰخیرات صدقات ،فطرہ اور مساجد و مدارس کو چندے کی شکل میں دیا جاتا ہے ،یہ سارا پیسہ پاکستان میں 81%مساجد اور مدارس کو جاتا ہے باقی 19%کچھ تنظیموں کو جاتا ہے جو پیسہ مدارس اور مساجد کو جاتا ہے وہ مساجد اور مدارس کی انتظامیہ کے Disposal پر ہوتا ہے اس کا کوئی حساب کتاب نہیں رکھا جاتا اور نہ ہی اس کا کوئی آڈٹ ہوتا ہے،مجھے میرے قارئین نے کچھ تصاویر روانہ کی ہیں کچھ نیٹ پر موجود ہیں ان تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ مساجد اور مدارس کو کتنا پیسہ ملتا ہے جو پیسہ مساجد اور مدارس کو جاتا ہے خواہ وہ کسی مد میں ہوبڑے بڑے زین کے تھیلوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے اور تین ماہ کے بعدایک بڑے کمرے میں یہ تھیلے لائے جاتے ہیں اور ایک بڑے قالین پر الٹ دئے جاتے ہیں دونوں جانب مساجد اور مدارس کے رضاکار بیٹھتے ہیں اور نوٹوں کی گنتی کی جاتی ہے اس عمل کی نگرانی کی جاتی ہے گنتی کے بعد یہ پیسہ مساجد اورمدارس کی انتظامیہ کی تحویل میں چلا جاتا ہے،کہا جاتا ہے کہ یہ رقم اربوں میں ہوتی ہے مگر یہ واضح نہیں کہ اس پیسے کوکس مد میں خرچ کیا جاتا ہے مساجد اور مدارس کے جو بنک اکاؤنٹ ہیں ان میں چند ہزار سے زائد کبھی نہیں رہے،یہ مساجد اور مدارس مسلح گروہ چلاتے ہیں ان کے دہشت گرد گروہوں سے تعلق ہوتا ہے حکومت ان سے ڈرتی ہے اور اس بلیک منی کے بارے میں مساجد اور مداس کی انتظامیہ سے کوئی نہیں پوچھتا،یہ لکھتے ہوئے شرم آتی ہے کہ ہم کس قوم سے تعلق رکھتے ہیںمسلمان ہونے کے ہزار دعوے مگر جھوٹ بے ایمانی ،جعلسازی میں اس قوم کا کوئی ثانی نہیں ہے،داڑھی رکھنا حجاب پہننا بہت آسان ہے مگر سچ بولنا اور دیانت داری بہت مشکل کام ہے ،پاکستان میں بھی NGO’sبنائی گئی ہیں وہ مسلمانوں سے زکوۃ خیرات،صدقات، فطرہ ،عشرسب ہی قبول کرتے ہیں مگر ان کو الگ الگ کھاتوں میں نہیں رکھا جاتابلکہ ان تمام رقوم کو pool کرلیا جاتا ہے اور NGO اپنی مرضی سے اس جمع شدہ رقم کو خرچ کرتی ہے،عام طور پر مذکورہ بالا مدات میں رقم دینے والے یہی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جس مد میں پیسے دئے ہیں وہ پیسے اسی مد میں استعمال ہونگے مثلاً آپ پیسے دیتے ہیں کہ رمضان میں غریب بے سہارا لوگوں کے راشن کا بندو بست کر دیں NGO اس رقم سے اپنے آفس کا فرنیچر خرید لیتی ہے اور پیسہ دینے والے کبھی نہیں پوچھتے کہ ان کی دی ہوئی رقم کا کیا ہوا،وہ کبھی حساب نہیں مانگتے،لہٰذا لوٹ مار اپنی مرضی سے کی جاتی ہے بڑی NGO’s کا اثر عوام کے کچھ حصوں پر ہوتا ہے کچھ طاقتور حلقوں پر بھی اثر و رسوخ ہوتا ہے ان کے مراسم میڈیا سے بھی ہوتے ہیں میڈیا وقت پڑنے پر ان کی مدد بھی کرتا ہے ایسی طاقتور NGO’sسے صرفِ نظر کیا جاتا ہے آنکھیں میچ لی جاتی ہیں،اور اندر کھاتے گول مال چلتا رہتا ہے،حساب مانگنے کی روائیت یوں بھی ہمارے معاشرے میں نہیںایک ہلکا پھلکالطیفہ بھی ہے، ایک شخص نے مولوی سے پوچھا وہ جومیںنے آپ کو اللہ کے نام پر پچاس ہزار دئے تھے وہ کہاں خرچ کئے مولوی نے برجستہ کہا کمبخت اللہ کے نام پر دے کر اللہ سے حساب مانگتا ہے،خیر یہ بات تو مولوی کی تھیNGO’s بھی کبھی حساب نہیں دیتیںیوں تو اللہ کے نام پر سارا سال ہی مانگا جاتا ہے مگر رمضان،عید الفطراور عید الضحیٰ پر دست سوال زیادہ ہی دراز ہو جاتا ہے اور لوگ ان مواقع پر دل کھول کر خیرات، صدقات، اور زکوۃ دیتے ہیں،ان موقع پر کچھ ایسی انجمنیں بھی اپناحصہ وصول کرتی ہیں جو رجسٹرڈ نہیں ہو تیں،آج کل ہر نوجوان با ریش ہے کراچی میں کچھ باریش نوجوانوں نے مسجد کے نام پر چندہ اکٹھا کیا اور اس پیسے سے رمضان میں کرکٹ کھیلی اور سحری کی،ان دینی مواقع کے علاوہ دنیا میں کچھ حادثات بھی ہوتے رہتے ہیں یہ سنہری موقع ہوتا ہے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا،آپ نے بھی ٹی وی پر اشتہارات دیکھے ہونگے NGO’sآپ سے غزہ، اردن، شام ،افغانستان، صومالیہ میں مصیبت زدگان کے لئے چندے کی اپیل کرتے ہیں،یہ وہ ممالک ہیں جہاں قدم رکھنا بھی خطرے کو مول لینا ہے،مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب غزہ میں اقوام متحدہ اپنے مشن جاری نہیں رکھ سکتاوہاں یہ NGO’sکیسے اپنے فلاحی کام انجام دیتی ہیں کچھ دوستوں سے افغانستان اور شام کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ افغانستان اور شام میں فلاحی اور بحالی میں NGO’sکا کردار بہت مختصر ہے یا نا ہونے کے برابر ہے،باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ بالا ممالک میں فلاحی کام کرنے پر اخراجات بہت زیادہ آتے ہیں سفری دستاویزات کاحصول اور بے شمار اجازت نامے فلاحی کاموں کو بہت مشکل بناتے ہیں مذکورہ بالا ممالک میں پاکستانی سفارت خانے یا تو موجود نہیں یا متحرک نہیںایسے میں یہ قیاس کرنا ہی مشکل ہے کہ ان ممالک کے مصیبت زدوں کے لئے کوئی فلاحی کام کیا جا سکتا ہے پاکستانی NGO’s نے ایبٹ آباد زلزلے اور سیلاب کے مواقع پر لوگوں کو بہت بڑا دھوکہ دیا تھاDonationsجمع کئے مگر ضرورت مندوں تک نہیں پہنچائے،اس صورت میں غزہ،اردن، افغانستان اور صومالیہ میں فلاحی کام پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیںخاص طور پر اس وقت جب NGO’sنہ تو آڈٹ کرائیں اور نہ ہی اپنے حساب اپنی ویب سائٹ پر آویزاں کریں،ایک افسانہ نگار نے ایک افسانے میں ایک کمال کی لائین لکھی کہ دنیا کی سب سے بُری چوری کسی فقیر کے کشکول سے سکے اٹھا لینا ہے اورمیں سمجھتا ہوں کہ غریبوں کے نام پر پیسہ اکٹھا کرکے غریبوں کی جھولی تک نہ پہنچانا یا پورا نہ پہنچانابد ترین خباثت ہے خیرات ایک نیک انسانی عمل ہے دردمندی غریبوں اور حاجت مندوں کی مدد کے لئے اکساتی ہے اس میں نقب لگانا شیطانی عمل ہے لوگ غریبوں کی مدد کے لئے خیرات کرتے ہیں NGO’sاس پیسے سے مساجد بنا لیتی ہیں جو ان کی اپنی ملکیت ہوتی ہیں اور چندہ اُگانے کا مستقل ذریعہ،لنگر کی تقسیم بھی دھوکہ دہی کا ایک ذریعہ،ہزاروں کا خرد برد،نمائشی کام،دستر خوان سننے میں اچھا لگتا ہے مگر یہ عزت نفس کا دشمن ہے،خیرات کرنا خوبصورت عمل ہے مگر اس کو کاروبار نہیں بننا چاہیے اور اس کی شکل مسخ نہیں ہونی چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button